Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    اسلام آباد : ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:وفاقی حکومت کی منظوری سے ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اطلاق ڈپلومیٹیک، آفیشل اورعام کیٹیگری کے لیے کیا گیا-

    بلدیاتی انتخابات:دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع

    عام شہریوں کوای پاسپورٹ کا اجرا موجودہ پاسپورٹ کی مدت کے اختتام پرکیا جائے گا ابتدائی طور پرای پاسپورٹس اجرا کا آغاز صرف اسلام آباد سے کیا جا رہا ہے، ملک کے باقی شہروں میں بتدریج ای پاسپورٹ اجرا کی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

    36 صفحات کے 5 سالہ ای پاسپورٹ کے لیے نارمل فیس9 ہزار، ارجنٹ فیس 15ہزار، 36 صفحات کے لیے10سالہ پاسپورٹ کی نارمل فیس 13ہزار500 ، ارجنٹ 22 ہزار500 ، 72صفحات کے 5سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 16ہزار500، ارجنٹ 27 ہزار500، 72 صفحات کے 10سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 24 ہزار 750 ، ارجنٹ فیس 40ہزار500روپے ہوگی۔

    فیس کی ادائیگی نیشنل بینک، موبائل ایپ ، موبی کیش اورایزی پیسہ سے بھی کی جاسکے گی۔

  • چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    کراچی: چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی-

    باغی ٹی وی :پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مال گاڑیوں کے ساتھ لگنے والی70 اسٹیٹ آف دی آرٹ بوگیاں چین سے پاکستان کیلیے روانہ ہو گئیں جو کل 16جنوری پیرکو کراچی پہنچیں گی۔

    ریلوے حکام کے مطابق رواں سال مارچ میں ایسی مزید130 بوگیاں ریلوے سسٹم میں شامل ہو جائیں گی یہ 820 بوگیوں کا منصوبہ ہے۔ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کے تحت باقی ماندہ 620 بوگیاں پاکستان میں بنیں گی۔

    گورنرپنجاب نےچوہدری پرویزالٰہی اورحمزہ شہبازکو3دن کی مہلت دے دی

    ملک میں مینوفیکچرنگ سے قومی خزانے کا پیسہ بچے گا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ نئی بوگیوں سے ریلوے آمدن میں سالانہ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گا۔

    موجودہ بوگیاں60 ٹن وزن کے ساتھ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہیں۔ نئی بوگیوں میں70 ٹن وزن کے ساتھ 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت ہے۔ جدید بوگیوں کی سسٹم میں شمولیت سے ریلوے کے ذریعہ مال کی ترسیل کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    مائیکرو سافٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک اے آئی سافٹ ویئر بنایا ہے جو صرف تین سیکنڈ تک کسی کی بھی آواز سن کر اس کی ہوبہو نقل بناتا ہے۔

    باغی ٹی وی: انسانی آواز نقل کرنے والے اس سافٹ ویئر کا نام وال ای، اے آئی رکھا گیا ہے اب یہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ہے یعنی لکھے الفاظ کو آواز میں بدلتا ہے۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    یہ دنیا میں کسی بھی شخص کی آواز کی نقل کرسکتا ہے جس کے لیے اسے تین سیکنڈ کی آڈیو فائل درکار ہوگی۔ تاہم مزید بہتری کے لیے قدرے طویل آڈیو فائل کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ سافٹ ویئر اس حد تک مؤثر ہے کہ یہ آواز کے زیروبم اور آواز کے جذباتی اتارچڑھاؤ کی بھی نقالی کرسکتا ہے۔

    وال ای سے کسی بھی شخصیت سے وہ الفاظ ادا کروائے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہے۔ اس سے جعلی آڈیوز اور فیک ریکارڈنگ کا ایک نیا سیلاب بھی آسکتا ہے اور طرح طرح کےمسائل جنم لےسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ کےمطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی اس کے الگورتھم کو انگریزی زبان کی 60 ہزار گھنٹوں کی آواز پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں کہانی سنانے والے اور کتاب پڑھنے والوں کی آواز بھی شامل ہیں۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    تاہم ریکارڈ کی گئی آواز کے نمونے یا واٹس ایپ پیغامات پر اس کا معیار کچھ گرسکتا ہے تاہم اگر کوئی وال ای پر براہِ راست اچھے مائیک سے آواز ریکارڈ کرتا ہے تو سافٹ ویئر کےنتائج حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں۔

    آزاد تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ مائیکروسافٹ کےدعووں کے برعکس سافٹ ویئر نے بہت واجبی صلاحیت دکھائی۔

    تاہم مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس کے کچھ فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی فنکار فلم کی ڈبنگ درمیان میں چھوڑ کر کہیں اور مصروف ہوجاتا ہے تو اس کی ڈبنگ سافٹ ویئر سے کی جاسکتی ہے اس طرح کےچھوٹے امور وال ای اے آئی اچھی طرح نبھا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مائیکرو سافٹ مشہور مصوروں کی پینٹنگ کی نقل کرنے والا ایک اور پروگرام ڈیل ای بنا چکا ہے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

  • بلدیاتی انتخابات:الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے بیلٹ باکس کی سیلیں توڑنے کا نوٹس

    بلدیاتی انتخابات:الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے بیلٹ باکس کی سیلیں توڑنے کا نوٹس

    کراچی: الیکشن کمیشن نے تحصیل میونسپل کمیٹی جناح میں ممبر صوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی کے بیلٹ باکس کی سیلیں توڑنے کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی :الیکشن کمیشن نے ممبر صوبائی اسمبلی کو پولنگ اسٹیشن سے بے دخل کرنے کا حکم دے دیا ،معاملے پر صوبائی الیکشن کمشنر سے الیکشن کمیشن نے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی حرکت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

    ضلع وسطی نارتھ ناظم آباد میں نقاب پوش نامعلوم افراد پولنگ اسٹیشن میں گھس گئےرپورٹس کے مطابق ضلع وسطی نارتھ ناظم آباد ٹاؤن یوسی 3 میں نقاب پوش نامعلوم افراد پولنگ اسٹیشن میں گھسے اور انہوں نے پولنگ عملے کو ہراساں کیا نامعلوم افراد پیپلز پارٹی کا جھنڈا لگی ہوئی گاڑیوں پر سوار تھے اور انھوں نے ٹیکنیکل سامان میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔

    دوسری جانب رہنما پاکستان تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی نے بیلٹ باکس کی سیل کھول دی فردوس شمیم نقوی کی بیلٹ باکس کی سیل کھولنے کی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی ہے فردوس شمیم نقوی نے سولجربازار یوسی وارڈ 4 میں پولنگ عمل متاثر کرنے کی کوشش کی۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹ کاسٹ کردیا امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے پولنگ اسٹیشن ایلیمنٹری گورنمنٹ گرلز اسکول میں ووٹ کاسٹ کیا،حافظ نعیم یو سی 8 نارتھ ناظم آباد ٹاؤن سے چیئرمین کے امیدوار ہیں۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مجموعی طور پر شہر میں امن و امان کی صورتحال ہے تاہم بعض مقامات پر سازش کر کے کیمپوں کو جلایا گیا تاکہ عوام رک جائیں۔


    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کئی سال بلدیاتی الیکشن نہیں ہونے دیئے، لوگ چاہتے ہیں جماعت اسلامی منتخب جیتے۔ ایم کیو ایم والے رات گئے الیکشن سے بھاگ گئے، ایم کیو ایم میں جان ہوتی تو وہ بائیکاٹ نہ کرتے بلکہ ہمارا مقابلہ کرتے،ہم الیکشن کمیشن سے درخواست کریں گے کہ میئر کا ڈائریکٹ الیکشن کرائیں۔

    مٹیاری میں پولنگ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر پولنگ عملے کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے باخبر ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے مٹیاری میں تعینات کیا جانے والا عملہ پولنگ اسٹیشن نہیں پہنچ سکا جس کے باعث خاتون سمیت تین پولنگ ایجنٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

    آر او ٹاؤن کمیٹی مٹیاری، آر او ٹاؤن کمیٹی خیبر اور آر او یوسی نے وارنٹ جاری کیے جب کہ پولنگ عملے کو حراست میں لے کر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب لانڈھی نمبر 6، یو سی 3 کے وارڈ 4 میں تین سیاسی جماعتوں کے کیمپس میں آگ لگ گئی آتشزدگی کے واقعے پر سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ لانڈھی نمبر 6 میں رات گئے نامعلوم افراد نے کیمپس میں آگ لگائی جس کے بعد لانڈھی نمبر 6 میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے کھلے آسمان تلے کیمپس لگا لیے۔

    ایس ایس پی کورنگی ساجدسدوزئی کا کہنا ہے کہ سردی سے بچنے کیلئے صبح کیمپس میں موجود افراد نے آگ لگائی، آگ نے کیمپ میں موجود سامان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تاہم آگ لگنے کے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ پر جلد ہی قابو پالیا گیا۔

    کراچی کے متعددپولنگ اسٹیشنز سے پولنگ عملہ غائب ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں جبکہ شہر میں سردی کے باعث صبح کے آغاز میں ووٹرز کی تعداد بھی کم دیکھنے میں آرہی ہے۔

    ضلع کیماڑی ماڑی پور ٹاؤن یوسی3پولنگ اسٹیشن نمبر 17 میں عملہ نہ ہونےسے پولنگ کا عمل تاخیرکاشکار ہوگیا ، اس کے علاوہ غیر متعلقہ افراد پولنگ اسٹیشن میں موجود ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    ووٹرز کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ہونے کے باوجود بھی کسی کو روکا نہیں جارہاہے، پولنگ اسٹیشنز پر عملہ موجود نہیں ہے اور عملہ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے۔

    اس کے علاوہ یوسی 4 گلشن ٹاؤن میں پولنگ ایجنٹ تاحال نہیں پہنچ سکے یوسی 4 گلشن ٹاؤن کے پریزائڈنگ آفیسر نے کہا کہ عملے نے بیلٹ باکسز سیل کر دیے ہیں، تمام تر چیزیں وقت پر تیار کر لی ہیں، ابھی تک ایک ووٹ کاسٹ نہیں ہوا کسی جماعت کا بھی پولنگ ایجنٹ نہیں آیا۔

    جناح ٹاؤن یو سی 5 جیل روڈ اسکول میں بھی انتخابی سامان موجود ہے لیکن عملہ غائب ہے ضلع شرقی یوسی 4وارڈ 7 میں بھی پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار ہے، یہاں ووٹرز ووٹ کاسٹ کیے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔

    ضلع وسطی نیوکراچی یوسی 5 وارڈ 2 میں پولنگ کے عمل میں تاخیر دیکھنے میں آئی، یوسی فائیو وارڈ ٹو میں بیلٹ باکس ہی نہیں پہنچائے جاسکے، یہاں بھی متعدد جگہوں پرپولنگ ایجنٹ نہیں پہنچے یوسی 5 کےپولنگ اسٹیشن میں بیلٹ باکس سیل نہیں کیے گئے۔

    فقیر گوٹھ کاٹھورملیر پولنگ اسٹیشن نمبر 11 مورو فقیر گوٹھ کاٹھور میں تاحال پولنگ شروع نہیں ہوسکی ہے لانڈھی نمبر 6 میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے کھلے آسمان تلے کیمپس لگا لیے ہیں

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع ہو گیا۔

    آج صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا کراچی کے 7 اضلاع (ضلع وسطی، شرقی، کورنگی، غربی، کیماڑی، ملیر اور جنوبی) میں 246 یونین کمیٹیز کیلئے ہر ووٹر صرف 2 ووٹ دے گا، کراچی کے 25 ٹاؤنز کی 246 یو سیز کے 984 وارڈز پر ووٹنگ ہو رہی ہے –

    ہر یونین کونسل میں 4 وارڈز ہیں، ووٹر کو چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ وارڈ کا جنرل کونسلر منتخب کرنا ہوگا، چیئرمین اور وائس چیئرمین کا ایک ووٹ ہوگا، دوسرا ووٹ جنرل کونسلر کا ہو گا۔

    حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع میں بھی آج بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے حیدرآباد، میں 2551، دادو میں 1436، جامشورو میں 839، ٹنڈوالہیار میں 781، مٹیاری میں 715 اور ٹنڈومحمد خان میں 452 امیدوار مختلف نشستوں پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    بدین میں پیپلز پارٹی کے 442 امیدواروں سے جی ڈی اے کے 318 امیدوار میں مقابلہ ہے،ضلع بھر سے جے یو آئی کے 133 اور پی ٹی آئی کے 75 امیدوار بھی انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزمائیں گے دادو میں پیپلز پارٹی کے 454 امیدواروں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے 335 امیدواروں میں مقابلہ ہے-

    دورانِ الیکشن کراچی اور حیدر آباد کے 500 حساس پولنگ اسٹیشنوں پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں-

    ترجمان سندھ رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دورانِ الیکشن کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 700 رینجرز اہلکار بطور کوئیک رسپانس فورس علاقے میں موجود رہیں گے پولیس کے ساتھ کراچی اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ کیا گیا۔

    ترجمان کا کہنا تھاکہ فلیگ مارچ کراچی کےعلاقے حب ریور روڈ، بلدیہ، گولیمار چورنگی، ڈسکو موڑ، ناگن چورنگی،سخی حسن چورنگی، ملیر ماڈل کالونی، گڈاپ روڈ، یونیورسٹی روڈ، نیپا چورنگی، حسن اسکوائر، ال آصف اسکوائر، سہراب گوٹھ، بلاول چورنگی، بوٹ بیسن چورنگی، ڈیفنس، کلفٹن، شاہین کمپلیکس چورنگی، ضیاء الدین احمد روڈ، آئی آئی چندریگرروڈ، چاکیواڑہ روڈ، ایم اے جناح روڈ، طارق روڈ اور شاہراہ فیصل سمیت ملحقہ علاقوں میں کیا گیا۔

    حیدرآباد کے فلیگ مارچ میں فتح چوک، قاسم آباد، ٹھنڈی سڑک، لطیف آباد، آٹو بھان روڈ، حیدر چوک، پکا قلعہ، پھلیلی، برنس روڈ، ہالہ ناکہ، قاسم چوک، رانی باغ اور صدر پریس کلب شامل ہیں۔

  • بیٹی کے جنازے میں شرکت کی اجازت کی درخواست مسترد

    بیٹی کے جنازے میں شرکت کی اجازت کی درخواست مسترد

    راولپنڈی کے سول جج علاقہ مجسٹریٹ خالد حیات نے تحریک انصاف کے رہنما ماجد ستی قتل کیس میں گرفتار امتیاز عرف تاجی کھوکھر (مرحوم)کے صاحبزادے فرخ امتیاز کھوکھرکے جسمانی ریمانڈ میں 2 یوم کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 16 جنوری تک دوبارہ پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے

    عدالت نے ملزم کی جانب سے بیٹی کے جنازے میں شرکت کی اجازت کی درخواست مسترد کردی ہے، ملزم فرخ کھوکھر کو حفاظتی تحویل میں عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر ضلع کچہری میں غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اس موقع پر ملزم کی جانب سے ملک وحید انجم ایڈووکیٹ جبکہ مدعی کی جانب سے ملک فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ کے علاوہ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکوٹر ارشاد احمد بھی عدالت میں موجود تھے سماعت کے آغاز پرتھانہ صادق آباد پولیس نے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اس موقع پر ملزم کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم اس مقدمہ میں نامزد نہیں ہے نہ ہی اس وقوعہ میں ملزم کا کوئی کردار ہے جبکہ موبائل کا تمام ریکارڈ پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہے پولیس جس موبائل کی برآمدگی کرنا چاہتی ہے وہ موبائل بھی شمائل خان نامی شخص کا ہے جبکہ پہلے2روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھی پولیس ملزم سے کوئی برآمدگی نہیں کر سکی چونکہ ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ109کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے لہٰذا اس صورتحال میں مزید جسمانی ریمانڈ کا کوئی جواز نہیں بنتا

    اس موقع پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی13سالہ بیٹی انتقال کر گئی ہے اور چونکہ ملزم ابھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے لہٰذا عدالت انسانی بنیادوں پر نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت دے اور پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ سکیورٹی انتظامات میں نماز جنازہ میں شرکت کا بندوبست کریں جس پر مدعی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اس لئے اگر عدالت نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت دیتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اس پہلو پر قانونی تقاضوں اور سکیورٹی معاملات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ عدالت کی صوابدید ہے مدعی کے وکیل نے عدالت کے روبرو مزید موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں جسمانی ریمانڈ کا مقصد صرف صرف موبائل برآمدگی نہیں بلکہ پورے کیس کی تحقیقات کا دارومدار گرفتار ملزم پر ہے ابتدائی تحقیقات کے دوران کئی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں ملزم کے ملوث ہونے کے امکانات موجود ہیں

    مدعی کے وکیل نے بتایا کہ وقوعہ کا اصل ملزم تاحال روپوش ہے اور ملزم کے پہلے کراچی اور پھر دبئی جانے میں لہٰذا قانون کے مطابق اور ملزم کو زیر حراست رکھنے سے خاطر خواہ نتائج سامنے آسکتے ہیں چونکہ پہلے جسمانی ریمانڈ میں عدالتی حکم پراسی روز ملزم کو پہلے طبی معائنے کے لئے بے نظیر بھٹو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر ای سی جی رپورٹ تسلی بخش نہ ہونے پر اسے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا جہاں سے رات دیر سے ڈسچارج ہونے پر پولیس کو تحقیقات کے لئے مناسب وقت نہیں مل سکا لہٰزا ملزم کو مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جانا ضروری ہے جس پر ملزم کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ پولیس ملزم کو طبی معائنے کے لئے ہسپتال ضرور لے کر گئی تھی لیکن پولیس کے دباؤاور عجلت کی وجہ سے مکمل طور پر طبی معائنہ بھی نہیں ہونے دیا گیا حالانکہ ملزم کسی اور مقدمے میں بھی پولیس کو مطلوب نہیں ہے اور پہلے مقدمات میں بری ہو چکا ہے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم کے جسمان ریمانڈ میں مزید2یوم کی توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو سختی سے ہدائیت کی کہ قانون کے مطابق میرٹ پر تحقیقات کر کے اس میں ہونے والے پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے بیٹی کی نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے فرخ کھوکھرکی درخواست پر عدالت نے قرار دیا کہ ملزم چونکہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے اور پولیس کے پاس زیر تفتیش ہے لہٰذا موجودہ صورتحال میں ملزم کو نماز جنازہ مٰن شرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی عدالت نے سماعت16جنوری تک ملتوی کر دی

    یادرہے کہ تھانہ صادق آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مقامی رہنما ماجد ستی(مقتول) کے چچا حاجی ارشد کی مدعیت میں رواں سال 23اگست کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 109کے تحت مقدمہ نمبر 2349 درج کیا تھا اس مقدمہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے سکستھ روڈ پر تحریک انصاف کے مقامی رہنما ماجد ستی کو قتل کر دیا تھا۔

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • چار ماہ میں 46 گینگ کے 113 اراکین گرفتار

    چار ماہ میں 46 گینگ کے 113 اراکین گرفتار

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس انڈ سٹر یل ایر یا زون نے گزشتہ چار ماہ کے دوران سنگین و دیگر جر ائم میں ملوث46 گینگ کے 113 ارکان سمیت 602 کو گرفتار کرکے1کروڑ83لاکھ 16ہزارروپے سے زائد کا ما ل مسروقہ برآمد کر لیا،لا کھوں روپے ما لیت کی 23مسروقہ وٹمپرڈ گاڑیاں ، 16مو ٹر سائیکل، طلا ئی زیو رات، نقدی، مو بائل فون، بھاری مقدار میں منشیا ت،شراب اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ معہ ایمونیشن بر آمد کرلیا۔

    انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد ڈاکٹر ناصر خاں کے خصوصی احکامات کی روشنی میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں جرائم پیشہ عناصر،منشیات فروشوں اور چوری کی وارداتوں میں ملوث عناصر کیخلاف بلا تفریق کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،اس سلسلے میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس انڈسٹریل ایریا زون نے جرائم پیشہ عناصر کیخلاف جاری کریک ڈاو ن کو مزید تیز اور موثر بناتے ہوئے گزشتہ چار ماہ کے دوران سنگین ودیگر جرائم میں ملوث 46گینگ کے113 ارکان سمیت602 ملزمان کو گرفتار کر کے 1 کروڑ 83 لاکھ 16ہزار روپے سے زائد کا مال مسروقہ برآمد کر لیا،جس میں 145مجرمان اشتہا ری اور عدالتی مفروران بھی شامل ہیں، اسی طر ح قتل اوراندھے قتل میں ملوث 07ملزمان کو ٹر یس کرکے گرفتار کیا گیا، اغو اءکے مقدما ت میں ملوث 09 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، لاکھوں روپے ما لیت کی 23مسروقہ و ٹمپرڈ گا ڑ یا ںاور 16مو ٹر سائیکل بر آمد کیے گئے، ڈکیتی، ڈکیتی معہ قتل، رابری، نقب زنی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث 141ملزمان کو گرفتار کیاگیا، اسی طرح منشیات فروشی اور غیرقانونی اسلحہ میں ملوث 178 ملزمان سے 93کلو751گر ام چرس،  4کلو 73 گر ام ہیر وئن، 25گر ام کو کین، 320گرام آئس،60لیٹر شراب برآمد کرلی، اسی طرح ملزمان سے 82 پسٹل، 8عدد رائفلیں /کا ربین اور 2کلا شنکوفیں معہ ایمو نیشن برآمد کیاگیا،اسی عر صہ کے دوران پیشہ ور بھکاریوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف موثر کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے 312 پیشہ ور بھکا ریو ں کو گرفتار کیاگیا،

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے انکے سدباب کو یقینی بنانے میں ہمہ وقت مصروف عمل ہے، سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لئے اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ایگل اور فالکن سکواڈز کو مزید سہولیات کے ساتھ متحرک کر دیاگیا ہے،اسلام آباد کیپیٹل پولیس وفاقی دارلحکومت کو امن کا شہر بنانے میں تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے، شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکو ک چیز اور سرگرمی کے متعلق اپنے متعلقہ تھانہ یا "پکار- "15پر فوری اطلاع دیں تاکہ شہر سے جرائم کے خاتمے کویقینی بنا یا جاسکے

  • شادی کے لئے مرد کی ضرورت نہیں، لڑکی نوکری کرے یا گھر کے کام؟

    شادی کے لئے مرد کی ضرورت نہیں، لڑکی نوکری کرے یا گھر کے کام؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق باغی ٹی وی کی کالم نگار، تجزیہ کار ،معروف وکیل یاسمین علی نے باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر خواتین کے مسائل کے حوالہ سے بات چیت کی ہے

    یاسمین علی نے باغی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے لیے بھی ملک میں کام تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے۔ یاسمین علی کا کہنا تھا کہ کام کی جگہ پر درپیش مسائل کا جائزہ لینے سے پہلے ہمیں پہلے پورے نظام اور ان نتائج پر غور کرنا چاہیے جو خواتین کو کام کی تلاش میں باہر جانے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ ہمیشہ کسی کی مالی مجبوریاں نہیں ہوتیں جو خواتین کو کام کی طرف دھکیلتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے لیے بھی نوکری تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ صرف پچھلے چار دنوں میں، سروش ٹیکسٹائل اور نشاط ٹیکسٹائل کے سب سے بڑے سپنڈلنگ یونٹس بند ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ راتوں رات بے روزگار ہو گئے ہیں۔ "ایسی صورتحال میں، جب پہلے سے ہی نوجوان خواتین کے پاس مردوں کے مقابلے میں محدود مواقع ہوتے ہیں، ایسے حالات ہوتے ہیں کہ آپ کو نوکری کے حصول کے لیے کسی دوسرے شہر میں جانا پڑ سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں، خواتین کو ان کے گھر والوں کی طرف سے اجازت نہیں دی جاتی ہے

    یاسمین علی کا مزید کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں جب نوجوان پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لڑکیوں کی شادی ہو جاتی ہے اور سسرال والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل ہیں، کچھ ڈاکٹر، سرجن یا کوئی اور ڈگری ہولڈر ہو سکتے ہیں، اس وقت بہت سے خاندان خالی وعدے کرتے ہیں، بعد میں لڑکیوں کو اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے سے روکتے ہیں۔ پھر لڑکیوں پر مختلف وجوہات کی بنا پر بوجھ ڈالا جاتا ہے، اور ان سے کہا جاتا ہے کہ انہیں کوئی خاص کام نہیں کرنا چاہیے۔

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

  • کراچی بلدیاتی انتخابات، سندھ حکومت کا ایک اور مراسلہ

    کراچی بلدیاتی انتخابات، سندھ حکومت کا ایک اور مراسلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن کل اتوار کو کروانے کا اعلان کر رکھا ہے

    سندھ حکومت الیکشن کروانے کو بالکل بھی تیار نہیں ہے،الیکشن کے لئے انتظامات ہو چکے ہیں، اب سندھ حکومت کا نیا مراسلہ سامنے آیا ہے جس میں بلدیاتی ایکٹ 2013 کے سیکشن 34 کا ذکر کیا گیا ہے، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 12 جنوری کو سندھ حکومت نے حیدرآباد کراچی میں حلقہ بندیوں کو ختم کردیا گویا اب نئی حلقہ بندیاں لازمی ہیں،انتخابات نئی حلقہ بندی تک ممکن نہیں،سندھ حکومت کے مراسلے کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس متوقع ہے

    کراچی میں الیکشن ایک بار پھر ملتوی ہونے کے قوی امکانات ہیں، اگر الیکشن کمیشن نے الیکشن ملتوی نہ کئے تو آرڈیننس لایا جا سکتا ہے جس کے بعد الیکشن ملتوی ہو جائیں گے. جب تک بلدیاتی ایکٹ کے صفحہ نمبر 14 پر موجود شق نمبر 13 میں ترمیم کے زریعے یونین کونسل کی تشکیل کا فارمولہ تبدیل نہیں کیا جائے گا الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کروائے گا۔ آرڈینینس کے بعد الیکشن کمیشن جس کا ہنگامی اجلاس جاری ہے وہ خود ہی معطل کردے گا جیسے اسلام آباد میں ہوا

     شہر قائد کراچی میں بلدیاتی الیکشن کل اتوار کو ہوں گے

    بلدیاتی انتخابات کیلئے پالیس کی جانب سےسیکیورٹی پلان مرتب

    تم آرڈیننس لاؤ گے ہم اس کا بھی عدالتوں میں مقابلہ کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

    موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں،گورنر سندھ کی خالد مقبول صدیقی سے…

    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

  • راؤ انوار کیخلاف نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 5 سال بعد محفوظ، 23 جنوری کو سنایا جائیگا

    راؤ انوار کیخلاف نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 5 سال بعد محفوظ، 23 جنوری کو سنایا جائیگا

    راؤ انوار کیخلاف نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 5 سال بعد محفوظ، 23 جنوری کو سنایا جائیگا۔</strong

    انسداد دہشتگردی کی خصوسی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں طرفین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، 23 جنوری 2018 میں درج کیئے گئے مقدمے کا 5 سال بعد 23 جنوری 2023 کو فیصلہ سنایا جائیگا۔ کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 16 کے روبرو نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر سمیت دیگر پیش ہوئے۔

    مدعی مقدمہ کے وکیل صلاح الدین پہنور نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کیخلاف تمام شواہد عدالت کے سامنے ہیں۔ شکیل فیروز نے ایک دن پہلے گدا حسین کو کال کی جہاں مقابلہ ہوا، مقابلے کے وقت گدا حسین کی سی ڈی آر بتاتی ہے کہ وہ موجود تھا۔ ڈی ایس پی قمر بھی امان اللہ مروت سے رابطے میں تھے۔ وکیل صفائی ملک کھوکھر ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ ڈیوٹی کا حصہ ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اپنے بالا افسر کو کسی بھی واقعے کی اطلاع دے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بلکل یہ ڈیوٹی کا حصہ اور اگر اس بنیاد پر ڈی ایس پی اور ایس ایس پی کو نامزد کیا گیا ہے تو پھر ڈی آئی جی اور دیگر اعلی افسران کو بھی نامزد کرنا چاہئے تھا۔ صلاح الدین پہنور نے کہا کہ راؤ انوار 3 بج کر 21 منٹ پر وہاں موجود تھے، افسران کو پتا تھا مقابلے کا۔ جس پر عدالت نے استفسارکیا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں ثابت کریں کیا ثبوت ہے اس بات کا کہ راؤ انوار یا کسی اور افسر کو معلوم تھا۔

    راؤ انوار کے وکیل عامر منسوب نے کہا کہ میں عدالت کی توجہ استغاثہ کی دی ہوئی سی ڈی آر پر دلانا چاہتا ہوں جس میں ایک ملزم فیصل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 3 بج کر 5 منٹ پر خداد کالونی میں تھا اور مقابلے کے وقت پہنچ گیا۔ خدا داد کالونی مزار قائد پر واقعہ ہے تو کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی آر پر لانڈھی لکھا ہوا ہے، جس پر عامر منسوب نے جواب دیا کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ لانڈھی میں تھا اور ان کی سی ڈی آر دیکھا رہی ہے کہ 5 منٹ کے بعد وہ مقابلے کی جگہ پر تھا۔ ہوسکتا ہے کہ فیصل کوئی بلا ہو کہ وہ 5 منٹ پر پہنچ جائے یا پھر چائنہ کی کوئی ٹیکنالوجی استعمال کی ہو اس نے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    عدالت نے طرفین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ فیصلہ 23 جنوری کو سنایا جائیگا۔ سماعت کے بعد نجی ٹی وی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے راؤ انوار کے وکیل عامر منسوب نے کہا کہ آج پراسکیوشن ملزمان کیخلاف پیش کئئے گئے شواہد ثابت نہیں کرسکی۔ پراسیکیوشن کی دی ہوئی سی ڈی آر میں ریکارڈ ہے کہ وہ مقابلے کے بعد پہنچے، آج تسلیم کررہے ہیں۔