Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سی این این کی ٹیم پر  حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    سی این این کی ٹیم پر حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

    اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا،صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلو کی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا، بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے،اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • پام سنڈے: اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عیسائی رہنما کو چرچ جانے سے روک دیا

    پام سنڈے: اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عیسائی رہنما کو چرچ جانے سے روک دیا

    اسرائیلی حکام نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پام سنڈے کے موقع پر لاطینی کارڈینل کو مقدس چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا –

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لاطینی کارڈینل پیئر باتیستا پیزابالا پام سنڈے کی خصوصی عبادت میں شرکت کے لیے ہولی چرچ جا رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا،ان کے ہمراہ کیتھولک چرچ کے سرپرست پادری فراسسکو لیلپو کو بھی چرچ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    اس واقعے پر کیتھولک چرچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے صدیوں میں پہلی بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مذہبی قیادت کو عبادت سے روکنا اربوں مسیحیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    ادھر اٹلی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ ایمانوئل میکرون نے بھی مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کو بلا رکاوٹ عبادات کی آزادی دی جائے۔

  • ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

    رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔

    تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔

    برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

  • روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے،اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارت توانائی کو پیٹرول برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے نوو اک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے اس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔

    اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں، ہندوستان پر اس کا اثر کم سے کم ہوگا کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

    نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تیل کمپنیو ں نے توثیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور یہ کہ ریفائنریز پوری صلاحیت پر یا اس سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں، اس طرح موجودہ طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔

  • لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے-

    لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا، نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

    معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ طور پر مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جو کہ صرف ماہر ڈاکٹر کا کام ہوتا ہےیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی،یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔

    متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

  • پنجاب:  چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    پنجاب: چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صحت کے شعبے میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت دل کے مریضوں کو مفت اور بروقت علاج فراہم کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پروگرام شروع کیا، جبکہ منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ اجرا بھی کر دیا گیا ہے، پروگرام کے تحت منتخب سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں دل کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گاپنجاب کے 9 سرکاری اور 15 نجی کارڈیک ادارے اس پروگرام میں شامل ہیں، جبکہ یہ سہولت صوبے کے مستقل رہائشی دل کے مریضوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

    چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پہلے مریض کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری بھی مکمل کر لی گئی ہے حکومت نے اس پروگرام کے لیے سالانہ 3 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اوپن ہارٹ سرجری کی طویل ویٹنگ لسٹوں کو 6 ماہ میں ختم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

    پروگرام سے متعلق معلومات کے لیے 0800-09009 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، جبکہ مریض پیر تا ہفتہ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک 042-99066000 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے واٹس ایپ نمبر 0333-6756390 پر بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت دل کے ہزاروں مریضوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور یہ پروگرام امراض قلب میں مبتلا افراد کو مفت اور بروقت علاج کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔

    الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

    نبیل خوری کے مطابق حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں، اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہاز وں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام ایک سرخ لکیر ثابت ہوگا، جس کے بعد یمن کے خلاف فوری فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا تھا، جس کی حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کی تھی۔

  • سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اسمارٹ لاک ڈاؤن سے منسوب ایک مبینہ جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر د ی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا وزارت خزانہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے فیصلے کے بعد کاروباری، تجارتی، صنعتی اور سر وس سیکٹر پر اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر تقریبات محدود کر دی جائیں گی جبکہ قومی شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے بند کی جا سکتی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں، لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مدت اور شیڈول تمام متعلقہ اکائیوں کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا اور ا س کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں دو روزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، لاک ڈاؤن ہر ہفتے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے اتوار کی رات 12 بجے تک نافذ کیا جائے گا، جبکہ شادی بیاہ سمیت تمام کمرشل سرگرمیاں معطل رکھنے کی سفارش شامل کی گئی تھی اس کے علاوہ جعلی نوٹیفکیشن میں کاروباری مراکز، دفاتر اور دیگر غیر ضروری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی ہدایات شامل کی گئی تھیں، ابتدائی طور پر اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے نفاذ کا آغاز 4 اپریل سے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

  • کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ پر شپنگ کنٹینرز کی لمبی قطاریں، کیونکہ یہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں خطرات کے باعث کراچی پورٹ شپنگ کمپنیوں کے لیے محفوظ ترین متبادل ٹرانس شپمنٹ حب بن گئی ہے، جس سے بندرگاہ پر کنٹینرز کی لمبی قطاریں لگ گئیں، یہ صورتحال پاکستانی بندرگاہوں کی سٹریٹجک اہمیت کو بڑھا رہی ہے، جہاں مال بردار جہاز غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے یہاں لنگر انداز ہو رہے ہیں-

    ایران اور دیگر علاقائی ممالک میں جنگی کشیدگی کی وجہ سے سمندری راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی پورٹ کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ، کنٹینرز اور بلک کارگو کی نقل و حمل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے کراچی بندرگاہ کے باہر لنگر انداز جہازوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو اس خطے میں سمندری تجارت کے لیے ایک نیا مرکز بن رہا ہےیہ تبدیلی پاکستانی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ میں اپنا کردار بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت،اسپین کی بائیکاٹ کی دھمکی

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت،اسپین کی بائیکاٹ کی دھمکی

    اسپین نے 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت کی صورت میں ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    ہسپانوی حکومت اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف، عالمی کھیلوں میں اسرائیل کی شمولیت پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ سخت موقف اپنایا ہے ، وزیراعظم نے کھیلوں کے میدان میں اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    انہوں نے یہ مطالبہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اعور مظالم کی وجہ سے کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل 2026 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو اسپین دستبردار ہو سکتا ہے یہ مطالبہ اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے،اسپین کے وزیراعظم نے اس معاملے کا موازنہ روس سے کیا جس پر یوکرین پر حملے کے بعد فیفا اور یوئیفا نے پابندی لگا دی تھی-

    یاد رہے کہ اسپین نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے اسرائیل پر ہتھیاروں کی فراہمی سمیت مختلف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، اسپین خود کو ایک مضبوط فٹ بال طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے اور 2030 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بھی سرگرم ہے جبکہ اسپین فیفا کی رینکنگ میں نمبر ون پر ہے-