Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت اور بنگلا دیشی کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ،بی سی بی نے وضاحت جاری کر دی

    بھارت اور بنگلا دیشی کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ،بی سی بی نے وضاحت جاری کر دی

    بھارت اور بنگلا دیشی کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کے معاملہ پر بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے وضاحت جاری کر دی ہے۔

    یہ واقعہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے ٹاس موقع پر پیش آیا، جب بنگلا دیش کے قائم مقام کپتان جواد ابرار نے بھارتی کپتان سے ہاتھ نہیں ملایا، تاہم اب بی سی بی نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے وجہ بیان کی ہے، بی سی بی نے کہا کہ بھارتی کپتان آیوش مہاترے سے ہاتھ نہ ملانا کسی دانستہ رویے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ بنگلا دیشی کپتان جواد ابرار کی غیر ارادی غلطی تھی۔

    بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے کہا کہ اس موقع پر کپتان کی توجہ کہیں اور تھی جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ بنگلادیش کے مستقل کپتان عزیزالحکیم طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے میچ نہیں کھیل سکے ٹاس کے موقع پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس حوالے سے بورڈ کھیل کی روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ پر مکمل یقین رکھتا ہے، اس واقعے کے پیچھے کسی قسم کی بدنیتی یا احتجاج کارفرما نہیں تھا۔

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ

    انڈر19 ورلڈکپ :بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

    ملک میں مغربی ہوائیں داخل، بارش اور برفباری کی پیشگوئی

  • یو اے ای صدر کا آئندہ ہفتے بھارت کے دورے کا امکان،بھارتی میڈیا

    یو اے ای صدر کا آئندہ ہفتے بھارت کے دورے کا امکان،بھارتی میڈیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر اگلے ہفتے بھارت کا اعلیٰ سطحی دورہ کر سکتے ہیں-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دورے میں دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر دفاعی تعاون میں.

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہوگا، جس میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ فوجی سرگرمیاں شامل ہیں، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی آرمی چیف کے یو اے ای کے دورے سے ظاہر ہوا تھا.

    قبل ازیں رواں ماہ کے شروع میں بھارتی آرمی چیف نےامارات کا سرکاری دورہ کیا تھا جس میں دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، دورہ دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اجاگر کرتا ہے، جس میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں اور مشترکہ تربیتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

    بھارت کے آرمی چیف جنرل اپیندر دھیویڈی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دو روزہ سرکاری دورے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جو دوطرفہ فوجی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ دورہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔

  • بشنوئی گینگ کی بھارتی گلوکارکو جان سے مارنے کی دھمکی

    بشنوئی گینگ کی بھارتی گلوکارکو جان سے مارنے کی دھمکی

    بھارت کے بدنام زمانہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کے گینگ نے پنجابی گلوکار پراتیک بچن المعروف بی پراک کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بی پراک کو لارنس بشنوئی گینگ کے ایک رکن کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی اور 10 کروڑ روپے بھتّے کا بھی مطالبہ کیا گیا بی پراک کے قریبی ساتھی اور پنجابی گلوکار دلنور کو 5 جنوری کو ایک غیر ملکی نمبر سے2 مسڈ کالز موصول ہوئیں، جنہیں انہوں نے نظر انداز کیا لیکن پھر اگلے دن ایک مختلف غیر ملکی نمبر سے کال آئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق فون کرنے والے نے اپنی شناخت ارجو بشنوئی کے نام سے کروائی اور بی پراک کے قریبی ساتھی دلنور کو کہا کہ ہمارا پیغام بی پراک تک پہنچا دوکہ ہمیں 10 کروڑ روپے چاہیے تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے تم کسی بھی ملک چلے جاؤ، لیکن اگر اس سے وابستہ کوئی شخص ہمارے قریب پایا گیا تو نقصان پہنچایا جائے گا، اگر مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ بی پراک کو مٹی میں ملا دیں گے اور انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔

    دلنور کی شکایت پر پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں فون کالز کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پراتیک بچن، جو بی پراک کے نام سے مشہور ہیں، پنجابی اور ہندی موسیقی کے نمایاں گلوکار اور میوزک ڈائریکٹر ہیں،ان کے مشہور گانوں میں “من بھرّیا” اور فلم اینیمل کا مشہور گانا “ساری دنیا جلا دیں گے” وغیرہ شامل ہیں۔

  • چابہار پورٹ سے علیحدگی پر مودی پر اپنے ہی ملک میں تنقید

    چابہار پورٹ سے علیحدگی پر مودی پر اپنے ہی ملک میں تنقید

    ایران کی چابہار پورٹ سے علیحدہ ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس حوالے سے اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو ریلیز کی، جس میں لکھا کہ ‘نریندر نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر، معاہدہ کرنے پر اسے بڑی کامیابی کہنے والے مودی چابہار کا کنٹرول چھوڑنے پر خاموش ہیں، افسو س مودی ٹرمپ کے آگے جھک گئے اور ملک کا نقصان کردیا۔

    کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "چابہار کوئی عام بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم، براہ راست سمندری رابطہ فراہم کرتا ہے، جس سے ہمیں پاکستان کو بائی پاس کرنے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مقابلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کا ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے،امریکی پروفیسر

    مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ "اب یہ سننا کہ بھارت نے امریکی دباؤ کے پہلے اشارے پر چابہار سے غیر رسمی طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، یہ اس حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی کمی کو ظاہر کرتا ہے”کھیڑا نے اس معاملے میں مرکزی بی جے پی حکومت سے بھی سوال کیاکہ "بھارتی حکومت کب تک واشنگٹن کو ہمارے قومی مفادات پر فیصلے کرنے کی اجازت دے گی؟ تو سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟

    اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

    اسی طرح کا دعویٰ کرتے ہوئے شیو سینا یو بی ٹی ایم پی پرینکا چترویدی نے بھی ٹویٹر پر لکھا کہ "بھارت ایران میں چابہار بندرگاہ سے تقریباً باہر نکل چکا ہے۔ وہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کی قیمت پر ایک ملک کو خوش کرنے کے لیے پیچھے ہٹ رہا ہے۔”اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ چابہار بندرگاہ بھارت کو ایران کی مشرقی سرحدوں کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کرتی ہے، ایم پی نے کہا، "یہ منصوبہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے علاقائی سمندری ٹرانزٹ ٹریفک کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

  • امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

    امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

    امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق بھارت ایران کی چا بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کررہاہےبھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کردی ہے جس کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق چابہاربندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طورپر مستعفی ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ IPGL کی آفیشل ویب سائٹ کو بھی غیر فعال کردیا گیا ہےچابہار بندرگاہ سے خاموشی کے ساتھ علیحدگی کےمعاملے پر اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے مودی سرکارپرسخت تنقید کی جارہی ہے۔

    کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ مودی امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟ امریکی دباؤ پر چابہار سے غیر رسمی طور پر پیچھے ہٹنا خارجہ پالیسی میں نئی کمزور کو ظاہر کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ سال 2024 میں میں بھارت نے 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا بھارت کا چابہار بندرگاہ میں منصوبہ ایک معمول کی سرمایہ کاری نہیں، بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہ راست سمندری رسائی کے لیے ایک طویل المدتی اور اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے، جس سے پاکستان کو بائی پاس کرکے تجارت کو فروغ دیا جا سکے یہ منصوبہ 2003 میں شروع ہوا اور 2016 میں ایک طویل مدتی معاہدے کی صورت اختیار کر گیا، جس کا مقصد اس خطے میں بھارت کی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی رسائی کو بڑھانا ہے۔

    اسٹریٹجک اہمیت: چابہار بندرگاہ بھارت کو بحیرہ عرب کے راستے ایران کے ذریعے زمینی طور پر افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑتی ہے، جس سے تجارتی راستوں میں بہتری آتی ہے۔

    پاکستان کا متبادل: یہ منصوبہ دراصل پاکستان کی کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور نئے تجارتی راستے کھولنے کی ایک کوشش ہے بھارت نے اس منصوبے میں 2003 سے دلچسپی لینا شروع کی اور 2016 میں ایران کے ساتھ 10 سالہ معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد سے اس پر کام جاری ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے حال ہی میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ بھارت نے چابہار سے پیچھے ہٹ گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کا اس بندرگاہ پر کنٹرول برقرار ہے۔

  • انڈر19 ورلڈکپ :بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

    انڈر19 ورلڈکپ :بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

    انڈر19 ورلڈ کپ میں بھی بھارتی کپتان نے ٹاس کے وقت بنگلا دیشی کپتان نے ہاتھ نہیں ملایا۔

    آئی سی سی انڈر نائنٹین کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ میں ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں نے ہینڈ شیک نہیں کیا اور آئی سی سی کے ایونٹ میں پہلی بار یہ واقعہ ہوا ہےبنگلا دیش اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی اور پے در پے پیش آنے والے واقعات کا یہ تسلسل تھا –

    بنگلا دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز سےباہر کرنے کا مطالبہ بھارت میں زور پکڑا تو کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ریلیز کردیا،جواب میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی سے نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کردیا،آئی سی سی نے اس معاملے پر بات چیت کیلئے دو رکنی وفد بنگلا دیش بھیجنے کی تیاری کی تو بنگلا دیش کی حکومت نے پہلے تو وفد میں شامل بھارتی گورو سکسینا کو ویزہ جاری کرنے سے انکار کردیا پھر آمادگی ظاہر کردی۔

    اوکاڑہ: پنجاب پولیس شہداء کے بچوں کی تعلیمی معاونت، لیپ ٹاپ تقسیم

    پچھلے سال ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ کے موقع پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ نہیں ملایاپھر میچ کے بعد بھی یہی ہوا، کھلاڑیوں نے ہاتھ نہیں ملایا اس ایونٹ میں تین مرتبہ پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آئے اور تینوں مرتبہ کپتانوں اور کھلاڑیوں نےا یک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا رائزنگ اسٹار کے ایونٹ اور انڈر 19 ایشیا کپ کرکٹ میں بھی پاکستان اور بھارت کے کھلاڑیوں نے ہینڈ شیک نہیں کیا تھا جبکہ اس دوران دیگر کھیلوں میں پاکستان اور بھارتی کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے رہے۔

    ٹرمپ کا ترک صدر کو اہم خط

  • بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز  واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    نئی دہلی: ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب (India Hate Lab) کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں بھارت بھر میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مجموعی طور پر 1,318 نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 1,165 اور 2023 میں اس سے بھی کم تھی،ریکارڈ کی گئی تقریباً 98 فیصد تقاریر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق 2023 کے بعد دستاویزی نفرت انگیز تقریر کے واقعات میں 97% اضافہ ہوا ، زیادہ تر نفرت انگیز واقعات ان بھارتی ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا اس کے اتحادی برسراقتدار ہے خاص طور پر پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22 اپریل سے 7 مئی کے درمیان سب سے زیادہ، یعنی 100 نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

    رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور نفرت پر مبنی کارروائیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش خطرات اور امتیازی سلوک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    وفاق نےمتبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دیدی

    کراچی اور لاہور کے درمیان بعض فضائی راستے آج اور کل بند رہیں گے

    پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی،اسحاق ڈار

  • آپریشن سندور:پاکستان کو  بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی،بھارتی آرمی چیف

    آپریشن سندور:پاکستان کو بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی،بھارتی آرمی چیف

    بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں صورتحال نازک ہے، تاہم ان کے مطابق حالات اس وقت کنٹرول میں ہیں۔

    بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان پر الزامات بھی عائد کیے، تاہم اسی دوران وہ یہ تسلیم کر بیٹھے کہ پاکستان کو سیٹلائٹس کے ذریعے بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی۔

    اے این آئی کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ معلوم تھا کہ بھارتی فوج کا کون سا طیارہ، کون سی مرکزی یونٹ اور کون سا جہاز کس مقام پر حرکت کر رہا ہے،جنرل اُپندر دویدی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال نازک ہے، تاہم ان کے مطابق حالات اس وقت کنٹرول میں ہیں،پاکستان اور چین نے راکٹ فورس قائم کر رکھی ہے، اور بھارت کو بھی اسی طرز پر اپنی راکٹ فورس کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔

    مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    ملتان سلطانز کی نیلامی ،پی سی بی نے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا

    بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

  • اجیت ڈوول  نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

    اجیت ڈوول نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

    بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے مسلمانوں کے حالیہ بیان نے خطے میں تشویش کی لہر پیداکر دی ہے۔

    اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں تاریخ کا بدلہ لینے کی آگ ہونی چاہیے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو معمول بنانا ضروری ہے یہ بیان ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026 کے دوران سامنے آیا۔

    ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے معروف سماجی کارکن محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے مترادف ہے اور صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض دھوکہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈوول کا بیان بھارت میں نفرت اور مذہبی بنیاد پر فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی عکاسی کرتا ہےڈوول ڈاکٹرائن خطے میں پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی ایشیا میں تنازعہ کو ہوا دینے کا ذریعہ ہے، آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

  • چین نے  شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا

    چین نے شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا

    بیجنگ: چین نے کشمیر میں واقع شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا-

    چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شکسگام ویلی چین کی سرزمین ہے، اس لیے وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر بالکل جائز ہے چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں بطور خودمختار ممالک سرحدی معاہدہ کیا تھا، جو دونوں ممالک کا حق ہےسی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی ترقی اور عوام کی فلاح ہے، اور اس سے چین کے کشمیر سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

    ان کا یہ بیان بھارتی میڈیا کی جانب سے چین کے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کے جواب میں سامنے آیابھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شکسگام ویلی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہےبھارت 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سرحدی معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔

    بھارت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہیں، اور اس حوالے سے چین اور پاکستان کو کئی بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک عرصے سے جاری ہیں، اگرچہ 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس کے باوجود شکسگام ویلی اور اروناچل پردیش جیسے علاقوں پر اختلافات برقرار ہیں۔