Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بھارت میں زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    بھارت میں زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    نئی دہلی: زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    باغی ٹی وی : بھارت کے مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے دہلی میں ترکیہ کے سفارت خانے میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہار تعزیت کے لئے ایک بین المذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی اور مشکل کی اس گھڑی میں بھارت کی عوام کی جانب سے ترکیہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ دعائیہ جلسہ انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم (آئی ایم سی ایف) کے زیراہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھارت میں ترکیہ کے سفیر عزت مآب فرات صانل بھی موجود تھے۔

    ترکی کے سفیر عزت مآب فرات صانل نے کہا کہ ترکی اور شام میں تباہ کن زلزلے سے جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے بھارت کے کئی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کے یہ 10 متاثرہ علاقے اتنے ہی بڑے ہیں جتنی کہ یہ ریاستیں یا خطہ۔ زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی ہے۔ حکومت ہند اور ب بھارت کی عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے عزت مآب سفیر نے کہا کہ ہم بھارت کی مودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے "مشن دوستی” کے تحت ترکیہ کو جس طرح کی مدد فراہم کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تمام مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر نہ صرف ترکیہ اور شام کے لئے دعائیں کی جارہی ہیں بلکہ ہر ممکن مدد بھی کی جارہی ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔

    انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم کے جنرل سکریٹری اور اس تعزیتی اجلاس کے آرگنائزر سینئر صحافی انظرالباری نے کہا کہ زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے، اگر انسان بروقت چوکنا ہو جائے تو بڑے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زلزلے سے متاثرہ افراد کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔ ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد مودی حکومت کی طرف سے کی جانے والی مدد کو سراہتے ہوئے انظرالباری نے سبھی سے اپیل کی کہ لوگ دل کھول کر زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے آگے آئیں، تاکہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی زندگیاں واپس پٹری پر آسکیں۔

    اس موقع پربھارتیہ سرو دھرم سنسد کے قومی کنوینر گوسوامی سشیل جی مہاراج نے کہا کہ ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کہیں بھی آ سکتی ہیں، انسانیت ہمارے لئے اہم ہے، یہ بھارت کی پہچان بھی ہے۔ سرو دھرم سنسد متاثرہ لوگوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سنت سماج کے لوگ زلزلہ متاثرین سے اظہار تعزیت کے لئے ترکی جانے پر غور کر رہے ہیں۔

    اس دعائیہ اجلاس میں مسیحی پیشوا فادر سیباسٹین نے انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم اور بھارتیہ سرو دھرم سنسد کا مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا جسے بعد میں آئی ایم سی ایف کے جنرل سکریٹری اور کنوینر نے ترکی کے سفیر کو سونپا۔

    قرآن کریم ایجوکیشن سوسائٹی کے سربراہ مولانا محب اللہ ندوی، مشہور شیعہ اسکالر مولانا سید افروز مجتبیٰ نقوی، جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامیات کے ڈاکٹر ارشد حسین، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے پیرزادہ صوفی انفال احمد نظامی، آریہ سماج کے سوامی سمپورنانند مہاراج ، دگمبر سماج کے یوگ بھوشن، رویداس پنتھ کے ویر سنگھ ہتکاری جی مہاراج اور سکھ مذہب کے سردار پرمیت سنگھ چڈھا، آئی ایم سی ایف کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر مظفر علی، ہیومن ویلفیئر کونسل کے سید احمد عبداللہ وغیرہ نے شرکت کی اور زلزلہ متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور متاثرہ سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

    اس دوران انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم اور قرآن کریم ایجوکیشن سوسائٹی نے بھی زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے ترکی کے سفیرعزت مآب فرات صانل کو امدادی رقم سونپی۔ مسلم مذہبی رہنما اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کے امام مولانا محب اللہ ندوی نے پروگرام کے اختتام پر خصوصی دعا کی، اسی طرح قومی کنوینر گوسوامی سشیل جی مہاراج نے بھارتیہ سرو دھرم سنسد کی جانب سے خصوصی دعا کی۔ تعزیتی اجلاس کے کنوینر، انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عبدالواحد تھے۔

  • پسند کی شادی، بھائی نے بہن اور بہنوئی پر گولیاں چلا دیں،دونوں کی موت

    پسند کی شادی، بھائی نے بہن اور بہنوئی پر گولیاں چلا دیں،دونوں کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے شہر ملتان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، غیرت کے نام پر بہن نے بھائی اور بہنوئی کو قتل کر دیا،

    واقعہ تھانہ نیو ملتان کی حدود میں پیش آیا، ایڈیشنل آئی جی جنوبی مقصود الحسن نے واقعہ پر اظہار تشویش کیا اورمعاملہ کی بیخ کنی اور ملزم کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا، ترجمان پولیس کے مطابق بھائی نے بہن اور بہنوئی کو ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی پر قتل کیا۔ وقوعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے پسٹل برآمد کر لیا۔ ملزم نے اپنی بہن اور بہنوئی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس سے دونوں موقع پر جاں بحق جبکہ ایک سال کی بیٹی معجزانہ طور پر محفوظ رہی

    قتل ہونے والوں کی شناخت وقاص ولد خادم حسین ، اور افسانہ بی بی کے نام سے ہوئی ہے۔ مرنے والوں کا تعلق قصبہ مڑل کے قریب پیر مبارک شاہ سے تھا۔مرنے والوں نے ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کی تھی۔غیرت کے نام پر افسانہ بی بی کے بھائی نے گزشتہ رات دونوں کو قتل کردیا۔

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

  • لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    پشاور کے شہید کانسٹیبل کے لواحقین کو تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک شہید قوم کیلئے قربانی دیتا ہے شہید کے ورثا کو انکا حق دینے میں خیبرپختونخوا حکومت نے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ہے، جن پولیس اہلکاروں نے قربانیاں دی ہیں انکے ورثا کو مقدمات کرنے پڑ رہے ہیں ،صوبائی حکومت لگژری گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر تو خرید رہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت کے پاس شہدا کے ورثا کو ادائیگی کیلئے رقم کیوں نہیں ہے؟حکومت معاوضہ ادا کرے تا کہ ورثا کو عدالتوں میں دھکے نہ کھانے پڑیں،شہدا پیکج 2003 تک لاگو ہوتا ہے ،اہلکار 2001 میں شہید ہوا، 2001 کی گرانٹ میں پوری تنخواہ اور الاونسز شامل نہیں تھے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہید کے بھائی کو اے ایس آئی کی نوکری دی گئی جو ترقی پا کر اب ایس ایچ او بن گیا،شہید کے وارث کو نوکری دے دی گئی ہے ، یہ درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ فیصلہ خلاف ہونے کی صورت میں عدالت آجائیں،ثبوت کے ساتھ امتیازی سلوک کی درخواست اپنے محکمے کو دیں،

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • رکن صوبائی اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

    رکن صوبائی اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے 2013 میں (ن) لیگ کے ٹکٹ پر منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں طارق محمود کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کسی پرائیوٹ شخص کے ریفرنس پر نااہلی کا اختیار نہیں آرٹیکل 63 ٹو کے تحت کمیشن کو صرف سپیکر یا چیئرمین سینیٹ سے آنے والے ریفرنس پر سماعت کا اختیار ہے یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے جسٹس شاہد کریم نے میاں طارق کی درخواست منظور کرتے ہوئے قانونی نقطہ طے کر دیا

    پی پی 113 سے طارق محمود کو 2019 میں الیکشن کمیشن نے اثاثے چھپانے کے الزام پر نااہل کیا تھا ،جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 218 کلاز تین کی بنیاد پر نااہل کیا جس میں یہ اختیار موجود نہ تھا ،الیکشن کمیشن کے اس اقدام کی منظوری نہیں دی جا سکتی ،آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن کا کام صاف اور شفاف الیکشن کروانا ہے آئین اور قانون نے کمیشن اور عدالتوں پر انتخابی عزرداریوں پر حد بندی کی ہوئی ہے صرف پرائیوٹ شخص کی درخواست پر معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا اس سے نہ صرف اراکین کے حقوق بلکہ جمہوری عمل بھی متاثر ہو گا ایسا کرنے سے ارکان پارلیمنٹ لوگوں کے ہاتھوں ایسی درخواستوں کے ذریعے ہراساں ہوں گے، اختیارات کو وسعت دینے کا یہ رجحان قانون کی حکمرانی آئین و جمہوریت کی بنیاد کے خلاف ہے ،یہ الیکشن کمیشن کے قانون میں دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کا کلاسک کیس ہے

     پرویز الہی کیلئے لڑکیوں کی سپلائی، شراب کی بوتلیں، اہم ثبوت مل گئے،ا

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

     پرویز الہیٰ عمران خان سمیت تحریک انصاف پر برس پڑے

  • فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، ریلوے اراضی غیر قانونی طور پر لیز پر دینے سے متعلق نیب کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نئے نیب قانون کے تحت ریفرنس واپس ہونے کی بنا پر اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 319 ملین 31 کروڑروپے بنتے ہیں پچاس کروڑ روپے سے کم ہونے کی بنا پر ریفرنس واپس کیا گیا،معاملہ ریلوے کی زمین کا تھا لیکن کیا کریں قانون قانون ہے،فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں کہا کہ ریفرنس 319 ملین کا تھا ، اس لیے واپس کردیا ہے،

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے ملازم کی تنخواہ میں اضافے کے کیس پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے اپیل زائد المعیاد قرار دے کر خارج کردی۔ریلوے ملازم غیاث کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا آپ کے مؤکل نے تنخواہ میں 75 روپے کا اضانہ نہ ملنے پر اپیل دائرکی جس کے مطابق 1983 میں ان کی بنیادی تنخواہ میں75 روپے اضافہ ہوناچاہیے تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا مؤکل اپیل دائر کرنے میں 20 سے 25 سال سوچتا رہا، مؤکل کی ٹریبونل میں اپیل زائد المعیاد تھی، سپریم کورٹ میں بھی آپ کی اپیل زائد المعیاد ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی

  • بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    سانحہ بارکھان میں کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ خان محمد مری کے دوبیٹوں اور ایک نامعلوم خاتون کی لاش بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملی تھیں جس کے بعد دعویٰ کیا گیا تھاکہ کنویں میں سے ملنے والی خاتون کی لاش گراں ناز کی ہے لہٰذا گزشتہ روز کنویں سے ملنے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیا گیا لڑکی کےسر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گراں ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ ظوی خاندان کی بازیابی کے لیے آپریشن مشرقی بلوچستان اورجنوبی پنجاب میں عمل میں لایا گیا لیویزکوئیک رسپانس فورس کےآپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا، بازیاب ہونے والوں میں مغوی خاتون گراں ناز، 4 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ خان محمد مری کی بیوی گراں ناز ،بیٹی اور ایک بیٹے کو بارکھان بارڈر ایریا سے بازیاب کرایا گیا جبکہ دو بیٹےڈیرہ بگٹی بارکھان بارڈر ایریا اور ایک بیٹا دکی کے علاقے نانا صاحب سے بازیاب کرایا گیا تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل میں ہیں ان کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی جائیں گی۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اغواء کار گروہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کی کوشش نہیں کی،آپریشنزمیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔

  • پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    اسلام آباد: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت آج ہو گی تاہم حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کے حوالے سے بینچ تشکیل دیا جہاں ہم اپنے تحفظات معزز عدلیہ کے سامنے رکھیں گے خوشی ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا ہے، بینچ کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں تاہم کچھ تحفظات کا ہم نے پہلے اظہار کیا ہوا ہے، اگر وہ دو جج صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بھی بینچ کا حصہ ہیں تو ہم اپنے تحفظات رکھیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام بار کونسلز کا متفقہ مطالبہ ہے یہ دونوں ججز عہدہ چھوڑ دیں بلکہ وہ تو ان کے خلاف ریفرنسز لانے کا بھی عندیہ دے چکی ہیں، کیسے ممکن ہے وہ ججز جن کیخلاف ریفرنسز ہوں وہ بنچ کا حصہ ہوں نوججز میں سے دو ججز بنیاد پر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف ہیں البتہ ہم نے اُن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، مجھے امید ہے وہ ججز ہمارے اعتراض کرنے سے پہلے یا اعتراض کرنے کے بعد بنچ سے الگ ہو جائیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے ایماندار ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیشہ ایسے کام کئے جن میں کوئی مشکل نہ ہو، ہر جگہ جہاں لوگوں کے کام ہوتے ہیں وہاں دباؤ تو ہوتا ہی ہے، چیئرمین نیب کو آئینی سیکیورٹی حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ایڈوکیٹ ہارون رشید نے کہا بہتر ہوتا کہ فل کورٹ تشکیل دی لیکن اگر فل۔کورٹ نہیں بھی تشکیل دی جاتی تو کم از کم دو ججز کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    انہں نے کہا کہ دونوں جج صاحبان پر اعتراضات بھی سامنے آچکے تھے، اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب دونوں جج صاحبان غلام محمود ڈوگر کیس میں اپنا مائنڈ بھی سامنے لا چکے ہیں اور اتنخابات کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دے چکے ہیں از خود نوٹس میں فریق بننے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رض پاشا نے کہا اعتراضات سے بچنے کیلئے بہتر تھا کہ سینئر 9 ججز کو شامل کرلیا جاتا ہماری کوشش ہے کہ سیاسی معمالات میں فریق نہ بنیں، سیاسی مقدمات میں بینچ کی تشکیل میں پسند نہیں ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لے لیا، جس پر نو رکنی بینچ آج 2 بجے سماعت کرے گا۔

    9 رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی ،جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    9 رکنی بینچ کی جانب سے از خود نوٹس میں مندرجہ ذیل سوالات کا جائزہ لیا جائے گاکہ عام انتخابات کے حوالے سے آئینی ذمہ داری کس کی ہے؟،عام انتخابات کی ذمہ داری کب اور کیسے ادا کی جائے گی؟،3۔ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی ذمہ داری کیا ہے؟،اسمبلی ختم ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟

  • لاہور:  پولیس نے پی ایس ایل 8 کیلئے سکیورٹی پلان مرتب کرلیا

    لاہور: پولیس نے پی ایس ایل 8 کیلئے سکیورٹی پلان مرتب کرلیا

    لاہورپولیس نے پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے لیے سکیورٹی پلان مرتب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ائیرپورٹ اور اسٹیڈیم کے گردونواح سمیت مختلف مقامات پر ناکے لگائے جائیں گے ، پنجاب سیف سٹی اتھارٹیز کے کیمروں سے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔

    ڈی آئی جی آپریشنز افضال کوثر کا کہنا ہے کہ 5 ہزار سے زائد اہلکار پی ایس ایل کے موقع پر سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے، ان میں 11 ایس پیز،34 ڈی ایس پیز اور 94 انسپکٹرز بھی شامل ہوں گے۔

    ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں اورشائقین کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی یلیٹ فورس کی 43،ڈولفن کی 107 اور پی آریو کی 58 ٹیمیں پیٹرولنگ کریں گی-

  • فرانس: 16 سالہ طالبعلم نے چاقو کے وار سے خاتون ٹیچر کو قتل کر دیا

    فرانس: 16 سالہ طالبعلم نے چاقو کے وار سے خاتون ٹیچر کو قتل کر دیا

    فرانس کے سکول میں دوران کلاس 16 سالہ طالبعلم نے چاقو کے وار سے خاتون ٹیچر کو قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں ایک سیکنڈری اسکول میں ٹیچر کو چاقو کے وار کر کے قتل کرنے کے بعد پولیس نے ایک 16 سالہ طالب علم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    52 سالہ ٹیچر فرانس کے قصبے سینٹ جین ڈی لیو کے ایک اسکول میں ہسپانوی زبان کی کلاس لے رہی تھیں کہ جماعت میں موجود ایک 16 سالہ طالبعلم نے ان پر چاقو سے حملہ کر دیا-

    چاقو کے حملے سے شدید زخمی ہونے کے باعث ٹیچر کو فوری طبی امداد دی گئی لیکن وہ اسپتال جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

    فرانسیسی میڈیا نے بتایا کہ حملہ کے بعد طالب علم کلاس روم سے نکل کر پڑوسی کلاس میں چلا گیا، جہاں اس نے استاد کو کیا ہوا تھا بتایا اور چاقو حوالے کر دیاایمرجنسی سروسز نے خاتون کو مردہ قرار دے دیا۔

    فرانسیسی وزیر تعلیم پاپ ندائے نے بدھ کی سہ پہر کو اسکول کا دورہ کیا، جس میں 11 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 1,100 طلباء ہیں۔

    16 سالہ طالبعلم کو گرفتار کرلیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے،ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ طالبعلم کا ذاتی فعل ہے۔

  • کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان کو بنے تقریباً 75 سال ہو چکےاس ملک کو بنانے کا مقصد ایک آزاد خودمختار ریاست تھا جو کہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کے تابع ہونی تھی مگر افسوس صد افسوس کہ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی غلبہ جہالت و ظلم کا ہے جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی تھا یعنی وہ مقصد حاصل نا ہوس سکا جس کی ضرروت تھی-

    کہیں مہنگائی و بے روزگاری نے مار رکھا ہے تو کہیں وڈیرے جاگیر دار لوگوں کو جانوروں کی طرح مار رہے ہیں گزشتہ دن بلوچستان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کا قاتل صوبائی وزیر سردار کھیتران تاحال آزاد گھوم رہا ہے اور یقیناً وہ آزاد ہی گھومے گا کیونکہ ریاست میں قانون تو ہے مگر ماڑے کے لئے تگڑے کے لئے قانون بہت کمزور ہے –

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں وڈیروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والی پولیس فوری حرکت میں ائی کیونکہ نوکری بھی تو کرنی ہے کبھی سرکار کی تو کبھی سردار کی پولیس نے بتایا کہ تینوں مقتولین کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ مقتولہ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے مسخ کیا گیا ہے-

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان منتقل کی گئیں جہاں خاتون سمیت تینوں لاشوں کی شناخت ہوگئی لاشیں خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی ہیں جو کہ صوبائی وزیر سردار کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید پانچ افراد صوبائی وزیر کی نجی جیل میں تا حال قید ہیں –

    چند دن قبل مقتولہ خاتون نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر اپنی فریاد جاری کی تھی جو کہ سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہوئی صاحب اختیار لوگوں تک پہنچی بھی اس مظلوم عورت کی فریاد تھی کہ اس کی بیٹی اور اس کے ساتھ روزانہ زنا کیا جاتا ہے تاہم پھر بھی کسی کے کان پہ جو تک نا رینگی-

    واضع رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی سینکڑوں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر ان سرداروں وڈیروں کو کوئی لگام نہیں ڈالی جا سکی اور شاید ڈالی بھی نا جا سکے گی کیونکہ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں فیصلے جمہور دیکھ کر کئے جاتے ہیں ناکہ انسانی منشور دیکھ کر افسوس کہ قوم کو مہنگائی نے اس قدر مار دیا کہ غریب اب سانسیں بھی مشکل سے ہی لے سکتا ہے مگر اس سے بھی بڑا افسوس کہ مغلوب عوام کو جب جی چاہتا ہے جیسے مرضی قتل کر دیا جاتا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات اس کے خلاف آواز بلند کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ انصاف کی عدم دستیابی ہے-

    اس قوم کو روزی روٹی میں اس قدر مگن و مجبور کر دیا گیا کہ کوئی لبوں پہ حرف شکایت نا لائے اور جو لائے وہ زندہ نا رہنے پائے
    جمہوری مفاد کی خاطر لوگوں کو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ انے کی اور دنگے فساد کی ترغیب دی جاتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے
    مگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب بلکل نہیں دی جاتی کیونکہ وہ جانتے ہیں جو آج کسی دوسرے کے خلاف اٹھ گئے کل وہ ہمارے خلاف بھی الم بغاوت بلند کریں گے

    اسی ڈر سے وہ لوگوں کو غیر ضروری کاموں میں الجھا کر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ آنے کو جہاد قرار دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    مسلمانو ! جو لوگ قتل کر دیے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص (یعنی بدلہ لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (لیکن بدلہ لینے میں انسان دوسرے انسان کے برابر ہے) اگر آزاد آدمی نے آزاد آدمی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہی قتل کیا جائے گا (یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کی بڑائی یا نسل کے شرف کی وجہ سے دو آدمی قتل کیے جائیں جیسا کہ عرب جاہلیت میں دستور تھا) اگر غلام قاتل ہے تو غلام ہی قتل کیا جائے گا ( یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کے آزاد ہونے کی وجہ سے دو غلام قتل کیے جائیں) عورت نے قتل کیا ہے تو عورت ہی قتل کی جائے گی اور پھر اگر ایسا ہو کہ کسی قاتل کو مقتول کے وارث سے کہ (رشتہ انسانی میں) اس کا بھائی ہے معافی مل جائے (اور قتل کی جگہ خوں بہا لینے پر راضی ہو جائے) تو (خوں بہا لے کر چھوڑ دیا جا سکتا ہے) اور ( اس صورت میں) مقتول کے وارث کے لیے دستور کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ ہے اور قاتل کے لیے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کر دینا۔ اور دیکھو یہ ( جو قصاص کے معاملہ کو تمام زیادتیوں سے پاک کرکے عدل و مساوات کی اصل پر قائم کر دیا گیا ہے تو یہ) تو تمہارے پروردگار کی طرف جرف سے تمہارے لیے سختیوں کا کم کر دینا اور رحمت کا فیضان ہوا۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے گا تو یقین کرو وہ (اللہ کے حضور) عذاب درد ناک کا سزاوار ہو گا

    قتل کے بدلے قتل اور خون بہا لے کر معافی بھی ہےمگر سب خاموش کوئی نہیں کہتا مظلوموں کو کہ اٹھو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے نکلوں ہتھیار پکڑو ظالموں کو مارو اور اگر وہ ڈر کر معافی مانگ کر خون بہا دے دیں تو اسے معاف کرو پیسہ لے کر تاکہ آگے اسے اسے پتہ ہو خون اتنا سستا نہیں مگر افسوس کون ہے جو بتائے گا؟کون ہے جو راستہ دکھائے گا کیونکہ اب تو راستے بغیر مفاد نہیں دکھائے جاتے