Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر آہنی دروازے نصب

    ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر آہنی دروازے نصب

    ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر آہنی دروازے نصب کردیئے گئے.
    ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر آہنی دروازے نصب کردیئے گئے ہیں، اب ہر کوئی ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کو بلوائیوں کے حملوں اور روز روز کے دھرنوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے، ماضی کی طرح اب ریڈزون میں کوئی احتجاجی تماشہ نہیں لگایا جاسکے گا اورہر کوئی ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکے گا، کیوں کہ ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر آہنی دروازے نصب کردئیے گئے ہیں۔

    ریڈ زون جانے والے تینوں راستوں پر 3 سیکیورٹی دروازے لگا دئیے گئے ہیں، ایک گیٹ ڈی چوک، دوسرا نادرا چوک، تیسرا سرینا ہوٹل کے سامنے نصب کیا گیا ہے۔ سرینا چوک پر نصب دروازے کی چوڑائی 100 فٹ جبکہ اونچائی 10 فٹ ہے۔ نادرا چوک والا دروازہ 90 فٹ چوڑا ہے۔ ترجمان سی ڈی اے آصف شاہ نے اس حوالے سے بتایا کہ ریڈ زون پر ڈپلومیٹک مشنز ہیں، حساس انسٹالیشنز لگی ہوئی ہیں، گیٹس لگانے کا مقصد یہی ہے کہ حساس علاقہ ہے تو سیکیورٹی کی صورتحال اگر ہوتی ہے تو ان چیزوں کو تحفظ دیا جائے،
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ اسحاق ڈار نے نواز شریف کو زرداری اور فضل الرحمان کا کونسا پیغام دیا؟
    سیکیورٹی گیٹس کی تنصیب پر خرچ کا تخمینہ تقریباً 4 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اور ان دروازوں کی تنصیب کا فیصلہ آئے روز کے احتجاج اور دھرنوں کے باعث کیا گیا ہے. ریڈ زون اور بالخصوص پارلیمنٹ تک جانے والے راستوں پر نصب یہ آہنی دروازے اب صرف آئین اور قانون کی چابی سے ہی کھلیں گے، جتھوں کے ہمراہ آنے والوں کو یہ راستہ ہمیشہ بند ملے گا۔

  • اسحاق ڈار نے نواز شریف کو زرداری اور فضل الرحمان کا کونسا پیغام دیا؟

    اسحاق ڈار نے نواز شریف کو زرداری اور فضل الرحمان کا کونسا پیغام دیا؟

    اسحاق ڈار نے نواز شریف کا اہم پیغام زرداری اور فضل الرحمان کو پہنچا دیا

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا اہم پیغام زرداری اور فضل الرحمان کو پہنچا دیا ہے۔ ملکی صورت حال پر مسلم لیگ ن کے اتحادی جماعتوں سے رابطوں کے دوران برطرف وزیراعظم نواز شریف کا اہم پیغام پہنچا دیا۔ سینیر ن لیگی رہنما اسحاق ڈار نے جمعرات 17 نومبر کو سابق صدر آصف علی زرداری اور سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ ( پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، اس موقع پر اسحاق ڈار نے نواز شریف کا اہم پیغام پہنچایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
    ملاقات کیلئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ن لیگی وفد کے ہمراہ زرداری ہاؤس پہنچے، جہاں ان کی آصف زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی۔ سیاسی رہنماؤں کے درمیان اس موقع پر ملکی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس دوران ملاقات میں وزیر خزانہ نے نواز شریف کا اہم پیغام بھی جیالے قائدین تک پہنچایا۔ ن لیگی وفد نے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے نواز شریف کا خصوصی پیغام مولانا فضل الرحمان کو بھی پہنچا دیا ہے۔

  • ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ

    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ

    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق عمران خان پر حملےکےخدشات ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی اجازت کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج کرنا سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کا حق ہے، لیکن عام شہریوں،تاجروں کےبھی حقوق ہیں جو متاثر نہیں ہونے چاہیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انگلینڈ میں بھی مظاہرین ٹین ڈاؤن اسٹریٹ پر آ جاتے ہیں، وہ احتجاج کرتے ہیں لیکن سڑک بلاک نہیں کرتے، ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی۔ چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے کہ لاہورہائیکورٹ میں بھی یہ معاملہ آیا تھا اورکچھ ہدایات دی گئی ہیں، اگر انہوں نے کہہ دیا کہ راستے بند نہیں ہوں گے تو ٹھیک ہے۔ دوران سماعت اینٹیلی جنس رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ عمران خان پر جلسے کے دوران حملے کا خدشہ ہے۔
    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
    پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
    ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق عمران خان پر حملےکےخدشات ہیں، حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس چیز کو بھی مدنظر رکھے۔ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ اگر آپ ڈپٹی کمشنر کے کسی آرڈر سے متاثرہوئے تو عدالت آئیں گے، آپ نے جی ٹی روڈ، موٹر وے اور دیگر شاہراہیں بلاک کیں، آپ کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ میں موٹروے پر گیا تو 10 لوگ تھے اور موٹروے بند تھی، 10 لوگوں کی قیادت زلفی بخاری کررہے تھے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نہیں نہیں ، نام نہ لیں کسی کا۔

  • سندھ ہائی کورٹ  نے الیکشن کمیشن  کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا

    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا

    سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمعہ 18 نومبر کو کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ نے جمعہ 18 نومبر کو کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی درخواستوں اور تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے خلاف کیس کا 16 نومبر کو محفوظ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ حسن اکبر، پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان و دیگر پیش فریقین پیش ہوئے۔ عدالت نے فیصلے میں حکم دیا کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے۔ اس موقع پر عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی فراہمی بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت عالیہ نے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو نفری فراہم کرے۔

    عدالت نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے کراچی، حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ سندھ میں دوسرے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہونا تھے، تاہم سندھ حکومت نے سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر پولیس کی نفری نہ ہونے پر سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ بعد ازاں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ 28 اگست رکھی گئی لیکن اس تاریخ کو بھی الیکشن نہ ہونے پر ایک بار پھر تاریخ 23 اکتوبر رکھی گئی تھی مگر تیسری مرتبہ بھی انتخابات ملتوی کردیئے گئے۔ سندھ حکومت کی جانب سے دائر کردہ تیسری درخواست میں الیکشن کمیشن کو مطلع کیا گیا تھا کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے تقریباً 5 ہزار پولنگ اسٹیشنز کے لیے 16 ہزار 786 پولیس اہلکاروں کی کمی ہے۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی کراچی میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔ رواں ماہ بھی سندھ کابینہ نے مزید 90 روز کی تاخیر سے الیکشن کرانے کی تجویز منظور کرلی تھی جس کے بعد کراچی میں بلدیاتی الیکشن ایک بار پھر ملتوی ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ سندھ حکومت کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیلاب کے بعد کی صورت حال میں کراچی پولیس سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں اضافی فرائض انجام دے رہی ہے، سیلاب کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کراچی کے مختلف اضلاع میں منتقل ہوگئی ہے، وہاں سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے بھی پولیس کی تعیناتی ضروری ہے۔

    سندھ حکومت نے استدعا کی تھی کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کراچی میں 23 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو 3 ماہ کے لیے ملتوی کیا جائے جس پر الیکشن کمیشن نے کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل 24 جولائی کو کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات شیڈول تھے اور اس حوالے سے تیاریاں بھی تقریباً مکمل کرلی گئی تھیں۔ 24 جولائی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات 20 جولائی کو ممکنہ بارشوں کے پیش نظر ملتوی کرکے 28 اگست کو کرانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 28 اگست کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات بھی ملتوی کردیے گئے تھے۔

    قبل ازیں 26 جون کو پہلے مرحلے میں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے کُل 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔ گزشتہ سماعتوں کے دوران کراچی میں ضمنی انتخابات کی تاریخ میں تاخیر پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے الیکشن کمیشن حکام کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرائے جارہے؟ بہت ہوگیا الیکشن کرائیں۔

  • چینی کمپنی نے ہتھیلی کے نقش سے رقم کی ادائیگی کا آغاز کر دیا

    چینی کمپنی نے ہتھیلی کے نقش سے رقم کی ادائیگی کا آغاز کر دیا

    چینی کمپنی نے ہتھیلی کے نقش سے رقم کی ادائیگی کا آغاز کر دیا

    چینی کمپنی نے لوگوں کی ہتھیلی کو بطور کارڈ استعمال کرکے رقم کی ادائیگی کے تجربات کیے ہیں۔ اس کمپنی کا نام ٹینسنٹ ہے جس کی ویڈیو چینی ٹک ٹاک ڈوین پر جاری کی گئی ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص کو دیکھا جاسکتا ہے جو اپنی ہتھیلی کے نقوش اسکین کرکے سافٹ ڈرنک حاصل کرتا ہے۔ یہ شخص چینی سوشل میڈیا وی چیٹ سے تعلق رکھتا ہے جو ٹینسنٹ کمپنی کے سہولت استعمال کرنے والا پہلا ادارہ بھی ہے۔

    کمپنی کے مطابق کئی ماہ سے اس کے تجربات جاری تھے اور پہلی مرتبہ چینی شہر گوانگ زو میں اس کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ہتھیلی کے نقوش سے شناخت اور رقم کی ادائیگی کے حامی اسے دیگر بایومیٹرک نظام سے قدرے بہتر تصور کرتے ہیں۔ تاہم اس پر ایک بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ ہتھیلی کے نقوش چرانا یا ان کی نقل بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک فنگر پرنٹ آنکھوں کے نقوش کو محفوظ تر خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن تمام ٹیکنالوجی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جلد یا بدیر کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ختم ہوجائیں گے ۔ دوسری جانب چینی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ڈیٹا سائنس کے پروفیسر ڈیوڈ زینگ کہتے ہیں کہ چین گزشتہ 20 برس سے ہتھیلی کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے اور اب اس کے استعمال پر غور ہو رہا ہے۔

    چین میں اب بھی کووڈ 19 وبا کے آثار ہیں اور ماسک پہنے لوگ اب بھی ہاتھ ملانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں ہتھیلی کی ٹیکنالوجی قدرے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ ایمیزون نے اپنے باقاعدہ 180 اسٹور پر پہلے ہی ہتھیلی کے اسکینر نصب کر رکھے ہیں جہاں ہتھیلی سے وابستہ اکاؤںٹ سے رقم کٹتی ہے اور آپ اشیا گھر لے جاسکتے ہیں۔ زائد آبادی کی وجہ سے چین میں اس وقت الی پے کا راج ہے لیکن پام ٹیکنالوجی سے ادائیگی کی گنجائش موجود ہے۔ ٹینسنٹ کمپنی نے ابتدائی طور پر رجسٹر ہونے والے رضاکاروں کو سوا ڈالر مفت دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اسے آزما سکیں۔

  • گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج ہفتے تک مؤخر لیکن کیا معاملات حل جائیں گے؟

    گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج ہفتے تک مؤخر لیکن کیا معاملات حل جائیں گے؟


    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنا احتجاج ہفتے کے روز تک مؤخر کردیا لیکن کیا اس دوران معاملات حل ہوجائیں گے.

    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنا احتجاج ہفتے کے روز تک مؤخر کردیا ہے، سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے او پی ڈی ،آپریشن سمیت دیگر سروسز بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ہیلتھ رسک الاؤنس کی عدم فراہمی کے خلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کراچی پریس کلب کے باہر 35 روز تک دھرنا جاری رہا تھا، ہیلتھ رسک الاؤنسز سے محروم مشتعل ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے گزشتہ ایک ماہ سے سوائے ایمرجنسی اور آئی سی یو تمام سروس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ مظاہرین کے مطالبات میں ہیلتھ رسک الاؤنس سمیت ٹائم اسکیل اور سروس اسٹرکچر بھی شامل ہے۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامےاور علامتی کفن پہنے مظاہرین محکمہ صحت سندھ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس اور محکمہ صحت سندھ کے درمیان مذاکرات کے لیئے حکومتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    صوبائی وزیر ناصر شاہ کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی کی جی ایچ اے قیادت سے ملاقات کی گئی۔ کمیٹی میں وزیر محنت و انفرادی قوت سندھ سعید غنی ، سیکریرٹری صحت سندھ ذوالفقار شاہ ، پارلیمانی سیکرٹری قاسم سومرو سمیت دیگر موجود تھے۔اس موقع پر مطالبات پر غور کیا گیا۔ بعد ازاں وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور مظاہرین کو ان کے جائز مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس حوالے سے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے بات چیت کی ہے،اس سے قبل بھی ہمارے اجلاس ہوئے ہیں،جس میں مجھ سمیت پارلیمانی سیکریٹری قاسم سراج سومرو،وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ،وزیر محنت و انفرادی قوت سندھ سعید غنی بھی شامل تھے۔

    چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ڈاکٹرز،نرسز، لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام طبی عملہ ہنمارے لیئے قابل احترام ہیں اور جو ان کے جائز مطالبات ہیں ،ان کی منظوری دی جائے گی، اس مطالبات کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں ڈاکٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت پیرامیڈکس کے نمائندگان بھی موجود ہیں، ہماری طرف سے محکمہ صحت،فنانس ڈیپارنمنٹ سمیت سینئر سیاسی شخصیات شامل ہیں، تاکہ اس معاملے کو حل کروایا جاسکے،اس لئے یہاں آئے تھے ہم تاکہ اس ہڑتال کو ختم کروایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ شکرگزار ہوں کہ ہماری بات کا مان رکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کردی ہے، ممکن ہے کہ کچھ افراد ابھی بھی شیم شیم کے نعرے لگارہے ہیں، لیکن گریند ہیلتھ الائس کی مرکزی قیادت سے مذاکرات ہوچکے ہیں، کچھ انتظامی امور ہوتے ہیں،ریڈ زون سمیت کجھ علاقے ایسے ہوتے ہیں جہاں کا رخ کرنے سے قانوں خود بہ خود حرکت میں آتا ہے،یہ ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے لائن آف ایکشن پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

    چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس کے لیئے معزرت کرتا ہوں لیکن یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے،مظاہرین کا پیشہ بہیت مقدس ہے،اس ہڑتال کے بعد اسپتالوں میں مریض ان کے منتظر ہیں تو یہ جاکر وہان اپنا کام مکمل کریں۔ سندھ کی نسبت دیگر صوبوں میں ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کی تنخواہ زیادہ ہیں،تو اس مسلے کو حل کرنے کے لیئے تیار ہیں۔

  • مر گئے،لٹ گئے،برباد ہو گئے،چورمچائےشور:قوم کو پاگل سمجھا ہوا،اب واویلا نہیں چلےگا۔:مبشرلقمان

    مر گئے،لٹ گئے،برباد ہو گئے،چورمچائےشور:قوم کو پاگل سمجھا ہوا،اب واویلا نہیں چلےگا۔:مبشرلقمان

    لاہور:تحریک انصاف کی مکاریاں ہرروز گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آرہی ہیں، میں توخود اس بات پرپریشان ہوں کہ جس شخص کی دوستی پر ہمیں فخرہوا کرتا تھا وہ اس قدر یہ حرکتیں کرے گا ، میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم سے کہتا ہوں کہ دیکھواپنے لیڈر کا حال

    اس حوالےسے بات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ہر روز صبح نئی سے نئی کہانی سامنے آجاتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس سے سرشرم سے جھک جاتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے جیو نیوز اور کچھ اداروں پر سنگین الزامات عائد کردیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا

    ان کا کہنا جس طرح‌ لانگ مارچ میں‌ لوگوں کو لایا جارہا ہے سب جانتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم سے سوال ہے کہ جو جو صادق امین ہونے پرشک کررہا ہے ، جو بھی آئینہ دکھا رہا ہے آپ وہ تاجر دکھا دیں‌، آپ ایف بی آر کی رسیدیں‌دکھا دیں‌، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کبھی یہ نہیں کرے گا ، عمران خان نے منی لانڈرنگ کی تھی

    ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن کو جواب تک نہیں دیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ چھوڑیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیا جواب دیا ، ان کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے کہ ایک گھڑی ہی تو تھی ،ان کا کہنا تھا کہ کل کو عمران خان کو ملکہ برطانیہ ہیرا تحفہ میں دے دے تو وہ یہ ہیرا د و لاکھ میں بیچ دے تواس کے ماننے والے تو یہی کہیں گے کہ ہیرا ہی تو تھا

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کبھی کچھ کہتا ہے تو کبھی کچھ ، کبھی کہتا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری میرا مسئلہ ہی نہیں ، جو میرٹ پر آئے اس کو لگا دیا جائے لیکن پھر ڈھانگ مارچ میں کچھ دیر بعد موقف میں تبدیلی لے آیااور کہا کہ یہ سب چور ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو ارمی چیف کی تقرری پر اعتراض‌ہے

    ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت بھی یاد کریں وہ کون تھا جو نوازشریف کو حقیقی جمہوریت کی جدوجہد کرنے والا کہتا تھا ، وہ کون تھا جو تعریفوں کے پل باندھتا تھا ، وہ کون تھا جو نوازشریف کو بڑا منظم سمجھتا تھا ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جو کچھ آج بیان جمع کروایا ہے اس سے اس کی قلعی کھل گئی ہے کہ ، ایک طرف گھر کو بم پروف بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف جلسوں میں کچھ اور ہی کہتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا حال یہ ہوگیا ہے کہ یوٹیوب کوسننے والے دوسو تک رہ گئے ہیں اور فرلانگ مارچ میں اب بندوں کی جگہ پولیس والے لے رہے ہیں ،

    ان کا کہنا تھاکہ حالات تو اس حد تک آگئے ہیں پولیس والے ڈھول بجا کر لوگوں کو اپنی طرف کال کررہے ہیں، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو بھی لایا جارہا ہے، جہلم سے بھی قافلہ نکل پڑا ہے ، ادھر کے پی سےبھی کچھ لوگ آرہے ہیں اس دوران آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ بھی ابھی سمری پردستخط ہونےوالے ہیں

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی پتہ نہیں کہ خان کوئی نوا چن ہی نہ چڑھا دیوے ، خان جو ہویا ، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اگلے کچھ دن بہت اہم ہیں‌

  • آئی ایم ایف کا سیلاب متاثرین سے ہمدردی کیلیے پاکستان کو ٹارگٹڈ سبسڈیز دینے کا عندیہ

    آئی ایم ایف کا سیلاب متاثرین سے ہمدردی کیلیے پاکستان کو ٹارگٹڈ سبسڈیز دینے کا عندیہ

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سیلاب متاثرین اور غریبوں کیلیے پاکستان کو ہمدردی کی بنیاد پر ٹارگٹڈ سبسڈیز دینے کا عندیہ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی آئی ایم ایف مشن کے سربراہ سے آن لائن میٹینگ ہوئی جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے غریبوں اور پسماندہ افراد خصوصاً سیلاب متاثرین کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز پر ہمدردانہ غور کے لیے رضامندی کا عندیہ دے دیا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ رواں سال کے دوران سیلاب سے متعلق انسانی امداد کے اخراجات کے تخمینے اور بحالی کے ترجیحی اخراجات کے تخمینے پر مضبوطی سے کار بند رہا جائے گا۔

    ورچوئل میٹنگ میں دونوں فریقین نے آئی ایم ایف کے جاری پروگرام میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر میکرو اکنامک فریم ورک اور رواں سال کے اہداف پر سیلاب کے اثرات پر بات کی گئی۔

    آئی ایم ایف نے غریبوں اور پسماندہ افراد خصوصاً سیلاب متاثرین کے لیے ٹارگٹڈ زر اعانت پر ہمدردانہ غور کے لیے اپنی رضامندی کا عندیہ دیا۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نوویں جائزے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تکنیکی سطح پربات چیت اور جائزے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے روسی ایوارڈز

    رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے روسی ایوارڈز

    ماسکو:روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

    روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔روس کا 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے میڈل اور لاکھوں روپے انعام کا اعلان

    رپورٹس کے مطابق مدر ہیروئن کا ایوارڈ لینے کے کیلئے خواتین کو کچھ شرائط پوری کرنا ہیں جن میں تمام 10 بچوں کا زندہ ہونا ضروری ہے۔اس کے علاوہ یہ رقم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب خاتون کا دسواں بچہ ایک سال کا ہوجاتا ہے جبکہ ان تمام بچوں کی بہتر پرورش کرنا بھی ضروری ہے، جن میں بہتر تعلیم، صحت ، اخلاقیات وغیرہ شامل ہیں۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • قومی اسمبلی میں پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف، قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف، قرارداد منظور

    اسلام آباد:قومی اسمبلی نے پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف کی زیرصدارت اجلاس میں قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکن قومی اسمبلی احمد حسین دیہڑ نے پیش کی۔

    قرارداد کے متن کے مطابق ایوان اپنے خون کانذرانہ پیش کرنیوالی افواج کے ساتھ یکجہتی کرتے ہیں، قوم اپنی فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوارکی طرح کھڑی ہے۔

    متن میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے،ایوان غیر متزلزل اعتماد کایقین دلاتا ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی دھڑا پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے، مہم چلانے والوں کیخلاف ریاست اورحکومت اپنا اختیاراستعمال کرے اور دشمن کےعزائم کی تکمیل میں معاون ثابت ہونے والے عناصر کوعبرت کانشان بنایا جائے۔

    ادھر دوسری طرف پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے طلبہ و طالبات نے اسلام آباد میں واک کی۔ طلبا نے مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا۔

     

    راولپنڈی اور اسلام آباد کے اسکولوں کے طلبہ اور طالبات پاک فوج سے یکجہتی کے لئے میدان میں آگئے۔ شرکا کے ہاتھوں میں بینرز ان کے دلی جذبات کے عکاس تھے۔ انہوں نے زبان سے بھی سیکورٹی فورسز سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

    واک میں شریک چھوٹے بڑے طلبا نے وطن کی سلامتی اور تحفظ پر فوجی جوانوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قربانیوں کو سراہا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف پانچ منٹ واک کی ہے اور ہمیں بہت گرمی لگی ہے لیکن فوجی جوان روز صرف ہمارے لئے بہت دیر تک واک کرتے ہیں۔

    طلبہ طالبات کا کہنا تھا پاک فوج ہمارا فخر ہے۔ پوری قوم کی طرح ہم بھی ہر قسم کے حالات میں اس کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔