Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • مظفر آباد: الیکشن میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کے درمیان تصادم سے تین موٹر سائیکل نزر آتش

    مظفر آباد: الیکشن میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کے درمیان تصادم سے تین موٹر سائیکل نزر آتش

    مظفر آباد: الیکشن میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کے درمیان تصادم، 3 موٹر سائیکلیں جلادیں گئی.

    مظفر آباد میں الیکشن میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کے درمیان تصادم، 3 موٹر سائیکلیں جلادیں گئی ہیں؛ مظفرآباد کے علاقے ستر کڑیاں میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد کامیاب اور ناکام امیدواروں کے حامیوں میں تصادم ہو گیا۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد دونوں امیدواروں کے درمیان لڑائی جھگڑا دیکھنے میں آیا اور اس دوران 3 موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

    آزاد جموں وکشمیر کے بلدیاتی انتخابات کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ  آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں پی ٹی آئی کو شکست ہو گئی ہے، پی ٹی آئی میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کی 36 میں سے 8 نشستیں جیت سکی جبکہ مسلم لیگ ن 12 وارڈز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔  مظفر آباد کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھی 7 نشستیں مل گئیں،7 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے جبکہ 2 سیٹوں پر مسلم کانفرنس نے کامیابی حاصل کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں

    جبکہ  نیلم، جہلم ویلی اور مظفرآباد کے 3 اضلاع کی یونین کونسلز کی 74 میں سے33 نشستوں پر تحریک انصاف کامیاب رہی۔ غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی 23، مسلم لیگ ن 10 سیٹوں پر کامیاب رہی 5 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ مسلم کانفرنس 2 نشستیں جیت سکی۔ تاہم اس دوران ہونے والے لڑائی جھکڑوں کو ماہرین نے انتہائی غلط فعل قرار دیا اور اس کا ذمہ دار ان لیڈران کو قرار دیا جو اپنے کارکنان کی زہن سازی اس طریقے سے کرتے کہ وہ پرتشدد ہوجاتے ہیں.

  • یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    پیدائش:28 نومبر 1928ء
    فیروزپور، صوبہ پنجاب
    برطانوی ہندوستان
    وفات:4 فروری 2017ء
    لاہور، پنجاب، پاکستان
    آخری آرام گا:قبرستان E بلاک
    ماڈل ٹاؤن، لاہور
    قلمی نام:بانو قدسیہ
    تعلیم:ایم اے (اردو)
    اصناف:افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
    موضوع:ادب، فلسفہ
    نفسیات، اشتراکیت
    ادبی تحریک:صوفی ادب
    شریک حیات:اشفاق احمد
    اولاد:انیق احمد، انیس احمد، اثیر احمد

    بانو قدسیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔ اُن کی نماز جنازہ 5 فروری 2017ء کو بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں دوپہر 03:30 بجے اداء کی گئی جبکہ تدفین G بلاک قبرستان ماڈل ٹاؤن، لاہور میں کی گئی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آتش زیر پا
    ۔ (2)آدھی بات
    ۔ (3)ایک دن
    ۔ (4)امر بیل
    ۔ (5)آسے پاسے
    ۔ (6)بازگشت
    ۔ (7)چہار چمن
    ۔ (8)چھوٹا شہر، بڑے لوگ
    ۔ (9)دست بستہ
    ۔ (10)دوسرا دروازہ
    ۔ (11)دوسرا قدم
    ۔ (12)فٹ پاتھ کی گھاس
    ۔ (13)حاصل گھاٹ
    ۔ (14)ہوا کے نام
    ۔ (15)ہجرتوں کے درمیان
    ۔ (16)کچھ اور نہیں
    ۔ (17)لگن اپنی اپنی

    افسانہ و ناول نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ کی زندگی پر ایک نظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔
    انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔ اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔

    اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔

    اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔

    اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔

    ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔ لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔

    موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • کس قانون کے تحت ایک درجن سے زائد ایف آئی آر کٹ چکی ہیں؟ اسد عمر

    کس قانون کے تحت ایک درجن سے زائد ایف آئی آر کٹ چکی ہیں؟ اسد عمر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ‏سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے کہ ایک الزام کے لئے ایک سے زیادہ ایف ائی آر نہیں ہو سکتی،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت اعظم سواتی کے خلاف ایک درجن سے زائد ایف آئی آر کٹ چکی ہیں؟ سپریم کورٹ کب تک انسانی حقوق کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر خاموش تماشائی رہے گا؟

    واضح رہے کہ اعظم سواتی باز نہ آئے اور ضمانت پر رہائی کے باوجود اداروں کے خلاف تنقید کرتے رہے، اعظم سواتی نے پنڈی جلسے کے روز اداروں کے خلاف نہ صر ف خطاب کیا بلکہ ٹویٹ بھی کی، جس پر سائبر کرائم نے اعظم سواتی پر مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا ہے

    اعظم سواتی کے خلاف متنازع ٹوئٹس پر کراچی، کوئٹہ اور جیکب آباد میں مقدمات درج کرلیے گئے۔ سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 6 مقدمات درج ہوئے اور یہ مقدمات شہریوں کی مدعیت میں درج کیے گئے،اعظم سواتی کےخلاف بن قاسم، شاہ لیطف ٹاون، درخشان،کلفٹن اور اورنگی ٹاون تھانوں مقدمات درج ہوئے۔درخشاں تھانے میں بھی شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا جس کے مدعی طارق آرائیں کے مطابق ٹوئٹ سے نفرت پھیل سکتی ہے، اعظم سواتی کے ٹوئٹ سے مجھے انتہائی دکھ ہوا۔علاوہ ازیں اعظم سواتی کےخلاف کوئٹہ کے کچلاک پولیس اسٹیشن میں بھی مقدمہ درج کیا گیا۔

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

  • رواں برس کی تیسری انسداد پولیو مہم کا آغاز

    رواں برس کی تیسری انسداد پولیو مہم کا آغاز

    28 نومبر سے رواں برس کی تیسری ذیلی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے

    ترجمان وزارت صحت کے مطابق ملک بھر کے 36 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 13.5 ملین بچوں کو انسدادِ پولیو قطرے پلوانے کا ہدف ہے جس میں پنجاب کے نو اضلاع سندھ کے آٹھ اضلاع، بلوچستان کے چھ اضلاع اور اسلام آباد شامل ہیں خیبر پختونخواہ کے 9 ہائی رسک  اضلاع میں مہم 5 دسمبر کو شروع ہوگی

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے پر عزم ھے پولیو کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت موثر اقدامات کیے جارہے ہیں36 اضلاع میں 13.5 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کا ہدف ہے مہم میں ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ "صحت محافظ”  حصہ لیں گے جو گھر گھر جاکر پانچ سال سے کم بچوں کو قطرے پلائیں گے پاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں بڑی پیش رفت کی ہے ہم دراصل وائرس کے خاتمہ کے کافی قریب ہیں، اور ہم جلد از جلد اپنی منزل کے قریب پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں،” وائرس کا پھیلاؤ ملک کے صرف ایک چھوٹے حصے میں رہ گیا ہے تمام والدین سول سوسائٹی میڈیا علماء کرام سے گزارش پولیو کے خاتمے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں

    مجھے پنجاب پولیو سے پاک چاہیے،جس ضلع میں کیس آیا افسران کیخلاف ایکشن ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ذمہ دار حکومت،بابر بن عطا کو جیل کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ شیری رحمان

    پنجاب میں انسداد پولیو مہم کا آغاز،وزیراعلیٰ پنجاب نے دیں اہم ہدایات

     تھانہ لاری اڈا کی حدود میں پولیو ٹیم سے بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

  • ترکیہ جانے والے مسافر چھالیہ لے جانے سے مکمل گریز کریں،ہدایات جاری

    ترکیہ جانے والے مسافر چھالیہ لے جانے سے مکمل گریز کریں،ہدایات جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترکی جانے والے پاکستانیوں کے حوالہ سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ ترکیہ جانے والے مسافر چھالیہ لے جانے سے مکمل گریز کریں

    سول ایوی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اریکا گری یا چھالیہ ترکی لے جانے پر پابندی ہوگی ترکیہ قانون کے تحت چھالیہ منشیات کے زمرے میں آتی ہے لہذا اریکا کے بیج چھالیا ترکی لے جانا ان کے قانون کی خلاف ورزی ہو گی ترکیہ جانے والے مسافر سختی سے ان کےقانون کی پیروی کریں

    واضح رہے کہ ترکی میں چھالیہ کی وجہ سے ایک پاکستانی گزشتہ ماہ گرفتار بھی ہوا تھا لاہورکے رہائشی محمد اویس کوکمپنی نے اچھی کارکردگی دکھانے پر ترکی گھومنے بھیجا تھا۔ محمد اویس اپنے ٹورآپریٹر کو تحفے میں دینے کے لیے سپاری کے دو پیکٹس بھی لے گئے ترکی پہنچنے پر حکام نے محمد اویس کو دو پیکٹ سپاری لانے پر گرفتار کرلیا تھا اور عدالت میں پیش کرکے جیل بھیج دیا تھا محمد اویس کے بھائی شعیب کا کہنا تھا کہ کسی نے ان کے بھائی کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستانی کسٹمز حکام نے جاتے وقت مطلع کیا تھا اویس نے ترک حکام کو بتایا کہ یہ ماؤتھ فریشنر ہے اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ ملک میں غیر قانونی ہے-

    بعد ازاں پاکستانی سفارتخانے کی کوششوں سے اویس کو رہا کر دیا گیا تھا، اب سول ایوی ایشن نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشکل سے بچنے کے لئے قانون کی پاسداری کریں اور ترکی چھالیہ لے کر مت جائیں

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    نئے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تعیناتی کے خلاف درخواست،عدالت نے بڑا حکم دیا

    طیارہ حادثہ ،چئیرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے انکوائری کیلئے اضافی نکات بھیج دیئے

  • سیاسی دُھنداتنی چھاگئی ہے کہ الیکشن کاسورج طلوع ہونالازمی. شیخ رشید

    سیاسی دُھنداتنی چھاگئی ہے کہ الیکشن کاسورج طلوع ہونالازمی. شیخ رشید

    شیخ رشید کا کہنا ہے سیاسی دُھنداتنی چھاگئی ہے کہ الیکشن کاسورج طلوع ہونالازمی ہے.

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اسمبلیاں بچانے پر مشورے ہو رہے ہیں، جب کہ معیشت بچانے پر کام نہیں ہو رہا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سیاسی دُھنداتنی چھاگئی ہے کہ الیکشن کاسورج طلوع ہونالازمی ہے۔ اب تومفتاح بھی کہہ رہےہیں کہ بانڈ کلیئر ہونےکےباوجودملک ڈیفالٹ ہوسکتا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ، ترسیلات، زرمبادلہ کےذخائرکم، اسٹاک ایکسچینج ٹھس۔ پیٹرول، گیس، ڈالرمہنگااورنایاب ہے۔ اسمبلیاں بچانے پر مشورےہورہےہیں جب کہ ملک اورتباہ حال معیشت بچانے پر کام نہیں ہورہا۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر 567 ممبراسمبلیوں سےمستعفی ہو جاتے ہیں توپیچھےرہ کیاجاتاہے۔ اسمبلیاں توڑیں یاچھوڑیں، لولی لنگڑی اسمبلیوں کی طرف کوئی نہیں دیکھ رہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں

    اتحادی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکمران اوراُن کو لانےوالے دونوں افسردہ اور شرمندہ ہیں۔ اکیلے عمران خان نے13 پارٹیوں کی اجتماعی سیاسی قبرکھوددی ہے، جس کی وجہ سے پی ڈی ایم الیکشن سےفراری ہے۔ واضح رہے کہ دعویٰ کیا جارہا ہے بدھ یا جمعرات تک اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ہو جائیگا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں پی ٹی‌ آئی رہنماء نے کہا کہ مونس الٰہی پہلے کہہ چکے ہیں کہ جب بھی عمران خان کہیں گے اسمبلی تحلیل کردینگے۔ انہوں نے کہا کہ پرویزالٰہی اورمونس الٰہی نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، پرویزالٰہی مستقبل میں بھی وزیراعلیٰ کیلئے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ اس سے نا اہل حکومت پاکستان میں کبھی نہیں آئی، ن لیگ کی لیڈر شپ ایک دوسرے سے مشاورت کے بغیر چل رہی ہے۔

  • سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،2دسمبر 2019 سے 20 جون 2022 تک کا آڈٹ کیا جائے، گن اینڈ کنٹری کلب اور سی ڈی اے میں زمین لیز کے معاملے پر مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی ہدایت بھی کی گئی،عدالت نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی جو چیئرمین کمیٹی بھی ہیں انکی میٹنگ میں چائے کا خرچہ 4لاکھ 16 ہزار روپے تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اجلاسوں میں ہم کھانے پینے کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنا ہے قائد اعظم بھی اجلاسوں میں چائے بسکٹ نہیں دیتے تھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ موجودہ کمیٹی کی جانب سے آڈٹ بھی نہیں کروایا جا رہا،نعیم بخاری ممبر کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں فیصل سخی بٹ ،دانیال عزیز اور خرم کی سیاسی تقرریاں ہوئیں انٹرنل آڈٹ ہر سال ہو رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کے ایک ممبر کیس نہیں سننا چاہتے،نعیم بخاری نے کہا کہ کمیٹی سی ڈی اے کو 1880 ملین کی ادائیگی کرنا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 180کروڑ کی ادائیگی کا متعلقہ اتھارٹی فیصلے کرے ہم کچھ نہیں کریں گے،گن اینڈ کنٹری کلب قومی اثاثہ ہے جس کو ہم صرف تحفظ دینا چاہتے ہیں، حکومت جلد از جلد قانون سازی کرے اور کلب کے انتظامات کو سنبھالے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ برس فروری تک ملتوی کر دی

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • اعظم سواتی جس ویڈیو کا بار بار ذکر کر رہے ہیں وہ انہوں نے خود بنائی. فیصل واؤڈا

    اعظم سواتی جس ویڈیو کا بار بار ذکر کر رہے ہیں وہ انہوں نے خود بنائی. فیصل واؤڈا

    فیصل واؤڈا نے دعوٰی کیا ہے کہ اعظم سواتی جس ویڈیو کا بار بار ذکر کر رہے ہیں وہ انہوں نے خود بنائی ہے.

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اعظم سواتی جس ویڈیو کا بار بار ذکر کر رہے ہیں وہ ویڈیو انہوں نے خود بنائی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ کون سا غیرت مند آدمی ویڈیو لیک پر کہتا ہے کہ ہاں یہ میری ویڈیو ہے؟ انہوں نے کہا کہ ویڈیو انہوں نے خود بنائی، عمران خان سادہ آدمی ہیں ان کو سمجھ نہیں آرہی۔

    فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ اعظم سواتی کے پاس اگر ویڈیو اوریجنل ہے تو ان کے پاس ویڈیو کیسے آئی؟ ان کے پاس اوریجنل ویڈیو ہے تو باقیوں کے پاس جعلی کیسے ہے؟ انہوں نے کہا کہ ویڈیو سے متعلق اعظم سواتی کا سارا بیانیہ جھوٹا ہے، پہلے انہوں نے ویڈیو کو لے کر احتجاج کیا، پھر روئے، پھر مارچ کیا، اور جب کسی چیز سے بات نہ بنی اور اصلیت کھل گئی تو سوشل میڈیا پر فوج کو ماں بہن کی گالیاں دیں۔ پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے الزامات کی خود سپریم کورٹ نے تردید کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں

    ان کا مزید کہنا تھا سابق وزیر اعظم عمران خان کو اندر کے دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے بجائے باہر کے دشمنوں کے لہذا انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ان کو یہاں تک پہنچانے میں انہی کا ہاتھ ہے جنہیں وہ اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ عمران کو میری ضرورت نہیں لیکن پھر بھی جب بھی ان کو میری ضرورت پڑے گی میں ان کیلئے حاضر ہونگا.

  • پرویز الہٰی کے اپنے ہاتھ سے اسمبلی توڑتے وقت ہاتھ اور ٹانگیں کانپیں گی،عطا تارڑ

    پرویز الہٰی کے اپنے ہاتھ سے اسمبلی توڑتے وقت ہاتھ اور ٹانگیں کانپیں گی،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو لاڈلہ ہونے کی عادت ہے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ہٹا دی جاتی ہیں راولپنڈی ہماری حکومت ختم کرنے گئے اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر کے آ گئے، پی ٹی آئی نے رانا ثنااللہ سے ڈر کر راولپنڈی میں جلسہ کردیا،پرویز الہٰی کے اپنے ہاتھ سے اسمبلی توڑتے وقت ہاتھ اور ٹانگیں کانپیں گی،پنجاب میں ایسی ناکام حکومت کبھی نہیں دیکھی،ن لیگی رہنماوں نے جیلیں کاٹییں اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا،

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان ملکی سیاست میں غیرمتعلقہ ہو گئے ہیں، حکومت عمران خان کی4سالہ تباہی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہی ہے،عمران خان کی حکومت میں ملکی قرضوں میں تاریخی اضافہ ہوا، الیکشن وقت سے پہلے اس لیے کروائیں کہ عمران خان کااقتدارختم ہوگیا وفاقی حکو مت گرانے چلے تھےاپنی صوبائی حکومتیں گرانے کا اعلان کر کے چلے گئے نظام سے نکلنے کےاعلان کے باوجود اسی سے تنخواہ اور مراعات لے رہے ہیں کوئی فیس سیوینگ پی ٹی آئی کے کے کام نہیں آسکتی ، عوام ان کے حقیقی چہرے سے واقف ہیں

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

  • نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، چینی اور کھاد افغانستان اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنا دی گئی

    نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، چینی اور کھاد افغانستان اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنا دی گئی

    پاکستان کسٹمز کوئٹہ کی انسداد اسمگنگ مہم کے تحت افغان سرحد پر کامیاب کاروائی کی گئی جس کے تحت نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، چینی اور کھاد افغانستان اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنا دی گئی.

    پاکستان کسٹمز کوئٹہ کی انسداد اسمگنگ مہم کے تحت افغان سرحد پر کامیاب کاروائی کی گئی۔ پاکستان آرمی کے اشتراک سے نوکنڈی چیک پوسٹ درخشاں ڈویژن میں کی گئی اس کارروائی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے علاوہ افغانستان کو چینی اور کھاد کی بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا گیا۔
    اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز انفورسمٹ کوئٹہ شفیع اللہ ملک نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ چمن میں پاک، افغان سرحد پر اس مشترکہ کارروائی میں 67 قیمتی نان کسٹم پیڈ اسمگلڈ گاڑیاں، جن میں ایکوا، پریئس، رش، پراڈو، لینڈ کروزر، میرا برانڈ کی گاڑیاں شامل ہیں، برآمد کرکے انہیں ضبط کرلیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں

    انہوں نے بتایا کہ اس مشترکہ کارروائی میں پاکستان سے کھاد کے 12799 اور چینی کے 1960تھیلے افغانستان اسمگل کرنے کی کوشش کو بھی ناکام بنادیا گیا اور اسمگل شدہ مال ضبط کرلیا گیا۔ ضبط شدہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، چینی اور کھاد کی مالیت 36کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ شفیع اللہ نے بتایا کہ پاکستان کسٹمز کوئٹہ کلکٹریٹ نے مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔