Baaghi TV

Tag: بھارت

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • بھارتی نیوی کی آبدوز کشتی سے ٹکرا گئی،2 افراد لاپتہ

    بھارتی نیوی کی آبدوز کشتی سے ٹکرا گئی،2 افراد لاپتہ

    بھارتی بحریہ کی آبدوز گوا کے قریب ماہی گیری کے جہاز سے ٹکرا گئی، 11 افراد بچا لیے گئے، 2 کی تلاش جاری ہے

    21 نومبر کو بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز گوا کے ساحل سے تقریباً 70 سمندری میل دور ماہی گیری کے جہاز مارتھوما سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے وقت جہاز پر 13 عملے کے ارکان موجود تھے۔بھارتی بحریہ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس کے دوران 11 افراد کو بچا لیا گیا۔ باقی 2 عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔بحریہ کے ترجمان کے مطابق، تلاش اور بچاؤ کے کام میں بھارتی بحریہ اور بھارتی کوسٹ گارڈز بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔یہ واقعہ ممکنہ طور پر 20-21 نومبر کو ہونے والی سی ویگل کوسٹل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس مشق کے دوران پیش آیا۔ حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز اور ماہی گیری کشتی کے درمیان گوا کے ساحل سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور تصادم ہوا، جس میں 13 ماہی گیروں کی کشتی متاثر ہوئی۔ دفاعی وزارت کے مطابق اس حادثے میں 11 ماہی گیروں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 2 اب بھی لاپتہ ہیں۔حادثہ مارٹھوما نامی ماہی گیری کشتی اور اسکورپین کلاس آبدوز کے درمیان پیش آیا۔ بھارتی بحریہ نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، جس میں چھ جہاز اور فضائیہ کے طیارے شامل ہیں۔بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کے لیے مزید امدادی وسائل بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ آپریشن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر ممبئی کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ کوسٹ گارڈ کے وسائل بھی متاثرہ علاقے میں روانہ کر دیے گئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ "حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔”

    اسکورپین کلاس آبدوزیں بھارتی بحریہ کی طاقتور سمندری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں، جو کئی طرح کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں اینٹی سب میرین وارفیئر، اینٹی سرفیس وارفیئر، خفیہ معلومات جمع کرنا، مائن بچھانا اور علاقے کی نگرانی شامل ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان آبدوزوں میں انتہائی جدید خاموشی کی خصوصیات، کم شور پیدا کرنے والے نظام اور پانی کے نیچے یا سطح پر انتہائی درستگی کے ساتھ دشمن پر حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ حملہ ٹارپیڈو اور ٹیوب سے لانچ کیے جانے والے اینٹی شپ میزائل دونوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    بھارتی بحریہ اور دیگر ادارے تاحال حادثے کے متاثرین کو ڈھونڈنے اور واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔

    اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    امریکہ سے اڈانی کے وارنٹ، کینیا نے اڈانی گروپ سے معاہدے منسوخ کر دیئے

    کینیا کے صدر ولیم روٹو نے قوم سے خطاب میں بھارتی کمپنی اڈانی گروپ کے ساتھ تمام مجوزہ معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان معاہدوں میں بجلی کی ترسیل اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع جیسے بڑے منصوبے شامل تھے۔ کینیا کی حکومت نے 700 ملین ڈالر کے پاور ٹرانسمیشن معاہدے اور 1.8 بلین ڈالر کے ہوائی اڈے کی توسیع کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔

    کینیا کےصدر روٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ میں اڈانی گروپ کے خلاف رشوت ستانی کے سنگین الزامات کے بعد کیا گیا ہے۔ اڈانی گروپ کو کینیا کے اہم ہوائی اڈے کا کنٹرول دینے کے منصوبے کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح، توانائی کی وزارت کے تحت اڈانی گروپ کے ساتھ ہونے والے 30 سالہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جو کینیا میں بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق تھا۔

    کینیا کے صدر روٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فیصلہ نئی معلومات اور تفتیشی ایجنسیوں کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کینیا کے اس اقدام کو اڈانی گروپ کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، اور اب سب کی نظریں اڈانی گروپ کے ردعمل اور کینیا کی حکومت کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    کینیا سے معاہدے کے تحت اڈانی گروپ کو ایک اضافی رن وے اور ٹرمینل تعمیر کرنے کے عوض ہوائی اڈے کو 30 سال تک چلانے کے حقوق حاصل ہونا تھےاس مجوزہ ڈیل کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھاجس کے باعث اڈانی مخالف مظاہرے ہوئے، کینیائی ہوائی اڈے کے کارکنوں نے ہڑتال کی۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ اس ڈیل کے نتیجے میں کام کے حالات مزید خراب ہوں گے اور بعض صورتوں میں ملازمتوں کا نقصان ہو گا،اڈانی گروپ کو مشرقی افریقہ کا کاروباری مرکز سمجھے جانے والے ملک کینیا میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر کا معاہدہ بھی دیا گیا تھا۔

    دوسری طرف اڈانی گروپ کے بحران نے اسٹاک مارکیٹ کو بڑا دھچکا دیا۔ صرف ایک دن میں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو 5.35 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جو بھارت کے سالانہ دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنیوں کی مالیت 14.31 لاکھ کروڑ روپے سے کم ہو کر 12.10 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔ گوتم اڈانی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 22ویں مقام سے 25ویں پر آ گئے ہیں۔

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

  • چیمپئنر ٹرافی،بھارت نے ذاکر نائیک کی وجہ سے انکار کیا،بھارتی صحافی کا دعویٰ

    چیمپئنر ٹرافی،بھارت نے ذاکر نائیک کی وجہ سے انکار کیا،بھارتی صحافی کا دعویٰ

    چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارتی ٹیم کے پاکستان نہ آنے پر بھارت کے مشہور اسپورٹس صحافی وکرانت گپتا نے حیران کن اور متنازع منطق پیش کی ہے۔

    وکرانت گپتا نے ایک بھارتی کرکٹ ویب سائٹ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم کے پاکستان نہ جانے کے فیصلے کو معروف اسلامی اسکالر ذاکر نائیک کے پاکستان کے دورے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں اور افراد کی ایک فہرست فراہم کی ہے۔ اگر پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرتا تو شاید بھارتی حکومت اپنی ٹیم کو بھیجنے پر راضی ہو جاتی۔”مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "پاکستانی حکومت نے ذاکر نائیک کا پرجوش استقبال کیا اور انہیں اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا۔ یہ فیصلہ دراصل پاکستان کی اپنی پوزیشن کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔” وکرانت گپتا نے یہاں تک کہہ دیا کہ، "پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی اور ذاکر نائیک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔”

    وکرانت گپتا کے اس بیان کا کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، اور صارفین اس پر شدید ردعمل دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، "وکرانت محض ہندو انتہا پسند بھارت کے موقف کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں بی سی سی آئی کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ ٹیم کے پاکستان نہ جانے کا کوئی بھی بہانہ گھڑا جائے۔”

    اس ساری صورتحال پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ "چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی منعقد ہوگی۔” انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں کوئی تحفظات ہیں تو وہ براہ راست پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا ضروری ہے کیونکہ کرکٹ جیسے کھیل خطے میں امن اور تعلقات کو بہتر کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے ٹیم نہ بھیجنے کے غیر منطقی بہانوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ہم کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے کھلے ہیں۔”یہ معاملہ نہ صرف کرکٹ کے شائقین بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی اثر ڈال رہا ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع کس سمت میں بڑھتا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ‌کی چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کو ناکام بنانے کیلئے ایک اور چال

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی اور تجارتی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت معطل ہونے کے باوجود، بھارت سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 3 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جو کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ حجم 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز تھا۔اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھارت سے درآمدات میں 45 فیصد اور اگست میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں، چاہے سیاسی سطح پر اختلافات کیوں نہ ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی، اور وقت کے ساتھ ان پابندیوں میں نرمی ہوتی دکھائی دی۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی دباؤ کے تحت حکومتوں کو بعض اوقات سخت فیصلے نرم کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت سے درآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ معیشت اور عوامی ضروریات سیاسی کشیدگی پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن اس کا معاشی اثر دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • بھارت پاکستان میں ہونیوالے بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبردار

    بھارت پاکستان میں ہونیوالے بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبردار

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کے لیے این او سی دینے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 23 نومبر سے پاکستان میں شروع ہونا ہے لیکن بھارتی حکومت نے بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کے لیے این او سی دینے سے انکار کر دیا ،جس کے بعد بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبردار ہوگیا-

    بھارتی بلائنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ وزارت خارجہ نے این او سی دینے سے انکار کیا ہے،بھارتی بلائنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شیلندرا یادیو کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی لیٹر ملنا ہے لیکن اب ہم نے گفتگو کی بنیاد پر پاکستان نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم 25 روز حکومتی اجازت کا انتظار کر رہے تھے ، ہم اب مزید انتظار نہیں کر سکتے کیونکہ اب ٹورنامنٹ شروع ہو رہا ہے، جب وزارت خارجہ سے فون پر بات تو انہوں نے این او سی نہ دینے کا بتایا، ہمیں کہا گیاہے کہ ہم انکار کا باضابطہ لیٹر بھی دیں گے۔

    واضح رہے کہ بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو وزارت کھیل نے این او سی جاری کیا تھا جس کے بعد ٹیم کو وزارت داخلہ اور خارجہ نے این او سی جاری کرنا تھا۔

    دوسری جانب بھارت کرکٹ بورڈ نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چمپئنز ٹرافی میں بھی شرکت کے حوالے سے بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، بھارت کی جانب سے کی جانے والی اس ہٹ دھرمی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ میں یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے چل رہا ہے۔

  • بھارت کا ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ

    بھارت کا ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ

    نئی دہلی: بھارت نے ملکی وسائل سے تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کے کامیاب تجربہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس تجربے کے نتیجے میں بھارت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، وہ اب جدید ترین ٹیکنالوجیز کے حامل ممالک کے چھوٹے گروپ کا حصہ بن گیا ہے۔

    بھارت کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او نے 1500 کلومیٹر تک مار کرنے والے اس میزائل کے تجربے کے ذریعے اپنے آپ کو منوالیا ہے فلائٹ ڈیٹا سے تصدیق ہوئی ہے کہ اس میزائل کا تجربہ مجموعی طور پر کامیاب رہا ہے یہ میزائل ہفتے کو بھارت کی مشرقی ریاست اُڑیسہ میں واقع اُس جزیرے سے داغا گیا جسے سابق بھارتی صدر اور بھارت کے میزائل پروگرام کے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے موسوم کیا گیا ہے۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اس تجربے کو ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت ان چند ممالک کے گروپ کا حصہ بن گیا ہے جن کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔

  • چیمپئنز ٹرافی،بھارتی کرکٹ بورڈ سے پاکستان نہ آنے کی وجوہات طلب

    چیمپئنز ٹرافی،بھارتی کرکٹ بورڈ سے پاکستان نہ آنے کی وجوہات طلب

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارتی کرکٹ بورڈ سے پاکستان نہ آنے کی تحریری وجوہات طلب کرلی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے بھارتی کرکٹ بورڈ کا خط تحریری طور پر مانگا تھا، جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے زبانی طور پر پاکستان نہ جانے کا ذکر کیا تھا۔ اب آئی سی سی نے بھارتی بورڈ کو ان وجوہات کو تحریر میں پیش کرنے کا کہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ان وجوہات کو دیکھ کر اپنے حق میں ٹھوس شواہد بھی مانگ سکتا ہے۔ قوانین کے مطابق بھارتی بورڈ کو پاکستان نہ جانے کی حقیقت پسند وجوہات فراہم کرنا ہوں گی اور آئی سی سی ان وجوہات کا جائزہ لے کر اپنے حتمی فیصلے تک پہنچے گا۔ اگر بھارتی بورڈ کی وجوہات ناقابل قبول ہوئیں تو بھارتی ٹیم کو پاکستان آنے کا کہا جائے گا، اور اگر بھارت انکار کرے گا تو چیمپئنز ٹرافی میں 9 ویں ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی ٹیم کے نہ آنے سے آئی سی سی کو 50 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہو گا، جب کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو اس کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالرز ہے۔

    بھارت کے پاکستان آنے سے انکار کے تمام معاملے کا قصور وار آئی سی سی ہے،محمد عامر

    چیمپیئنز ٹرافی دبئی سے اسلام آباد پہنچ گئی