Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پی پی، ن لیگ فنڈنگ کیسز؛ ریکارڈ نہ ملنے سے اسکروٹنی کمیٹی مشکلات میں پڑگئی

    پی پی، ن لیگ فنڈنگ کیسز؛ ریکارڈ نہ ملنے سے اسکروٹنی کمیٹی مشکلات میں پڑگئی

    پی پی، ن لیگ فنڈنگ کیسز؛ ریکارڈ نہ ملنے سے اسکروٹنی کمیٹی مشکلات میں پڑگئی.

    پی پی اور ن لیگ کی فنڈنگ کیسز میں ریکارڈ نہ ملنے کی وجہ سے اسکروٹنی کمیٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ الیکشن کمیشن میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سربراہ اسکروٹنی کمیٹی نے بتایا کہ ریکارڈ نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو مختلف اکاؤنٹس میں فنڈنگ اور ممبرشپ فیس ملی ہے، ن لیگ کے کئی اکاؤنٹس کی مزید پڑتال اور وضاحت درکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم فنڈنگ کیسز ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن معاملہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے، عبوری رپورٹ جمع کرائیں تو کمیشن مخصوص وقت میں اسکروٹنی مکمل کرنے کا حکم دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزید تاخیر کسی صورت نہیں ہونے دینگے، جو بھی مشکلات ہیں انہیں رپورٹ میں لکھ کر دیں، رپورٹ کا جائزہ لیکر احکامات جاری کرینگے۔

    واضح رہے کہ ادھر پانچ ستمبر کو تحریک اںصاف کی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پارٹی فنڈز کی فوری تحقیقات کے لیے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فرخ حبیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے محض تین سال کی فنڈز کی اسکروٹنی کی جارہی ہے، جب کہ شہری اکبر ایس بابر کی درخواست پر 2008ء سے پی ٹی آئی کو ملنے والے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    درخواست میں فرخ حببیب کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، الیکشن کمیشن نے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کے حوالے سے اپنا منصفانہ اور شفاف کردار کھودیا، عدالت الیکشن کمیشن کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی دو ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے۔

  • وزیر داخلہ کی جرمانے کے خلاف اپیل پر سماعت  میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    وزیر داخلہ کی جرمانے کے خلاف اپیل پر سماعت میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جرمانے کے خلاف اپیل پر سماعت میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    وفاقی وزیر کے وکیل نے دوران سماعت دلائل دیے کہ نوٹس موصول نہیں ہوا لیکن جرمانہ کر دیا گیا۔ کمیشن کے ممبر پختونخوا نے کہا کہ ڈی ایم او آرڈر میں لکھا ہے کہ رانا ثنااللہ نے جواب جمع کرایا تھا۔ اگر نوٹس ملا نہیں تھا تو جواب کیسے جمع کرا دیا، جس پر وکیل نے بتایا کہ جس نوٹس کا جواب دیا تھا اس میں جرمانہ نہیں ہوا بلکہ وارننگ ملی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ کیا رانا ثنااللہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وزیرِداخلہ ووٹ ڈال کر نکلے تو میڈیا والوں نے سوال پوچھ لیے۔ ووٹنگ کے عمل سے مطمئن ہونے کے سوال کا جواب دیا تو جرمانہ ہوگیا۔

    اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دوران سماعت کہا کہ رانا ثنااللہ نے پولنگ اسٹیشن کی حدود میں پریس کانفرنس کی تھی۔ رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے عابد شیر علی کو ووٹ دیا۔ ووٹ کی رازداری نہ رکھنے پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ جس پر ممبر کے پی نے کہا کہ ووٹ کی رازداری کے لیے الگ نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے۔ اسپیشل سیکرٹری نے مزید بتایا کہ رانا ثنا اللہ کی میڈیا سے گفتگو کے وقت نعرے بازی بھی ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے نعرے بازی پر کیا ایکشن لیا؟اسپیشل سیکرٹری نے بتایا کہ نعرے لگانے والوں کو باہر نکالنے کا حکم دیا گیا تھا۔ رانا ثنااللہ کو بھی حلقہ بدر کرنے کا حکم جاری ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا عابد شیر علی کو ووٹ دیا ہے، اس نقطے پر کیا کہیں گے؟۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اس طرح رازداری رکھنی ہے تو بیلٹ پیپر پر مہر کھلے عام لگانی چاہیے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے رانا ثنا اللہ کی 10 ہزار جرمانے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے.

    چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کے کیس سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی پنجاب فیصل شاہ کار کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاءبندیال نے اپنے حکم میں آئی جی پنجاب سے کہا کہ 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج کریں ورنہ سو موٹو لیں گے۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہ کار نے جواب دیا کہ حکومتِ پنجاب نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل جسٹس سسٹم کے تحت پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی، فی الحال ازخود نوٹس نہیں لے رہے، 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج نہ ہوئی تو سوموٹو لیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ سوموٹو نوٹس میں آئی جی صاحب آپ جواب دہ ہونگے، واقعے کی تفتیش کریں شواہد اکٹھے کریں، فرانزک کرائیں، قومی لیڈر کے قتل کی کوشش کی گئی، معاملے کی نزاکت کو سمجھیں۔ واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اپنا چارج چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آئی جی پنجاب ایف آئی آر میں شامل کرنے والے ناموں پر اعتراض کر رہے تھے جس کے بعد پی ٹی آئی، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

  • ممنوعہ فنڈنگ؛ لاہور ہائیکورٹ کے جج  کی عمران خان کی درخواست سننے سے معذرت

    ممنوعہ فنڈنگ؛ لاہور ہائیکورٹ کے جج کی عمران خان کی درخواست سننے سے معذرت

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ہائی کورٹ کے جج نے عمران خان کی درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی ایف آئی اے طلبی کے نوٹس پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس علی ضیا باجوہ نے عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ میں ایف آئی اے طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دی۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا ہے کہ درخواست سماعت کے لیے کسی دوسرے بنچ کے سامنے پیش کیا جائے۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کے طلبی کے نوٹسز کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر نوٹسز جاری کیے۔ یہ سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی ہے۔عدالت عمران خان کی طلبی کے نوٹس پر عمل درآمد سے روکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا. ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے لاہور اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا جب کہ اکاؤنٹ کی تفصیلات کے اوپنگ فارم میں عمران خان کا اتھارٹی لیٹر لگا ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے 7 نومبر کو طلبی کے نوٹس کو عمران خان کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے ایف آئی اے کو فریق بنایا تھا.

  • اب تک 580491گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 1484 افراد جانبحق ہوئے. این ایف آر سی سی

    اب تک 580491گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 1484 افراد جانبحق ہوئے. این ایف آر سی سی

    580491گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 1484 افراد جانبحق ہوگئے. این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ ریسپانس کورڈینیشن سنٹر کے اعلامیہ کے مطابق 580491گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 1484 افراد, جانبحق ہوگئے. اسی طرح بلوچستان میں 38785 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 34 لوگ جانبحق ہوگئے اس کے علاوہ کے پی میں 138لوگ کی موت ہوئی جبکہ 167955گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ پنجاب میں 1068 لوگوں کی اموات ہوئی اور 347758 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے اس کے علاوہ سندھ میں 221 لوگ جاں بحق جبکہ 25326 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے.

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ؛ پاک فضائیہ کی ٹیموں نے7,528خیمے، 4,823,02راشن پیکٹ جبکہ 1,211,896ٹن مزید راشن اور 327,724 لیٹر پینے کا صاف پانی پہنچایا جب کہ اس کے ساتھ پاک فضائیہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 46 میڈیکل کیمپ علاج میں مصروف عمل ہیں اور پاک فضائیہ کے میڈیکل کیمپوں میں91,593 مریضوں کا علاج کیا گیا.
    این ایف آر سی سی کے مطابق؛ پاک فضائیہ کے میڈیکل کیمپوں میں مفت ادویات بھی فراہم کی جارہی ہیں اور اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے مختلف خیمہ بستیوں میں متعدد افراد مقیم ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    جبکہ پاک فضائیہ کے مزید ریلیف کے کیمپوں میں سیلاب متاثرین کو خدمات فراہم کی جارہی ہیں.
    نیشنل فلڈ ریسپونس کورڈینیشن سنٹر کے اعلامیہ کے مطابق پاک فضایہ کے 54 فلڈ ریلیف سینٹرز، 3 سینٹرل کلیکشن پوائنٹس خدمت میں مصروف ہیں. پاک بحریہ نے 2391.9 ٹن راشن، 90,83خیمے اور پینے کا صاف پانی تقسیم کیا۔ این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ نے متاثرہ علاقوں میں 755,484لیٹر منرل واٹر بھی تقسیم کیا۔

  • عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملہ: ایک اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا

    عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملہ: ایک اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا

    عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملہ: ایک اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران قاتلانہ حملے کے الزام میں ایک اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ سی ٹی ڈی پولیس نے وزیرآباد موبائل مارکیٹ سے ایک اور مبینہ ملزم کو حراست میں لے لیا، ملزم کو حراست میں لیے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی جبکہ حراست میں لیے جانے والے نوجوان کا نام احسن ہے.

    ذرائع کے مطابق؛ احسن کا تعلق وزیرآباد کے قصبہ سوہدرہ سے ہے اور احسن ن لیگ کے سیکرٹری اطلاعات میاں نذیر کا حقیقی بھائی ہے، خیال رہے کہ مرکزی ملزم نوید سمیت ابھی تک پانچ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جاری ہے دوسری جانب چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان نے اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد لانگ مارچ کو منگل سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں چیئر مین پی ٹی آئی کے کنٹینر پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    یاد رہے کہ ادھر امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سب اس واقعے پر پریشان ہوئے تھے مگر بعد میں پتہ چلا یہ سب جھوٹ ہے، جھوٹے شخص کو کتنی گولیاں لگیں؟ سب ڈرامہ ہے، کتنی گولیاں لگیں، ڈاکٹرز کے بیانات میں بھی تضاد ہے، عجیب بات ہے فائرنگ کے واقعے کاعلاج کینسر اسپتال میں کیا گیا، بغیر تحقیقات کے تین شخصیات پر الزام لگایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    انہوں نے کہا تھا کہ؛ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کو چور کہنے والا خود چور نکل آیا، پہلے تو عمران خان کے جھوٹ بولنے پر جے آئی ٹی ہونی چاہیے، جھوٹے خط کو لہرانے پر بھی جے آئی ٹی ہونی چاہیے، ریاستی راز کو پبلک کرنے پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔

  • پی ٹی آئی کا جڑواں شہروں کے درمیان انتشار کے ذریعے زمینی رابطہ منقطع کرنے کا پلان

    پی ٹی آئی کا جڑواں شہروں کے درمیان انتشار کے ذریعے زمینی رابطہ منقطع کرنے کا پلان

    پی ٹی آئی کا جڑواں شہروں کے درمیان زمینی رابطہ منقطع کرنے کا پلان، لیکن حکومت بھی تیار.

    شہراقتدار اور راولپنڈی میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کےدرمیان بڑے ٹکراؤ کاخطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے راولپنڈی کا اسلام آباد سے زمینی رابطہ منقطع کرنے کا پلان بنا لیا ہے، اور حکومت نے بھی احتجاج کے منصوبے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

    وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور کہا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ تک شاہراہ کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا۔ وفاقی پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ احتجاج یا راستے بند کرنے سے شہریوں، طلبا اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، گڑبڑ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    دوسری جانب تحریک انصاف بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہی ہے اور پی ٹی آئی راولپنڈی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ راولپنڈی سے دارالحکومت میں داخلے کے تمام مقامات کو آج دوپہر سے بند کر دیا جائے گا، اور اسلام آباد کی ناکہ بندی اگلے 72 گھنٹوں کیلئے کی جائے گی، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی نے نئی احتجاجی حکمت عملی کی تصدیق کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    ادھر قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں نے پی ٹی آئی کےاہم رہنماؤں کیخلاف کریک ڈاؤن کا پلان بنا لیا ہے، اور پرویز خٹک، شیخ راشد شفیق، عامر کیانی کے وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں، جب کہ علی امین گنڈاپور اور ملک عامر ڈوگر کو بھی گرفتارکرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ دونوں جانب سے طے حکمت عملی کے بعد شہراقتدار اور راولپنڈی میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کےدرمیان بڑے ٹکراؤ کا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر اسلام آباد ایئرپورٹ تک رینجرز، ایف سی اور وفاقی پولیس کے دستے گشت کریں گے، اور روڈ بند کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔

  • دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس؛ عدالت نے سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس؛ عدالت نے سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی

    دفعہ 144 خلاف ورزی کیس؛ عدالت نے سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو اے کے 47 کی گولی لگی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر، علی اعوان اور دیگر کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان اور اسد عمر عدالت میں پیش ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجا جواد عباس نے اسد عمر کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں واثق قیوم عباسی، فیصل جاوید، عامر محمود کیانی و دیگر کی ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کے دوران وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ سڑک بند کی، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ایف آئی آر میں کہ گیا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایما پر کیا گیا، لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ایف آئی آر کا متن پڑھتے ہوئے بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ لکھا ہے کہ ڈنڈے سے اور نعروں سے خوف و ہراس پھیلایا گیا۔

    بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ کون سی سرکاری گاڑی کو نقصان ہوا، ایف آئی آر میں نہیں لکھا۔ سڑک پر کھڑے ہونے کا صرف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ہم سب غلطیاں کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ دوران سماعت بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو 2 گولیاں لگی ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ قاتل اور اقدام قتل کے بہت سے کیسز ہم نے دیکھے ہیں۔ نیچے سے گولی لگے تو وہ لاتوں میں لگ سکتی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ ایک کہاوت ہے مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مرتا۔ انہوں نے بتایا کہ نائن ایم ایم کی گولی شہید معظم کو لگی ہے جب کہ عمران خان کو اے کے 47 کی گولی لگی ہے۔

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں واثق قیوم عباسی ،فیصل جاوید،عامر محمود کیانی و دیگر کی ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کے دوران بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ان میں سے کچھ راولپنڈی کے ہیں، اسلام آباد نہیں آئیں گے۔ اسلام آباد میں اس وقت تک 37 ایف آئی آرز ہو چکی ہیں، سب میں ایک ہی دفعات ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    جج راجا جواد عباس نے کہا کہ ہماری عدالت میں اب سیاسی کیسز 15 فیصد ہو گئے ہیں۔ یہ جو معاملات ہو رہے ہوتے ہیں یہ آپ کو سمجھ آرہے ہوتے ہیں۔ عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ آج اپنے دلائل دیں گے؟۔ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ میرے پاس مقدمے کا ریکارڈ موجود نہیں،ریکارڈ حاصل کر کے جواب دوں گا. عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی اور پراسیکیوٹر کو 14 نومبر سے قبل جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

  • ارشد شریف پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر عدالت نے پمز اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے

    ارشد شریف پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر عدالت نے پمز اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد شریف کی فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر پمزاسپتال اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیئے۔

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرحوم ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے کے خلاف والدہ کی درخواست سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، ارشد شریف کی والدہ کہ طرف سے بیرسٹر شعیب رزاق عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ تین نومبر کو ارشد شریف کی فیملی کے فوکل پرسن نے انتظامیہ سے رپورٹ مانگی تھی انتظامیہ نے کہا ان کے پاس پوسٹمارٹم رپورٹ پولیس کے پاس ہے۔ فیملی فوکل پرسن پولیس کے پاس گئے تو انھوں نے بھی انکار کرتے ہوئے انتظامیہ سے رابطے کا کہہ دیا۔ درخواست میں بتایا گیا کہ پمز انتظامیہ سے بارہا رابطہ کیا نہ انکار کرتے ہیں نہ رپورٹ فراہم کرتے ہیں پمز اور لوکل انتظامیہ نے ارشد شریف کی فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ متعلق اندھیرے میں رکھا ہوا ہے شہید ارشد شریف کی فیملی کی مشکل وقت میں رپورٹ کے لیے تذلیل کی جا رہی ہے۔

    درخواست میں ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے استدعا کی گئی کہ شک ہے کہ حقائق مسخ کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں رد وبدل کیا جا سکتا ہے اس لیے پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ارشد شریف کی فیملی کو ہر لمحہ آگاہ رکھا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ بغیر کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت کے پورے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی جائے اور اس عمل میں ارشد شریف فیملی کے فوکل پرسن کو پورے عمل میں شامل کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ صرف ارشد شریف فیملی کو فراہم کی جائے اور بغیر فیملی کی اجازت اسے پبلک نہ کیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف کی والدہ کی درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے پمزاسپتال اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیئے اور دونوں فریقین سے پندرہ نومبر تک جواب طلب کر لیے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پندرہ نومبر تک ملتوی کر دی۔

  • پی ٹی آئی دھرنے کی اجازت؛ فریقین خود طے کرلیں، ورنہ پھر عدالت دیکھے گی. اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی دھرنے کی اجازت؛ فریقین خود طے کرلیں، ورنہ پھر عدالت دیکھے گی. اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے اور جلسے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست میں ریمارکس دیے ہیں کہ فریقین معاملات طے کرلیں، ورنہ عدالت دیکھے گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسے اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ اس سلسلے میں اسلام آباد انتظامیہ نے بھی متفرق درخواست دائر کررکھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دوران سماعت عدالت نے اسٹیٹ کونسل کے نمائندے سے استفسار کیا کہ آپ نے کوئی درخواست دی ہے؟، جس پر نمائندہ اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے، لہٰذا جلسے اور دھرنے کی اجازت کی درخواست خارج کردی جائے۔

    عدالت نے کہا کہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، ان کو کچھ وقت دے دیتے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فریقین بیٹھ کر طے کر لیں، وگرنہ عدالت دیکھے گی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے دارالحکومت میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا. درخواست پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان کی طرف سے دائر کی تھی جس میں وزارت داخلہ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا تھا جبکہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملکی معیشت خراب حالات اور بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی سری نگر ہائے وے پر جلسہ کر سکتی ہے۔