Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری

    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری

    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری کی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس کی جانب سے ’نذیر ون پروگرام‘ کا نیا مرحلہ پورے ایران میں شروع ہو گیا ہے۔

    جنرل سلیمانی کا قتل،انتقام ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ

    مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں گاڑی میں حجاب نہ پہننے پر لکھا ہے کہ معاشرے کے اصول کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل نہ دہرایا جائے۔

    گاڑیوں میں حجاب نہ پہننے پر نذیر ون پروگرام 2020 میں شروع کیا گیا تھا، ایران کی اخلاقی پولیس کے پاس عوامی علاقوں میں داخل ہونے کا مینڈیٹ ہے تاکہ لباس کے سخت ضابطے کے نفاذ کو چیک کیا جا سکے۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    ایران میں حجاب نہ پہننے پر گرفتار 22 سالہ مہسا امینی کی دورانِ حراست مبینہ تشدد سے ہلاکت ہوئی تھی جس کے خلاف ایران بھر میں ستمبر سے مظاہرے جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں انسانی حقوق سے وابستہ ’’ہرانا‘‘ ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 516 تک پہنچ گئی ہے۔ان میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے 70 بچے بھی شامل ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ ایرانی حکام نے 687 طلبہ کے علاوہ 19 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا اورایران میں انقلابی عدالتوں نے مظاہروں کے آغاز سے اب تک 670 زیر حراست افراد کے خلاف فیصلے جاری کیے ہیں۔

    فرانسیسی بحریہ کی بحیرہ عرب میں کاروائی،5 کروڑ 32 لاکھ ڈالر سے زائد کی منشیات پکڑ…

  • امریکا:ملکی تاریخ میں پہلی بارخواجہ سرا کو سزائے موت

    امریکا:ملکی تاریخ میں پہلی بارخواجہ سرا کو سزائے موت

    میسوری: امریکی عدالت نے پہلی مرتبہ دوست کے قتل کے الزام میں خواجہ سرا کو سزائے موت دیدی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کے مطابق، ریاستہائے متحدہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی کھلے عام خواجہ سرا کو پھانسی دی گئی، تاہم، ایک جیوری یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ آیا میک کو اس کے جرم کے لیے مر جانا چاہیے، اور اس کی سزا اس کے بجائے سینٹ لوئس کے جج نے سنائی تھی۔

    اپنی سابقہ ​​گرل فرینڈ بیورلی گوینتھر کے 2003 کے فرسٹ ڈگری قتل کے جرم میں سزا یافتہ 49 سالہ امبر میک لوگلن کی زندگی کا خاتمہ منگل کو انجیکشن کے ذریعے کیا گیا-

    امبر میک کے وکیل کا کہنا ہے کے سزا کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کردی گئی ہیں ، ان کا کہنا تھا کے عدالت کے سامنے قتل کی وجوہات بیان کرنےکے باوجود انہیں کوئی رعائت نہیں دی گئی۔

    طیارے کے انجن میں پھنس کرشہری ہلاک

    وکیل کے مطابق بچپن سے سخت معاشرتی رویوں سے متاثرہ امبر نے اپنی دوست کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، ڈپریشن کا شکار امبر کئی مرتبہ خود اپنی جان لینے کی بھی کوشش کرچکی ہے۔

  • متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں کے منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے کے اقدام پرچین نے جوابی اقدام کرنے کا انتباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط سائنسی طور پر بے بنیاد اور غیرمعقول ہے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد کردی

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ چین سےآنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ کےاقدام کی سخت مخالفت کرتےہیں،چین سے آنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے پر جوابی اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا،برطانیہ،بھارت سمیت متعدد ممالک چین میں کورونا کیسز کے پھیلاو پروہاں سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط لازمی کر چکے ہیں۔

    5 جنوری سے آسٹریلیا اور کینیڈا آنے والے چین کےمسافروں کو کورونا کے منفی ٹیسٹ لازمی دکھانے ہوں گے،آسٹریلوی وزیرصحت کے مطابق مسافروں کو چین،مکاؤ ،ہانگ کانگ سے روانگی کے 48 گھنٹوں کے اندرکرائے گئے کورونا کےمنفی ٹیسٹ پیش کرنےکی ضرورت ہوگی۔آسٹریلوی حکومت مسافروں کے رضاکارانہ نمونے لینے سمیت اضافی اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ چین کے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ دکھانے کا عارضی اقدام 30 دن تک جاری رہے گا اور یہ پابندی مکاؤ اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہوگی۔

    دوسری طرف چین میں کورونا کیسز میں اضافے کی صورتحال پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششیں نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں ہم سب کو مل کر اس پر قابو پانے کے لیے محنت کرنی ہے۔

    نئے سال کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ کا کورونا وبا سے متعلق پیغام میں کہنا تھا کہ چین نےکورونا کےخلاف جنگ میں غیرمعمولی مشکلات اور چیلنجز پر قابو پایا ہے، اب وبا سے تحفظ اور اس پر قابو پانے کےنئےدورمیں داخل ہورہےہیں ابھی بھی وبا کےخلاف کوششوں کا وقت ہے، وبا سے بچاؤ کے لیے سب انتھک محنت کر رہے ہیں، وبا کے خلاف سخت محنت کا تسلسل اور ہمارا اتحاد ہی کامیابی کا ضامن ہے۔چین میں کورونا پابندیاں نرم ہونے کے بعد حالیہ دنوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

  • برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت

    عطیہ فیضی (ولادت: 1 اگست 1877ء، وفات: 4 جنوری 1967)

    عطیہ فیضی کون تھی؟

    یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔

    نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔

    سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔

    اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔

    سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
    اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
    اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
    روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
    دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر

    نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔

    عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔

    نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔

    ۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

    قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:

    عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
    کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
    بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
    عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

    مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

    کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
    خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
    ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
    یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
    کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
    عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی

    اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:

    یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
    وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا

    ۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔

    ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔

    ماہرالقادری

  • مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    لاہور:پی ڈی ایم کی حکومت کیوں آئی ، عمران خان کی حکومت کیوں ختم ہوئی ، ان سوالات کے جوابات سب کومعلوم ہونے چاہیں، عمران خان نے جب حکومت کی تو اس وقت ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پرلے گیا،عوام الناس تو تنگ تھے ہی ساتھ پی ٹی آئی کے اہم رہنما بھی عمران خان کی پالیسیوں سے نالاں تھے اور وہ ناخوش بھی تھے

    اس حوالےسے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کی طرف سے معاشی تباہی میں جنرل ریٹائرڈ کا بھی کردار ہے اس شخص کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے ادارے تباہ کردیئے تھے ،اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگانے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور یہ کہ اس سارے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کےلیے جنرل فیض حمید کردار ادا کررہے تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ان حالات نے پی ڈی ایم کی شکل میں ایک سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنایا اورپھریہی اتحاد اقتدار میں آگیا ، ان کا کہنا تھاکہ اس ملک کی تباہی میں سب کا برابر کا کردار ہے، اسفند ولی یار سمیت دیگرکئی سیاستدانوں کے اپنے بچے تو یورپ میں ہیں ان کو کیا پرواہ ہے ،ان کے بچے باہر ہیں ، جیسے مونس الٰہی باہر ہے ،

    ان کا کہنا تھاکہ پہلے سائفرکا ڈرامہ چلایا گیا اورپھرخود ہی کہہ دیا کہ امریکی سازش نہیں تھی ،

     

    ان کا کہنا تھاکہ یورپ کی منڈیوں میں ایکسپورٹ میں کمی آگئی ہے جو دوسال پہلے بہت بڑھ گئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلا دیش اور بھارت کو آڈڑ بہت کم ملے تو پاکستان کو موقع مل گیا

    ان کا کہنا تھا کہ اب امپورٹڈ حکومت نے وزیروں کی فوج بھرتی کررکھی ہے ، غیرملکی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طالب علم پریشان ہیں، بچوں کی تعلیم متاثرہوتی ہے ،ہمارے مسائل ہمارے بچوں کے گلے پڑ گئے ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے مشکل ہوگئے ہیں ، اب لوگوں نے ہنڈی اور حوالا کا سہارا لینا شروع کردیئے ہیں ،

    زرمبادلہ ذخائر بہت کم ہیں ، اور جو ہیں اگرسعودی عرب اور عرب امارات نے واپس مانگ لیے توپھرہمارے پاس کیا بچے گا ، اب کہہ رہے ہیں کہ امریکہ میں پی آئی اے کا ہوٹل بیچ کر معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کریں گے ، ان کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کی توجہ ہیلی کاپٹر پر ہے ،عمران خان پنجاب اور کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹراستعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا ہمارے زرمبادلہ کے ذخائرکم ہوگئے ہٰیں ،ان کا کہنا تھا کہ 6 ملین ڈالرز میں امریکہ میں پاکستان کا قیمتی اثاثہ بیچنے کا پروگرام ہے

     

    ان کا کہنا تھا کہ گورنر،وزیراعظم اور دیگر بیوروکریسی بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف اگر کچھ پیسے دے دیں تو کب تک وہ کام آئے گا، ادویات کےلیے پیسے نہیں مگرہوٹلوں پر کھانا کھانے چاتےہیں تو بڑے بڑے مشروب اور بہترین چیزیں کھاتے ہیں

    ہنڈا جیسی کمپنی پاکستان میں سروسز بند کررہی ہیں ، ان کا کہنا تھا یہ کمپنیاں پاکستان میں مہنگی گاڑیاں بناکرسرمایہ باہر لے گئیں ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں گاڑیوں پر پابندی لگا دیں کہ جس گاڑی پر دو یا تین سے کم مسافر ہوں تو ان کو بند کردیں ،

    انہوں نے کہاک عارف علوی دانتوں کا کیڑا تو نکال سکتا ہے ،اس پر کروڑوں روپے خرچ ہورہےہیں، زمان پارک کی بات کرتے ہوئے کہٰتےہیں کہ اب وہاں بڑی سیکورٹی لگا دی ہے ، فائراس کو لگا نہٰیں اور جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے تو عوام قریب آئے گی ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانے کےلیے سخت فیصلےکرنےہوں گے ، سترکی دہائی میں پاکستان چین کو قرض دیتا تھا اب یہ حال ہیں کہ ہم چین کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں ، تمام سرکاری افسران کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے ، ان کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گےتو سکول بہتر ہوں‌گے

  • بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان کا انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشین ہم منصب سے گفتگو کرکے بہت مسرت ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گفتگو میں انڈونیشیا نے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور ہر ممکن مدد کے عزم کا اظہار بھی کی جبکہ موسمیاتی طور پر مضبوط پاکستان کانفرنس کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گفتگو میں دوطرفہ اور عالمی معاملات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغانستان کی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی اور پاک، انڈونیشیاء تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری مزید کہا کہ اس موقع پر دونوں جانب سے خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے دادو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان حقیقت اور تحریک طالبان پاکستان فتنہ ہے۔دادو میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے 2010 کا سیلاب دیکھا مگر 2022 کے سیلاب نے سب کچھ متاثر کیا، سیلاب کی وجہ سے لوگ آج بھی مشکل میں ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہمیں کچھ وقت ضرور درکار ہوگا مگر عزم ہمارا پختہ ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی کے بعد انہیں گھر بنا کر بھی دیئے جائیں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کا موقف دنیا بھر میں پیش کیا، سیلاب متاثرین کی بحالی،گھروں کی تعمیر اور نقصانات کے ازالے کے لیے ورلڈ بینک سے رقم منظور کروائی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لئےکئی پروگرامز شروع کیےہیں، سندھ حکومت کی ملکیت زمین پر رہنے والوں کو اس کا مالک بنادیں گے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوویڈ کے دوران ساری چیزیں بھول کر ہم نے عمران خان سے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، سیلاب کی صورت حال میں ہمارے سیاسی حریف نے سندھ ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور کوہستان و گلگت بلتستان میں مدد کرنے کے بجائے اپنی سیاست جاری رکھی۔ ملک میں سیلاب کی صورتحال تھی مگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چلتا رہا۔

  • بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    کراچی: جماعت اسلامی نے سندھ حکومت کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو دئیے گئے خطوط 24 گھنٹے میں واپس نہ لینے پر دھرنے کی دھمکی دے دی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے الیکشن کمیشن کوبھیجے گئے خطوط 24گھنٹوں کے اندر واپس نہ لیے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ دار ی حکومت پرعائد ہو گی۔

    انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے التواء کا کوئی آئینی و قانونی اور جمہوری جواز موجود نہیں ہے، گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس سازشوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں، ماضی کی طرح شہر کو ایک بار پھر تباہ و برباد کرنے کے لیے پیپلز پاٹی، ایم کیو ایم کے ساتھ اب نواز لیگ کی جوڑ توڑ اور سازشیں بھی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا گورنر بنایا گیا ہے جس کا ماضی میں کرمنل ریکارڈ موجود ہے، جماعت اسلامی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر حکمران پارٹیاں اکھٹی ہورہی ہیں اور بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

    حافظ نعیم جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کراچی کے شہری چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا میئر آئے اور شہر میں تعمیر و ترقی کا کام دوبارہ شروع ہو، کراچی میں ہر صورت میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہونے چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایم کیو ایم حلقہ بندیوں پر اعتراض کررہی ہے یہ اعتراض اس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب یہ اپنا مینڈیٹ فروخت کررہے تھے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ فروخت کیا اور شہر کی ترقی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا یہ ہر حکومت میں شامل رہی ہے 2013 کے ایکٹ کی منظوری میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں برابر کے شریک جرم رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جتنی کرپشن اور لوٹ مار کررہی ہے اس میں ایم کیو ایم برابر کی حصہ دار ہے 2018میں اہل کراچی نے پی ٹی آئی کو بھی مینڈیٹ دیا لیکن اس نے بھی کراچی کے لیے پیکجز کے اعلان تو کیے لیکن کام کچھ نہیں کیا۔

    امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں مسلح ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود کراچی کے عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں۔ اہل کراچی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے حقوق،مسائل کا حل اور تحفظ کب ملے گا۔

  • پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    لاہور:پاک فوج کے حاضرسروس افسر نے پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کے خلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے ، یہ مقدمہ برطانوی ہائی کورٹ میں کیا گیا ہے،یو ٹیوبر میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انتخابی دھاندلی کرنے اور جنرل ریٹائرڈ باجوہ پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔

    جیو ٹی وی کے مطابق متنازع یو ٹیوبر میجرریٹائرڈ عادل راجہ جوکہ اس وقت لندن میں رہ رہے ہیں نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پنجاب کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے آصف زرداری سے خفیہ ملاقاتوں کے الزامات بھی لگائے ۔میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کی طرف سے لگائے الزامات کے بعد برطانوی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوبر نے 14 جون 2022 کو حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔

    مدعی مقدمہ کے وکلاء نے مؤقف اپنایا ہے کہ یو ٹیوبر کی طرف سے چلائی گئی مہم سے حاضر سروس بریگیڈیئر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔دوسری جانب یوٹیوبر عادل راجہ نے اپنے خلاف دائر ہونے والے مقدمے کی تصدیق کردی ہے۔ یوٹیوبر کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹوئٹس اور وی لاگس میں دی گئیں معلومات اسٹیبلشمنٹ کے ہی اعلیٰ ذرائع کی فراہم کردہ تھیں۔

    خیال رہے کہ یہ یوٹیوبر گزشتہ برس اپریل میں اسلام آباد سے لاپتہ ہونے کے بعد لندن پہنچ گئے تھے۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حال ہی میں عادل راجا نے سوشل میڈیا پر جاری وی لاگ میں پاکستان کی ٹاپ ماڈلز اور اداکاراؤں پر سنگین الزامات عائد کیے تھےاور ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ادارے کے پاس ان ماڈلز اور اداکاراؤں کی نازیبا ویڈیوز بھی موجود ہیں۔جن اداکاراوں کو پرالزام تراشی کی گئی ہے ،ان میں سجل علی،مہوش حیات،ماہرہ خان اور کبریٰ خان پرمختلف قسم کے الزامات عائد کیے گئے تھے

    عادل راجا نے اپنے وی لاگ میں اداکاراؤں کا نام لینے کے بجائے ان کے ناموں کے ابتدائی حروف بتائے تھے جن میں M H. – M K. – A K- S A شامل تھے۔

    اس معاملے پر اداکارہ کبریٰ خان نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ ’آپ کے پاس ثبوت سامنے لانے کیلئے صرف 3 دن ہیں جس کیلئے آپ نے حق اور سچ کا دعویٰ کیا ہے، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنا بیان واپس لو اور عوام کے سامنے معافی مانگو ورنہ میں تمہارےخلاف مقدمہ کروں گی اور میں صرف پاکستانی ہی نہیں برطانوی شہری بھی ہوں لہٰذا میں وہاں بھی تمہارے پیچھے پہنچ جاؤں گی کیوں کہ میں سچ پر ہوں، میں حق پر ہوں اور میں کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتی‘۔

  • اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد:گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت موقع سے ملنے والی موبائل سم سے ہوئی، جائے وقوعہ سے ملنے والی سم ملزم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    22 سالہ حملہ آور ثاقب الدین کرم ایجنسی کا رہائشی تھا۔ خودکش حملہ آور نے 22 دسمبر کو ضلع کرم سے صوابی کا سفرکیا، حملہ آور کوراولپنڈی کے ایک رہائشی شخص کیجانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور10 سے12 کلوگرام باردو سے بھری جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔

    یوکرین کاروس پرامریکی ہتھیاروں سےحملہ:پوتن نےہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے کے کیس میں چار سے پانچ ملزمان اور ان کے ہیلنڈرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے ملے میں استعمال ہونے والی ٹیکسی کا ڈرائیور بے گناہ تھا۔

    خیال رہے کہ 23 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے میں ایک پولیس اہلکار اور ٹیکسی ڈرائیور سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔

  • پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    کراچی:پرواز پر 330 مسافر سوار تھے، جو کئی گھنٹوں سے ایئرپورٹ پر پریشان بیٹھے تھے،اطلاعات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کے فیول پمپ میں فنی خرابی کے باعث جدہ جانے والی عمرہ پرواز میں 19 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے بعد بالآخر مسافروں کو سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

    کراچی:لائنز ایریا میں 2دن سے بجلی کی فراہمی معطل:علاقہ مکین رُل گئے:احتجاج بھی کام…

    کراچی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کو منگل کی رات 2 بجے 300 سے زائد مسافروں کو جدہ لے جانا تھا۔رپورٹ کے مطابق پرواز سے کچھ وقت پہلے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کے فیول پمپ میں خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    متاثرہ پرواز کے اکانومی اور بزنس کلاس کے 330 مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں اکثریت نے احرام باندھ رکھا تھا۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    بزرگ اور خواتین سمیت دیگر مسافر رات سے ایئرپورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں موجود رہے، جبکہ پرواز کی روانگی میں مسلسل تاخیر کے باعث مسافروں کی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔بالآخر پی آئی اے کی پرواز 19 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمرہ زائرین کو لے کر جدہ روانہ ہوگئی۔

    پرواز میں تاخیر کے حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ متاثرہ طیارے کے مسافروں کو رات میں کھانا اور صبح میں ناشتہ پیش کیا گیا، ہوٹل منتقل کرنے کی پیشکش مسافروں نے قبول نہیں کی۔