Baaghi TV

بھارت: الٰہ آباد ہائیکورٹ نے طالبہ کی حجاب پہننے کی درخواست مسترد کردی

purtegal

بھارتی شہر الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلمان طالبہ کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی ہے، جس میں اس نے اسکول کے مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کی تھی۔

بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پریاگ راج (الہ آباد) کے ایک اسکول کی گیارہویں جماعت کی طالبہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ یافتہ لازمی مذہبی عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طالبہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے اسکول یونیفارم کے ساتھ سر پر اسکارف پہننے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا مؤقف تھا کہ یہ اس کے مذہبی عمل کا حصہ ہے،طالبہ کا اپنی درخواست میں مؤقف تھا کہ وہ چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک حجاب پہن کر اسکول آتی رہی اور اسکول نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسکولوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ اب بھی نافذ العمل ہے، کیونکہ سپریم کورٹ اس معاملے پر منقسم فیصلہ دینے کے بعد تاحال حتمی فیصلہ نہیں دے سکی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسکول انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ادارہ نجی اور خود مالیاتی بنیادوں پر چلتا ہے جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچے زیرِ تعلیم ہیں، کسی ایک طالبہ کو یونیفارم سے متعلق خصوصی رعایت دینے سے نظم و ضبط اور یکساں لباس کے اصول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسکول کو اپنی مقررہ یونیفارم پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

More posts