Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا، انہوں نے دائیں آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔

    جیل ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کا پمز اسپتال کے سربراہ شعبہ چشم ڈاکٹر محمد عارف خان نے معائنہ کیا بشریٰ بی بی کو دائیں آنکھ سے دھندلا نظر آرہا تھا، مریضہ نے سر درد کی شکایت بھی کی تھی، پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف خان نے جیل میں پہنچ کر بشریٰ بی بی کا تفصیلی معائنہ کیاڈاکٹرز نے بشریٰ بی بی کو مخصوص آئی ڈراپس اور ادویات تجویز کر دی ہیں، بشریٰ بی بی کو ڈاکٹر نے مختلف احتیاط تجویز کی ہیں، ڈاکٹر نے بشریٰ بی بی کو ہدایت کی کہ وہ مطالعے کے لیے روشن جگہ کا استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر دباؤ کم ہو، 4 ہفتوں بعد دوبارہ معائنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • سعودی عرب  کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج سہ پہر 3 بجے اسلام آباد پہنچیں گے-

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا اہم دورہ کریں گے، جس کا مقصد خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کرنا ہے دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے جس میں معزز مہمان اہم ملاقاتیں کریں گے، وزیر خارجہ کے دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔

  • ایران کا  500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی فارس میں ایک امریکی جنگی طیارہ ایف سکسٹین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے-

    پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ مذکورہ طیارہ سعودی عرب کے ایک ایئربیس تک پہنچنے سے قبل ہی کریش ہو گیا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہےپاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے مقبوضہ فلسطین سمیت خطے میں امریکی اور اسرائیلی صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں-

    دوسری جانب ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی شہر حیفا میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخائر پر بھی حملہ کیا گیا، اگر ایرانی صنعتی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

  • ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارہ کو نشانہ بنایا گیا یہ طیارہ جدید ریڈار سسٹمز سے لیس ہوتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی انوینٹری میں کل 16 AWACS ہیں۔ جن میں سے 1 یا ممکنہ طور پر 2 تباہ ہو چکے ہیں، امریکی فوج میں فی الحال کوئی دوسرا AWACS نہیں ہے، اس کا متبادل E7A ابھی بھی آرڈرز پر ہے ابھی تک ڈیلیور نہیں ہوا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،سابق امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ای تھری طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    تاہم اس واقعے سے متعلق ابھی تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ماہرین اس خبر کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی،انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں میری چاپلوسی کرنی پڑے گی، محمد بن سلمان سمجھتے تھےکہ ٹرمپ بھی دوسرے امریکی صدور کی طرح کوئی ناکام آدمی ہو گا جن کے دور میں ملک زوال کا شکار تھا ، اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا، ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ افسوسناک ہیں، ولی عہد بہادر ہیں، فیصلہ اور صبر کی صلاحیت رکھتے اور عالمی شازشوں کو سمجھتے ہیں، سعودی ولی عہد ایران پرحملہ کرنےکےحامی نہیں اور امن کےلیےکوشاں ہیں، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں، امریکا اور صہیونی لابی اس لیے پروپگینڈا کر رہی ہےکہ وہ ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے صہیونی میڈیا اور عالمی رہنما جتنا بھی چاہیں عرب دنیا اس جنگ میں نہیں آئےگی۔

  • اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ کا دفتر خارجہ آمد پر پرتپاک استقبال کیا اور کہاکہ پاکستان مصر کے ساتھ دیرینہ اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور خطے و عالمی امور پر ہم آہنگی پر قائم ہیں۔

    ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیا گیا اور گزشتہ اعلیٰ سطحی رابطوں، بشمول نومبر 2025 میں مصر کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان، کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے تعاون کو تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اس ضمن میں دوطرفہ طریقۂ کار کو فعال بنانے، مشترکہ وزارتی کمیشن اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف صحت کے شعبے میں مصر کی جاری حمایت کی تعریف کی اور اس تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔

    دونوں فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی تعاون میں موجودہ مثبت پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا اور تربیتی تبادلوں اور دیگر ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا انہوں نے خطے اور عالمی سطح پر جاری حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت کی سخت مذمت کی، انہوں نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے میں مصر کے کردار کی بھی تعریف کی، جس میں پاکستان کی امدادی کوششوں میں تعاون شامل ہے۔

    دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کثیر الجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ملاقات میں پاکستان اور مصر کے قریبی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں بشمول 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی بات چیت کی پیشرفت کے طور پر ہوئی اور یہ خطے میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر پاکستان اور مصر کے قریبی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

    بعد ازاں ترکیہ کے وزیر خارجہ دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ خطے کی بدلتی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر مشاورت کر رہے ہیں ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیادونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا دونوں رہنماؤں نے ایران سمیت خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

    اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔

    trumptrump

    ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

    ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • ایران اور امریکا  کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر ایران غور کر رہا ہے-

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 15 نکات شیئر کیے ہیں، جن پر تہران غور کر رہا ہے،اس عمل میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب پیغامات کی ترسیل جاری ہے، مصر، ترکی اور دیگر مما لک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اسحاق ڈار نے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیشرفت جاری ہے، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے موجودہ صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں امریکی اور ایرانی حکام سمیت دیگر عالمی شخصیات کو بھی مخاطب کیا، جن میں عباس عراقچی، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف شامل ہیں۔

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔