Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • شمالی وزیرستان،خود کش حملے میں پاک فوج کا جوان، دو شہری شہید

    شمالی وزیرستان،خود کش حملے میں پاک فوج کا جوان، دو شہری شہید

    شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں خودکش دھماکا ہوا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق خود کش دھماکے میں 33 سال کے نائیک عابد شہید ہوگئے، شہید نائیک عابد کا تعلق مانسہرہ سے تھا ،آئی ایس پی آر کے مطابق خودکش حملے میں 2 شہری بھی شہید ہوئے جب کہ ایک زخمی ہوا دھماکے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، علاقے کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں ہونے والے خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں پر خودکش حملے کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے ،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے شہید نائیک عابد اور شہری کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد دشمنوں کے دست و بازو ہیں، جو پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنا چاہتے ہیں پاکستانی عوام کے خون کی ہر بوند کا حساب لیں گے، مجرموں کو عبرت کا نشان بنائیں گے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں

  • دنیا میں کہیں بھی جانے سے پہلے وزیرخارجہ کو افغانستان جانا چاہیے تھا،عمران خان

    دنیا میں کہیں بھی جانے سے پہلے وزیرخارجہ کو افغانستان جانا چاہیے تھا،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت تشویشناک ہیں،

    عمران خان سے لاہور میں انکی رہائشگاہ پر بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے ملاقات کی، اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان صورتحال پرقومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلوایا اور صورتحال کا جائزہ لیا،پہلے مالاکنڈ پھر وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں مسائل نے سراٹھانا شروع کیا، وزیرخارجہ بیرون ممالک کے دورے کررہے ہیں دنیا میں کہیں بھی جانے سے پہلے وزیرخارجہ کو افغانستان جانا چاہیے تھا،ہم مغربی سرحد پر ایک اور تنازعےکے متحمل نہیں ہوسکتے،سیکیورٹی کے حالات بے قابو ہونے سے پہلے اقدامات اٹھائے جائیں،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز الٰہی سے تمام معاملات طے پا چکے ہیں وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے مجھے دے دی ہے، ق لیگ سے مستقبل میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی بات ہوئی ہے، میری حکومت کے خاتمے میں امریکا کتنا ملوث تھا، اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ میں سائفر کی انکوائری چاہتا تھا جو کہ نہیں ہوئی.

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جانے سے 3ماہ پہلے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے تھے،پرویز الہٰی اپنی جماعت کے سربراہ ہیں جس سے چاہیں مل سکتے ہیں مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے، مونس الہٰی سے ملاقات ہوئی، ق لیگ کیساتھ تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں سرمایہ کاری نہیں آ سکتی،سب سے بڑی سرمایہ کاری بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے آسکتی ہے،خوشحالی و جمہوریت کے حصول کیلئے قانون کی حکمرانی لازم ہے،میری سیاسی جدوجہد قانون کی بالادستی کیلئے رہی ہے،

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اپنی وکلا ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات کرنے والو ں میں حامد خان اور احمد اویس شامل تھے عمران خان نے وکلا ٹیم سے اسمبلیوں کی تحلیل پر مشاورت کی

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

     مجھے عام انتخابات جلد نظر نہیں آرہے،

    بلاول نے ارجنٹینا کی جیت پر لیاری میں ہونے والے جشن کی ویڈیو شیئرکردی
    احسان فراموش نہ بنیں، پرویز الہی نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنا دی
    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف
    بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،ڈیم فنڈ اب بھی محفوظ ہے.ثاقب نثار
    اسلام آباد پولیس نے گمنام شکایت پر مقدمہ درج کرنے کی غلطی تسلیم کر لی

  • ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم انور ابراہیم نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

    ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم انور ابراہیم نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

    کوالالمپور: ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم انور ابراہیم نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا اور اتحادی جماعتوں کی مدد سے نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم انور ابراہیم نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اپنے عہدے کا حلف اُٹھالیا اور اتحادی جماعتوں پر مشتمل نئی حکومت بھی تشکیل دیدی۔

    کابل: طالبان کے ایک سینئر رہنما نے والد کےقاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا

    حریف اور سابق وزیر اعظم محی الدین یاسین کی جانب سے ان کی حمایت پر شکوک وشبہات کے بعد انور نے پیر کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے پارلیمنٹ بلائی تھی۔

    مواصلات اور ڈیجیٹل کے وزیر فہمی فضل نے کہا کہ ہمارے پاس کافی اکثریت ہے، اور یہ دو تہائی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا میں متحدہ حکومت مضبوط حمایت کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں گے۔

    اپوزیشن بلاک 222 نشستوں والی پارلیمنٹ میں ان قانون سازوں کی تعداد پر سوال اٹھاتا رہا جنہوں نے انور کی حمایت کی اور کہا کہ وہ "وقت آنے پر” حکمران حکومت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔

    ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم انور ابراہیمم کی جماعت نے عام انتخابات 82 سیٹیں جیت کر اکثریت حاصل کی تھی تاہم ان کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں نہیں تھیں اور اس کمی کو انھوں نے اتحادی جماعتوں سے پورا کیا۔

    امریکا طیارے میں دورانِ پرواز شدید جھٹکے، 36 مسافر زخمی ہوگئے. امریکی میڈیا

    دوسری جانب سابق وزیر اعظم محی الدین یاسین کے اپوزیشن اتحاد کے پاس 74 پارلیمانی نشستیں تھیں۔ اس قانونی سقم کو دور کرنے کے لیے انور ابراہیم کو حکومت بنانے سے قبل اعتماد کا ووٹ لینا لازمی تھا۔

    انور ابراہیم کی اتحادی حکومت میں شامل ہونے والی چھوٹی جماعتوں نے پانچ سالہ مدت کے تعاون کے معاہدے پر اتفاق کیا۔ اس طرح حکومت کو 148 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی جو دو تہائی اکثریت ہے۔

    سیاسی بحران اور حکومتی عدم استحکام کے شکار ملائیشیا میں 2008 کے بعد پہلی بار کسی اتحادی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ چار سال میں 3 وزرائے اعظم اتنی اکثریت نہ ہونے کے باعث گھر جا چکے ہیں۔

    تاہم مضبوط اپوزیشن نے اتحادی حکومت کے تعاون کے معاہدے کی ایک شق پر تنقید کی ہے جس کے تحت قانون سازوں کو اپنی نشستوں سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اگر وہ معاہدے سے روح گردانی کرتے ہیں۔

    روسی فوجیوں کا مورال بڑھانے کیلئے گلوکاروں کو اگلے مورچوں پر بھیجنے کافیصلہ

    اپوزیشن نے معاہدے کی اس شق کو غیر آئینی اور جابرانہ قرار دیا تاہم اتحادی حکومت کے ارکان کا مؤقف ہے کہ ایسا یہ یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ کوئی رکن اسمبلی انفرادی طور پر حکومت کو کمزور کرکے بلیک میل نہ کر سکے۔

    واضح رہے کہ 2018 سے جاری سیاسی کشمکش میں ملائیشیا کے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمد کی سیاسی اننگ کا خاتمہ ہوگیا وہ اس الیکشن میں اپنے حلقے سے دہائیوں بعد پہلی بار ہار گئے۔

  • سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،قومی اداروں کی رپورٹ

    سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،قومی اداروں کی رپورٹ

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    سی ٹی ڈی خیبرپختونخواہ مسائل کی آماجگاہ بن گیا، افرادی قوت اور وسائل موجود نہیں، صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنا ممکن نہیں

    قومی اداروں نے سی ٹی ڈی خیبرپختونخواہ کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو، وسائل کی فراہمی اور تربیت کے اقدامات کی سفارش کردی

    اسلام آباد:صوبہ خیبرپختونخوا میں 9 سال سے برسراقتدار پی ٹی آئی حکومت کے زیرانتظام دہشت گردی کے خاتمے اور مقابلے کے لئے قائم محکمے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، افرادی قوت اور وسائل نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنا ممکن نہیں۔ قومی اداروں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے سی ٹی ڈی خیبرپختونخواہ کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو، وسائل کی فراہمی اور تربیت کے اقدامات کی سفارش کردی۔ یہ انکشافات ایک اعلی سطحی تحقیقاتی رپورٹ میں کئے گئے ہیں۔

    قومی اداروں کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی رپورٹ میںیہ ہوشربا نکشاف بھی کیاگیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صوبہ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے تین واقعات ہوئے جبکہ خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کے300 واقعات ہوئے ہیں جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران متعدد مرتبہ قومی اداروں کی جانب سے خبردار کیاگیا تھا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی تنظیم نو کی جائے ، تربیت کے اقدامات کئے جائیں، ہنگامی بنیادوں پر مطلوبہ وسائل فراہم کئے جائیں لیکن باربار کی یقین دہانیوں کے باوجود اس ضمن میں کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ رپورٹ میں صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے انسداد دہشت گردی محکموں کے درمیان ایک تقابلی جائزہ بھی دیاگیا ہے جس کے مطابق کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے پاس 15 سے 18 ایس ایس پی رینک کے افسران موجود ہیں جبکہ دو ڈی آئی جی سطح کے افسران فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ’پی ایس پی‘ رینک کے سینئر افسران کی شدید کمی ہے، جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے صوبے میں ’ایس ایس پی‘ رینک کا صرف ایک افسر تعینات ہے جو ڈی آئی جی کے طور پر کام کررہا ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا کہ سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس ’ریوارڈ فنڈ‘ (زرتلافی فنڈ) میں276 (27 کروڑ60لاکھ روپے) کی رقم موجود ہے جبکہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس 25ملین (اڑھائی کروڑ روپے) کی رقم ہے۔رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی شہداءپیکج پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 150 فیصد کا فرق ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما سی ٹی ڈی کو کوئی مراعات حاصل نہیں اور شہداءپیکج کے لئے بھی مناسب رقوم دستیاب نہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیاگیا کہ سی ٹی ڈی پنجاب اور سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی تنخواہوں میں 70 فیصد کا فرق ہے۔

    خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی رہائش کا بھی کوئی بندوبست نہیں۔ صوبائی حکومت کی درخواست پر بعض افسران کے لئے کینٹ کے علاقے میں رہائش کا بندوبست کیاگیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ سی ٹی ڈی کے برعکس صوبے کے تمام سیکریٹریوں کی رہائش کا کینٹ میں انتظام کیاگیا ہے حتی کہ صوبائی سیکریٹریٹ کے ملازمین سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی نسبت 70 فیصد زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے لئے کوئی ہیڈکوارٹر ہی موجود نہیں۔ یہ دفترایک منزلہ کرایے کے گھر میں قائم ہے جس کابیسمنٹ خیبرپختونخوا پولیس کے اسلحہ خانے کے لئے استعمال ہورہا ہے اور سی ٹی ڈی کا عملہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر کام کرتا ہے۔ رپورٹ میں سی ٹی ڈی کے دفتر میں اسلحہ خانہ کی موجودگی کو خطرناک قرار دیاگیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے لئے کوئی ٹریننگ سکول ہی موجود نہیں، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا تربیت کے لئے سی ٹی ڈی پنجاب کی خدمات حاصل کررہا ہے جو لاگت اور پیشہ ورانہ ضرویات کے لحاظ سے قابل عمل نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف قسم کے تربیتی کورسز پر آنے والی فیس کی ادائیگی کے لئے بھی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے پاس پیسے دستیاب نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے موثر مقابلے کے لئے سی ٹی ڈی کی تنظیم نو کی ہنگامی بنیادوں پر ضرور ت ہے ، اس کے لئے ایک ہنگامی جامع پلان ترتیب دیاجائے جس میں تربیت ، افرادی قوت کی کمی دور کرنے اور وسائل کی فراہمی شامل ہو تاکہ دہشت گردی کا موثر انداز میں قلع کمع ممکن ہوسکے۔

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !

  • پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد،قومی کھلاڑیوں کی بھی شرکت

    پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد،قومی کھلاڑیوں کی بھی شرکت

    پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد،قومی کھلاڑیوں کی بھی شرکت

    پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد۔ خوراک کے رکھوالوں کی اچھی صحت کے لیے کھیلوں کا اہتمام کیا گیا۔ افسران اور ملازمین کو کام کے ساتھ ساتھ چست و توانا رکھنے کے لیے سپورٹس کا اہتمام کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق خوراک کے رکھوالوں کی اچھی صحت کے لیے کھیلوں کا اہتمام کیا گیا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ افسران اور ملازمین کو کام کے ساتھ ساتھ چست و توانا رکھنے کے لیے سپورٹس کا اہتمام کیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تمام ونگز کو 6 ٹیموں میں تقسیم کیا گیا۔ جس میں 4 ٹیمیں میل سٹاف اور دوٹیمیں خواتین سٹاف کی شامل تھیں۔کرکٹ میچ کے پہلے مرحلے میں ٹیکنکل اور ایڈمن 2 ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ایڈمن 2 نے بازی مار لی۔ کرکٹ میچ کے فائنل مرحلے میں میل سٹاف میں ایڈمن 1 اور ایڈمن 2 کے درمیان مقابلہ ہوا جبکہ فیمیل سٹاف میں ٹیکنیکل اور نیوٹریشن ٹیم کے درمیان مقابلہ ہوا۔ فیمیل سٹاف میں نیوٹریشن کی ٹیم اور میل سٹاف میں ایڈمن 2 کو فتح حاصل ہوئی۔

    کرکٹ میچ میں سٹاف کے ساتھ ساتھ ڈی جی فوڈ اتھارٹی مدثر ریاض ملک نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مدثر ریاض ملک نے بتایا کہ سپورٹس فیسٹا میں کرکٹ کے علاوہ تیر اندازی اور رسا کشی کے مقابلے بھی کروائے گئے۔ تیر اندازی اوررساکشی میں پی آر کی ٹیمیں فاتح قرار پائیں۔ معروف کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی،حارث راؤف، سی ای او لاہور قلندر عاطف رانا، سابق کرکٹر عاقب جاوید کی خصوصی شرکت کی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی مدثر ریاض ملک نے مزید بتایا کہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے فاتح ٹیموں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔ مزید بات کرتے ہوئے مدثر ریاض ملک کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران اور ملازمین دن رات اپنے فرائض باقاعدگی سے سر انجام دیتے ہیں۔ کام کے ساتھ ساتھ خود کوچست اور صحت مند رکھنے کے لیے کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کا ہونا انتہائی لازم ہے۔

    شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ غذائیت سے بھرپور غذا کا چناؤ ہی صحت مند زندگی کاضامن ہے۔ جب کہ ان کے ساتھی کہلاڑی حارث راؤف کا کہنا تھا کہ روزمرہ کی انتھک محنت والے کام کے ساتھ کھیل کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ سی ای او لاہور قلندر عاطف رانا نے کہا کہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا عوام اور ملازمین کے لیے کیے گئے تمام اقدامات قابل تحسین ہے اور عوام کی صحت کے رکھوالوں کے لیے ایسی صحت مند سرگرمیاں ہوتی رہنی چاہیں۔

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • عمران خان کی نالائقی کی قیمت خیبرپختونخواہ دہشت گردی کی صورت ادا کررہا ہے،وزیر داخلہ

    عمران خان کی نالائقی کی قیمت خیبرپختونخواہ دہشت گردی کی صورت ادا کررہا ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخوا کے بارے میں قومی اداروں کی رپورٹ چشم کشا اور پریشان کن ہے ایک سال میں پختونخواہ میں دہشت گردی کے300 واقعات کا ہونا سنگین صورتحال ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت سوئی ہوئی ہے پختونخوا میں ملازمین کی تنخواہ اور پینشن کے نہ ہی شہداءکے لئے پیسے ہیں، 9 سال میں کے پی میں یہ ترقی ہوئی؟ وفاق پر حملے کے لئے بندوقیں اور بندے جمع کرنے والوں نے سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ کی مضبوطی کے لئے کچھ نہیں کیا وفاق نے بھی خیبرپختونخوا کو پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافے کی پیشکش کی تھی لیکن آج تک جواب نہیں ملا سی ٹی ڈی شہداء پیکج پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 150 فیصد کا فرق کیوں ہے؟ صوبائی حکومت آنکھیں بند کئے کیوں بیٹھی رہی؟ سی ٹی ڈی پنجاب اور سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی تنخواہوں میں 70 فیصد کا فرق ہے لیکن صوبائی حکومت نے آج تک اس پر بات نہیں کی ،سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے لئے کوئی ٹریننگ سکول ہی موجود نہیں، 9 سال میں کیوں اس پر توجہ نہ دی گئی؟ پورے صوبے میں ’ایس ایس پی‘ رینک کے صرف ایک افسرکا تعینات ہونا عمران خان اور وزیراعلی کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر عمران خان اینڈ راشی کمپنی کا رویہ مجرمانہ اور دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے گھڑیاں چوری کرنے کا ٹائم تھا لیکن عوام کو دہشت گردوں سے بچانے کا ٹائم نہیں تھا؟ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ کی تباہی کا ذمہ دار عمران خان ہے عمران خان کو وفاق اور اداروں سے لڑنے سے فرصت ملے تو دہشت گردی کے مقابلے پر غور کرے پی ٹی آئی کی خیبر  میں 9 سال سے حکومت مسلط ہے اور کارکردگی صفر بٹا صفر ہے عمران خان کی نالائقی اور کرپشن کی قیمت خیبرپختونخواہ دہشت گردی کی صورت ادا کررہا ہے،

    شہر قائد میں سی ٹی ڈی کی کاروائی، دو دہشت گرد گرفتار

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

  • سردیوں میں "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے

    سردیوں میں "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے

    انسان سبز پتوں والی سبزیاں اور ساگ دونوں کا ساتھ بہت پرانا ہے غذائی اہمیت کے لحاظ سے ان کی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد ان ہی سا گوں اور سبزیوں پر قائم ہے قدرت ان ہی کے زریعے زندگی کی تعمیر کے لئے ایسے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے جو اچھی صحت کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں ساگ میں جسم کو نشونما دینے والے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً وٹامن اے ، بی، ای اور پروٹین وغیرہ اس کے علاوہ ساگ میں کیلشئیم کلورین سوڈیم فاسفورس فولاد بھی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ،بچوں کی نشونما اور پرورش میں بھی ساگ بہت مفید ہے اگر بچپن سے ہی بچوں کو ساگ اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ عادت انہیں زندگی بھر بہت سی مشکلات اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے

    سردیوں کے موسم میں اگرچہ بہت سے پکوان سامنے آتے ہیں تا ہم "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے، ساگ پنجاب میں زیادہ پکایا جاتا ہے ، پنجاب میں دیہاتوں میں ساگ کے ساتھ لسی، دیسی گھی اور مکئی یا باجرے کی روٹی کھائی جاتی ہے،ساگ پکانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، ساگ توڑنا، یا پھر بازار سے لانا، اسے کاٹنا ، اور پھر پکانا اور پکنے میں کافی دیر،یوں بھوک بھی شدید اور ساگ بھی گرما گرم تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے

    ساگ پکانے کے لئے سب سے پہلے ساگ کو چھری کی مدد سے باریک باریک کاٹیں اور پھر اسکو اچھی طرح دھوئیں کیونکہ ساگ میں مٹی یا ریت ہو سکتی ہے، ساگ کو دھو کر اسے صاف پانی میں پتیلے میں ڈال کر آگ پر رکھ دی، سبز مرچ بھی ڈال دیں اور تب تک پکائیں جب تک گل نہ جائے، جب ساگ گل جائے تو دوسرے برتن میں گھی ڈالیں اور مصالحہ بنا لیں، مصالحے میں سبز پیاز، لہسن، ادرک اور حسب ذائقہ نمک کا استعمال کریں، مصالحہ بن جائے تو اس میں ساگ ڈال دیں ، اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور اگلے ہی چند لمحوں میں ملے گا گرم گرم …ساگ…