Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • فیفا ورلڈ کپ: 974 کنٹینرز سے عارضی اسٹیڈیم تیار کرلیا گیا

    فیفا ورلڈ کپ: 974 کنٹینرز سے عارضی اسٹیڈیم تیار کرلیا گیا

    فیفا ورلڈ کپ کے لیئے 974 کنٹینرز سے عارضی اسٹیڈیم تیار کرلیا گیا ہے.

    قطر میں شروع ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کیلئے چالیس ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ کنٹینروں سے منفرد انداز میں اسٹیڈیم تیار کیا گیا ہے۔ یہ اسٹیڈیم دارالحکومت دوحہ کے دریا کے کنارے پر واقع ہے اور حماد بین الاقوامی ہوائی اڈے سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بی بی سی کے مطابق سٹیڈیم کے ڈیزائن کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں قدرتی ہوا اسٹیڈیم میں گردش کرتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس میدان کو ائر کنڈیشنگ کے نظام کی ضرورت نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
    اس سے توانائی کے اخراجات کو کم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اس سٹیڈیم میں ورلڈ کپ کے سات میچز کھیلے جائیں گے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ یہ پورا منصوبہ قریب واقع بندرگاہ اور دوحہ کی سمندری روایات اور تاریخ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ سٹیڈیم 974 واٹر فرنٹ سائٹ پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ ایک مصنوعی جزیرے پر واقع ہے، اسٹیڈیم کو 974 ری سائیکل شپنگ کنٹینرز سے تعمیر کیا گیا ہے۔ فٹبال ورلڈ کپ کے بعد سٹیڈیم میں استعمال ہونے والے شپنگ کنٹینرز اور سیٹیں ختم کر کے دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک کو امداد کے طور پر عطیہ کردیا جائے گا.

    واضح رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر نے فیفا فٹبال ورلڈکپ کے دوران شائقین کے مختصر لباس یعنی کندھوں کو کھلا رکھنا اور گھٹنے سے اوپر کے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے اور کسی کو بھی مختصر لباس پہننے کی اجازت نہیں ہو گی۔

  • موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث سیلاب زدگان کا معاملہ دب کر رہ گیا

    موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث سیلاب زدگان کا معاملہ دب کر رہ گیا

    موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث سیلاب زدگان کا معاملہ دب کر رہ گیا، ضلع دادو میں سیلاب کے 3 ماہ بعد بھی حالات انتہائی خراب ہیں۔

    پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کیلیے اقوام متحدہ کو آئندہ سال مئی تک کیلیے 816 ملین ڈالر کی ضرورت ہے لیکن ان میں سے صرف 174 ملین ڈالرز تاحال مل سکے ہیں جو کہ سیلاب سے شدید متاثرہ لوگوں کو اشیائے خور و نوش پہنچانے کیلیے ضرورت کی رقم کا 21 فیصد بنتا ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ سمیت سیلاب زدگان کیلیے کام کرنے والی دیگر امدادی تنظیمیں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حسیب حنیف کے مطابق اگر فنڈز نہیں ملتے تو آئندہ ایک سے 2 ماہ میں 9.5 ملین سیلاب سے شدید متاثرہ لوگوں تک اشیائے خور و نوش تک بھی نہیں پہنچائی جا سکیں گی، ’’ایکسپریس‘‘ کی جانب سے سیلاب سے شدید متاثرہ سندھ کے ضلع دادو کا دورہ کیا گیا، ضلع دادو کے علاقے مہیڑ اور خیر پور ناتھن شاہ سیلاب کے 3 ماہ بعد بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور لوگ خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یواین سمیت چند دیگر ملکی و بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس علاقے کے لوگوں کو کھانے کے لیے اشیاء خور و نوش اور رہنے کیلیے ٹینٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
    بچوں کو عارضی اسکولوں میں تعلیم فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایکسپریس نے سندھ کے ضلع دادو میں امدادی سرگرمیوں میں سرگرم یو این کے نمائندوں سے بات چیت کی جن کا کہنا تھا کہ دادو سمیت تقریباً تمام علاقوں میں سیلاب زدگان کی صورتحال بہت خراب ہے۔ یہ لوگ اب اپنے گھروں میں واپس جانا چاہتے ہیں مگر ان کے گھر پانی میں بہہ چکے ہیں لوگ ٹینٹ لگا کر خیمہ بستیوں کی شکل میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے آئندہ چند ماہ میں اگر ریلیف اقدامات پر مؤثر توجہ نہ دی گئی تو اموات کا بھی بڑا خطرہ ہے، سیلاب سے 5.4 ملین لوگ بے گھر ہوئے۔ سیلاب میں متاثرہ لوگ گھروں کے ساتھ ساتھ اپنا ذریعہ معاش بھی کھو چکے ہیں۔ لوگوں میں نفسیاتی مسائل بھی بڑھتے جانے کی رپورٹس موصول ہورہی ہیں۔

  • اپنے آپ کو حسا س ادارے کا اہلکا ر ظاہر کرنیوالا ملزم گرفتار

    اپنے آپ کو حسا س ادارے کا اہلکا ر ظاہر کرنیوالا ملزم گرفتار

    اپنے آپ کو حسا س ادارے کا اہلکا ر ظاہر کرنیوالا ملزم گرفتار

    کیپیٹل پولیس تھا نہ شالیمار ٹیم کی کا میا ب کا رروائی، اپنے آپ کو حسا س ادارے کا اہلکا ر ظاہر کر نے والے ملزم کو گرفتار کر کے اسکے قبضہ سے جعلی کا رڈ و دیگر اشیا برآمد کرلی ،گرفتار ملزم کیخلاف مقدمہ درج،مزید تفتیش جاری ہے۔

    انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آبادڈاکٹر اکبر ناصر خاں کے خصوصی احکامات پر اسلام آباد کیپیٹل پولیس وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور جرائم کا قلع قمع کرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے، اس سلسلہ میں تھا نہ شالیمارپولیس ٹیم نے جدید تکنیکی اور ہیومن ریسورسز کی مدد سے اپنے آ پ کو حسا س ادارے کا اہلکا ر ظاہر کر نے والے ملزم کو گرفتار کرلیا،ملزم کی شناخت مومن خان کے نام سے ہوئی ہے،ملزم کے قبضے سے حساس ادارے کاجعلی سروس کارڈ و دیگر اشیا برآمد کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا ،مزید تفتیش جاری ہے،

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس وفاقی دارلحکومت کو امن کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے، شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکو ک سرگرمی کے متعلق فوری اپنے متعلقہ تھانہ یا "پکار”15-پر اطلاع دیں۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

  • ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل تھے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کا حصہ تھے ، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں عمران خان کے وکیل عدالت میں درست ریسپانڈ کرینگے، سپریم کورٹ اپنا یہ دائرہ اختیار خیال سے استعمال کرتی ہے،ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے

    سرکاری وکیل نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عدالت میں پیش نہیں کی جاسکیں عدالت نے ایک کمیٹی بنائی ،اراکین کے نام عدالت میں پیش کیے گئے، جسٹس اعجا ز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس وقت فریقین کو اس گراونڈ میں جلسہ کرنے کے لیے نام مانگے تھے، پہلا جو احتجاج تھا اس پر وقت ملنے کے بعد عدالت میں نام دیئے گئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جیمرز موجود تھے کی بات کی گئی تھی،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ ہم اس بارے میں عدالت میں سی ڈی آر پیش کرسکتے ہیں،اس وقت سوشل میڈیا پر تمام تر معلومات آگئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو آرڈر دیا تھا وہ آدھے گھنٹے میں سامنے آگیا تھا اس وقت عمران خان کے وکیل کو سنتے ہیں اخباروں میں جو آرٹیکلز لکھے گئے اس پر ہم نہیں جاتے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا کنٹینر پر موبائل کام کرہے تھے یا نہیں، میرا جواب یہ ہے کہ اس وقت کنٹینرز کے پاس موبائل ٹاورز کام کررہے تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں سوچ سمجھ کر آگے کارروائی لے کر جانی ہوگی،درخواست گزار نے درخواست جمع کرائی جس میں کمیونی کیشن کی تفصیل دی گئی گزشتہ رات جواب جمع کرائی گئی جس پرمخالف فریق کو جواب دینے کے لیے وقت درکار ہے، فریق مخالف وکیل اپنا جواب جمع کرائیں، جو یو ایس بی پیش کی گئی وہ بھی فریق مخالف کو فراہم کی جائے،کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کریں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریلی والوں کو تو پابند کریں کہ وہ قوائد وضوابط کی پابندی کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت قانون میں دائرہ اختیارمیں کوئی ایسا حکم جاری نہیں کرسکتے جو انتظامی ہو،اس معاملے میں عمران خان کے وکیل کا جواب آنے دیا جائے، سپریم کورٹ اپنے اختیار کو محتاط ہوکر استعمال کرتی ہے، اگر ہمارے احکامات کی توہین ہو تو پھر کارروائی کرتے ہیں، عمران خان نے تفصیلی جواب جمع کرایا ہے، امید ہے عمران خان نے درست اور حقائق پر مبنی جواب جمع کرایا ہوگا،ہم فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کر رہے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان کے جواب پر وزارت داخلہ نے جواب داخل کیا ہے

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اگر یو ایس بی کی دوسری سائیڈ نے تردید کر دی توکیا ہوگا؟ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ پلیز شواہد سے متعلق قانون کو پڑھیں،اگر وہ یہ کہہ دیں کہ موبائل ان کے پاس نہیں تھا تو پھر ؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ بے شک تردید کر دیں، ان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹس ہوتی رہی ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متفرق درخواست کی نقل دوسری سائیڈ کو فراہم کریں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کے کچھ حقائق ہیں، جیمر سے متعلق آپ نے وضاحت کی ہے،آپ کہہ رہے ہیں جیمرز نہیں تھے، عمران خان اور دیگر نے جواب جمع کروایا ہے،عدالت، توہین عدالت کے اختیار کے استعمال میں محتاط ہے،سپریم کورٹ بھی محتاط ہے کہ ہمارے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو، آپ کی دلیل ہے کہ عدالتی حکم نامہ میڈیا کے ذریعے ملک بھر پھیل چکا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئی جی کو طلب کیاتھا، انہوں نے کہا ہم سیکیورٹی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرواسکتے،

    سپریم کورٹ ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی، حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد پر پی ٹی آئی وکیل کی جواب جمع کرانے کی مہلت مل گئی،عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون آفس میں ہو تو سی ڈی آر سے کیا ثابت ہوگا ؟ وکیل نے کہا کہ سی ڈی آر سے پتہ چل جائے گا کہ موبائل کس جگہ سے آپریٹ ہوا عدالت مناسب سمجھے تو سی ڈی آر منگوا لے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں مقدمہ کی اچھی تیاری کی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت ملتی ہے توپی ٹی آئی کو قانون پر عملدرآمد کا پابند کیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 25 مئی کا حکم موجود ہے،امید ہے تحریک انصاف قانون پر عملدرآمد کرے گی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو قانون پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ متفرق درخوست اور حکومت کے جواب کی کاپی عمران خان کے وکیل اور دیگر فریقین کو فراہم کی جائے،عدالت نے وزرات داخلہ کا متفرق جواب عمران خان، بابر اعوان اور فیصل چودھری کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو ایس بی کی کاپی بھی فراہم کی جائے، عدالت نے وزرات داخلہ کو یو ایس بی کی کاپی بھی عمران خان اور دیگر فریقین کو دینے کا حکم دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے ہمارا پچھلا آرڈر پڑھا؟ ہمارے ایک جج نے گزشتہ آرڈر سے اختلاف کیا ہے، وکیل نے کہا کہ جمع شواہد میں عمران خان کے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون دکھائی دے رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو جذباتی ہو کر نہیں پرسکون ہو کر سننا چاہتے ہیں،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • کراچی والوں کے لئے بجلی 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    کراچی والوں کے لئے بجلی 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    کراچی والوں کے لئے بجلی 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    کے الیکٹرک کے صارفین کیلئے بجلی 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے۔ کراچی کے بجلی صارفین کیلئے اچھی خبر ہے، کیوں کہ شہر کے باسیوں کے لئے بجلی 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے۔ کے الیکڑک نے نیپرا میں جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں دائر کر دی ہیں، نیپرا کے الیکڑک کی درخواستوں پر 30 نومبر کو سماعت کرے گا۔

    کے الیکٹرک نے نیپرا میں اکتوبر کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی 1 روپے 88 پیسے سستی کرنے کی درخواست کی ہے۔ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ سے صارفین کو 3 ارب 15 کروڑ 70 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا۔ دوسری جانب بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید 24 پیسے اضافے کا امکان ہے۔ لہذا یہ بجلی صارفین کے لئے بری خبر ہے، کیوں کہ بجلی 24 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
    سینٹرل پاور پرچيزنگ ايجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں درخواست دے دی ہے، جس میں بجلی کی قیمت میں اضافہ اکتوبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔ سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں مؤقف پیش کیا ہے کہ اکتوبر میں 10 ارب 37 کروڑ 72 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، اور بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے 14 پیسے فی یونٹ رہی۔ سی پی پی اے کے مطابق پانی سے 29.37 فیصد، کوئلے سے 15.47 فیصد، مقامی گیس سے 12.12 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 17.22 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 29 نومبر کو سماعت کرے گا۔

  • سیہون شریف حادثہ، 20 اموات،تدفین کیلئے اجتماعی قبریں کھودی جا رہی

    سیہون شریف حادثہ، 20 اموات،تدفین کیلئے اجتماعی قبریں کھودی جا رہی

    سیہون میں درناک، المناک ٹریفک حادثہ ہوا ہے، ایک ہی خاندان کے 20 افراد کی موت ہو گئی ہے

    زائرین کی وین انڈس ہائی وے روڈ پر لگائے کٹ میں جاگری، خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق ہو گئے، زائرین کی وین کو حادثہ انڈس ہائی وے ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا زائرین کی وین خیرپور سے سیہون جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی زائرین کی وین میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے ،لاشیں آبائی علاقے میں پہنچا دی گئی ہیں، تدفین کے لئے اجتماعی قبروں کی کھدائی کی جارہی ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پانی کے اخراج کیلئے کٹ لگائے گئے جو بھرے نا جا سکے

    اطلاعات کے مطابق خیرپورکارہائشی شاہنوازکے گھرمیں7 بیٹیوں کے بعد بیٹا پیداہوا تھاجس کی خوشی میں وہ اپنی فیملی اوررشتہ داروں کے ہمراہ زیارت کے لئے سیہون شریف جارہا تھا لیکن بدنصیب فیملی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئی بیٹا اور بیٹیوں سمیت 20 افراد حادثے کا شکاربن گئے

    سیہون وین حادثہ میں فوت ہونے والوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں

    01 کلثوم ولد الطاف حسین
    02 مسمات صدیر زوجہ غلام حیدر
    03 ہیر ولد غلام شبیر۔
    04 محمودہ ولد غلام شبیر
    05 نعمان ولد الطاف
    06 مسمات سنہ زوجہ عرفان علی
    07 دلشاد ولد الطاف حسین
    08 مسمات بھمبل خاتون زوجہ غلام حیدر
    09 بینظیر زوجہ شاہنواز
    10 اللہ ڈنو ولد شاہنواز
    11 عثمان ولد غلام شبیر
    12 محبوب ولد غلام عباس
    13 مسمات جمن خاتون زوجہ غلام عباس
    14 مسمات لیلا زوجہ غلام نبی
    15 مسمات شاہدہ زوجہ شاہ نواز
    16 شھزادو ولد غلام عباس
    17 مسمات سونھ ولد شاہنواز
    18 شاہنواز ولد غلام عباس
    19 مدیہ ولد غلام عباس
    20 اللہ دنی ولد غلام رضا

    تمام فوت ہونے والے بچے اور خواتین فلپوٹو برادری سے تعلق تھا جوکہ درگاہ قلندر لعل شھباز پر حاضری دینے آرہے تھے

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سیہون شریف کے قریب ٹریفک حادثے میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے، صدر مملکت نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے،صدر مملکت نے جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے دعائے مغفرت کی ہے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے سیہون کے قریب ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس کیا، اور کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر بہت رنجیدہ ہوں، آصف علی زرداری نے ہدایت کی کہ حکومت سندھ حادثے میں جانبحق افراد کے لواحقین کی ہر ممکن مدد کرے ،

    پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سیہون کے قریب المناک حادثے پر اظہار رنج و غم کیا اور کہا کہ افسوسناک حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع باعث صدمہ ہے حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں

  • سیلاب نقصانات و بحالی کے تخمینوں پر اختلافات، آئی ایم ایف جائزہ مشن کا دورہ تاخیر کا شکار

    سیلاب نقصانات و بحالی کے تخمینوں پر اختلافات، آئی ایم ایف جائزہ مشن کا دورہ تاخیر کا شکار
    حکومت پاکستان کی طرف سے سیلاب کے نقصانات اور تعمیر نو و بحالی کے تخمینوں پر آئی ایم ایف کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے عالمی ادارے کا جائزہ مشن تاخیر کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔ آئی ایم ایف نے قرضہ پروگرام کے 9ویں جائزے پرپیشرفت کے لیے پاکستان سے رواں سال کے بجٹ میں سیلاب سے متعلق انسانی امداد اور بحالی کے ترجیحی اخراجات کے تخمینوں کے اعدادوشمار مانگ رکھے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے عالمی ادارے کو 251 ارب روپے کے تخمینوں پر مشتمل رپورٹ بھیجی تھی جس میں وفاق اورصوبوں کی طرف سے تیارکی گئی رپورٹیں شامل تھیں۔

    حکومت پاکستان کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سیلاب اس کی طرف سے سیلاب کے نقصانات و بحالی کے اخراجات کا تخمینہ 251 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 164ارب روپے تو اب تک تقسیم بھی کیے جاچکے ہیں۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا تھا کہ 88 ارب روپے تو وفاقی وزارت خزانہ نے جاری کیے ہیں،تین ارب پنجاب،40ارب سندھ حکومت ،25ارب خیبرپختونخوا حکومت اور 8 ارب روپے بلوچستان حکومت کی طرف سے تقسیم کیے گئے ہیں۔باقی 66 ارب روپے کسان پیکج کے ذریعے تقسیم کردیئے جائیں گے ۔ لیکن آئی ایم ایم ایف نے ان اعداد وشمار کو غیرحقیقی قراردے کر اس رپورٹ پراعتراضات لگا دیئے ہیں۔اس کاکہنا ہے کہ یہ اعداد وشمار نہ تو اب تک حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے سیاسی بیانوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی عالمی امدادی اداروں کی طرف سے سیلاب کے بعد لگائے گئے نقصانات اور امداد کے بارے میں لگائے گئیاندازوں کی رپورٹ سے ملتے جلتے ہیں۔

    حکومت اور آئی ایم ایف میں اعدادوشمار پر ان اختلافات کی وجہ سے وزارت خزانہ کے ذرائع کے بقول عالمی ادارے کے جائزہ مشن کا دورہ اگلے دو ہفتوں کے دوران تو ہوتا نظر نہیں آرہا۔اگر آئی ایم ایف مشن اگلے دو ہفتوں میں پاکستان نہ آیا تو پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط کا جنوری تک ملنا محال ہوجائے گا۔آئی ایم ایف کی نظر میں ابھی بہت سے معاملات ہیں جن سے حکومت نے اسے آگاہ نہیں کیا،ان میں ایک یہ ہے کہ حکومت سیلاب کے ضلع وار نقصانات سے اسے آگاہ نہیں کرسکی۔ عالمی ادارہ فلڈ ریلیف اوربحالی و تعمیرنو کی سال 2022-23ء کی تفصیلات مانگ رہا ہے نہ کہ آنے والے کئی برسوں کی تفصیل جس کا تخمینہ 16.3ارب ڈالر یا 3.5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے ۔آئی ایم ایف پروگرام فریم ورک کیلئے سیلاب کے نقصانات اور بحالی کا صحیح اندازہ لگانا بہت ضروری ہے تاکہ ٹیکس محاصل اور اخراجات میں کٹوتیوں کا ٹھیک جائزہ لیا جاسکے ۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیڈلاک کو ختم کرنے کیلئے جمعرات کو وفاقی وزیرخزانہ سینٹر اسحاق ڈارنے پاکستان کیلئے آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر سے آن لان ملاقات کی ۔ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ اس ملاقات میں آئی ایم ایف مشن چیف کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے16.3ارب ڈالرکے تخمینے پرقائل نہیں کرسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ناتھن پورٹر کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے16.3ارب ڈالر یا 3.5 ٹریلین روپے کے تخمینے پرقائل نہیں کرسکے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کیلئے بحالی اور تعمیر نوفریم ورک کی تیاری 15دسمبر سے پہلے ممکن نہیں ۔ذمہ داری اب وزارت پلاننگ پرآگئی ہے کہ وہ یہ فریم ورک بروقت مہیا کرے ۔ایک سرکاری عہدیدارنے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ اب وزارت خزانہ وزارت پلاننگ سے کہے گی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ساری تفصیلات فراہم کرے ۔تاہم وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے ایک سوال کے جواب میں امید ظاہرکی ہے کہ عالمی ادارے کا جائزہ مشن اس ماہ کے آخر تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔

    اگرمشن کے دورے میں مزید تاخیر ہوتی تو پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزیدنازک ہوجائے گی کیونکہ یوں بجٹ سپورٹ کیلئے عالمی بینک سے جو رقم ملنا ہے وہ بھی نہیں ملے گی۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو بیرونی ادائیگیوں کیلئے ناکافی ہیں۔آئی ایم ایف مشن میں تاخیر سے بیرونی مارکیٹوں اور تھینک ٹیکس کو بھی غلط اشارے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عالمی ادارے کے مشن نے اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا اور تین نومبرتک پاکستان کو 1.2ارب ڈالر ملنا تھے۔پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے نمائندے ایستھرپیرز سے جب سیلاب متاثرین کے بارے میں پاکستان کے فریم ورک کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کاکوئی جواب نہیں دیا۔حکومت پاکستان کی فنانس ڈویژن کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں فریقین نے آئی ایم ایف کے جاری پروگرام میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    خاص طور پر میکرو اکنامک فریم ورک اور رواں سال کے اہداف پر سیلاب کے اثرات پر بات کی گئی۔ آئی ایم ایف نے غریبوں اور پسماندہ افراد خصوصاً سیلاب متاثرین کے لیے ٹارگٹڈ زر اعانت پر ہمدردانہ غور کے لئے اپنی رضامندی کا عندیہ دیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رواں سال کے دوران سیلاب سے متعلق انسانی امداد کے اخراجات کے تخمینے اور بحالی کے ترجیحی اخراجات کے تخمینے پر مضبوطی سے کار بند رہا جائے گا۔ اس سلسلے میں 9ویں جائزے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تکنیکی سطح پربات چیت اور جائزے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حکومت پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • سید فخر علی شاہ ورلڈ بیس بال سافٹ بال کنفیڈریشن کے ممبر ڈویلپمینٹ کمیشن مقرر

    سید فخر علی شاہ ورلڈ بیس بال سافٹ بال کنفیڈریشن کے ممبر ڈویلپمینٹ کمیشن مقرر

    سید فخر علی شاہ ورلڈ بیس بال سافٹ بال کنفیڈریشن کے ممبر ڈویلپمینٹ کمیشن مقرر

    WBSC کے صدر ریکارڈو فکاری نے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد انہیں کمیشن کا ممبر مقرر کرنے کا لیٹر جاری کردیا ہے۔

    تقرری،پاکستان اور بیس بال حلقوں کے لیئے اعزاز کی بات ہے۔پرستاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔سید فخر علی شاہ نے میڈیا مینیجر پرویز شیخ سے گفتگو 

    سید فخر علی شاہ ورلڈ بیس بال سافٹ بال کنفیڈریشن کی جانب سے WBSC کے ممبر ڈویلپمینٹ کمیشن مقرر ہوگئے ہیں۔ WBSC کے صدر ریکارڈو فکاری نے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد انہیں ڈویلپمنٹ کمیشن کا ممبر مقرر کرنے کا لیٹر جاری کردیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ سید فخر علی شاہ کی مہارت اور انہیں حاصل ہمارے کھیل کا علم اس کمیشن کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ثابت ہو گا اور میں اور ہماری تنظیم ترقی اور کامیابی کے لیئے میں آپ کے تعاون کے منتظر ہیں۔انکا مذید کہنا ہے کہ اس کمیشن کے چیئرمین مسٹر اینجلو وِسینی ہیں اور میں آپ کی تقرری پر اپنی مخلصانہ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس دوران آپ کی ہر کامیابی کی خواہش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے دور میں کامیابیاں حاصل کریں گے۔

    اس ضمن میں سید فخر علی شاہ نے میڈیا مینیجر پرویز احمد شیخ کو مذید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے تمام پرستاروں کا اپنی تقرری پر خیرمقدم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انکا کہنا ہے کہ ہمارے خطے میں یہ عہدہ پہلی بار دیا گیا ہے اور یہ پاکستان اور بیس بال حلقوں کے لیئے اعزاز کی بات ہے۔

  • آئر لینڈ اور پاکستان کی کرکٹرز ویمنز لیگ کی منتظر

    آئر لینڈ اور پاکستان کی کرکٹرز ویمنز لیگ کی منتظر

    آئر لینڈ اور پاکستان کی کرکٹرز ویمنز لیگ کی منتظر

    آئرش ویمن کرکٹرز نے اگلے برس مارچ میں ویمنز لیگ کے لئے دوبارہ پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    آئرش ویمن کرکٹ ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز کھیلنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو چکی ہے ، ٹی ٹونٹی پلئیر آف دی سیریز گیبی لوئس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہمارے لئے سب کچھ اچھا رہا ، میں یہاں دوبارہ آ کر کھیلنا چاہوں گی ویمنز لیگ کے لئے مجھے موقع ملا تو ضرور آؤں گی ، اورلا پینڈرگسٹ کا کہنا ہے کہ ویمنز لیگ میں کھیلنا ہمارے لئے ایک بڑا اچھا موقع ہو گا میرے خیال میں جس کو بھی موقع ملا وہ یہاں آکر کھیلے گی ، ایمئیر رچرڈسن کا کہنا ہے کہ جتنی بھی کھلاڑی یہاں ہیں وہ موقع ملنے کے لئے پرجوش ہیں

    منیبہ علی کا کہنا ہے کہ ویمنز لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ کا قابل ستائش اقدام ہے غیر ملکی کھلاڑیوں نے مجھ سے بات کی اور دلچسپی ظاہر کی ،فاطمہ ثنا کا کہنا ہے کہ ویمنز لیگ ہمارے لئے ایک بہت اچھا موقع ہے جویریہ خان کا کہنا تھا کہ ویمنز لیگ سے ٹاپ ٹیموں اور ہمارے درمیان موجود گیپ ختم ہوگا

  • کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    علامہ شبلی نعمانی

    3 جون 1857 یوم پیدائش

    18 نومبر 1914 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔
    علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    شبلی نعمانی صاحب کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
    جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

    قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
    تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
    ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
    صورت آئینہ حیراں رہ گیا

    یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
    آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

    ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
    میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
    حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

    عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
    کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے

    فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
    بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا

    جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
    بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

    میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
    ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

    تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
    تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

    یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
    کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا