Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • کوٹری دادو سیکشن پر ٹریک ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے بحال

    کوٹری دادو سیکشن پر ٹریک ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے بحال

    لاہور: سیلاب سے متاثرہ ٹریک کی جگہ نیا ٹریک بچھانے کا کام مکمل ہونے کے بعد کوٹری دادو سیکشن پر ٹریک کو ٹرینوں کے لیے بحال کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹرین آپریشن ٹریک میٹننس کے بعد شروع ہوگیا ہے اس سیکشن پر سیلاب کی وجہ سے ٹرین آپریشن بند ہونے سے اندرون سندھ سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

    عمران خان نے کافی کچھ سیکھ لیا ہو گا اب ان میں سنجیدگی آ جانی چاہیے،مراد علی شاہ

    دوسری جانب، چین سے درآمد کی جانے والی پہلے مرحلے کی 46 نئی مسافر بوگیاں بھی لاہور اسٹیشن پہنچ گئیں۔ پاکستان نے چین کے ساتھ 149 میلن ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چین سے 230 مسافر بوگیاں درآمد کی جائیں گی۔

    پاکستان ریلوے رواں ماہ 15 دسمبر کو چین کی نئی بوگیوں پر مشتمل کراچی براستہ لاہور راولپنڈی ٹرین چلائے گی۔

    چین اور پاکستان کے درمیان معاہدہ اگست 2021 میں ہوا،230 کوچز چائنا سے لینے کا کنٹریکٹ ہوا، مستقبل میں ہم را مٹریل سے پاکستان میں بنائیں گے، یہ کوچز 160 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پہلی بار معذور افراد کے لیے اسپیشل وش رومز بنائے گئے ہیں۔

    اسسٹنٹ جی ایم پاکستان ریلوے شاہد عزیز کا کہنا تھا کہ چین مزید 184 بوگیوں کے پرزے اسمبلنگ کے لیے پاکستان کو فراہم کرے گا، چین سے آنے والے کوچز میں اکنامی پارلر کار اور اے سی اسٹینڈرڈ کوچز شامل ہوں گی، اکنامی اوراے سی اسٹینڈرڈ کوچز میں آرام دہ برتھیں، نائٹ لیمپس اور موبائل چارجر بھی لگائے گے ہیں۔

    5 لاکھ 48 ہزار خصوصی افراد کو بلا معاوضہ شناختی کارڈ جاری کیے،نادرا

  • کراچی ائیرپورٹ پر مسافر سے 2 کلو سے زائد ہیروئن برآمد

    کراچی ائیرپورٹ پر مسافر سے 2 کلو سے زائد ہیروئن برآمد

    ائیرپورٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) اہلکاروں نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے شارجہ جانے کے لیے پہنچے مسافر کے سامان سے 2 کلو گرام سے زائد ہیروئن برآمد کر لی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان اے ایس ایف کے مطابق مسافر فرمان اللہ شارجہ جانے کے لیے جناح ٹرمینل پر پہنچا تھا جہاں اے ایس ایف کے عملے نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو آئس ہیروئن بیگ میں مہارت سے چھپائی ہوئی پائی گئی جس کی اے ایس ایف کےعملےنے مہارت سے کھوج لگائی اور منشیات برآمد کرکے اسمگلنگ کی کوششں ناکام بنا دی۔

    اسلام آباد سے قطر جانے والے مسافر کے پیٹ سے منشیات بھرے کیپسول برآمد

    اے ایس ایف کے ترجمان کے مطابق مسافر کے بیگ سے مجموعی طور پر 2.068 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد ہوئی، ملزم کو ابتدائی تفتیش کے بعد برآمد شدہ منشیات سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے اے این ایف حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    اوکاڑہ : ڈکیتی کی خونی واردات ،نابینا محنت کش جاں بحق دو خواتین سمیت تین شدید زخمی ، ڈاکو فرار

    قبل ازیں اے این ایف نے قطر جانے والے مسافر کے پیٹ سے منشیات بھرے کیپسول برآمد کرکے اسے گرفتار کرلیا تھا ترجمان اے این ایف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سےفلائٹ نمبر کیو آر 0633 سے قطر جانے والے ملزم کے پیٹ سے 45 آئس بھرے کیپسول برآمد ہوئے۔۔

    ننکانہ صاحب : ریسکیو1122کی ایمبولینس ڈیلیوری، نومولود بچی کاجنم

    علاوہ ازیں اے این ایف حکام نے پشاور سے پنجاب منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مردان کے رہائشی شخص کو گرفتار کیا تھا پشاورموٹر وے ٹول پلازہ کے قریب کارروائی کے دوران ملزم کی کار سے 34 کلو 800 گرام افیون اور 8 کلو 400 گرام چرس برآمد کرلی گئی تھی-

    جھنگ: تھانہ میں آنے والے متاثرین کی بروقت دادرسی کو یقینی بنایا جائے۔ڈی پی او

  • عمران خان نے کافی کچھ سیکھ لیا ہو گا اب ان میں سنجیدگی آ جانی چاہیے،مراد علی شاہ

    عمران خان نے کافی کچھ سیکھ لیا ہو گا اب ان میں سنجیدگی آ جانی چاہیے،مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر عمران خان کو بات چیت کرنی ہے تو اس میں شرطیں نہیں لگائی جاتیں۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے جمہوری طریقے سے نکالے گئے، وہ اپنی کارکردگی نہیں دیکھتے، اللّٰہ کا شکر ہے کہ ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان نے کافی کچھ سیکھ لیا ہو گا اب ان میں سنجیدگی آ جانی چاہیے، اتحادیوں نے عمران خان کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کے لیے بات چیت ضروری ہے، اگر عمران خان کو بات چیت کرنی ہے تو اس میں شرطیں نہیں لگائی جاتیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے خدشات الیکشن کے لیے نہیں ، ان کے خدشات ضرور دور کریں گے۔

    گزشتہ ماہ نومبر میں بچوں کے اغوا کے 44 واقعات رپورٹ ہوئے،لاہور پولیس

    وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم ریلیف اور ریسکیو کے عمل سے گزر گئے، ایسا نہیں ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، سیلاب متاثرین کے لیے عمران خان نے بھی ٹیلی تھون کی تھی اور پیسے جمع کیے تھے، وہ پیسے کہاں گئے کسی کو معلوم ہی نہیں۔

    شفاء میڈیکل سنٹر اور جھنگ پولیس کے مابین MOU پر دستخط

  • نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

    نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

    ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

    اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

    انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

    محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

    اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

    روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

    جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
    ۔ (1)فکرو خیال
    ۔ (2)اختلافات
    ۔ (3)کھردرے مضامین
    ۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
    ۔ (5)موضوعات
    ۔ (6)بر سبیل تنقید
    ۔ (7)شمع اردو کا سفر
    ۔ (8)نئے ادبی جائزے
    ۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
    ۔ (10)محترم چہرے
    ۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
    ۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
    ۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
    ۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
    ۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
    ۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
    ۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
    ۔ (18)؟
    ۔ (19)غالب کے نئے خطوط
    ۔ (20)دلاور فگاریاں
    ۔ (21)قلم کے لوگ
    ۔ (22)ادیبان رفتہ
    ۔ (23)آسمان میں پتنگیں
    ۔ (24)دلی دور نہیں
    ۔ (25)ادب کہانی 1996ء
    ۔ (26)ادب کہانی 1997ء
    ۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
    ۔ (28)میر انیس کی قلمرو
    ۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
    ۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
    ۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
    ۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
    ۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
    ۔ (34)مزید ادبی جائزے
    ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

    وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

    چند منتخب اشعار

    شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
    جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

    بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
    انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
    کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

  • 5 لاکھ 48 ہزار خصوصی افراد کو بلا معاوضہ شناختی کارڈ جاری کیے،نادرا

    5 لاکھ 48 ہزار خصوصی افراد کو بلا معاوضہ شناختی کارڈ جاری کیے،نادرا

    کراچی: نادرا نے 5 لاکھ 48 ہزار خصوصی افراد کو بلا معاوضہ شناختی کارڈ جاری کیے۔

    باغی ٹی وی : خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر نادرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معذوری کے حقوق دراصل انسانی حقوق ہیں، واضح طور پر معذور افراد ملکی معیشت میں اس سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں جتنا وہ لیتے ہیں۔


    چیئرمین نادرا طارق ملک کے مطابق نادرا خصوصی افراد کو اپنے حقوق تک رسائی میں شناخت اور پہچان فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


    نادرا نے 5 لاکھ 48 ہزار خصوصی افراد کو بلامعاوضہ شناختی کارڈ جاری کیے جس میں 3 لاکھ 90 ہزار جسمانی معذور، 36 ہزار قوت سماعت سے متاثر،2 2ہزار سے زائد متاثرہ بصارت اور ایک لاکھ محدود ذہنی صلاحیت کے حامل افراد کو شناختی کارڈ جاری کیے۔

    ہر سال 3 دسمبر کو دنیابھر میں خصوصی افراد کاعالمی دن منایا جا تا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں 18سال تک کی عمر کے 60لاکھ سے زائد بچے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں۔جن میں ذہنی معذوری کا شکار بھی ہیں۔جن میں ذہنی معذوربچوں کی تعداد 30فیصد، نابینا پن کا شکار 20فیصد ،قوت سماعت سے محروم 10فیصد جبکہ جسمانی معذوری کا شکار 40فیصد ہیں۔

    بڑی تعداد کے حوالے سے صوبائی سطح پر سندھ میں سب سے ذیادہ 3.05فیصد اور پنجاب میں میں دوسرے نمبر پر2.23فیصد ہیں۔پاکستان میں سرکاری ونجی 744اسپیشل ایجوکیشن کے ادارے کام کر رہے ہیں۔صوبہ پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 237ہے-

  • ہم تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے،روس

    ہم تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے،روس

    روس نے یورپی ممالک کی جانب سے روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے اقدامات کو مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک نے بھی روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا مغربی ممالک کے اتحاد نے فیصلہ کیا کہ اس سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو اس خریداری سے روکنا ہوگا۔

    قیمت کی اس حد کو مقرر کرنے کا مقصد روس کو خام تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والے منافع کو کم سے کم رکھنا ہےمغربی اتحادی ممالک سمجھتے ہیں کہ زیادہ قیمتوں سے روس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور پیوٹن اس آمدنی کو یوکرین میں جارحیت پر استعمال کرتے ہیں –

    یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ میں روس کیلئے بنیادی مالی وسیلے کی حیثیت رکھنے والے روسی تیل کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے والے اقدامات کے جواب میں روس نے بیان جاری کیا ہے کہ روس اپنے تیل کی قیمت کی حد مقرر کیے جانے کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا، معاملات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب جواب دیا جائے گا۔

    روسی میڈیا کے مطابق کریملن کے ترجمان دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ روس نے جی سیون، یورپین یونین اور آسٹریلیا کی جانب سے پرائس کیپ کے اعلان کا بھرپور جواب دینے کی تیاری کر لی ہے۔

    روسی تیل کی قیمت کی حد مقررکرکے پوٹن کے جنگی عزائم کو روکیں گے:امریکا

    دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ ہم روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے، روس کی جانب سے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اس اعلان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ویانا کی عالمی تنظیم کیلئے روسی سفیر میخائیل الینوف کی جانب سے ایک بار پھر روسی موقف کو دہرایا گیا ہے کہ روس اپنے تیل پر قیمت کی حد کی پابندی لاگو کرنے والے ممالک کو تیل کی فروخت معطل کر دے گا آئندہ سال کے آغاز سے یورپ کو روسی تیل کے بغیر جینا ہوگا۔

    واضح رہے کہ روسی سمندری خام تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کی تجویز رواں برس ستمبر میں صنعتی ممالک کے G7 گروپ کے اجلاس میں رکھی گئی تھی۔ اس گروپ میں بڑے صنعتی ممالک امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین شامل ہیں۔

    تاہم اب پیر کے روز سے اس قیمت کو نافذ العمل کردیا جائے گا جس کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذکرات کی میز پر آجائے۔

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی…

  • گزشتہ ماہ نومبر میں بچوں کے اغوا کے 44 واقعات رپورٹ ہوئے،لاہور پولیس

    گزشتہ ماہ نومبر میں بچوں کے اغوا کے 44 واقعات رپورٹ ہوئے،لاہور پولیس

    لاہور پولیس نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا کی 900 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں 75 مقدمات کی تفتیش جاری ہے، واقعات میں ملوث 96 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور پولیس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال صرف 11 ماہ میں بچوں کے اغوا کی 931 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں 898 بچے بازیاب کیے جا چکے ہیں جبکہ 33 کی تلاش جاری ہے 75 مقدمات کی تفتیش جاری ہے، واقعات میں ملوث 96 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کا تونسہ شریف کا دورہ

    صرف ماہ نومبر میں بچوں کے اغوا کے 44 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 37 بچے بازیاب کرالیے گئے ہیں جبکہ بقیہ 9 بچوں کی تلاش جاری ہے جبکہ تاحال بازیاب نہ ہونے والے 33 بچوں کی بازیابی کیلئے سی آئی اے اور انویسٹیگیشن کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

    ایس ایس پی انویسٹیگیشن حسنین حیدر کا کہنا ہے کہ بچے گھر سے ناراض ہو کر جائیں یا لاپتہ ہوجائیں لیکن مقدمات اغوا کی دفعات کے تحت ہی درج کئے جاتے ہیں سوشل میڈیا پر بچوں کے اغوا سے متعلق بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    کچھ کیسز میں میاں بیوی کے جھگڑوں کی وجہ سے بھی بچے دونوں میں سے کسی ایک کو نہیں ملتے اور کئی معاملات میں شوہر بچوں کو بیرون ملک لے جا چکے ہیں۔

    ٹھٹھہ: شہر میں چوروں اور ڈاکوؤں کاراج ،پولیس خاموش تماشائی

  • کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں آج یوم ثقافت منایا جا رہا ہے

    کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں آج یوم ثقافت منایا جا رہا ہے

    کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں آج سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کا دن انتہائی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف شہروں میں یوم ثقافت کے حوالے سے مختلف پرو گرام، شو اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں آج سندھ کے یوم ثقافت کے موقع پر پیپلز بس سروس کا عملہ اجرک اور سندھی ٹوپی میں نظرآئے گا۔


    آج کراچی میں یوم ثقافت کی مرکزی تقریب کراچی پریس کلب کے سامنے منعقد ہوگی، شہر بھر سے ثقافتی لباس میں ملبوس شہری ریلیوں کی شکل میں ثقافتی تقریب میں شرکت کریں گے۔


    ویست پر کلب رجسٹرڈ کی پوری ٹیم کی جانب سے ہفتے کے روز سندھ سے ملاقات کے عنوان سے ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ادیب دانشور ،صحافی، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور فنکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سندھ کی ثقافت بہت وسیع ہے، ہمیں اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے ایسے پروگرام منعقد کرنے ہوں گے-

    سندھ کلچرل ڈے,سندھی ٹوپی اور اجرک کے سٹال سج گئے

    ایم این اے آفتاب جھانگیر۔ اصغر پاتنی صدر ویسٹ پریس کلب۔ نائب صدر عبدالوہاب پہوڑ جنرل سیکرٹری عبدالعلیم میمن۔ نذیر بہار وادھو ثناء اللہ کاکڑ۔ محمد علی , محسن راجپر اقبال خاصخیلی محمود پاتنی غلام مصطفی پاتنی۔ ذوالفقار صدیقی اور دیگر کی جانب سے سندھ سے ملاقات کے عنوان سے ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں پی ٹی آئی کے ایم این اے آفتاب جھانگیر۔ پی ٹی آئی رہنما بشیر سوڈھر۔

    مقصود بھائی طارق بھائی گلشن سید ٹینٹ سٹی سید احمد علی شاہ کاظمی کی روح۔ چچا لیاقت بلیدی۔ حاجی جان گل مری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ ویسٹ کی ڈائریکٹر عابدہ رحمانی۔ ایس ایچ او گلشن معمار امین قریشی۔ نہال خان عباسی انڈس ویلج کے صدر علی غلام بھنبھڑو۔صحافی ماجد سائمن۔ قمر نواب کندھارا۔ شفقت نوناری علی محمد بھٹو شاہد عباسی امام بخش مگسی عوامی پریس کلب ملیر کے صدر سامی میمن اور ان کے ساتھی۔ میر علی گوہر بلوچ ، فاروق بھنگوار گڈاپ پریس کلب ، نیشنل پریس کلب کے صدر نبی بخش خاصخیلی۔

    یوم سندھ ثقافت:صوبے بھرمیں رنگا رنگ تقریبات،سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کا مظہربن…

    اعجاز چانڈیو عبدالجبار چانڈیو۔ منصور چانڈیو۔ سعید بھٹو۔ سلمان گبول۔ حبیب اللہ پاتنی ممتاز قادری ۔ علاقہ مکینوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ فنکاروں نے سندھی موسیقی سے بیٹھے لوگوں کو گانے پر جھوم اٹھے ۔ جبکہ سندھ کے بہترین ڈانسر سکندر صنم نے بھی ایونٹ میں بہترین ڈانس کا مظاہرہ کیا تھا-

  • پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر ہونے پر اپوزیشن کی نئی حکمت عملی تیار

    پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر ہونے پر اپوزیشن کی نئی حکمت عملی تیار

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر اپوزیشن نے نئی سیاسی حکمت عملی تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کے بعد تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتظار کرو اور دیکھوں کی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی کارڈ سینے سے لگالیے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ پندہ دسمبر تک مؤخر ہونے کے فیصلے کے پیش نظر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے اور گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات:نتائج آنے کا سلسلہ جاری:حکمران جماعت کوشکست

    دوسری جانب لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو حکومتی اتحاد مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر یہ کسی شرط کے بغیر ہوں گے۔ماڈل ٹاؤن میں لیگی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کی خواہش پوری کرلیں، جہاں اسمبلی توڑیں گے وہاں الیکشن ہوجائیں گے۔

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جے یو آئی میں شامل

    انہوں نے کہا کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو مذاکرات کیلیے تیار ہیں، چاہتے ہیں معاملہ بگڑنے کے بجائے بہتری کی طرف آئے، مذاکرات کسی پیشگی صورت کے بغیر ہوں گے، مل کر مسائل حل کرنے کا نام ہی سیاست ہے، ملکی مستقبل کے فیصلے سیاستدانوں کو ہی کرنے ہیں اور سارے کام آئین و قانون کے مطابق ہی ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کب ہونا ہے اس سے متعلق واضح ہوجائے گا، ہم کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، سب کو ملکر ملک کا سوچنا ہوگا۔

    برادراسلامی ملک افغانستان کےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےپاکستان ہرممکن تعاون جاری…

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اسمبلی تحلیل اور مذاکرات کے معاملے پر عمران خان کی پیش کش کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے بھی مشاورت کریں گے اور حتمی مشاورت کے بعد عمران خان کی پیش کش پر پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔

  • سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جے یو آئی میں شامل

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جے یو آئی میں شامل

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی جمیعت علمائے اسلام میں شامل ہو گئے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتےہوئے صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ وہ 7 دسمبر کو مولانا فضل الرحمان کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر جلسے کے دوران باضابطہ طور پر جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔

    اسلم رئیسانی نے کہا کہ جب تک سیاسی جماعتیں اپنی سمت کو درست نہیں کرتی حالات بد سے بد تر ہوتے جائیں گے، جمعیت علماء اسلام ایک مضبوط اور منظم سیاسی قوت ہے، اس کے منشور اور کردار کو مد نظر رکھ کر ایک سال قبل ہی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

    نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں لانے والے سیاستدان ہیں، جو مسائل سیاستدان حل کرسکتے ہیں وہ بیوروکریٹ یا اسٹیبلشمنٹ حل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مالی بد انتظامی دور کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کو مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے جے یو آئی میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی ، انہوں نے فضل الرحمن سے ملاقات کر کے جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔

    اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آئندہ حکومت جے یو آئی بنائے گی، اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی کی شمولیت سے جے یو آئی مزید مضبوط ہوگی۔