Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
    اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘

    ’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا
    ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
    ۔۔۔
    ’اے دِل کسی کی یاد میں
    ہوتا ہے بے قرار کیوں‘

    سنہ 1946میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔
    ’آ میرے پیار کی خوشبو
    منزل پہ تجھے پہنچائے
    آ میرے پیار کی خوشبو‘

    ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔
    آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

    ’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہریالی
    گجر
    جلترنگ
    روزن
    جھومر
    مطربہ
    چھتنار
    گفتگو
    پیراہن
    آموختہ
    ابابیل
    برگد
    گھنگرو
    سمندر میں سیڑھی
    پھوار
    صنم
    پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • اتوار سے بارش اوربرفباری برسانے والا مغربی سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہونے کی پیشگوئی

    اتوار سے بارش اوربرفباری برسانے والا مغربی سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہونے کی پیشگوئی

    سائبیرین ہوائیں چلنے سے شمالی بلوچستان اور سندھ میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : وادی زیارت میں درجہ حرارت منفی 10 تک پہنچ گیا جبکہ کراچی میں بھی سردی بڑھ گئی،بلوچستان کے کان مہترزئی، توبہ اچکزئی، خانوزئی میں درجہ حرارت منفی 9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، چمن میں درجہ حرارت منفی 3، پرانا چمن میں منفی 5 تک گرگیا۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سائبیرین ہوائیں چلنے سے شمالی بلوچستان میں نظام زندگی شدید متاثر ہورہا ہے، وادی زیارت، پشین، حرم زئی میں گیس غائب ہونے سے صارفین کو مشکلات ہیں، شمالی بلوچستان کے ہزاروں سیلاب متاثرین کو بھی سرد موسم میں مشکلات کا سامنا ہے-

    محکمہ موسمیات نے اتوار سے بارش اوربرفباری برسانے والا مغربی سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے شمالی علاقہ جات اور بلوچستان میں شدید سردی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

    برفباری کی صورت میں این 50 پر ٹرانسپورٹرز کیلئے موٹروے پولیس نے الرٹ جاری کر دیا ہے سیکٹر کمانڈر موٹروے کے مطابق کوئٹہ، قلعہ سیف اللّٰہ، ژوب این 50 شاہراہ پر برفباری کے دوران شہری احتیاط کریں کان مہتر زئی، خانوزئی، زیارت کراس پر ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب کراچی کے متعدد علاقوں میں رات موجودہ سیزن کی سرد ترین رات رہی، شہر قائد میں صبح صادق کے وقت درجہ حرارت 11 سے 12 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • امریکہ اور ترکیہ کےدرمیان حالات کشیدہ ،امریکہ کی سنگین دھمکیاں

    امریکہ اور ترکیہ کےدرمیان حالات کشیدہ ،امریکہ کی سنگین دھمکیاں

    واشنگٹن: امریکا کے اعلیٰ فوجی جنرل ایرک کوریلا ترکی کو شام میں مداخلے سے باز رہنے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراندازی کو روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی فوج کے ایک اعلٰی فوجی افسر جنرل ایرک کوریلا نے میڈیا سے گفتگو میں ترکیہ کو خبردار کیا ہے کہ شام میں فوجی کارروائی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتی ہے۔

     

    جنرل ایرک کوریلا نے مزید کہا کہ میں اس بارے میں بہت فکر مند ہوں۔ ترکیہ کا یہ عمل خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور اس سے شام کی 28 جیلوں میں قید داعش کے 4 ہزار جنگجوؤں کے فرار کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔امریکی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکیہ کا حملہ الہول کیمپ کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے جہاں داعش جنگجوؤں کے ہمدرد اور خاندانوں کے تقریباً 55 ہزار افراد مقیم ہیں جن میں 90 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

     

    خیال رہے کہ ترکیہ کی بری فوج نے حال ہی میں شام کی سرحد میں گھس کر کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کیا اور اس آپریشن میں تیزی استنبول بم دھماکے بعد آئی جس کی ذمہ داری کرد عسکریت پسند تنظیم پر عائد کیا گیا تھا۔ترکیہ پہلے ہی امریکی پالیسی سے نالاں ہے کیونکہ امریکا شام اور عراق کے میں داعش کے خلاف لڑنے والے شامی جمہوری فورسز کا شراکت دار ہے جن پر ترکیہ علیحدگی پسند عسکری تحریک چلانے کا الزام عائد کرتا ہے۔

  • شہداد کوٹ: باراتیوں کی بس الٹنےسے دلہن کی والدہ سمیت 6 افراد جاں بحق

    شہداد کوٹ: باراتیوں کی بس الٹنےسے دلہن کی والدہ سمیت 6 افراد جاں بحق

    شہداد کوٹ:باراتیوں کی بس الٹنے سے دلہن کی والدہ سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ ،اطلاعات ہیں کہ واقعہ بس کے سڑک پر لگائے گئے سیلابی کٹ میں گرنے سے پیش آیا، بس الٹنے سے متعدد باراتی بس کے نیچے دب گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے اور ایک خاتون شامل ہے، جاں بحق ہونیوالی خاتون گوہر بیگم دلہن کی والدہ تھی۔حادثے کو کئی گھنٹے گذرنے کے باوجود امدادی کارروائیاں مکمل نہ ہوسکیں انتظامیہ کی جانب سے رات ہوجانے کے باعث امدادی کارروائیاں روک دی گئیں۔

     

    ورثاء کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لئے اہل علاقہ نے اپنے خرچے پر ہیوی مشینری منگوائی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مشین کے لئے دیا گیا ڈیزل بھی کم پڑگیا،اہل علاقہ اور باراتیوں کے ورثاء نے مشینری میں ڈیزل ڈلوایا۔

    دوسری طرف کراچی کے علاقے کورنگی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے لڑکی جاں بحق ہوگئی، پولیس نے واقعے پر شکوک کا اظہار کردیا۔کورنگی نمبر 5 میں گھر میں فائرنگ سے ایک لڑکی جاں بحق ہوگئی، اہلخانہ نے بتایا کہ 4 ڈاکو گھر میں داخل ہوئے، اسلحہ کے زور پر اہلخانہ کو رسیوں سے باندھ دیا۔

    گھر کے افراد نے شور مچایا تو ملزمان برابر والے گھر میں کود کر فرار ہونے لگے، فرار ہوتے وقت ملزمان نے فائرنگ کی جو کہ 19 سالہ خیرالنساء کو لگی، جس سے وہ جاں بحق ہوگئی۔ پولیس نے واقعے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کا میڈیکل کیا جارہا ہے، گولی کافی فاصلے سے لگی، اس حوالے سے مزید تحقیقات کررہے ہیں۔

  • راولپنڈی: والی بال میچ کے دوران فائرنگ،1 کھلاڑی ہلاک، 1 زخمی

    راولپنڈی: والی بال میچ کے دوران فائرنگ،1 کھلاڑی ہلاک، 1 زخمی

    راولپنڈی والی بال میچ کے دوران کھلاڑیوں میں فائرنگ سے مقامی کھلاڑی جان کی بازی ہار گیا جب کہ ایک کھلاڑی شدید زخمی ہوگیا۔راولپنڈی پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقے سمبل میں والی بال میچ کے دوران پیش آیا، ملزمان فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

     

    پولیس نے بتایا کہ دو مقامی ٹیموں کے درمیان فلڈ لائٹ والی بال میچ کھیلا جارہا تھا، میچ کے دوران معمولی تلخ کلامی پر عابد اور اعجاز نے دوسری ٹیم پر فائرنگ کردی، جس سے مقامی کھلاڑی جنید موقع پر جاں بحق ہوگیا اور ناصر شدید زخمی ہوا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی صدر محمد نبیل نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ کر لاش اور زخمی کو مقامی اسپتال منتقل کیا۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

    دوسری طرف کے پی کےعلاقہ پاراچنار میں چارنوجوانوں کو قتل کردیا گیا ہے ، گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے پارا چنار میں ٹرکوں سے قومی سطح پر ٹیکس لینے کے سلسلے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کو فوری کنٹرول کرنے اور امن کا قیام یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

    ترجمان گورنر کے پی کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق حاجی غلام علی نے ضلع کرم کے علاقے پارا چنار میں چار نوجوانوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ سمیت ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اہم ہدایات جاری کردیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا اور حالات سے مکمل آگاہی حاصل کرتے ہی صورت حال کنٹرول کرنے ہدایات جاری کیں

  • عدالت نے پرویز الٰہی کو عبوری ریلیف دیا، پابند کیا وہ کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے:رانا ثنااللہ

    عدالت نے پرویز الٰہی کو عبوری ریلیف دیا، پابند کیا وہ کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے:رانا ثنااللہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کو عدالت نے عبوری ریلیف دیا ہے، یقین ہے عدالتی فیصلے پر انہیں اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا۔اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت نے پرویزالہیٰ کوعبوری ریلیف دیا ہے، گیارہ جنوری کوعدالت دونوں فریقین کو سن کر فیصلہ دے گی، یقین ہے عدالت کے فیصلے پرانہیں اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا، اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد بے شک اسمبلیاں تحلیل کر دیں، ہمیں اعتراض نہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے شہید عدیل حسین کو ‘تمغہ شجاعت’ دینے کا اعلان

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگرچیف سیکرٹری نے دستخط نہ کرنا ہوتے توعہدے سے علیحدہ ہو جاتے، مراسلہ بھیجنے سے پہلے چیف سیکرٹری کو اعتماد میں لیا گیا، چیف سیکرٹری نے کہا تھا پہلے لیگل رائے لینا چاہتا ہوں، چیف سیکرٹری کو کمرے میں بند کرنے والی ایسی کوئی بات نہیں۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات تشویشناک ہیں، اسلام آباد پولیس نے گاڑی کو روک کر فرض شناسی کا ثبوت دیا، اسلام آباد میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہونے جا رہا تھا۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    یاد رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب کی جانب سے چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔

    این ڈی یو میں نیشنل سکیورٹی کورس 2023 کی گریجویشن تقریب

    لاہور ہائیکورٹ نے اسمبلی نہ توڑنے کے بیان حلفی پر گورنر کا نوٹیفکیشن معطل کیا، عدالت نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان ، اٹارنی جنرل اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیا اور سماعت گیارہ جنوری تک معطل کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے دوبارہ سماعت کا آغاز کیا تو بیرسٹر علی ظفر نے پرویز الٰہی کا دستخط شدہ بیان حلفی جمع کرا دیا، مونس الہی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ نےپاکستان سپرلیگ 8 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نےپاکستان سپرلیگ 8 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی نے پاکستان سپرلیگ سیزن 2023 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں سیزن کے میچز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کمیٹی سربراہ نجم سیٹھی نے مینجمنٹ کمیٹی کی پہلی مینٹنگ کے بعد نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

    پشاور میں اسٹیڈیم بن رہا ہے ،6ماہ تکمیل کے لیے درکارہے ،نجم سیٹھی

    انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے کوئٹہ میں بھرہور سکیورٹی کی یقین دہانی کرادی گئی ہے، اسی لیے کوئٹہ میں میچز کرانے کا فیصلہ کیا۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کل کیا جاسکتا ہے جب کہ انہوں نے قومی ٹیم لیے لیے تجربہ کار غیرملکی کوچز بھی لانے کا عندیہ بھی دے دیا۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی سربراہ نے بتایا کہ ایجنڈے میں بہت کچھ تھا جو مکمل نہیں ہوسکا، اب ہفتے کو دوبارہ اجلاس ہوگا، فی الحال ہم نے سلیکشن کمیٹی سمیت تمام کمیٹیاں ختم کردی گئی ہیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ڈومیسٹک میں پاکستان کپ شیڈول کے مطابق ہوگا تاہم دوسرے تمام پروگرام روک دئیے گئے ہیں اور ڈومیسٹک کوچز کو بھی فارغ کیا جارہا ہے۔

    نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ چھ ریجنل ایسوسی ایشنز کو ختم کردیا گیا ہے، بورڈ ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کریں گے جب کہ باقی پورے سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اسٹارز کرکٹرز ہمارا اثاثہ ہیں، ان کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں گے تاہم قومی ٹیم کے لیے تجربہ کار غیرملکی کوچز کی تقرری کریں گے۔

    پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    کمیٹی سربراہ نجم سیٹھی نے پریس بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ ماضی میں بھی غیرملکی کوچز کی تعنیاتی کا تجربہ کامیاب رہا تھا، کرکٹ کو درست سمت پر گامزن کریں گے۔

  • پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ ترمیمی بل منظور

    پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ ترمیمی بل منظور

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ کا ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاتم النبیینؐ، یونیورسٹی اور قرآن ایکٹ کا بل پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں، متفقہ طور پر بل کی منظوری پر سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ تمام اراکین اسمبلی کی جانب سے بل کی منظوری سے مثبت اور اچھا پیغام گیا ہے، تمام سرکاری و نجی سکولوں میں ایف اے تک ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے، اس ضمن میں صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن مراد راس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

     

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ہماری حکومت کے دور میں دین کی سربلندی اور ختم نبوتؐ کے حوالے سے تاریخ ساز قانون سازی ہوئی ہے، اللہ تعالٰی نے دین کی خدمت کی سعادت عمران خان، پی ٹی آئی اور ہمیں دی ہے، اللہ تعالٰی نے ہمیں یہ حکومت محمدؐ کے صدقے عطا کی ہے، اللہ تعالٰی ہی اس کی حفاظت کرے گا، بلاشبہ جو دین کا کام کرتے ہیں اللہ تعالٰی ان کی حفاظت کرتا ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ دشمن جو مرضی کر لے یہ حکومت قائم رہے گی، تمام مخالفین کو ندامت اٹھانا پڑے گی، انشاء اللہ دین کے دشمن ہمیشہ ناکام رہے ہیں اور رہیں گے، ہم کسی سے نہیں مانگتے، صرف اللہ تعالٰی اور اللہ کے پیارے نبیؐ سے مانگتے ہیں۔

    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دین دار طبقے کی دعا ہے کہ ہم دین کی خدمت کے کام کو جاری رکھیں، انشاءاللہ ہم اور ہماری نسلیں دین کی خدمت کے کام کو جاری و ساری رکھیں گی، عام آدمی کو فری لیگل ایڈ کی فراہمی کے لئے پنجاب پبلک ڈیفنڈر سروس بل کی منظوری بھی تاریخی اقدام ہے۔
    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے عام آدمی کو پنجاب حکومت فری لیگل ایڈ دے گی، عام آدمی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی، جس سے کم وسائل رکھنے والے افراد کو بہت ریلیف ملے گا اور ایک ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • پی آئی اے میں نئےطیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری :فضائی سروس میں جدت بھی جاری

    پی آئی اے میں نئےطیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری :فضائی سروس میں جدت بھی جاری

    اسلام آباد:پی آئی اے میں نئے طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری :فضائی سروس میں جدت بھی جاری ہے ،اطلاعات کے مطابق پی ائی اے کے بیڑے میں مزید ایک ایئر بس 320 طیارے کی شمولیت ہوئی ہے اور یوں پاکستان ایئرلائنز کے بیڑےمیں اضافہ ہوا ہے

    رواں سال پی آئی اے نے 4 عدد A320 طیارے حاصل کئے اور اس سلسلے کا چوتھا طیارہ بھی ابوظہبی سے اسلام آباد پہنچ گیا ، بہتر كبین کا حامل جدید ساختہ طیارہ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہوکر مسافروں کو بہتر سفر ی سہولیات فراہم کرے گا، اس جہاز کی شمولیت سے پی آئی اے کے بیڑے میں A320 ساختہ طیاروں کی تعداد 14 ہو گئی ہے ۔

    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات تھیں‌ کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے بیڑے میں نئے طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری، ہفتہ کو مزید ایک ایئر بس 320 طیارہ بیڑے میں شامل ہو گیا۔

     


    ستمبر میں‌ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا تھاکہ رواں سال پی آئی اے نے 4 عدد A320 طیارے حاصل کئے جس سلسلے کا تیسرا طیارہ شارجہ سے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    ترجمان نے کہا کہ بہتر كبین کا حامل جدید ساختہ طیارہ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہوکر مسافروں کو بہتر سفر ی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس سلسلے کا چوتھا اور آخری طیارہ آئندہ چند روز میں وطن پہنچ جائے گا جس سے پی آئی اے کے بیڑے میں A320 ساختہ طیاروں کی تعداد 14 ہو جائے گی ۔

    آج اس 14 ویں طیارے کی پاکستان میں آمد ہوگئی ہے، اور یوں پاکستان کے فضائی سروس میں بھی بہتری آرہی ہے

  • اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ،عمران خان کےفیصلے پرمکمل عملدرآمد ہوگا۔: پرویزالٰہی

    اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ،عمران خان کےفیصلے پرمکمل عملدرآمد ہوگا۔: پرویزالٰہی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو مبارک ہو، آج عدالت نے گورنر کی آئین شکنی کا راستہ روک دیا، اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے، عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔

    اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں منتخب حکومت پر شب خون کی کوشش ناکام ہوگئی ہے، امپورٹڈ حکومت کے سلیکٹڈ گورنر نے آرٹیکل 58(2) بی بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا راستہ روک دیا گیا ہے، اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے، عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کو بحال کردیا

    انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو عوام کے کٹہرے میں پیش کریں گے اور حتمی فیصلہ عوام کا ہو گا، گورنر کے خلاف آج صوبائی اسمبلی کی قرارداد اہمیت کی حامل ہے، اس قرارداد کی روشنی میں صدر سے درخواست کر رہے ہیں کہ گورنر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔

    ہیکر پھر میدان میں، آڈیوز، ویڈیوز کی برسات پنجاب ،کٹا کھل گیا،پرویز الہی فارغ۔

    یاد اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب کی جانب سے چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔

    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے اسمبلی نہ توڑنے کے بیان حلفی پر گورنر کا نوٹیفکیشن معطل کیا، عدالت نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان ، اٹارنی جنرل اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیا اور سماعت گیارہ جنوری تک معطل کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے دوبارہ سماعت کا آغاز کیا تو بیرسٹر علی ظفر نے پرویز الٰہی کا دستخط شدہ بیان حلفی جمع کرا دیا، مونس الہی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔