Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • 2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

    2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں کے نتیجے میں 2 کروڑ متاثرہ افراد آج بھی انسانی امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔

    شیری رحمٰن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد میں سے صرف 30 فیصد امداد پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب کسی ملک کے لوگ بحالی اور کثیر الجہتی امدد پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہذا بحالی اور تباہی کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 16 ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی ضرورت ہے، اس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کیلئے امداد شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ 8 کروڑ 40 ہزار سے 9 کروڑ 10 ہزار لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔

    شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ موسم سرم میں سیلاب زدگان کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 3 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں درمیانے درجے کے تین یورپی ممالک کی آبادی کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’انسانی بحالی کے کئی ماہ بعد بھی دسمبر 2022 سے مارچ 2023 تک 14 لاکھ 6 ہزار لوگوں کو فوری خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سندھ میں 39 لاکھ اور بلوچستان میں 16 لاکھ لوگوں کو خوراک کی شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے، جن میں 55 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف میسر نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں، 2 کروڑ سیلاب زدگان میں سے 96 لاکھ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’موسم سرما میں کیمپ میں بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔

    شیری رحمٰن نے تمام مخیر حضرات اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بوجھ کم کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 70 لاکھ بچوں کو فوری غذائیت اور خوراک کے شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں جو پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لیے خوفناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سیلاب سے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث 2 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جارہے جن میں لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے، جس کے نتیجے ان بچوں کا مشتقبل خطرے میں ہے۔

  • لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب نے اعتماد کا جو ووٹ مانگا ہے اسے غیر قانونی سمجھتا ہوں، پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہم نے ختم نہیں بلکہ ملتوی کیا ہے، پنجاب اسمبلی کے جاری اجلاس میں گورنر پنجاب اعتماد کا ووٹ نہیں لےسکتے، ہوسکتا ہے آج کا اجلاس ہم ملتوی کر دیں، گورنر نے پہلے بھی اجلاس ایوان اقبال میں بلایا تھا،اگر شوق ہے تو گورنر پنجاب اب بھی اجلاس بلا لیں،وزیراعلیٰ وہاں نہیں جائیں گے،

    لاہور ہائیکورٹ نے لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت دیدی،عدالت نے کہا کہ ممبران اسمبلی اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں ممبران ضرورت پڑنے پر ووٹ بھی کاسٹ کر سکتے ہیں جسٹس شاہد بلال نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حکم نامہ جاری کر دیا ہے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے لیگی اراکین اسمبلی پر اجلاس میں شرکت پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے، اس لیے اراکین پنجاب اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سمجھتے ہیں سپیکر ان ارکان کو اسمبلی سیشن میں شرکت کی اجازت دیں گے ؟،جس پر وکیل نے کہا کہ سپیکر رولز کے مطابق اسمبلی کو چلاتے ہیں جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر میں فیصلہ سناتے ہیں، اس نقطے پرفیصلہ محفوظ کر رہے کہ ارکان کل اسمبلی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں یا نہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کس کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وزیراعلٰٰی ،سپیکر اورڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہےعدالت نے محفوظ فصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اراکین اسمبلی کل کے اجلاس میں شرکت بھی کر سکتے ہیں اور ضرورٹ پڑنے پر ووٹ بھی کاسٹ کر سکتے ہیں

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی کہہ رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں،عمران خان جو تنقید کررہے ہیں اس کا میرٹ دیکھے،ہم سیاسی بات کررہے تھے اس کا کسی کی ذات سے تعلق نہیں تھا،

    دوسری جانب ملکی سیاسی صورت حال اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ،حکمران اتحاد کے بڑوں کے آپس میں رابطے ہوئے ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، گفتگو میں پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر مشاورت کی گئی،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    واضح رہے کہ عمران خان نے پرویز الہیٰ کے ساتھ ملکر پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس بیان کے بعد سابق صدر آصف زرداری بھی لاہور میں‌ ملاقاتوں میں متحرک ہیں، عمران خان نے جمعہ کا وقت دیا تھا، پی ڈی ایم کی کوشش ہے کہ اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں، آصف زرداری نے گزشتہ روز چودھری شجاعت،اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کی تھیں، آج بھی لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے،

  • پشاور:موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے حساس ادارے کا سب انسپکٹر جاں بحق

    پشاور:موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے حساس ادارے کا سب انسپکٹر جاں بحق

    پشاور میں موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے حساس ادارے کا سب انسپکٹر جاں بحق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ورسک روڈ پر متھرا کے علاقے میں پیش آیا جہاں نا معلوم موٹرسائیکل سواروں نے حساس ادارے کے سب انسپکٹر شوکت پر فائرنگ کردی۔

    شیخوپورہ:دوران ڈکیتی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک کانسٹیبل شدید زخمی

    پولیس کا کہنا ہےکہ فائرنگ کے نتیجے میں سب انسپکٹر شوکت جاں بحق ہوگئے جبکہ موٹرسائیکل سوار حملہ آور فرار ہوگئے مقتول کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتل منتقل کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    دوسری جانب شیخوپورہ قصبہ چار چک رسالہ کے نواحی گاؤں چک نمبر5 یوسی سی کے رہائشی PC فاروق آباد کے دو پولیس کانسٹیبلز رانا کرم نواز اور محمد قاسم رات 9 بجے شیخوپورہ سے چار چک رسالہ بسواری موٹرسائیکل واپس اپنے گھروں کو جارہے تھے کہ سیم پل جیتا گاؤں کے قریب پہنچے تو یکدم چار مسلح ڈاکوؤں نے روک لیا اور واردات کرنے لگے اسی دوران بہادری کا مظاہرہ کرتے کانسٹیبل محمد قاسم نے ایک ڈاکو کو پکڑ لیا مگر دوسرے ڈاکوؤں نے محمد قاسم کے پیٹ میں فائر مار کر شدید زخمی کردیا-

    شیخوپورہ:دیرینہ دشمنی، دو حقیقی بھائی قتل،ملزمان موقع واردات سے فرار

    دونوں پولیس ملازمین کرم نواز اور محمد قاسم نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واردات کو ناکام بنادیا اور ملزمان موقع واردات سے فرار ہوگئے کانسٹیبل محمد قاسم کو شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال شیخوپورہ داخل کردیا گیا مگر شدید زخمی ہونے کی وجہ سے پھر لاہور ہسپتال ریفر کردیا گیا ہے وقوعہ کی ایف آئی آر تھانہ بھکھی میں درج ہوگئی ہے اور پولیس ملزمان کی تلاش میں مصروف تفتیش ہے ۔

    پسند کی شادی جرم بن گیا، گولیاں چل گئیں، دولہا کی موت، دلہن زخمی

  • یونیورسٹی کی زمین پر بہارہ کہو بائی پاس کی تعمیر،سماعت ملتوی

    یونیورسٹی کی زمین پر بہارہ کہو بائی پاس کی تعمیر،سماعت ملتوی

    قائداعظم یونیورسٹی کی زمین پر بہارہ کہو بائی پاس کی تعمیر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    یونیورسٹی پروفیسرز کی سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ سنگل بنچ کا تفصیلی فیصلہ آجائے پھر کیس سنیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی چھٹیوں کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کہا کہ سنگل بنچ کا مختصر فیصلہ آیا، تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے، ہم کیسے فیصلہ کریں کہ کن وجوہات کی بنا پر سنگل بنچ کا فیصلہ درست نہیں؟ تفصیلی فیصلے میں وجوہات کا ذکر آجائے پھر یہ کیس سن لیں گے، وکیل کاشف ملک نے کہا کہ عدالتی حکم امتناع ختم ہونے کے بعد منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہو چکا ہے، عدالت نے یونیورسٹی پروفیسرز کے وکیل کاشف ملک سے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثرہ فریق ہیں؟

    وکیل نے کہا کہ ہم فیکلٹی ممبرز ہیں مفاد عامہ میں یہ معاملہ عدالت کے سامنے لائے ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ یونیورسٹی کے اندر کیا کچھ بن رہا ہے؟ کیا سڑک کوئی بلڈنگ توڑ کر بنا رہے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ انہوں نے دیوار توڑ کر کام شروع کیا سینڈیکیٹ ممبرز کی اجازت بھی نہیں تھی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی تو متاثرہ فریق ہو سکتی ہے پروفیسرز کیسے متاثرہ فریق ہیں؟ وکیل نے کہا کہ یونیورسٹی نے بھی پٹیشن فائل کی تھی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاملہ ابھی ہمارے سامنے نہیں، ہو سکتا ہے یونیورسٹی سنگل بنچ کے فیصلے سے مطمئن ہو، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا انجینئرنگ بلاک میں سے کوئی سڑک گزر رہی ہے؟ وجوہات آجانے دیں پھر کیس سنیں گے، عدالت نے کیس کی سماعت چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بہارہ کہو بائی پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس منصوبے سے وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کا رش ختم ہوگا 5 اعشایہ 4 کلومیٹر طویل منصوبے کو 4 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کا ٹھیکہ شفاف بولی کے ذریعے دیا گیا اور کمپنی کو منصوبے کی کوالٹی انتہائی معیاری رکھنے کا کہا گیا ہے منصوبہ تیار کرنے والی کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس منصوبے کو 3 ماہ میں مکمل کرے ایسے منصوبے 3 ماہ کے بجائے ڈیڑھ ماہ میں بھی مکمل ہو جایا کرتے ہیں

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہو گئی، زرداری، شہباز اور شجاعت کی دوڑیں

    عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہو گئی، زرداری، شہباز اور شجاعت کی دوڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی، آڈیو میں کیا بات چیت ہو رہی ، کم از کم میں نہیں بتا سکتا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ اہم ڈیولپمنٹس ہوئی ہیں،انکے متعلق ہم اندازے لگا سکتے ہیں لیکن حتمی طور پر نہین بتا سکتے، جس بات کا حتمی طور پر بتا سکتا ہوں وہ عمران خان کی ایک اور آڈیو لیک ہے، وہ ایسی نہیں ہے کہ میں ذکر کر سکوں کہ اس میں کیا بات چیت ہو رہی ہے، اس پر افسوس ہوا ہے،پتہ نہیں میرے تک پہنچی ہے تو اور لوگوں تک بھی پہنچی ہو گی، لیکن بحرحال وہ ایسی نہیں کہ اس کے متعلق بات کروں،اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچا کر رہے،بس یہی دعا ہے، ہم سب کمزور لوگ ہیں، گنہگار ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے، اس سے زیادہ میں اس آڈیو کا ذکر نہیں کرنا چاہتا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں بڑی ہو رہی ہیں، شہباز شریف کی چودھری شجاعت سے پھر زرداری کی وزیراعظم سے ہوئی، اب چوھدری شجاعت کا بیان آیا کہ پنجاب حکومت نہیں جا رہی، پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد آ چکی ہے، چودھری شجاعت سے رابطے ہو رہے ہیں‌،سب کی نظریں اس وقت جہانگیر ترین پر بھی ہیں، چودھری شجاعت کے پاس دو آپشن ہیں، پرویز الہیٰ کو منائیں اور اگر وہ نہین مانتے تو پھر بطور صدر اپنا حق استعمال کریں،وزیراعظم کی زیر صدارت لاہور میں اجلاس ہوا،اس میں بھی اہم فیصلے ہوئے، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال سمیت دیگر لوگ اجلاس میں موجود تھے، مختلف تجاویز پر غور ہوا، مشاورت کے بعد ہدایات دی گئیں،دوسری جانب تحریک انصاف نے ایک کمیٹی بنائی ہے تین رکنی جو ق لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے حوالہ سے بات کرے گی،ق لیگ پی ٹی آئی سے یقینی طور پر جیتنے والی سیٹیں لینا چاہتی ہے،آصف زرداری نے پرویز الہیٰ کے لئے نیا آپشن رکھا ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں، اگر وہ استعفیٰ دیتے ہین توعمران خان کو انکی جانب سے دی گئی سمری غیر موثر ہو جائے گی،اب ایسے لگتا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت سے بھی آگے جا سکتے ہیں، عارف علوی نے تین دن لاہور میں گزارے، پھر اسحاق ڈار کی عارف علوی سے ملاقات ہوئی، ن کے قریبی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف 21 جنوری تک اسلام آباد پہنچیں گے ،ابھی اس کی کنفرمیشن نہیں ہوئی،لیکن کچھ ٹویٹس ہوئی ہیں،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • غیرت کے نام پر ماموں نے 27 سالہ بھانجی کو گردن میں گولیاں مار کر کیا قتل

    غیرت کے نام پر ماموں نے 27 سالہ بھانجی کو گردن میں گولیاں مار کر کیا قتل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماموں نے 27 سالہ بھانجی کو قتل کر دیا، گردن میں گولیاں ماری گئیں، ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے قینچی بازار میں 27 سالہ لڑکی کو قتل کیا، پولیس کے مطابق 27 سالہ لڑکی کو ماموں نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔ ماموں نے ساتھی سے مل کر بھانجی کو گردن میں گولیاں مار کر قتل کیا۔ قتل کے بعد اہلخانہ نے واقعہ کو خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی،بعدازاں تفتیش میں اہلخانہ نے خود ہی قتل کے بارے میں حقائق بتا دئیے واقعہ کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی سجاول اقبال کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ملزم کے ساتھی کو گرفتار کر لیاگیا، مرکزی ملزم فرار ہو گیا

    سی سی پی او لاہور نے غیرت کے نام پر لڑکی کے قتل کی رپورٹ طلب کر لی اور حکم دیا کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، ایسے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

    خواتین اور بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی،گھریلو تشدد اور انسانی سوداگری کے واقعات میں اضافہ ہوا،رپورٹ کے مطابق خواتین و بچوں پرتشدد،اغواء اور بچوں کی سوداگری کے سب سے زیادہ کیسیزکراچی سے رپورٹ ہوئے جنسی زیادتی اور گھریلو تشدد میں سب سے زیادہ کیسیز حیدرآباد میں رپورٹ ہوئے غیرت کے نام پرقتل کے سب سے زیادہ کیسیز لاڑکانہ میں رپورٹ ہوئے

    کوثر عباس ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ سندھ بھرمیں 10 ماہ کے دوران 1865 خواتین کواغواء کیا گیا ،142 خواتین کوجنسی تشدد کانشانہ بنایا گیا،گھریلو تشدد کے 139 کیسیز رپورٹ کئے گئے سندھ میں 10ماہ کے دوران 114 خواتین کو قتل کیا گیا 10ماہ کے دوران 71 بچوں سے زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئیے ڈیٹاجمع کرنے کا مقصد خواتین و بچوں کیخلاف جرائم کے ہارٹ اسپارٹ کی نشاندہی کرنا ہے ڈیٹا سے پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز اسکو استعمال کرسکیں حکومت کو چاہیئے اس حوالے سے آگاہی اور اقدامات کرے

  • پی ٹی آئی کی خواتین ایم پیز کا مولانا فضل الرحمان کیخلاف کے پی کمیشن برائے وقار نسواں کو خط

    پی ٹی آئی کی خواتین ایم پیز کا مولانا فضل الرحمان کیخلاف کے پی کمیشن برائے وقار نسواں کو خط

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ایم پی ایز نے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کےخلاف خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : خط پر چئیرپرسن پارلیمنٹری ویمن کاکس و ریجنل صدر برائے پی ٹی آئی خواتین ونگ ملاکنڈ ڈاکٹر سمیرا شمس، ایم پی اے مدیحہ نثار، عائشہ بانو، عائشہ نعیم، ساجدہ حنیف، آسیہ صالح خٹک و دیگر کے دستخط ہیں۔

    ٹیم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا، بابر اعظم

    خط میں خواتین ایم پی ایز نے موقف اپنایا ہے کہ صدر پی ڈی ایم نے پچھلے کئی مہینوں سے تحریک انصاف خواتین کیلئے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور یہ کہ وقارنسواں کمیشن خواتین کیخلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کے معاملے کا نوٹس لے اور وقار نسواں کمیشن یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے ساتھ باقاعدہ طور پر اُٹھائے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم صدر نے پریس کانفرنسز اور ریلیوں کے دوران خواتین کو بدتمیزی کا نشانہ بنایا ، جے یو آئی کا خواتین ونگ فعال نہیں، اس لیے ان کو خواتین کی تمیز نہیں ہے۔

    گورنر پنجاب کیجانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت، وزیراعلی پنجاب نےقانونی ماہرین کا اجلاس طلب کرلیا

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ اقتدار کی لالچ میں ایسے لیڈرز خواتین کی اسلامی و اخلاقی اقدار کو بھول جاتے ہیں، ایسے ماحول میں خواتین کے جمہوری عمل کا حصہ بننے میں دشواریاں پیدا ہورہی ہیں، خواتین کی کردار کشی اور ان پر کیچڑ اچھالنا ہرصورت قابل قبول نہیں ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ وقارنسواں کمیشن خواتین کےخلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کے ساتھ اٹھائیں۔

    رات گئے سے بجلی غائب,تاریں کٹنے کا خدشہ

  • 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ ؛ 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت

    24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ ؛ 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں.

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔منگل کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس طرح اس مدت میں مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.20 فیصد رہی ہے۔ مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 25 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے مختلف شہروں میں کیے گئے کورونا ٹیسٹ اور مثبت شرح کے حوالے سے پشاور میں 212 ٹیسٹوں میں سے ایک مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے. جبکہ وہاں پر شرح 0.47 فیصد رہی،اسلام آباد میں 323 ٹیسٹوں میں سے ایک مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے. اور شرح 0.31 فیصد رہی،اسی طرح سے لاہور میں 789 ٹیسٹ کیے گئےہیں جن میں سے 2 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں پر شرح 0.25 فیصد رہی ہے.

  • ٹیم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا، بابر اعظم

    ٹیم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا، بابر اعظم

    کراچی: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کے کہ ٹیم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا-

    باغی ٹی وی : انگلینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان بابراعظم نے کہا کہ بطور کپتان یہ بہت مایوس ہوں، فاسٹ بالرز کی فٹنس نہ ہونے کی وجہ سے سیریز ہارے۔ میں اپنی ٹیم کا دفاع کروں گا اور سیریز میں شکست کی ذمہ داری بطور کپتان لوں گا۔

    بابراعظم نے کہا کہ پہلی اننگز میں جلد وکٹیں گرنے سے میچ ہاتھ سے نکل گیا، ہمارے بولرز نے اچھی بولنگ کی اور فائٹ بیک کیا، اگلے میچز میں غلطیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے –

    انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی، حسن علی، حارث رؤف اور نسیم شاہ انجری کا شکار تھے جس کی قیمت ہمیں سیریز میں 0-3 سے شکست سے بھگتنا پڑی، ٹیسٹ میچز میں تجربے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ نئے کھلاڑیوں کو وقت دینا پڑتا ہے ہمارے پاس صرف اظہر علی تجربہ کار کھلاڑی کے طور پر ٹیم میں شامل تھے، نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا آگے بھی مزید مواقع دینے کی کوشش کریں گے۔

    بابراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے 2 میچز ہمارے ہاتھ میں تھے، جیت جاتےتو صورتحال کچھ اور ہوتی، انگلینڈ کےخلاف سیریزمیں کافی مشکلات ہوئیں، اب پلاننگ کریں گے کہ اپنے بہترین فاسٹ بولنگ یونٹ کو آزمائیں، ابراراحمد نے انگلینڈ کے لیے مشکلات پیدا کیں ، ٹیسٹ میچز میں ایسے بولرچاہیے ہوتے ہیں جو وکٹیں لیں، انگلش بیٹرز ابراراحمد کو کھل کرکھیل نہیں سکے۔

    حارث روؤف کا اپنی کلاس فیلو سے شادی کا فیصلہ،نکاح کی تاریخ کی بھی سامنے آ گئی


    سرفراز اور فواد عالم کو نہ کھلانے کے سوال پر قومی کپتان نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز اہم تھی اس لیے رضوان جو کہ مسلسل کھیلتے ہوئے آرہے تھے اس لیے ہمارا پلان تھا کہ جو فارم میں ہیں اور کھیلتے ہوئے آرہے ہیں انہیں کھلایا جائے اب بیٹھیں گے اور ڈسکشن کریں گے اور جو بہتر ہوگا وہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ فوادعالم فارم میں نہیں تھے ان کی جگہ سعودشکیل آئے انہوں نے پرفارم کیا، ہماری نئی ٹیم ہے جتنےمواقع دیں گے تو نتیجہ آئے گا لیکن کسی کے لیے دروازے بند نہیں کیے، پلاننگ ہوتی ہے اس پر عمل کررہے ہیں ، ٹیم کا مائنڈسیٹ تبدیل کرنےکی کوشش کررہےہیں ،وقت لگے گا،اگر اچھے نتائج نہیں آئیں گے تو ہر طرف سے باتیں ہوں گی۔

    بگ بیش لیگ میں شاداب خان کا حیران کن کیچ،ویڈیو وائرل

    بابراعظم نےکہا کہ کسی بھی سینئر کھلاڑی کے لیے ٹیم واپسی کا دروازہ بند نہیں، ہم منصوبہ بندی کریں گےاوردیکھیں گےکہ کن کھلاڑیوں کو منتخب کرنا ہے۔ ہمیں ملتان اور راولپنڈی ٹیسٹ میچ جیتنا چاہیے تھا لیکن بدقمستی سے ہار گئے ہمیں اپنے تیز گیند بازوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، اگلے سال 2023 کا ورلڈکپ ہے۔

    انہوں نے صحافیوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم دفاعی انداز میں کھیلتے ہیں تو کہا جاتا ہے، ہم دوسرے طریقے سے کیوں نہیں کھیلتے؟ آپ سب کو خوش نہیں کرسکتے۔