Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • اسلام آباد پولیس کے شہید عدیل حسین کو ‘تمغہ شجاعت’ دینے کا اعلان

    اسلام آباد پولیس کے شہید عدیل حسین کو ‘تمغہ شجاعت’ دینے کا اعلان

    اسلام آباد:وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد پولیس کے شہید عدیل حسین کو ” تمغہ شجاعت ” دینے کا اعلان کر دیا۔اطلاعات کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عدیل حسین نے وفاقی دارالحکومت کو دہشت گردی کے بڑے حملے سے بچانے کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا، عدیل حسین کی اس عظیم قربانی کا ریاستی سطح پر اعتراف کرتے ہوئے یہ اعزاز عطا کرنے کا فیصلہ ہوا۔

    گوروں کولذیذ ترین کھانوں کا چسکا دینے والےپاکستانی نژاد ’موجد‘ علی احمد وفات پاگئے

    وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید عدیل حسین کی بیوہ کو اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیا جائے گا، شہید عدیل حسین کی بیوہ کو فوری طور پر مکمل شہدا پیکج دے رہے ہیں، شہداء پیکج کے تحت ایک کروڑ 65 لاکھ نقد ادا کرنے کے علاوہ ایک پلاٹ بھی دیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ عدیل حسین شہید کی مدت ملازمت کی تکمیل تک پوری تنخواہ بھی بیوہ کو ادا کی جاتی رہے گی۔

    بینظیربھٹو کی استاد اورکانونٹ جیسز اینڈ میری اسکول کی سابق پرنسپل انتقال کرگئیں

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ شہدا کی عزت وتکریم اور ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے، شہید کے بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات بھی سرکاری طور پر ادا کئے جائیں گے۔

    رانا ثنااللہ نے کہاکہ شہید کے بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات بھی سرکاری طور پر ادا کئے جائیں گےشہدا کی عزت وتکریم اور ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے:

  • 60 سالہ ملزم کی اندھا دھند فائرنگ میں 2 افراد ہلاک اور 4 زخمی

    60 سالہ ملزم کی اندھا دھند فائرنگ میں 2 افراد ہلاک اور 4 زخمی

    پیرس: فرانس کے دارالحکومت میں مسلح شخص نے ایک مصروف شاہراہ پر فائرنگ کرکے 2 افراد کو قتل اور 4 کو زخمی کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے دارالحکومت میں مسلح ملزم نے ایک مصروف مقام پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور خود ایک ہیئر سیلون میں جاکر چھپ گیا۔

    ڈی آئی خان: سیکیورٹی فورسز کا انٹلیجنس بیس آپریشن ، کالعدم تنظیم کے 2دہشت گرد…

    پولیس نے تعاقب کے بعد ملزم کو گرفتار کر کے اسلحہ تحویل میں لے لیا۔ ملزم کی عمر 60 سے 65 سال کے درمیان ہے تاہم قتل کے محرک کا اب تک معلوم نہ چل سکا۔ تفتیشی عمل جاری ہے۔مسلح ملزم کی فائرنگ میں 2 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ 4 شدید زخمی ہوئے جنھیں قریبی اسپتال میں داخل کیا گیا۔ 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    پولینڈ سےبغیراجازت پاکستان منتقل کیےگئےبچے بازیاب

    فائرنگ کے وقت علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور راہگیروں نے دکانوں میں گھس کر شٹر بند کرکے اپنی جانیں بچائیں۔ ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

    بینظیربھٹو کی استاد اورکانونٹ جیسز اینڈ میری اسکول کی سابق پرنسپل انتقال کرگئیں

    ادھر حکام نے گرفتار مشتبہ شخص کے بارے میں مزید کوئی معلومات جاری نہیں کیں، مقامی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور فرانسیسی شہری ہے جس نے ایک سال قبل بھی مہاجرین کے مرکز پر حملہ کیا تھا۔

  • این ڈی یو میں نیشنل سکیورٹی کورس 2023 کی گریجویشن تقریب

    این ڈی یو میں نیشنل سکیورٹی کورس 2023 کی گریجویشن تقریب

    اسلام آباد: این ڈی یو میں نیشنل سکیورٹی کورس 2023 کی گریجویشن تقریب ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی گریجویشن تقریب کے مہمان خصوصی تھی۔

    فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق صدر نے کورس مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور ان میں اسناد تقسیم کیں، ورک شاپ میں سول سروسز اور مسلحہ افواج کے افسروں نے بھی شرکت کی۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق جامع قومی سلامتی پالیسی کی تیاری میں قومی طاقت کے تمام عناصر کی شمولیت اس کورس کا مقصد تھا۔

  • خود کش دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    خود کش دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے نڈر جوان عدیل حسین شہید نے اسلام آباد کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔
    آئی ٹین فور سروس روڈ پر دوران چیکنگ خود کش دھماکے میں عدیل حسین شہید جبکہ چار پولیس جوان زخمی ہوگئے، شہید ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین کی نماز جنازہ پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں ادا کر دی گئی،وقوعہ کی تفتیش جاری ہے جبکہ شہر میں ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے ۔

    اسلام آباد میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا تھا اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور اندرون شہر سخت چیکنگ جاری تھی کہ جمعہ کے روز ایگل سکواڈ اور فالکن نے آئی ٹین فور سروس روڈ پر ایک مشکوک ٹیکسی کو روک کر چیکنگ کی کہ دوران چیکنگ گاڑی میں موجود خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔ دھماکے میں پولیس افسر ہیڈ کنسٹیبل عدیل حسین موقع پر جام شہادت نوش کر گئے جبکہ چار پولیس جوان زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں کا علاج معالجہ جاری ہے ۔ وقوعہ کے فورا بعد سینئر پولیس افسران بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین کی نماز جنازہ پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں ادا کر دی گئی،نماز جنازہ میں سیکرٹری داخلہ ،آئی جی اسلام آباد، سی پی اوآپریشز ، سول انتظامیہ ،رینجرزو دیگر سینئرپولیس افسران سمیت بڑی تعداد میں پولیس ملازمین نے شرکت کی ،شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادر یںچڑھائیں اور شہید کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی،

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیس فورس شہید کی فیملی کے ساتھ کھڑی ہے ان کا ہر طرح کا خیال رکھا جائے گا،شہید کا جسد خاکی ان کے آبائی گاﺅں پاکپتن روانہ کر دیا گیا ہے جہاں ان کی پورے پولیس اعزاز کے ساتھ تدفین ہوگی ۔ شہید نے سوگواران میں بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ۔ ملک و قوم کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے افسران و جوانوں کی ایک طویل فہرست ہے اور شہید عدیل حسین نے اس باب میں اپنا نام لکھوا لیا ۔

    وقوعہ کے بعد آئی جی اسلام آباد میں سکیورٹی ریڈ الرٹ کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا شہید اور زخمی جوانوں کو قوم کا سلام ہے ۔ دہشت گرد کچھ عرصہ سے پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست کر سکیں ۔ یہ دہشت گرد پولیس اور عوام پر حملہ کرنے کی غرض سے گنجان آباد علاقے میں دھماکہ کرنا چاہتا تھا ۔آئی جی اسلام آباد نے شہر میں کسی قسم کا اسلحہ لے کر چلنے پر سختی سے پابندی عائد کر دی ہے جبکہ اپلائیڈ فار اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاﺅن کے احکامات جاری کر دئیے ہیں،اسی طرح شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے کرایہ داروں اور ملازمین کی رجسٹریشن فوری کروائیں ، اس کے علاوہ الیکشن کے حوالے سے کارنر میٹنگز پولیس کی اجاز ت سے ہوں گی اور تمام تر سرگرمیاں چار دیواری کے اندر ہوں گی ، سیاسی کارکنوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ میٹنگز کے لئے سکیورٹی کا مناسب بندوبست کریں ،

    شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ دوران سفرضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں ۔ وقوعہ کے حوالے سے تفتیشی ٹیمیں ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہیں اور جائے وقوعہ سے تمام تر شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا ہر افسر و جوان اپنے شہر اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھماکہ ہوا ہے آئی ٹین فور 31 نمبرگلی کے باہر دھماکہ ہوا ہے، دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے، دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی گئی، علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں، دھماکے کے نیتجے میں گاڑی کو آگ لگ گئی، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے ایک ٹیکسی کو روکا تو گاڑی میں سوار شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     اسلام آباد میں خفیہ اطلاعات پرسی ٹی ڈی اورحساس اداروں نے آپریشن کیا ہ

    اسلام آباد پولیس کے شہید ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین کو خراج عقیدت پیش

    اسلام آباد میں ہونیوالے دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے

    سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ابتدائی تحقیقات مکمل

  • آئی جی سندھ سے کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے 13 رکنی وفد کی ملاقات

    آئی جی سندھ سے کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے 13 رکنی وفد کی ملاقات

    آئی جی سندھ سے کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے 13 رکنی وفد کی ملاقات

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران و ممبران نے ملاقات کی۔

    آئی جی سندھ نے کاشف ہاشمی کو صدر ریحان چشتی کو سیکریٹری جبکہ محمد سلمان کو نائب صدر منتخب ہونے سمیت دیگر تمام منتخب عہدیداران و گورننگ باڈی کے ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے قوی امید ہیکہ کرائم رپورٹرز ایسوسی کے جملہ عہدیداران و ممبران صحافتی برادری کی فلاح و بہبود اورانھیں درپیش مختلف مسائل کے حل کے سلسلے میں نا صرف ہراول دستے کا کام کرینگے بلکہ ہر سطح پر غیرجانبدارانہ صحافت کے فروغ جیسے اقدامات کو بھی یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ حق اور صداقت کا پرچم اٹھائے آپ اپنے صحافتی فرائض کے زریعے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کے اذالوں کو ناصرف یقینی بناتے ہیں بلکہ ان کی آوازوں کو اونچے ایوانوں تک رسائی کا موقع بھی فراہم کرتےہیں۔

    اس موقع پر سی آر او وفد نے آئی جی سندھ کو مختلف علاقوں میں صحافتی فرائض کی انجام دہی میں سیکیورٹی سے متعلق درپیش مسائل و مشکلات اور اہم واقعات کی کوریج کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔جس پر آئی جی سندھ نے اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھانیکی یقین دہانی کرائی۔

    آئی جی سندھ کی جانب سے امن وامان کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر وفد میں شامل صدر نائب صدر سمیت دیگر تمام عہدیداران و ممبران بشمول خزانچی رجب علی،سیکریٹری ریحان چشتی، جوائنٹ سیکریٹری فیاض یونس،انفارمیشن سیکریٹری عاطف رضا،جبکہ گورننگ باڈی کے ممبران میں شامل فیضان جلیس, اسدعلی،اظفرعباسی اور اکرم قریشی نے اطمینان کا اظہار کیا اور سی آر اے کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

  • کراچی کا ساحل سبزکچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا

    کراچی کا ساحل سبزکچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا

     ہاکس بے کا ساحل سبزکچھووں کے لیے موت کا دہانہ بن چکا ہے،ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھووں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔

    مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،تفریحی ہٹس پرہونے والی ڈانس پارٹیز،میوزک شورشرابے،تیزبرقی قمقموں کی چکاچوند،سمندرکنارے فراٹے بھرتی کاروں نےگرین ٹرٹل کے افزائش نسل کے مقام کو تباہی سے دوچارکردیا،نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ساحل پرموجود آوارہ کتے اورچیل کوے بھی کچھووں کے لیے عفریت ثابت ہورہے ہیں۔ ساحلوں کی آلودگی اوردیگرمتفرق خطرات کی وجہ سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے) کراچی کے ساحلوں سے روٹھ چکے ہیں،واحد رہ جانے والی نسل سبزکچھووں کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مادہ کچھوا دماغ میں موجود قدرتی مقناطیسی سیال کی وجہ سے اپنی اوسط عمر70سال میں 10سے15مرتبہ افزائش نسل کے لیے اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہے۔

    کرہ ارض کی خشکی وپانی پرصدیوں سے موجود کچھوا وہ واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ ہاکس بے کے ساحلی مقامات سینڈزپٹ اورپیراڈائزپوائنٹ سمیت تاحدنگاہ پھیلا ساحل آبی حیات کے لیے عفریت بنتا جارہا ہے،سمندرکنارے بڑی تعداد میں ماضی قریب اورماضی بعید میں بننے والے تفریحی ہٹس کی تعمیرنے ان کچھووں سے قدرتی مسکن چھین لیے۔ رات کے وقت ان ہٹس میں ڈانس پارٹیوں،بلند آوازمیں بجنے والامیوزک،غل غپاڑہ،تیزبرقی قمقموں اورچکاچوند کا سبب بننے والی اسپاٹ اور فلڈلائٹس کا بے دریغ استعمال ان مادہ کچھووں کے لیے موت کا دہانہ ثابت ہورہی ہیں۔

    رہی سہی کسران نجی محفلوں کے دوران ڈیزرٹ سفاری ،گھڑسواری جبکہ بیش قیمت فراٹے بھرتی کاروں کا سمندرکنارے آزادنہ اوردھڑلے سے نقل وحرکت ہے،جس نے کچھووں کے اس قدرتی مسکن کو تباہی کےدہانے پرپہنچادیا۔ ان کچھوؤں کی بقا کے لیے کام کرنے والےمقامی رضا کار شاہ میربلوچ کے مطابق نشے میں دھت ان بگڑے رئیس زادوں کو اگرمنع کیا جاتا ہے،تویہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیتے ہیں،اوربسااوقات جارحانہ رویے کے دوران انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے۔ گرین ٹرٹل(سبزکچھوے)کی مادہ کے انڈوں اوربچوں کے لیے ایک بہت بڑاخطرہ ساحل پرمٹرگشت کرنے والے آوارہ کتے اورفضاوں میں منڈلاتے چیل کوے ہیں،جوان کے انڈے بچے کھاجاتےہیں،آج سے دودہائی قبل سمندری کچھوؤں کی سات اقسام سندھ،بلوچستان کے ساحلی مقامات پرپائی جاتی تھیں،تاہم سمندری آلودگی،تجارتی سرگرمیوں اورتفریحی عوامل کی وجہ سے یہ تعداد صرف 2رہ گئی،ان دواقسام میں سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے)بھی ناپید ہوچکے ہیں۔

    سن 2010کے بعد کوئی بھی زندہ زیتونی مادہ کچھواکراچی کے ساحلوں پرنہیں دیکھا گیا،البتہ مردہ حالت میں لہروں کے دوش پربہتے کنارے پرضرور رپورٹ ہوچکے ہیں،ماہرین حیوانات و ماحولیات اس بات پر متفکر ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر اولیو ریڈلی نے سینڈز پٹ سے منہ موڑ لیا۔ تاہم کچھ عوامل پر ماہرین متفق ہیں جن میں ساحل کی گندگی ،بے لگام ساحلی تعمیرات، مچھلی کے شکار کے دوران نقصان دہ جال کا دھڑلے سے استعمال،آوارہ کتوں اور چیل ،کوؤں کی بہتات ہے جس نے اولیو ریڈلی کا سرے سے ہی صفایا کردیا،کیونکہ اولیوریڈلی انتہائی حساس مزاج کاکچھوا ہےاور اپنے لیے ہر خطرے کو بہت جلد بھانپ لیتا ہے۔ سینڈز پٹ پر جابجا موجود کچرے کے ڈھیروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں بڑی مقدار بھی موجود ہیں جوساحل کے کنارے مادہ کچھوے کے افزائش نسل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،کم وبیش ان ہی عوامل کی وجہ سے اب بچ جانے والی واحد نسل گرین ٹرٹل (سبزکچھوے)کی معدومیت کے بھی شدید خطرات پیداہوچکے ہیں۔

    ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھووں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں،اسی وجہ سے مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،ساحل پر بکھرے ماہی گیری جالوں کے ٹکڑے،پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرے کے ڈھیر جسے ساحل پر بنے درجنوں ہٹس پر تفریح کے لیے آنے والے،عارضی قیام کے بعد انتہائی لاپروائی سے ساحل پر پھینک دیتے ہیں،کچھووں کے بچوں کے موت کے شکنجے بن جاتے ہیں اورانڈوں سے نکل کر پانی میں جانے کے چکر میں ان شکنجہ نما جالوں اور کچرے کے ڈھیر میں پھنس کراکثراوقات آوارہ جانوروں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تفریح کے لیے ساحل پر آنے والوں کو،اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،اگر یہاں آنے والے افراد اس بات کو اپنی عادت بنالیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کچرا جاتے وقت ذمے داری سے اپنے ساتھ لے جاکر کسی صحیح جگہ پر ٹھکانے لگا دیں گے تو یقیناً اس عمل کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

    اس عمل سے بیک وقت آبی حیات اور ساحلی مقام کی خوبصورتی کو مزید کسی تباہی وبربادی سے بچایا جاسکتا ہے،جس دوران مادہ کچھوا گڑھا بنارہی ہوتی ہے تو اکثر پلاسٹک بیگ وغیرہ اس قدرتی عمل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور کوشش کے باوجوداکثر وبیشتر وہ اپنے چیمبر نہیں بناپاتی اور واپس پانی میں چلی جاتی ہے،یہ بہت بڑا خطرہ ہے جن کی وجہ سے کچھووں کا قدرتی مسکن شدید متاثر ہورہاہے۔ اگر یہ مادہ کچھوا انڈے دینے میں کامیاب بھی ہوجائے توبھی ایک اور بھیانک خطرہ آوارہ کتوں کی شکل میں موجود ہے جو کچھووں کے افزائش نسل کے اس مقام پر انڈوں اور بچوں کو کھانے کے لیے دن رات گھوم رہے ہوتے ہیں،کیونکہ آوارہ کتوں کو دن بھر تفریح کے لیے آنے والے بچھا کچا کھانا ڈال دیتے ہیں اوردن بھر وافر مقدار میں ملنے والے کھانے کے بعد یہ آوارہ کتے اس بات سے بھی آگاہ ہوچکے ہیں کہ کچھووں کی افزائش کے مقام پربھی ان کے کھانے کے لیے کچھ موجود ہے،ریت میں دبے ان انڈوں کی بو کتے،نیولے اورسانپ باآسانی سونگھ لیتے ہیں،جو ان انڈوں کو کھاجاتے ہیں جبکہ ان انڈوں سے بچے نکلنے کے بعدبھی فضاؤں میں منڈلانے والے چیل اورکووں کی وجہ سے خطرے کی تلواران کےسرپرلٹکتی رہتی ہے۔

    ایک اورہولناک خطرہ کسی عفریت کی طرح سمندرمیں لگے ماہی گیری کے جال ہیں،جن میں بچے پھنس جاتے ہیں جبکہ ان کے مسکن کے آس پاس سے گذرنے والی کشیوں کے انجنوں کے بلیڈ یا توانھیں زخمی کردیتے ہیں یا پھر یہ ان لانچوں کے بلیڈ میں آکرمرجاتے ہیں،ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں تین اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں،جن میں سمندری،میٹھے پانی اورخشکی کے کچھوے شامل ہیں،سمندری کچھووں کی 7جبکہ میٹھے پانی کی 8اقسام پائی جاتی ہیں،اس کے علاوہ خشکی کی 2اقسام بھی موجود ہیں،میٹھے پانی کے کچھووں میں پنجوں اورناخنوں دونوں اقسام کے کچھوے ملتے ہیں،سمندری کچھوے اپنے بازووں کونہیں سمیٹ سکتے البتہ میٹھے پانی کے کچھوے اپنے بازووں کو سمیٹ لیتے ہیں،کچھوا دنیا کا واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ مادہ کچھواانڈے دیکرواپس گہرے پانیوں میں لوٹ جاتی ہے،ماہرین کے مطابق کچھووں میں بھی انسانوں کی طرح جسمانی اپاہج اوراندھے بچے پیداہوتے ہیں،اوردیگرمعذوری کے شکاربچے بھی پیداہوتے ہیں،کچھوے کی اوسط عمر70سال کے لگ بھگ ہوتی ہے،مگریہ 100سال تک بھی جیتے ہیں،ماہرین کے مطابق یہ جاندارڈائنا سار کے دورسے کرہ ارض پرموجود ہیں،مادہ کچھوا ایک وقت میں 120سے170کی تعداد میں انڈے دیتی ہے،ان انڈوں کی ساخت ٹیبل ٹینس کے بڑی گیند جیسی ہوتی ہے۔

    چینی اورکورین کچھوے کے گوشت کے علاوہ اس کے انڈوں کو بھی رغبت سے کھاتے ہیں،مادہ سبز کچھوا کراچی کے سینڈز پٹ،پیراڈائزپوائنٹ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی،گوادر،اورماڑہ پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرنا جزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہے،افزائش نسل کے دوران پہلے مرحلے میں مادہ کچھوا ساحل کی مٹی پرجگہ کے انتخاب کے بعد اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے پورے جسم کو مٹی سے ڈھانک لیتی ہے،پھرکھدائی شروع کردیتی ہے۔ اس دوران مادہ کچھوا تین سے ساڑھے تین فٹ گہراگڑھاکھودتی ہے،عموما انڈے دینے کا یہ عمل رات کے وقت ہوتا ہے،جب ہرجانب گہراسکوت ہوجاتا ہے،انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل 45سے60دن پرمحیط ہوتا ہے جبکہ افزائش نسل کا کل دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک تقریبا 7ماہ تک جاری رہتا ہے،اس دوران اگربارش ہوجائے تویہ انڈے پانی لگنے کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں۔ پاکستان ان 11ممالک میں شامل ہے،جہاں مادہ کچھواافزائش نسل کے لیے اس کے ساحلی مقامات کا رخ کرتی ہے،ان ممالک میں کینیڈا،جرمنی،اٹلی،اسٹریلیا،برطانیہ،سری لنکا،بھارت اوربنگلہ دیش شامل ہے، سائنسی اعتبار سے قدرت نے مادہ کچھوے کے دماغ میں ایک مقناطیسی سیال رکھا ہے،جس کے ذریعے مادہ کچھوا افزائش نسل کے لیے ٹھیک اس مقام تک پہنچ جاتی ہے،جہاں کا وہ خمیر ہوتی ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ عام طورپریہ کچھوےبحراوقیانوس،بحرالکاہل اوربحرہند کے گرم اورمعتدل ساحلوں کے قرب وجوار میں پائے جاتے ہیں،ان کو گرین ٹرٹل ان کی بیرونی رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں پائی جانے والی سبزرنگ کی چربی کی وجہ سے کہا جاتا ہے، سندھ وائلڈ لائف ان کو ٹیگ کرتے ہیں،پاکستان کا کوڈ این ہے،کراچی کے ساحل پرٹیگ کیے جانے والے کچھوے بعدازاں ایران،بھارت اورمسقط کے ساحلوں پربھی پائے گئے ہیں۔ ان مادہ کچھووں کی ترجیح نرم ریت والی مٹی ہوتی ہے،جہاں یہ آسانی سے گڑھا بناکرانڈوں کو ریت میں گہرائی تک دباسکے،سمندری کچھووں کی زندگی حیرت انگیزحقائق سے بھری پڑی ہے،ان کچھووں کے بچے ایک بارانڈے سے نکل کر سمندرمیں چلے جائیں توپھرزندگی بھرلوٹ کرنہیں آتے،ماسوائے مادہ کچھوے کے جو اپنی 70سالہ اوسط عمرمیں 10سے15دفعہ اسی ساحل کا رخ کرتی ہے،جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفرشروع کیا ہوتا ہے،ایک دلچسپ حقیت یہ بھی ہے کہ جس وقت سمندری کچھوے کے بچے انڈوں میں بن رہے ہوتے ہیں،اس دوران اگرریت کا درجہ حرارت 27ڈگری سے زیادہ ہوتو مادہ کچھوے کی تولید ہوتی ہے جبکہ 27ڈگری سے کم پرنرکچھوا وجود میں آتا ہے۔

    محکمہ سندھ وائلڈ لائف نے ان مادہ کچھووں کی افزائش نسل کے لیے ہاکس بے ٹرٹل بیچ پرخصوصی اقدامات کررکھے ہیں،ایک بڑے احاطے میں ان کے انڈوں کے گھونسلوں کو گول آہنی گرل سے محفوظ کیاہے،اس ہیچری میں انڈوں سے بچے نکلنے کے تولید کے مراحل طے ہوتے ہیں،آفیسرسندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کے مطابق کراچی کے ساحل پرمادہ کچھووں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،رواں سال ستمبرسے اب تک 25ہزارانڈوں کوتولیدگی کے عمل کے لیے محفوظ کیا جاچکا ہے،جس سے نکلنے والے ساڑھے دس ہزاربچوں کورواں سال سمندرمیں چھوڑا جاچکا ہے،اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ ابھی فروری کے وسط تک افزائش نسل کا سلسلہ برقراررہے گا،فروری میں رپورٹ ہونے والی مادہ کچھووں کے انڈوں سے بچے اپریل میں نکلے گے،جس کے بعد حتمی اعدادوشمارکی رپورٹ مرتب کیے جاسکے گے،ان کا کہنا ہے کہ ایک قوی امید ہے کہ اس سال 30ہزاربچوں کا ہدف پوراہوجائےگا۔ سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں،سندھ وائلڈ لائف کے رضا کارغروب آفتاب کے بعد ساحل پرگشت شروع کردیتے ہیں،جس وقت مادہ کچھوا انڈے دیکرسمندرمیں لوٹ جاتی ہے،تو گارڈز ان گڑھوں سے انڈے نکال کرسندھ وائلڈ لائف کی ہیچری میں لے جاتے ہیں،جہاں کے محفوظ احاطے میں ان انڈوں کو دوبارہ گہرے گڑھوں میں دبادیا جاتاہے،اورپرگھونسلے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتاہے،40سے60دنوں میں انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں،جنھیں گارڈزسمندری لہروں کے حوالے کردیتے ہیں،جس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم اورقدرت کا قانون شروع ہوجاتا ہے،آئی یوسی این کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں سے بحفاظت نکلنے والے کچھووں کی بقا کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد ہے،یعنی ایک ہزاربچوں میں سے کوئی ایک زندہ بچ پاتا ہے۔

    یہی وہ نقطہ فکرہے،جس کی وجہ سے عالمی ادارے اورسندھ وائلڈ لائف ان بچوں کی بقا کے لیے مسلسل سرگرداں ہیں،ماہرین کے مطابق کچھوے سمندر کی گہری تہہ میں ایک ایسے کردارکے حامل ہیں،جس پرسمندر کی پوری دنیا کی سلامتی کا دارومدارہے،ان کچھووں کی خوراک تہہ آب اگنے والی سمندری گھانس ہے،جس کو یہ اپنی خوراک کے ذریعے ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتے،اگرکچھوے اس گھانس کو کھانا چھوڑدیں تواس گھانس کی بلندی کی وجہ سے سمندرمیں شدید گھٹن پیداہوسکتی ہے۔

  • سٹی پولیس کی بڑی کاروائی ،5جوا باز لاکھوں روپے سمیت گرفتار

    سٹی پولیس کی بڑی کاروائی ،5جوا باز لاکھوں روپے سمیت گرفتار

    سٹی پولیس کی بڑی کاروائی ،5جوا باز لاکھوں روپے سمیت گرفتار

    سٹی پولیس نے ابتدائی اطلاع ملنے پر قماربازی کی محفل چھاپہ کے دوران انٹرینشنل سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے جواء کھیلنے والے 5ملزمان گرفتار کئے، ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد کو علاقہ تھانہ سٹی کی حدود سٹیشن کورونہ میں انٹرنیشنل سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے جواء کھیلنے والے اڈے کی خفیہ اطلاع ملی۔اطلاع کو مصدقہ جان کر ڈی ایس پی سٹی احسان شاہ کی قیادت میں ایس ایچ او سٹی عالمگیر خان، ایڈیشنل ایس ایچ او جاوید خان، اے ایس آئی فضل سبخان خان اور دیگر پولیس نفری پر مشتمل ٹیم نے چھاپہ کے دوران جواء میں سرگرم 5 جواء باز محمد علی ولد غلام علی سکنہ سعید خان باغ، کامران ولد فضل امین سکنہ حسین آباد پشاور،مزب اللہ ولد ذاکراللہ سکنہ سٹیشن کورونہ،روح اللہ ولد سید محمد سکنہ شولگرہ خیالی اور عمیر ولد زاھدالرحمان سکنہ تحت بھائی کو موقع پر گرفتار کیا

    گرفتار ملزمان کے قبضہ سے داو پر لگی رقم 7لاکھ اورپانچ ہزار روپے جبکہ 5موبائل فون اور1پستول بلا لائسنس بھی برآمد کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی گئی ہے،

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

  • کرپٹو کرنسی اسکینڈل: ناقابل ضمانت وارنٹ جاری:وقار ذکاء نے تصدیق کردی

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: ناقابل ضمانت وارنٹ جاری:وقار ذکاء نے تصدیق کردی

    کراچی: کرپٹو کرنسی اسکینڈل نے پاکستانی شخصیات کو بھی اپنی لپیٹ میں‌لےلیا ہے اور اس جرم کی پاداش میں وقار ذکاء کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کی اطلاعات گردش کررہی تھیں، ابتدائی طور پر وقار ذکاء کے دوستوں کی طرف سے یہ بتایا جارہاتھاکہ ایسی کوئی بات نہیں ، تاہم اب وقار ذکاء کی طرف سے اس وارنٹ کی تصدیق سامنے آئی ہے ،

    یاد رہےکہ پچھلے چند گھنٹوں سے یہ خبر وائرل ہورہی تھی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے کرپٹو کرنسی اسکینڈل کیس میں سوشل میڈیا سیلیبریٹی وقار ذکاء کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

    بتایا جارہاہے کہ کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو وقار ذکا کے خلاف 86 ملین روپے کی کرپٹو کرنسی اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔ایف آئی اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ وقار ذکاء کے خلاف فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ پر کارروائی کی گئی، گزشتہ 3 سال کے دوران وقار ذکاء کے 2 اکاؤنٹس میں 86.1 اور 87.1 ملین کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں۔

    ایف آئی اے کے بیان پر عدالت نے وقار ذکا کے ناقابل وارنٹ گرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے سماعت 5 جنوری تک ملتوی کردی۔ ایف آئی اے کے مطابق 29 جنوری 2022ء کو وقار ذکاء کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق 10 کروڑ ڈالر (تقریباً اٹھارہ ارب روپے) کے کرپٹوکرنسی سکینڈل میں ہزاروں پاکستانی شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایف آئی اے مذکورہ سکینڈل کی چھان بین میں مصروف ہے جب کہ سفارش کی گئی ہے کہ ملک میں کرپٹو کرنسی پر پابندی لگا دی جائے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو کرپٹو کرنسی پر پابندی لگانے کی سفارش کی۔ بنک کا استدلال ہے کہ اس کی اجازت دینے سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوگا۔سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کی سفارش کے بعد سٹیٹ بنک کی جانب سے مذکورہ سفارشات سامنے آئی ہیں۔ اس کمیٹی نے بھی کرپٹو کرنسی پر’مکمل پابندی‘لگانے پر زور دیا۔

    یہ سفارشات اس وقت کی گئی ہیں جب 2019 میں دائر کی جانے والی ایک آئینی درخواست کی سماعت پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 2018 سے دی گئی مرکزی بنک کی ہدایت کو واپس لے لیا جائے جس میں بنکوں اور ادائیگی کے نظام کے آپریٹرز کو ورچوئل کرنسیز میں پروسیسنگ اور سرمایہ کاری سے روکا گیا ہے۔ڈیجیٹل کرنسی کی تجارت کی قانونی حیثیت سے متعلق ابہام نے پاکستانی شہریوں کے لیے اس سکینڈل کا شکار ہونا آسان بنا دیا ہے۔

    تفتیش کاروں کے اندازے کے مطابق تقریباً 37000 افراد جن میں سے زیادہ ترکا تعلق پنجاب کے شہر فیصل آباد کے متوسط گھرانوں سے ہے اس سکیم میں رقم لگانے کے بعد دھوکہ دہی کا شکار ہوئے جس کے تحت رقم میں اضافے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     اسلام آباد میں خفیہ اطلاعات پرسی ٹی ڈی اورحساس اداروں نے آپریشن کیا ہ

    اسلام آباد پولیس کے شہید ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین کو خراج عقیدت پیش

    اسلام آباد میں ہونیوالے دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے

  • الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو پولنگ کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر ہی چھوڑ دیا، اور الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو سن کر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام فریقین کو حق سماعت دے، 27 دسمبر کو الیکشن کمیشن یو سیز بڑھانے پر وفاقی حکومت کا مؤقف سنے، الیکشن کمیشن 28 دسمبر کو ووٹرز فہرستوں پر اعتراضات بھی سنے۔

    جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں یونین کونسلز کی تعداد اضافہ کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال کیا تھا کہ جون میں یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے بھی کر دیا تھا تو الیکشن کمیشن اب یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں مان رہا؟ جس پر ڈی جی لیگل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ دراصل اب الیکشن کا شیڈول جاری ہو چکا ہے.

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کا شیڈول تو تب بھی جاری ہو چکا تھا. چیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے لکھا تھا کہ الیکشن کا شیڈول تبدیل کیا جائے.چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ ایک معاملہ ووٹر لسٹوں میں درستگی کا بھی ہے.جب یونین کونسلز کی تعداد 101 ہوئی تو کیا ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کا پراسیس کیا گیا؟ جس پر ڈی گی الیکشن کمیشن نےعدالت کو جواب دیاکہ پراسس کیا گیا تھا.

    اس پر چیف جستس نے سوال کیا کہ اگر پراسیس کیا گیا تھا تو اس سے متعلق کوئی ڈاکومنٹ ہے تو وہ بھی دکھائیں. جواب میں الیکشن کمیشن نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا. چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید استفسار کیا کہ کیا ووٹرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پراسیس کے دوران اپنا ووٹ درست نہیں کرایا؟ اور کہا کہ کیا آپ ووٹوں کی درستگی کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس گئے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ روات کے ووٹرز گولڑہ میں اور گولڑہ کے ووٹرز روات میں شامل ہیں، ووٹرز الیکشن کمیشن کے پاس گئے تو انہوں نے کہا الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

    جبکہ ڈی جی ای سی پی نے کہا یہ ووٹوں کی درستگی کے لیے پراسیس کے دوران نہیں آئے اور جب آئے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا جو بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو وہ بلدیاتی الیکشن میں دلچسپی نہیں لیتی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا اگر 2020 میں ایک مدت پوری ہوئی تھی تو تبھی الیکشن ہو جاتے، کوئی اے سیاسی جماعت ہو یا بی وہ دلچسپی نہیں لیتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں جب تک دہلی کی طرز کی چھوٹی پارلیمنٹ نہیں بنتی مسائل حل نہیں ہونگے جبکہ چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا حتمی موقف کیا ہے بتا دیں جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا ہمارا موقف ہے کہ بلدیاتی الیکشن وقت پر ہی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ عدالت الیکشن کمیشن کو کوئی ڈائریکشن جاری نہیں کریگی۔

    واضح‌رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن رکوانے کی درخوست پر الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو ایک دن کے لیے نوٹس جاری کیاتھا. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی تھی. مسلم لیگ ن کے چیئرمین کے امیدوار شہزاد اورنگزیب کی جانب سے وکیل عادل قاضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی بات نہیں مانتے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دن 125 یونین کونسلز موجود ہیں، 101 پر الیکشن کیسے کرائیں گے؟ انتخابی شیڈول کے بعد یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی اسمبلی میں موجود ہے۔ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے سے متعلق وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا. ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا عدالت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دی تھی.

  • شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر

    شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر

    ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر ہوگئے۔

    ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر ہوگئے۔ نشے کے عادی باپ کے ظلم سے تنگ اکر شجاع اباد کے تین کم سن بھائی بہن کراچی پہنچے تھے. تینوں کم عمر بہن بھائی ایک ہفتے سے کراچی اتحاد ٹاون کے ایک خدا ترس شہری شاہد اقبال کے گھررہائش پزیر ہیں.

    شاہد اقبال کا کہنا تھا کہ 12 دسمبر کو رات گئے بس کے اخری اسٹاپ پر بچے بے یارومددگار ملے تھے . خالص خدا کی رضا کے لئے بچوں کو اپنے گھر لایا تھا اور پولیس کو اگاہ کیا تھا تنیوں بہن اور بھائیوں کی والدین تک پہنچانے کیلئے شہری شاہد اقبال نے پولیس سے رجوع کیا تھا. جس کے بعد ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن سب انسپکٹر غلام رسول نے سی پی او ملتان سے رابطہ کیا اور اتحاد ٹاؤن پولیس نے متعلقہ تھانہ سٹی شجاع آباد سے رابطہ کرکے بچوں کے والدین کو ڈھونڈ نکالا بچوں ی اطلاع ملتے ہی بچوں کی والدہ شجاع آباد سے تھانہ اتحاد ٹاؤن پہنچ گئیں .

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پچوں کو والدہ کے حوالے کردیا گیا ہے صبح بس یا ٹرین کے ذریعے روانہ کیا جائے گا بچوں اور والدہ کو شجاع آباد پہنچانے کے انتظامات ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن نے ذاتی خرچ پر کئے پولیس حکام کا مزید کہنا اہے کہ بچوں کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے مکمل کئے جائیں گے
    بچوں میں 12 سالہ شاہ نور، 10 سالہ محمد اذان اور 7 سالہ فیضان شامل ہیں.
    بچوں کا کہنا تھا کہ کراچی میں اپنے ماموں کے گھر جانا چاہتے تھے لیکن معلوم نہیں وہ کہاں رہتے ہیں. کراچی میں شاہد اقبال کے گھر شفقت اور محبت ملی ہے واپس والدین کے پاس نہیں جانا چاہتے انکل نے کراچی میں ہمیں بالکل اپنے بچوں کی طرح رکھا کھانا ملتا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    جبکہ بچوں کی والدہ نے شاہد اور پولیس افسر غلام رسول کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے میرے بچے ملا دیئے.
    غلام رسول صاحب کی مشکور ہوں جن کی کوشش سے بچے ملے پولیس نے بچے گھر تک پہنچانے کیلئے انتظامات کئے ہیں.