Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت میں مویشی چوری کے شک میں تین افراد قتل، تین گرفتار

    بھارت میں مویشی چوری کے شک میں تین افراد قتل، تین گرفتار

    بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں ایک شخص نے مویشیوں کو چوری کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں تین افراد کو مار ڈالا،جبکہ پولیس نے تین کو گرفتار کر لیا ہے۔
    پولیس اہلکار ہر کشور رائے کے مطابق تین افراد کو جمعہ کی صبح دیہاتیوں نے پک اپ ٹرک پر مویشی لوڈ کرتے ہوئے پکڑ لیا۔رائے نے بتایا کہ مذکورہ افراد بھینس اور بچھڑے لوڈ کر رہے تھے کہ دیہاتیوں نے انہیں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    پولیس نے پتھوری گاؤں سے تین افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ قتل کا کیس مزید چار افراد پر دائر کیا گیا ہے۔
    یاد رہے کہ گذشتہ کئی سالوں میں بھارت میں پرتشدد ہجوم نے کئی افراد قتل کر دیا ہے جن میں سے اکثریت مسلمانوں اور نیچ ذات سے تعلق رکھنے والے دلت افراد کی ہے۔

  • بھارتی شہر بدترین خشک سالی کا شکار

    بھارتی شہر بدترین خشک سالی کا شکار

    چنئی: بھارت کے جنوبی شہر چنئی کے لاکھوں رہائشی گھروں پانی کی قلت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ٹرک اور ٹرینیں عوام تک پانی تو پہنچاتے ہیں لیکن پانی کی مقدار محدود جبکہ قیمت مہنگی ہے
    تفصیلات کے مطابق بھارت کی ایک ائرو سپیس کمپنی نے سیٹلائٹ فوٹیج جاری کی ہے جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ چنائی شہر کا سارا رقبہ سبزے سے خالی اور خشکسالی سے بھرپور ہے اور اس کی وجہ پانی کے زخیروں کا کم یا حتم ہونا ہے

  • کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
    قونصلر رسائی
    جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
    سول کورٹ میں ٹرائل
    کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔

    ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
    We exposed india internationally & caught their monkey red handed
    آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
    پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔
    دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

    ‎@naveedsheikh123

     

     

     

     

     

  • ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے جب جب پاکستان کے خلاف چوری چھپے سازش کی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی، ہمیشہ ناکام و نامراد ہوا خواہ کھیل کا میدان ہو یا جنگی محاذ ! اور تماشہ بھی پوری دنیا نے دیکھا رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی چمکدار روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔! ہندوستانی وایو سینا کے ابھینندن نے لائن کراس کر کے مار کھائی تو سینا کے نشان زدہ گلوز پہن کر کھیلنے پر اصرار کرنے والے سینائی سپوت دھونی نے لائن کراس نہ کر کے "سوا سو کروڑ” کے دیش واسیوں کی لٹیا ڈبو دی۔ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی دو طرفہ سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد "بنیے” کے سازشی دماغ میں پاکستان مخالفت کی "کُھرک” ہوئی تو کرکٹ جیسے مہذب افراد کے کھیل میں بھی سیاست گھسیڑ دی۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں ہندوستانی کھلاڑی بھارتی فوج کی ٹوپی پہن کر گراؤنڈ میں اترے تو پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ نے پورے ہندوستان کو ہی ٹوپی پہنا دی۔ اس میچ میں سینچری بنانے والے عثمان خواجہ نے اگلے دونوں میچز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا دو کے مقابلے میں تین میچز جیت کر سیریز پر قابض ہو چکا تھا اور عثمان خواجہ مین آف دی سیریز کا حق دار قرار پایا۔ آج ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستان صرف ہارا نہیں ذلیل و رسواء ہوا ہے، ذلالت کی وجہ وہی میچ ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لیے انگلینڈ سے جان بوجھ کے ہارا تھا۔
    ہاں ہاں جان بوجھ کر ہارا تھا۔۔۔۔۔۔!
    اس میچ کے لیے ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں بیٹھے پنڈتوں نے سیاسی چال چلی اور ہندو توا کے خاص زعفرانی رنگ کی جرسی پہن اُتری مقصود وہی تھا جو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں سوچا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم مضبوط اپنی جگہ لیکن اس ورلڈ کپ میں ہندوستان سے مقابلے سے قبل دو ایشیائی ٹیموں نسبتاً کمزور سری لنکا اور پاکستان سے عبرت ناک شکست کھا چکی تھی۔ اس میچ میں پہلے ہندوستان کے باؤلرز نے انگلش بیٹسمینوں سے دل کھول کر پٹائی کھائی اور گراؤنڈ میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ ہندوستانی کپتان یا کسی ایک کھلاڑی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ بیٹنگ کا موقع آیا تو روہت شرما جو سب ٹیموں پر برس رہے تھے اچانک بھیگی بلی بنے نظر آۓ سینچری تو بنائی لیکن نہایت سست روی سے۔ البتہ میچ میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان جیت سکتا ہے لیکن پھر میدان میں دھونی کی آمد ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پانچ وکٹ باقی ہونے کے باوجود "فنشر” کا خطاب یافتہ "دھونی” آخری اوور تک اس خیال سے بیٹنگ کرتا رہا کہ کہیں غلطی سے بھی باؤنڈری نہ لگ جائے۔ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہوئے ہدف کے تعاقب میں 47 باریوں میں محض یہ دوسرا موقع تھا جب دھونی ناٹ آؤٹ رہا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگ کے کپتان رہنے والے دھونی کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث دو سال تک پابندی کا شکار بھی رہی ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر سارو گنگولی جو اس میچ میں کمنٹری کر رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھی کمنٹیٹرز کو اس سست روی سے بیٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہ پیش کر سکے اور ہندوستان میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    اس ہار کے اختتام پر ہندوستان میں جشن کا سا سماں تھا۔ کرکٹ کی پوجا اور کرکٹرز کو بھگوان کا درجہ دینے والے ہندوستانی بالخصوص سوشل میڈیا پر اندرونی غلاظت انڈیل رہے تھے۔ علی الاعلان کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے دھونی کو ونگ کمانڈر ابھینندن سے ملایا گیا۔ زعفرانی رنگ کے بھی چرچے رہے۔ سوائے اس میچ کے میری نظر میں کھیل میں کوئی مقابلہ ایسا نہیں گزرا جب ہارنے والی ٹیم نے پٹاخے پھوڑے ہوں۔ مگر ہاں اسی سال 27 فروری کو دو جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی 20 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت اور ونگ کمانڈر ابھینندن کا زندہ پکڑے جانے کے بعد عوام سے پڑنے والی چھترول پر ہندوستانیوں کو فخریہ جشن منانا دیکھ چکا تھا۔
    خیر پاکستان سیمی فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ سے پوائنٹ برابر ہونے کے باوجود بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا حالانکہ اس نیوزی لینڈ ٹیم نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں سے کسی ایک کو بھی شکست نہیں دی۔ جبکہ پاکستان دو سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کو ہرا کر بھی "متنازعہ” نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر باہر ہو چکا تھا۔ چور دروازے سے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے روند ڈالا۔ اور آج کے مقابلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی توفیق سے پاکستان کے دشمنوں کا ہر وار الٹا اسی کے گلے کا پھندا بنا۔ جیت نیوزی لینڈ کی ہوئی ماتم ہندوستان میں اور سرخرو پاکستان ہوا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
    ابھینندن کا کپ لاہور میں
    اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں رہ گیا۔۔۔۔!
    اب "ٹیم انڈیا” کے استقبال کے لیے ہندوستان میں ٹماٹر ختم ہوگئے ہیں تو پاکستان دے سکتا ہے آخر ہمسائے ہیں ہمارے۔

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • بھارت:خواتین پرتشدد جاری، خواتین کو سڑک پر بری طرح پیٹنے لگے

    بھارت:خواتین پرتشدد جاری، خواتین کو سڑک پر بری طرح پیٹنے لگے

    نئی دہلی:بھارت جہاں عورتوں پر ظلم تشدد کرنا ایک شغل بن کر رہ گیا ہے ایسے ہی ایک تازہ واقعہ میں پنجاب کے فریدکوٹ کے شہر کوٹک پورہ میں دومردوں کی طرف سے دو خواتین کے ساتھ سرعام جم کر پیٹائی کی گئی- یہاں تک کہ انہوں نے انہیں سڑک پر پیٹنے کے ساتھ بال پکڑ کر گھسیٹا بھی گیا- اسکا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

    پولیس حکام کے مطابق اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور امید ہے ان کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائےگا اور ان کو اس جرم کے بدلے میں قرار واقعی سزا دی جائے گی.لیکن عوام الناس کا کہنا ہے کہ پولیس کہتی تو ہےکہ مجرموں کو سزا دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ پولیس ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے خواتین پر زیادتیوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں.

  • بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارتی ریاست بہار میں دماغی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    بھارتی حکام کےمطابق دماغی بیماری کا تعلق لیچی کے پھل سے جڑے وائرس سے ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس بیماری کا ذمہ دار لیچی کے پھل کو ٹھہرا رہی ہےحالانکہ ایسا نہیں ہےبعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کا مؤقف لیچی کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
    ریاست بہاررواں سال جون کے آغاز سے ’ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم‘ نامی وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ریاست کے شہرمظفرپورمیں واقع کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اب تک 85 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ ایک نجی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 18 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی

    چند سال پہلے امریکی محققین نے تصدیق کی تھی کہ دماغی بیماری کا تعلق کسی پھل میں موجود زہریلے مواد سے ہے، تاہم انہوں نے لیچی میں یہ زہر ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ محققین نے واضح کیا تھا کہ بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے مرگی، دماغی حالت میں تبدیلی یا پھرموت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی۔ چمکی بخار 1995 سے ہر سال موسم گرما میں ریاست بہار کے ایک ہی ضلع میں پھیلتا ہے، جو لیچی کے پیدا ہونے کا موسم بھی ہے۔یہ وائرس بنگلہ دیش اور ویتنام کے لیچی اگانے والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔

    انڈیا کی شمالی ریاست بہارکا شمار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اس کی آبادی 10 کروڑ ہے اور اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے 78 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔

  • منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    وہ تمام دوست جو سمجھتے ہیں کہ کالمز اور تجزیے بوٹ پالش کرنے لئے لکھے جاتے ہیں ان کے لئے اطلاعا عرض ہے کہ ملک ہمارا ہے ، ریاست ہماری ہے ، حکومت ہماری ہے تو فوج بھی ہماری ہے ۔ جہاں جائز تنقید ہو اس سے نہیں گھبراتا لیکن اگر ریاست کے حامی بیانئے پر کوئی بوٹ پالشیا بھی کہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ منظور پشتین کا مسنگ پرسنز سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کسی حد تک جائز ہے لیکن ان تحقیقات کے لئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں ، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور جمہوری نظام جیسے کیسے جاری ہے ۔ اگر واقعی پی ٹی ایم کے تحفظات ہیں تو انہیں بین الاقوامی برادری ، عالمی میڈیا اور بھارتی خٖفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں آلہ کار بننے کی بجائے اپنے اداروں سے تعاون کرنا چاہیے ۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی پانی ہو جائے ۔ لیکن یہ ۔ ۔ ۔ ’ کیپٹن میجر ۔ ۔ دہشت گرد‘ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ’یہ جودہشت گردی ہے ۔ ۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘ جیسے نعروں کا پرچار کرتے ہوئے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کردینا ، بین الاقوامی میڈیا پر خبروں کی زینت بننے کے لئے اپنے بندوں کو مروا دینا ۔ کس کے بیانئے کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ بالکل واضح ہوچکا ہے ۔ لنڈے کے لبرلز جورات کو امرت اور شام میں کالی کافی پی کر فیس بکی دانشوری جھاڑتے ہوئے برملا لکھ ڈالتے ہیں ’ہائے پی ٹی ایم کے ساتھ تو ظلم ہورہا ہے ‘ ۔ انہیں اگر زمینی حقائق کا علم نہیں تو اپنی دانشوری اپنے پاس رکھیں اور سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ مظلوموں جیسا چہرہ بنا کر عالمی میڈیا کے سامنے دکھڑے رونے والی پی ٹی ایم کے پاکستانی میڈیا پرمبینہ بلیک آوٹ پر دانشوری جھاڑنے والے ذرا یہ بتائیں کہ بھارتی میڈیا خالصتان موومنٹ پر واویلا کرنیوالوں کو کتنی کوریج دیتا ہے ۔ یا عالمی میڈیا بھارت کے خلاف اس استحصال پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا ۔ اسے چھوڑیں مقبوضہ وادی کشمیر کے حریت پسندوں کا موقف کونسے بھارتی میڈیا پر جاری ہوتا ہے ۔ بھارت حریت رہنماوں کو مکمل کوریج کیوں نہیں دیتا ۔ ۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ کس طرح احمقانہ مطالبوں پر تلا ہوا ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں سات سے زائد مرتبہ منظور پشتین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ پاک فوج کے ساتھ بیٹھ کر تنازعے کو حل کرے ۔ موصوف ایک مرتبہ بھی بیٹھنے پر رضا مند نہیں ہوئے ۔ ریاست ایسے ریاست مخالف عناصر کے ساتھ اور کیا ہمدردی کرے کہ ریاست مخالف بیانئے کے باوجود پی ٹی ایم کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہے ۔ اگر ریاست اتنی ظالم ہوتی تو چند افراد پر مشتمل را کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس جتھے کو کچلنے میں دیر ہی کتنی لگنی تھی ۔ معاملہ بین الاقوامی مراعات ، کینیڈا اور جرمنی کی شہریت اور بھارت سے فنڈنگ کا ہے ۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ برطانوی نشریاتی ادارہ لکھتا ہے کہ پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں ہے ۔ کوئی لندن والوں سے پوچھے کہ رائل ملٹری تو دور کی بات اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چوکی پر حملہ کرنے والے کسی بھی شدت پسند کا موقف آپ بی بی سی پر چلا کے دکھائیں ہم مان جائیں گے ۔ بی بی سی سمیت سارے بھارت نواز میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے اور اس سے صاف واضح ہے کہ پی ٹی ایم کو کس کی حمایت حاصل ہے ۔ ۔ یہ بین الاقوامی سازش ہے ، بھارت کی فنڈنگ ہے اور مقصد ریاست پاکستان اور ہماری افواج کو بلاوجہ کے ایشوز میں الجھائے رکھنا ہے ۔ نوجوان اور پڑھے پشتونوں اور لنڈے کے لبرلز سے گذارش ہے کہ عقل کے ناخن لیں ، سوچ سمجھ کے لکھیں کیونکہ نفرت کا یہ پرچار ملک کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کر سکتا ہے

  • تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
    پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
    چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

    یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
    میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

    بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

    ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

    ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

    بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

    اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

    اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

    جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

    ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
    ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔