Baaghi TV

Tag: بی جے پی

  • بی جےپی رہنماکاگستاخانہ بیان:”اوآئی سی سخت ایکشن لے“یہ گُستاخی اوربدتمیزی برداشت نہیں:عمران خان

    بی جےپی رہنماکاگستاخانہ بیان:”اوآئی سی سخت ایکشن لے“یہ گُستاخی اوربدتمیزی برداشت نہیں:عمران خان

    اسلام آباد:بی جے پی رہنما کا گستاخانہ بیان: ”او آئی سی سخت ایکشن لے“یہ گُستاخی اوربدتمیزی برداشت نہیں ، ان جزبات اور او آئی سی کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا عالم اسلام سے بڑا مطالبہ کردیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھارت کی حکمران جماعت کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف گستاخانہ بیان پر اسلامی تعاون تنظیم سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے لکھا کہ نبی ﷺ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کے نفرت انگیز حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

     

    عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارتی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں پر حملے کرائے جا رہے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نبی ﷺ کی گستاخی مسلمانوں کے لیے سب سے تکلیف دہ عمل ہے، تمام مسلمان نبی ﷺ سے شدید محبت اور انتہائی تعظیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی مودی کے بھارت کے خلاف سخت ایکشن لے، افسوس کہ اسلاموفوبیا پالیسیوں پر بھارت کو کچھ نہیں کہا جاتا ہے۔

    بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے اسلام اور نبی کریمﷺکی شان میں گستاخی پر عرب ممالک میں عوام کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد سرکاری سطح پر بھی ردعمل سامنے آرہا ہے۔اطلاعات کے مطابق بی جے پی ترجمان کی جانب سےگستاخانہ بیان پر قطر نے بھارت کے سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔

     

     

    حضوراکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ کےخلاف…

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق دوحا میں بھارتی سفیر کو طلب کرکےگستاخانہ بیان پر احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ بھارتی حکمران جماعت کی ترجمان کے بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ادھر قطرکے بعدکویت نے بھی بھارت کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔کویتی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی سفیرکودین اسلام سے متعلق گستاخانہ بیان پر احتجاجی مراسلہ دیاگیا۔کویتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت کی ترجمان کے بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا

    خیال رہےکہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺکے حوالے سے متنازع گفتگو کی تھی۔بی جے پی کی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر بھارت اور بیرون ملک شدیدغم وغصےکا اظہارکیا جارہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف،صدرپاکستان ڈاکٹرعارف الرحمن علوی نے بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے نبی کریمﷺکی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا ہےکہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ فاشسٹ مودی کی قیادت میں بھارت مذہبی آزادی پامال کر رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں پر شدید ظلم و ستم جاری ہے، دنیا بھارتی انتہا پسندی کا نوٹس لے۔

    بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کشمیریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے

    دوسری جانب عرب ممالک میں عوام کی جانب سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے، مصر، سعودی عرب، قطر، بحرین اورکویت میں بائیکاٹ انڈیا کی مہم چل پڑی ہے اور بھارت سے درآمد شدہ اشیاء استعمال نہ کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔مفتی اعظم عمان احمد بن حمد الخليلی نے بھارتی اشیاءکا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ بی جے پی ترجمان کا یہ اقدام ہر مسلمان کے خلاف ہے، اس پر مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں کو ایک ہونا چاہیے۔

  • حضوراکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ کےخلاف مقدمہ درج

    حضوراکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ کےخلاف مقدمہ درج

    عمرکھیڑ: گزشتہ دنوں ٹی وی چینل ٹائمزناو کے ایک پروگرام میں بی جے پی کی ترجمان نپور شرما نے ڈیبیٹ میں آپ صلی اللہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی اور اماں عائشہ صدیقہ کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس کے بعد مسلمانوں میں شدید برہمی اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔

    گزشتہ روز بھیونڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مہاراشٹر کے مجلس کے ذمہ داران کو ہدایت دی تھی کہ وہ گستاخ رسول صلی علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں۔ جس کے بعد مہاراشٹر کے مجلس کے جنرل سیکرٹری جناب سید معین نے ناندیڑ ۔پربھنی۔ہنگولی۔ ایوت محل کے مجلس کے صدور کو ایف أئی آر کا فارمیٹ اور ٹی وی ڈیبیٹ کا ویڈیو روانہ کئے۔

     

    اس کے بعد آج عمر کھیڑ کے مجلس کے صدر سید عرفان نے آج مقامی پولیس اسٹیشن سے ربط قائم کرکے انھیں معاملے سے واقف کروایا ۔جس کے بعد پولس نے بی جے پی کی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ چینل کے خلاف شکایت درج کروائی ۔ پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 295اے اور 153اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔اس طرح مہاراشٹر میں گستاخ رسولِ اکرم کے خلاف پہلی ایف أئی آر درج ہوئی ہے۔

  • دیکھا مسلمانوں کا حشرنشرکردیا:بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے

    دیکھا مسلمانوں کا حشرنشرکردیا:بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے

    نئی دہلی :بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں پچھلے چند ہفتوں سے شدت آگئی ہے اور اس نفرت کو بھی ہندوانتہا پسند اپنا کارنامہ قراردینے لگے ہیں ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت کی ایک تقریب کے دوران بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے وزراء اعلیٰ نے مسلم مخالف پالیسیوں اور مسلم دشمنی پر مبنی کارروائیوں کو اپنے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کیا ہے۔

     

    ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ہفت روزہ ہندی اور انگریزی اخبارات کے 75 برس مکمل ہونے پر دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا اور اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اپنی اپنی ریاستوں میں مسلم مخالف اقدامات کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کیا۔

    یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے سابقہ حکومتوں سے اپنی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے لیکن اترپردیش میں کوئی فساد نہیں ہوا۔

     

    ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ 2012ء سے 2017ء کے درمیان اترپردیش میں 700 فسادات ہوئے لیکن پچھلے پانچ برسوں کے دوران اترپردیش میں کوئی فسادات نہیں ہوئے۔

    یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رام نومی کا تہوار اور ہنومان جینتی کی تقریبات بھی شاندار اور پرامن طور پر گزریں جبکہ پہلی مرتبہ رمضان میں جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی نمازیں سڑکوں پر نہیں ہوئیں اور مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر پوری طرح غائب ہو چکے ہیں۔انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، بنارس میں کاشی وشوا ناتھ مندر کمپلیکس کی تزئین نو اور ریاست میں غیر قانونی ذبیحہ خانوں کو بند کیے جانے کو بھی اپنا کارنامہ قرار دیا۔

    آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا نے کہا کہ لفظ مدرسہ کو ہی مٹا دینا چاہیے کیونکہ جب تک یہ لفظ باقی رہے گا اس وقت تک کوئی بچہ نہ تو ڈاکٹر او رنہ ہی انجینئر بن سکے گا۔ مدارس میں بچوں کو داخل کرانا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی تعلیمات پر اخراجات بند کر دیے گئے ہیں۔ تمام مسلمان دراصل ہندو ہیں، اس دھرتی پر کوئی بھی مسلمان نہیں آیا اس لیے اگر کوئی مسلم بچہ قابل تعریف کام کرتا ہے تو اس کا سہرا اس کے ہندو ماضی کو جاتا ہے۔

    اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے، دراندازوں کی شناخت کے لیے خصوصی مہم چلانے اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون کو سخت بنانے کے اپنے کارناموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر ریاستیں بھی ان کے اس اقدام کی پیروی کریں گی۔

    بھارت کے مسلم رہنماؤں نے بی جے پی کے وزراء اعلیٰ کے بیانات کی سخت مذمت اور اُن پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اسلاموفوبیا کا بدترین نمونہ قرار دیا ہے۔

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

  • مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں جلسے سے خطاب کی تقریر کرنے کی بی جے پی کے رہنما کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل تقریر میں حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر میں دوبارہ منتخب ہوگیا تو مسلمانوں سے ٹوپی اتروا کر ماتھے پر تلک کا نشان لگواؤں گا۔

    ٹیلی وژن پر ایک حالیہ انٹرویو میں رکن اسمبلی نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کی تصدیق کی اور اپنے ناپاک عزائم کا اعادہ کیا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

    مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث الیکشن میں جیت کے لیے حکمراں جماعت کے ارکان کے پاس ہندو جذبات کو اکسانے کے علاوہ کوئی اور حربہ نہیں بچا ہے۔

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    کرناٹک میں اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ ملک گیر ہوگیا ہے بی جے پی کی حکومت میں اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے اور جنونی انتہاپسند ہندوؤں کے شر سے خود ہندو برادری کے دلت بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

  • ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیاں : جناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتےرہ گئے

    ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیاں : جناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتےرہ گئے

    حیدرآباد:ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیوں کے بعدجناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتے رہ گئے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہری گنٹور میں قائم تاریخی جناح ٹاور کو بھارتی پرچم کے رنگوں سے رنگ دیا گیا ہے اور 3 فروری کو اس کے احاطے میں بھارتی پرچم لہرانے کا اعلان کیاگیاہے۔

    حیدرآباد دکن سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہندوتوا قوتین جناح ٹاور کو متنازعہ بتاتے ہوئے سیاسی فائدہ ا ٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ دراصل آندھراپردیش میں بی جے پی انتہائی کمزور ہے اوروہ فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کرکے اپنے وجود کو منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسی لئے آندھراپردیش میں بی جے پی کے صدر ایس ویرا راجو نے گنٹور کے تاریخی جناح ٹاور کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اوربابری مسجد کی طرح جناح ٹاور کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے گنٹور کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

    اسی سلسلے کی کڑی کے طورپر 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع چند شرپسندوں نے جناح ٹاور پر ترنگا لہرانے کی کوشش کی جس کوپولیس نے ناکام بنادیا۔ بی جے پی کے رہنمابھارت میں قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے موجود تمام نشانیوں کو مٹانے کی دھمکیاں رہے ہیں۔

    گنٹور میونسپل کارپوریشن نے ہندو انتہاپسندوں کے دباﺅ میں آکر اورشہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے نام پر جناح ٹاور کو بھارتی پرچم کے رنگوں سے رنگنے اور 3 فروری کو جناح ٹاور کے احاطے میں بھارتی پرچم لہرانے کا فیصلہ کیا۔

  • بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

    بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

    ممبئی: مسلم کش فسادات کا ذمہ دار مودی کو ٹھہرانے والی صحافی کو بی جے پی کے غنڈوں کی جانب سے زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : اپنی کتاب میں گجرات مسلم کش فسادات کا ذمہ دار اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو قرار دینے والی خاتون صحافی رعنا ایوب کو بی جے پی کے غنڈوں کی جانب سے زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مودی سرکار پر کڑی تنقید کرنے والی خاتون صحافی رعنا ایوب کو مبینہ حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارندوں نے خاتون صحافی کو سوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے شروع کردیا۔

    بعد ازاں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے خاتون صحافی رعنا ایوب کو سوشل میڈیا پر قتل اور ریپ کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں جس پر انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔

    صحافی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کے دباؤ پر ممبئی پولیس کے سائبر کرائم ونگ نے قتل اور زیادتی کی دھمکی دینے پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے رعنا ایوب نے بتایا کہ ممبئی پولیس نے میرے خلاف غلط خبریں پھیلانے، قتل اور ریپ کی دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    خاتون صحافی نے لکھا ’’اب وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے اور تشدد کے واقعات کو روکا جائے اور اس میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے‘‘۔

    دوسری جانب ’’انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس‘‘ کی جانب سے بھارت کی خاتون صحافی کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا گیا اور ساتھ لکھا کہ رعنا ایوب کے خلاف آن لائن تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں اور یہ فوری طور پر رکنا چاہیے جب کہ اس سلسلے میں ممبئی پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے انتہائی اہم پہلا قدم اٹھایا ہے‘‘۔

    بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    انٹزنیشنل صحافی تنظیموں اور مسلم ارکان اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی دور حکومت میں اقلیتوں اور خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس سے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب ہوگیا۔

    واضح رہے کہ صحافی رعنا ایوب نے ’گجرات فائلز‘ نامی کتاب لکھی تھی جس میں 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کا ذمہ دا ر اس وقت کی بی جے پی حکومت کو ٹھہرایا تھا۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

  • کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    نئی دہلی :بھارت:کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے گائوں اراسیناکیرے میں اونچی ذات کے ہندوئوں نے حملہ کر کے پانچ دلت نوجوانوں کو زخمی کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دلت نوجوانوں نے میسور کی جیا پورہ پولیس پردرج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہیں گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔

    مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ دلت نوجوان پانی پوری کھانے کیلئے گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں گئے تھے جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 13جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے دلت نوجوانوں میسور کے کے آر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان شخص کوجو ٹرین پر ایک شادی شدہ ہندوخاتون کے ساتھ سفر کر رہا تھاتشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کر گھنٹوں تک اجین ریلوے اسٹیشن پر روکے رکھا۔

    بجرنگ دل کے کارکنوں نے مدھیہ پردیش کے اجین ریلے اسٹیشن پر مسلمان شخص پر لوجہاد کا الزام لگاتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کرریلوے پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں دونوں کے اہلخانہ نے پولیس کے سامنے تصدیق کی وہ دونوں فیملی فرینڈز ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں جس کے بعد انہیں پولیس نے جانے دیا۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اپنی شناخت بجرنگ دل کے کارکنوں کے طور پر کرانے والے تین افراد نے آصف شیخ کو ٹرین سے گھسیٹتے ہوئے اتارااور وہ اسے زبردستی پولیس اسٹیشن لے گئے جبکہ مذکورہ ہندو خاتون بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔

    پولیس اسٹیشن کے اندر ریکارڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں ہندو خاتون بجرنگ دل کے کارکنوں پر چیختے ہوئے نظر آ رہی ہے۔خاتون چیختے ہوئے کہتی ہے کہ ”تمہاری ایک غلط فہمی میری زندگی خراب کر سکتی ہے، میں بالغ ہوں اور ایک اسکول میں پڑھاتی ہوں”۔ ریلوے پولیس کے مطابق یہ واقعہ 14جنوری کو پیش آیا تھا ۔

  • بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں  زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    نئی دہلی : بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے ریاست تلنگانہ میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سے خطاب میں مغلوں، نظاموں اور مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف خوب زہر اُگلا۔

     

    بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ جیسے کشمیر کی دفعہ 370 کا خاتمہ ہوا، جیسے رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوا، اسی طرح یہاں نظام اور اویسی کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا، اس میں اب زیادہ وقت نہیں۔ بھارتی تاریخ بتاتی ہے کہ بابر، اورنگزیب اور نظام بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے۔

    ہمنتا بسوا شرما کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کرنی ہے جس میں کوئی بھی نظام کی تاریخ نہیں پڑھے گا بلکہ ہمارے اپنے رہنماؤں کی تاریخ پڑھائی جائے گی۔

     

    تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد پر تقسیم ہند سے قبل تک نظام نے برسوں حکمرانی کی تھی اور ان کا اشارہ اُنہی کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر اس متنازع بیان پر کافی بحث ہوئی اور بہت سے افراد نے اسے اشعال انگیز قرار دیا۔آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھارت کو نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم مودی کی تعریف اور تلنگانہ میں بے روزگاری کے مسائل پر بھی بات کی لیکن وہ اِس حقیقت سے صاف منہ موڑ گئے کہ جب سے مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ملک میں بے روزگاری کا سنگین مسئلہ شروع ہوا اور اس وقت ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔

    چند روز قبل ہی بھارت کے معروف ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور اساتذہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ملک میں نفرت انگیز تقریروں اور اقلیتوں پر حملوں کے خلاف اُن کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں جو اِنہیں مزید تقویت اور حوصلہ دے رہی ہے۔

     

    وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس خط پر 183 افراد نے دستخط کیے جن میں طلبا کے ساتھ ساتھ آئی آئی ایم بنگلور کے 13 اور آئی آئی ایم احمد آباد کے تین فیکلٹی ارکان بھی شامل ہیں۔

    خط میں مزید تحریر تھا کہ ملک میں ایک خوف کا ماحول ہے۔ بھارت میں گرجا گھروں سمیت بہت سی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف تو ہتھیار اٹھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کسی قانونی کارروائی کے ڈر کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

     

    2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہی ہری دوار میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک مذہبی اجلاس کے موقع پر متعدد ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کے قتل عام اور نسل کشی کے لیے کہا تھا۔

    اس واقعے کی کئی وڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں اور تمام مقررین واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسلمانوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

  • بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    نئی دہلی:بھارت میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ’Tek Fog‘ ایپ ان میں سے ایک ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہول گاندھی نے ہندی میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایک مخصوص مذہب کی خواتین کو نشانہ بنانے والے”بلی بائی“ ایپ کیس کے ملزمان کی عمرکی دیکھتے ہوئے پورا ملک حیران ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آرہی ہے۔ ”بلی بائی ایپ کیس کے ملزم کی کم عمری کو دیکھ کر پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے۔

    انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ دراصل بی جے پی نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ٹیک فوگ ان میں سے ایک ہے۔انہوں نے ایک رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیک فوگ بی جے پی کی معاون ایپ ہے جس نے سائبر آرمی کو نفرت پھیلانے اور سوشل میڈیا پرٹرینڈز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی طاقت دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پہلے ہی اس ایپ کے حوالے سے حکومت سے جواب طلب کر چکی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کرچکی ہے۔ ’بلّی بائی‘ کیس میں سیکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر کو ’نیلامی‘ کے لیے ’بلّی بائی‘ نامی ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔