Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمت میں 8 فیصد سے زائد کمی آئی تھی،اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کم ہوئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریداری بڑھا دی۔

    رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,812 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ ایک موقع پر یہ 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19 مارچ کے بعد بلند ترین سطح پر بھی گیا، امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،دیگر دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی کی قیمت 4.9 فیصد بڑھ کر 76.48 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2,020 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے بعد 1,529 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم بھی ہو سکتی ہے۔

  • اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہےتاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے،مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی گئی، اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنے اور حملوں کے تسلسل سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں-

    ایران امریکا جنگ بندی: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، پاکستان سمیت عالمی مارکیٹس میں تیزی

  • مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں خطے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو واضح کر رہی ہیں۔

    ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1 ہزار 900 اموات کی تصدیق کی ہے لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار 530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے تین امن اہلکار بھی مختلف واقعات میں مارے گئے۔

    عراق میں کم از کم 117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں میں 23 افراد مارے گئے اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات میں 13 افراد جان سے گئے۔ قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 افراد، اور کویت میں بھی 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں دیگر علاقوں میں مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد، جبکہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے فرانس کا ایک فوجی بھی شمالی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔

    انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں پر ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو اوسطاً 891 ملین ڈالر یومیہ بنتے ہیں۔

    ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے کے 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے اثاثے شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں سے خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان پہنچا، جس سے عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ماہرین کے مطابق تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی پر کم از کم 25 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق جنگ کے پہلے 20 دنوں میں ہی سیاحت کی آمدنی میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 600 ملین ڈالر کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔

    تنازع کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ صرف دبئی میں پہلے ہفتے کے دوران 80 ہزار سے زائد ہوٹل بکنگز منسوخ کی گئیں، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو سیاحت میں 27 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس سے 38 ملین سیاح کم آئیں گے اور تقریباً 56 ارب ڈالر تک کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کو سیاحت سے 200 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی  مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر  کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر Itamar Ben-Gvir کے داخلے کی شدید مذمت کی ہے ۔

    گزشتہ روز اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے مسجد کے احاطے میں فوجیوں کے ساتھ داخل ہو کر اس کے صحنوں کا دورہ کیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو اسرائیلی آباد کاروں کیلئے کھولنے کا معاملہ زیرِ غور ہے اسرائیلی پولیس نے بین گویر اور اُن کے ساتھ 150 اسرائیلیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے دیا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام مسجد کی حرمت اور تاریخی حیثیت پر براہِ راست حملہ ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مذہبی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

    دوسری جانب ترکیہ، قطر اور اردن نے بھی اس اقدام کو اشتعال انگیزی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،فلسطینی اداروں کی جانب سے اس اقدام کی بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے، القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن نے کہا کہ یہ منصوبہ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کے منصوبے کو تقویت دیتا ہے، یہ جنگ کا استعمال مسجد اقصیٰ کو ایک مشترکہ یہودی مقدس مقام میں تبدیل کرنے کے لیے ہے اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے بین گویر کو مسجد کے امور پر موثر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

  • اڈیالہ روڈ پر ہنگامہ آرائی، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کیخلاف مقدمہ درج

    اڈیالہ روڈ پر ہنگامہ آرائی، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کیخلاف مقدمہ درج

    راولپنڈی : اڈیالہ روڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کیخلاف انسداد دہشتگرد ی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

    پولیس کے مطابق مقدمے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ، نورین نیازی ، ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان، ایم این اے شفقت اعوان، ترجمان کے پی کے شفیع اللہ جان، سمابیہ طاہر ستی سمیت 1400 نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر تھانہ صدر بیرونی میں چوکی انچارج اڈیالہ عمران خان کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں ہنگامہ آرائی، اقدام قتل، پولیس سے مزاحمت کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے پتھراؤ کرکے 9 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، موقع سے پولیس نے 41 ملزمان کو حراست میں لیا تھا جو بعدازاں فرار ہوگئے۔ متعدد ملزمان پولیس کی حراست سے فرارہوگئے، پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی 13 گاڑیاں بھی تحول میں لے لیں۔

  • وزیراعظم  اور فیلڈ مارشل نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا،مریم اورنگزیب

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا،مریم اورنگزیب

    لاہور: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پُرعزم اور دور اندیش قیادت نے ایک تباہ کن جنگ کو ٹال دیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کو اللہ تعالیٰ نےعظیم عزت سے نوازا، ان کی پُرعزم اور دوراندیش قیادت نے ایک تباہ کن جنگ کو ٹال دیا انہوں نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا اور دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لائے، یہ اعلیٰ ترین قیادت کی بہترین مثال ہے، یہ پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر اور تاریخی لمحہ ہے اتحاد، وقار اورعزت کا ایسا لمحہ جس پرملک وبیرونِ ملک ہر پاکستانی کو ناز ہے، ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے مذاکرات کے راستے کا انتخاب کیا۔

  • ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اپنی تمام فوجی یونٹس کو فائرنگ روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم تمام فوجی شاخیں سپریم لیڈر کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے فائر بندی کریں۔

    ایران نے واضح کیا کہ اس سیزفائر کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں اور اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں جنگ کے پہلے ہی روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوگئے تھے گزشتہ 39 دنوں کے دوران اس تنازع میں مختلف ممالک میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں،ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور ایرانی عوام کی قربانیوں نے دشمن کو تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے۔

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی ایک بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی دھمکیاں واپس لینا اور مذاکرات پر آمادگی دراصل ایران کے دس نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر تسلیم کرنا ہے۔

  • کوہ ہندوکش اور افغانستان میں 4.4 شدت کا زلزلہ

    کوہ ہندوکش اور افغانستان میں 4.4 شدت کا زلزلہ

    کوہ ہندوکش اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    کوہ ہندوکش اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 128 کلومیٹر تھی،حکام کے مطابق زلزلہ رات ایک بج کر 4 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے درمیانے درجے کے تھے، تاہم اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زلزلے کی شدت سطح زمین پر نسبتاً کم محسوس کی گئی۔

  • ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران ایک اہم اور نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز اِس منصوبے پر بات چیت کی گئی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے اور فیس عائد کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران اس رقم کو تعمیرِ نو کے کاموں میں استعمال کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عمان اپنی حاصل کردہ رقم کس مقصد کے لیے خرچ کرے گا۔

    آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے، لیکن اب تک دنیا اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھتی آئی ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کبھی کوئی فیس ادا نہیں کی گئی ایران اب یہ چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے حصے کے طور پر اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیس جہاز کی قسم، اس پر لدے سامان اور دیگر حالات کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی ،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ،ہم عمان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنے ہوں گے تاکہ اس راستے سے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا سکے۔

    عالمی سطح پر اس تجویز کو شدید تنقید اور تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جدید تاریخ میں کبھی بھی کسی قدرتی آبی گزرگاہ پر اس طرح یکطرفہ طور پر فیس لاگو نہیں کی گئی،بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے صرف مخصوص خدمات جیسے کہ رہنمائی یا ٹگ بوٹ کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن محض گزرنے کا ٹیکس نہیں لگا سکتے اس کے برعکس نہر سوئز یا نہر پانامہ جیسے راستے انسانوں نے خود کھود کر بنائے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس فیصلے پر اصرار کرتا ہے تو عالمی برادری کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ ایران کے پہاڑی ساحلوں پر موجود مضبوط فوجی پوزیشنز اسے یہ طاقت دیتی ہیں کہ وہ دور تک جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔

  • جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔

    جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے، اس دوران لوگوں نے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی مظاہروں میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان سب شامل رہے اور مختلف شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی۔

    بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

    مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔

    سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے، تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں،شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

    ادھر ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور کہا حملے روکنے کے لیے موسیقی بجائیں گے دوسری جانب عراق کے دارالحکو مت بغداد میں بھی جنگ بندی پر جشن کا سماں رہا، لوگ رات گئے گھروں سے باہرنکل آئے، ایران پر مسلط جنگ روکے جانے کاخیرمقدم کیا۔