Baaghi TV

Tag: بھارت

  • مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    اسلام آباد: زمین مختلف مذاہب کا گھر ہے، جن میں ہندومت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت، جین مت، زرتشت اور سکھ مت شامل ہیں،لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 2050 تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی کس ملک میں ہوگی؟

    باغی ٹی وی : پیو ریسرچ سینٹر کے نئے مذہبی تخمینوں کے اعداد و شمار کے مطابق آنے والی دہائیوں میں، ہندوستان کو دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے دو میں سے سب سے زیادہ آبادی رکھنے کا اعزاز حاصل ہوگا – اسلام اور ہندو ازم،ہندوستان پہلے ہی دنیا کے بیشتر ہندوؤں کا گھر ہے 2010 میں، دنیا کے 94% ہندو ہندوستان میں رہتے تھے، اور یہ 2050 میں درست رہنے کی امید ہے، جب 1.3 بلین ہندوؤں کے ملک میں رہنے کا امکان ہے۔

    دنیا میں موجود 1445 سال پرانی کمپنی جس نے 2 عالمی جنگیں دیکھیں

    پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق، ہندوستان 2050 تک سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا جبکہ اب تک انڈونیشیا مسلم آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن بھارت 2050 تک 311 ملین نفوس کے ساتھ انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دے گا اور سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق آبادی میں ان اضافوں کا تخمینہ 2010-2050 تک لگایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان 273 ملین تعداد کے ساتھ دوسرا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہوگا پاکستان کے بعد 2010 سے اب تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد والا ملک انڈونیشیا ہے جو 2050 تک 257 ملین مسلمانوں کی آبادی ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ہے۔

    فیروز خان کی دوسری اہلیہ کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں تصاویر وائرل

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا 2050 تک ہندوستان میں 31 کروڑ مسلمان ہوں گے جو عالمی مسلم آبادی کا 11 فیصد بنتے ہیں،اس اہم متوقع نمو کی بڑی وجہ دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کم عمری میں شادی اور طرز معاشرت ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کی سب سے زیادہ آبادی برقرار رہے گی، جو بڑھ کر 1.03 بلین ہو جائے گی، پیو ریسرچ سنٹر کی ایک تحقیق میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی بڑی وجہ کم عمری اور اعلی شرح پیدائش کو قرار دیا گیا ہے،مسلمانوں کی اوسط عمر 22 سال ہے جب کہ ہندوؤں کی اوسط عمر 26 سال اور عیسائیوں کی 28 سال ہے۔

    کریتی سینن کی بوائے فرینڈ سے تعلقات کی افواہیں پھر گردش کرنے لگیں

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں مسلمان خواتین کے اوسطاً 3.2 بچے ہیں، جب کہ ہندو خواتین کے 2.5 بچے ہیں، اور عیسائی خواتین کے اوسطاً 2.3 بچے ہیں مسلم آبادی کے اضافے سے بھارت کی ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی میں تنوع پیدا ہوگا، جو ملکی ثقافت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی مختلف شعبوں، جیسے کاروبار، صنعت، اور دستکاری میں نئی صلاحیتیں اور مواقع پیدا کر سکتی ہے تاہم بڑھتی مسلم آبادی کے ذریعے حکومت پر سماجی انصاف، تعلیم، اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے دباؤ میں بھی بڑھ سکتا ہے۔

    کتنا حق مہر دیا گیا؟جویریہ سعود نے 19 ویں سالگرہ پر یادگارویڈیو جاری کردی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر تعلیم، روزگار، اور سماجی ہم آہنگی پر توجہ دیں تو یہ اضافہ بھارت کے لیے ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ چیلنجز اور تنازعات پیدا کر سکتا ہے،متوازن پالیسیاں اور عوامی شعور اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آزادی کےبعد تقریباً 70 سالوں میں مذہبی تشدد نے ہزاروں مزید جانیں لے لی ہیں،جن میں جدید ہندوستان کے بانی مہاتما گاندھی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی شامل ہیں، مذہبی پابندیوں کے بارے میں پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان دنیا میں مذہب سے متعلق سماج دشمنیوں کی اعلیٰ ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    یہاں تک کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی مذہبی عدم برداشت کے الزامات لگائے گئے ہیں، جو 2002 میں ریاست گجرات میں مسلم مخالف تشدد کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، جس میں کچھ اندازوں کے مطابق 2,000 افراد ہلاک ہوئے تھے مودی، جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیونکہ وہ ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی جانب سے تشدد کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

  • سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    بھارت میں مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی ایک مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ایک قیدی نے مقدمے کی کارروائی ملتوی ہونے پر جج پر چپل پھینک دی۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ملزم کرن سنتوش بھرم، جو 2012 میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت میں پیش ہوا۔ملزم کرن سنتوش بھرم کے خلاف قتل کا مقدمہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔ گزشتہ روز جب عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو ملزم شدید غصے میں آ گیا۔ جج کی طرف سے مقدمے کی تاریخ ملتوی ہونے کے بعد ملزم نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر دروازے کے قریب کھڑے ہو کر اپنی چپل اٹھائی اور جج پر پھینک دی۔ چپل کمرہ عدالت میں ایک میز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں سنسنی پھیل گئی۔

    واقعے کے فوراً بعد عدالت کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی اور ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا اور اس کی پولیس تحویل حاصل کر لی۔ عدالت کے حکام نے اس کارروائی کو سنگین توہین عدالت قرار دیا اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس نے عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ عدلیہ میں ہونے والی کارروائیوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

  • مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    بھارتی بہار کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    اس بار محکمہ تعلیم نے ایک مرد ٹیچر کو حاملہ ہونے کی بنیاد پر زچگی کی چھٹی دے دی ہے، جسے سن کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ حاجی پور کے ایک اسکول میں تعینات بی پی ایس سی کے ایک مرد ٹیچر جتیندر کمار سنگھ کو محکمہ تعلیم نے حاملہ ہونے کی بنیاد پر "میٹرنٹی لیو” دے دی۔یہ واقعہ حاجی پور مہوا بلاک کے حسن پور اوستی ہائی اسکول کا ہے، جہاں جتیندر کمار سنگھ کے نام پر زچگی کی چھٹی کی درخواست محکمہ تعلیم کے ای-پورٹل پر منظور کر لی گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زچگی کی چھٹی صرف خواتین کو دی جاتی ہے جب وہ حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں، مگر یہاں یہ چھٹی ایک مرد ٹیچر کو دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے محکمے کی ویب سائٹ پر جتیندر کمار سنگھ کو حاملہ قرار دے کر چھٹی دی گئی، جس نے پورے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جتیندر کمار سنگھ کے چھٹی کے ریکارڈ کو دیکھنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہیں زچگی کی چھٹی دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے پورٹل پر واضح طور پر یہ ذکر تھا کہ جتیندر کمار سنگھ حاملہ ہیں اور اس وجہ سے وہ چھٹی پر ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے لوگوں کو چکرا کر رکھ دیا اور سوشل میڈیا پر اس پر مذاق اڑایا جانے لگا۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد، حاجی پور بلاک ایجوکیشن آفیسر ارچنا کماری نے اس غلطی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی جس کے باعث مرد ٹیچر کو زچگی کی چھٹی دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ "مرد اساتذہ کو ایسی چھٹی نہیں دی جاتی اور یہ صرف خواتین اساتذہ کا حق ہے، جو حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں۔” ارچنا کماری نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ اس خرابی کو جلد درست کیا جائے گا اور ایسی غلطیاں مستقبل میں نہیں ہوں گی۔

    اس خبر کے پھیلنے کے بعد، ریاست کے مختلف حصوں سے اس پر ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ لوگوں نے اس عجیب و غریب واقعے پر حیرانی کا اظہار کیا اور محکمہ تعلیم کی بے احتیاطی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ واقعہ ایک مرد ٹیچر کے ساتھ ہو سکتا ہے تو دوسرے معاملات میں بھی ایسی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

  • داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    بھارت میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کیس میں داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر سے منسلک ایک فلیٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

    یہ جائیداد مبینہ طور پر بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور اس کا تعلق ایک سابقہ تفتیش سے ہے جو 2017 میں تھانے پولیس کے انسداد بھتہ خوری سیل نے کی تھی۔ای ڈی کی جانب سے کی گئی حالیہ کارروائی میں نیوپولیس ٹاور، تھانے میں واقع فلیٹ کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ فلیٹ مارچ 2022 سے عارضی طور پر اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں سے منسلک تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جائیداد بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، جس میں متعدد تاجروں سے جائیدادیں اور پیسے بٹورے گئے تھے۔ای ڈی کی تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں، جن میں ممتاز شیخ اور اسرار سعید شامل ہیں، نے کئی تاجروں کو دھمکیاں دیں اور ان سے جائیدادیں اور بڑی رقمیں وصول کیں۔ ایک مخصوص کیس میں بلڈر پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایک پراپرٹی کو ممتاز شیخ کے نام پر رجسٹر کرے، جس کی قیمت تقریباً 75 لاکھ روپے تھی۔

    سال 2022 میں ای ڈی نے اس معاملے میں تحقیقات تیز کیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ ای ڈی نے پی ایم ایل (منی لانڈرنگ) کے تحت چارج شیٹ بھی داخل کی تھی، جو تھانے پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر مبنی تھی۔ ایف آئی آر میں بھتہ خوری کے علاوہ دیگر سنگین الزامات شامل تھے۔اس کارروائی کے بعد ای ڈی نے واضح کیا ہے کہ وہ اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کے سلسلے میں اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔ اس ضبطی کارروائی کو ای ڈی کی طرف سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ منی لانڈرنگ اور مافیا کے خلاف کی جانے والی اس کی مسلسل جدوجہد کا حصہ ہے۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کی پارٹیز میں رقص کےلگائے گئے الزام پر سالوں بعدٹوئنکل کھنہ کا مزاحیہ ردعمل

    داؤد ابراہیم سے رشتے داری پر فخر ہے، جاوید میانداد

  • بنگلہ دیش کا  بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کےلئے بھارت سے مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ حسینہ واجد رواں برس اگست میں اپنی حکومت کے اختتام کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت فرار ہوگئی تھیں تاہم اب شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے بنگلہ دیشن نے بھارت کو درخواست دی جس کی بنگلہ دیشی قائم مقام وزیرِ خارجہ توحید حسین نے تصدیق بھی کردی۔

    ڈھاکا میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے کہ شیخ حسینہ عدالتی عمل کےلئے یہاں مطلوب ہیں شیخ حسینہ مفرور ہیں، انہیں بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے، یہ درخواست ایک نوٹ وربل کے ذریعے بھیجی گئی ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے توحید حسین کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم توقع کی جارہی ہے کہ بھارت اس معاملے پر جلد جواب دے گا۔

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال
    اس سے قبل بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ داخلہ جہانگیر عالم نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے شیخ حسینہ کی واپسی کےلئے وزارتِ خارجہ کو خط بھیجا ہے،بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے اور اس معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس لایا جا سکتا ہے۔
    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    پیگاسس اسپائی ویئر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر چھا یا ہوا ہے اور ہندوستان میں اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

    امریکی عدالت نے اسرائیل کی معروف اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ کو پیگاسس کے ذریعے 1400 واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں 300 ہندوستانی افراد شامل ہیں۔ ان میں اہم شخصیات جیسے صحافی، سیاستدان، سرکاری افسران اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔امریکی عدالت میں این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت جج فلِس ہیملٹن نے کی۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی اور متاثرین کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے اپنے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔ عدالت نے کمپنی کو ان کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کئی اہم شخصیات کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان میں اپوزیشن کے رہنما، مرکزی وزراء، سرکاری افسران، اور سماجی کارکن شامل تھے۔ 2021 میں انکشاف ہوا کہ پیگاسس کے ذریعے 300 سے زیادہ ہندوستانی موبائل نمبروں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا، جن میں دو مرکزی وزراء، تین اپوزیشن رہنما، متعدد صحافی، اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھے۔یہ انکشافات ہندوستان میں سیاسی ہلچل کا سبب بنے تھے اور مودی حکومت پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی نگرانی کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کر رہی ہے۔

    پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال دنیا بھر کی حکومتوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کے لیے کیا گیا تھا۔ 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا اور امریکی اداروں پر اس کے پروڈکٹس خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔این ایس او گروپ نے ہمیشہ اپنے موقف کا دفاع کیا ہے اور واضح کیا کہ اس کی مصنوعات صرف حکومتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے لیے دستیاب ہیں، نہ کہ فرد یا غیر سرکاری اداروں کے لیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسپائی ویئر فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود پیگاسس کے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

    ہندوستانی حکومت نے ہمیشہ پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی قسم کی جاسوسی کی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔ پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی

  • بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارت کی تیلگو فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار، الو ارجن، جنہیں "پشپا” کے کردار کے لیے شہرت حاصل ہے، پر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبا نے حملہ کر دیا۔

    حملہ آوروں نے کچھ روز قبل، الو ارجن کی فلم پشپا 2 کے پریمیئر کے دوران سینڈھیا تھیٹر میں بھگدڑ کے باعث جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے الو ارجن کے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، اور گھر کے احاطے میں رکھی گملے توڑ دیے۔ انہوں نے احتجاجاً ٹماٹر بھی پھینکے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر "انصاف ہونا چاہیے” جیسے نعرے درج تھے۔ ان طلبا کا کہنا تھا کہ وہ فلم کی ٹیم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ خاتون کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیں۔

    حملے کی اطلاع ملتے ہی حیدرآباد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران خدشہ ظاہر کیا کہ حملے میں عثمانیہ یونیورسٹی کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے کہ آیا حملہ کسی منظم احتجاج کا حصہ تھا یا یہ ایک ذاتی کارروائی تھی۔اس حملے سے قبل، الو ارجن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار ذمے داری سے کریں اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا گالی گلوچ سے اجتناب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق ہی ردعمل دیا جائے، اور کسی کو بھی حالات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    الو ارجن نے اپنی طرف سے اس سانحے کے متاثرین کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیں گے اور زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔ تاہم، طلبا کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ پورے بھارت میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف سپر اسٹار الو ارجن نے متاثرین کے لیے مدد کی پیشکش کی، وہیں طلبا کی جانب سے اس معاملے پر عدالت سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس حملے کے محرکات کی جانچ کر رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد اس واقعے کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔

  • بھارت کے میچز کیلئے عرب امارات کا نیوٹرل وینیو فائنل

    بھارت کے میچز کیلئے عرب امارات کا نیوٹرل وینیو فائنل

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے متحدہ عرب امارات کوچیمپئنزٹرافی کے لیے نیوٹرل وینیو کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔

    پی سی بی ترجمان عامر میر نے بتایا کہ بورڈ نے آئی سی سی کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کے میچز متحدہ عرب امارات میں ہوں گے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے نیوٹرل وینیو کا فیصلہ میزبان پاکستان کو کرنا تھا۔ وینیو کا حتمی فیصلہ پاکستان میں موجود متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شیخ النہیان اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی ملاقات کے بعد ہوا۔ اعلان کے مطابق 2027 تک پاکستان بھارت کا دورہ نہیں کرے گا اور بھارتی کی میزبانی میں ہونے والے تمام ایونٹس میں پاکستان کے میچز بھی نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے۔آئی سی سی نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے بھارت، پاکستان اور ایک تیسرے ایشیائی رکن ملک یا (ایک ایسوسی ایٹ ایشیائی ملک) کو شامل کرکے کسی نیوٹرل مقام پر سہ فریقی یا چار ملکی ٹورنامنٹ کے انعقاد پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

    عبداللہ شفیق نے بدترین ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

  • بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی  رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی چیف آف اسٹاف جنرل پبن کی ہیلی کاپٹرکریش میں موت سے متعلق رپور ٹ 3 سال بعد منظر عام پر آئی ہے جس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر کریش میں موت کی وجہ کو انسانی غلطی کو قرار دے دیا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2021 کو ہیلی کاپٹر حاد ثہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کی ممکنہ وجہ جاننے کے لیے تمام گواہوں سے بات چیت کی، فلائٹ ڈیٹا، ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کے مکمل تجزیہ کے بعد رپورٹ مرتب کی گئی، 22-2021 میں مجوعی طور پر 9 حادثات پیش آئے تھے، 8 دسمبر کو بھارتی جنرل کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ انسانی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔

    واضح رہے کہ بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 جنرل پبن راوت، ان کی اہلیہ اور بھارتی افواج کے 12 اہلکاروں کو لے کر تامل نائیڈو میں موجود سولر ایئر فورس بیس سے روانہ ہوا تھا بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر ویلنگٹن میں ڈیفنس اسٹاف سروسز کالجز جا رہا تھا۔ اور لینڈنگ سے چند منٹ قبل پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی