Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی بغیر توسیع کے بھی ختم ہو سکتی ہے، تاہم ان کے نزدیک ایک مستقل معاہدہ زیادہ موزوں ہے، یہ کسی بھی طرح ختم ہو سکتی ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ بہتر ہے کیونکہ اس کے بعد وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں اس سے قبل ہونےوالےپہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کےمعاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی، جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    آئندہ مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے جوناتھن کارل سے گفتگو میں کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ اگلے دو دنوں میں حیران کن پیشرفت دیکھیں گے امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران میں مؤثر طور پر حکومت میں تبدیلی آ چکی ہے اور ان کے بقول ’شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہےاب وہاں ایک مختلف حکومت ہے، ہم نے شدت پسندوں کو ہٹا دیا ہے، وہ اب موجود نہیں ہیں۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    واشنگٹن: امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں-

    ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،جبکہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے-

    سینٹ کام نے کہا تھا کہ ہرمز کی بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں یہ پابندی خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر لاگو ہےایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سفارتی دورے پر آج روانہ ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سفارتی دورے پر آج روانہ ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کریں گے-

    سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ نوعیت کے ہوں گے، جن کے دوران وزیراعظم دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں جاری دوطرفہ تعاون، باہمی تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم ترکیہ کا دورہ بھی کریں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ فورم کے دوران وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ لیڈرز پینل میں شرکت کریں گے اور عالمی فورم پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

    فورم کے موقع پر وزیراعظم کی رجب طیب ایردوان سمیت دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتوں کی بھی توقع ہے اس فورم میں پاکستان کی شرکت عالمی سطح پر تعمیری سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اہم عالمی امور پر بامقصد روابط کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

  • اسحاق ڈار کو یو این سیکرٹری جنرل کا ٹیلی فون، ایران امریکا مذاکرات پر پاکستان کے کردار کی تعریف

    اسحاق ڈار کو یو این سیکرٹری جنرل کا ٹیلی فون، ایران امریکا مذاکرات پر پاکستان کے کردار کی تعریف

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کرکے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے انعقاد پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسحاق ڈار سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے امریکا اور ایران جنگ بندی کیلئے اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے یہ بھی کہاکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ، سنجیدہ مذاکرات کو دوبارہ شروع ہونا چاہیے، بین الاقوامی بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کا احترام ہونا چاہیےوزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • صدر ٹرمپ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی پر تنقید

    صدر ٹرمپ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی پر تنقید

    امریکی صدر ٹرمپ نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،جبکہ ٹرمپ ماضی میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی تعریف کرتے رہے ہیں ۔

    ٹرمپ نے کہا میرے تبصرے نہیں ، جارجیا میلونی خود ناقابلِ قبول ہیں کیوں کہ میلونی کو فکر نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، میلونی کو یہ بھِی فکر نہیں کہ ایران کو اگر موقع ملے تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو تباہ کردے گا ۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کی یہ تنقید اس وات سامنے آئی جب گزشتہ روز جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اٹلی کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    اس کے علاوہ امریکی صدر نے پوپ لیو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کا کوئی علم نہیں، پوپ کو جنگوں پر بات نہیں کرنی چاہیے، پوپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے؟

  • ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے، امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے،اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے-

    سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے،ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ، مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے-

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے موٹے سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو چھ سات دن ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی برقرار ہے،اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اپنانے پر راضی ہو جائے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا گزشتہ 49 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قدر اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

    وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہو سکتا، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کی میز پر دوسری طرف بیٹھے ایرانی حکام بھی ڈیل چاہتے تھے اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے تو امریکا اسے معاشی طور پر ترقی دینے میں مدد کرے گا، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی پراکسیوں کی مالی معاونت سے بھی روک دے۔

    تقریب کے دوران نائب صدر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی نسل کشی کی حمایت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے اور ان کی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کیا ہے وینس نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ناراضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ ہونے کے بجائے عمل میں مزید شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ سیا سی رہنماؤں کو کبھی تلوار یا طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نازیوں سے فرانس کو آزاد کروانے والے امریکیوں کے ساتھ خدا نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر لفظی جنگ جاری ہے،اس تمام صورتحال میں امریکی کیمپ سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنو ں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

  • ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور،  امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

    سی این این کی خبر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شریک ہوں گے یہ دونوں شخصیات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہی تھیں-

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے 3 قریبی مشیروں کو سونپی ہے اور وہ اب بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام اور ثالثوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکی حکام ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر غور کر رہے ہیں، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوگی یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

  • وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیافریقین نے ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی، جو دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے عالمی توانائی کے تحفظ پر اثرات اور ممکنہ معاشی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے تنازع کے جلد حل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے تھے، وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  • اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اطالوی خبر رساں ادارے اے این اے ایس اے کے مطابق وزیراعظم جورجیا میلونی نے شہر ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    توانائی پالیسی کے حوالے سے روسی گیس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ایک مؤثر ہتھیار ہے گزشتہ برسوں میں روس پر ڈالا گیا اقتصادی دباؤ امن کے قیام کے لیے ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ 2027 کے اوائل تک اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔

    وزیراعظم میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ سے متعلق حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیاانہوں نے پوپ لیو سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے میں خود کو مطمئن محسوس نہیں کریں گی جہاں مذہبی رہنما سیاسی ہدایات کے تابع ہوں۔

    امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، تاہم اتحادی ہونے کے باوجود اختلاف رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جب آپ دوست اور اتحادی ہوں، خصوصاً اسٹریٹجک سطح پر، تو آپ میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ جہاں اختلاف ہو وہاں اسے بیا ن کیا جا سکے۔