Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ہونڈا موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہو شربا اضافہ

    ہونڈا موٹرسائیکلوں کی قیمت میں ہو شربا اضافہ

    معروف جاپانی برینڈ ایٹلس ہونڈا نے اپنے بائیکس کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاک وہیلز کی رپورٹ کے مطابق ہونڈا سی ڈی 70 کی قیمت پانچ ہزار روپے کے اضافے کے بعد اب 121,500 ہو گئی ہے موٹر سائیکل کی پرانی قیمت 116,500 تھی-

    راولپنڈی: ڈاکوؤں نے کیش وین لوٹ لی،مزاحمت پر ملزمان کی فائرنگ سے سیکورٹی گارڈ ہلاک

    ہونڈا سی ڈی 70 ڈریم کی قیمت 5,400 روپے کے اضافے کے بعد اب 129,900 روپے ہو گئی ہے جبکہ پرانی قیمت 124,500 روپے تھی-

    ہونڈا پرائڈر کی نئی قیمت 6,000 روپے کے اضافے کے بعد 161,900 ہو گئی جبکہ اس کی پرانی قیمت 155,900 تھی –

    اس کے بعد کمپنی کی دوسری سب سے مشہور موٹر سائیکل ہونڈا سی جی 125 کی قیمت میں 6000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 185,900 روپے ہو گئی ہے جبکہ پرانی قیمت 179,900 روپے تھی-

    ہونڈا سی جی 125 ایس ای کی قیمت میں 8,600 روپے کا اضافہ جس کے بعد اس کی قیمت 219,500 روپے ہو گئی ہے جبکہ پرانی قیمت 210,900 تھی-

    ارشد شریف کیس: وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل

    Honda CB 125F میں 10,000 کا اضافہ ہوا ، موٹر سائیکل کی قیمت 273,900 سے بڑھ کر 283,900 روپے ہو گئی ہے Honda CB 150F کی نئی قیمت 15000 روپے کے اضافے کے بعد 353,900 ہو گئی ہے اس کی پرانی قیمت 338,900 تھی-

    CB 150F SE کی قیمت میں بھی 15,000 کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 342,900 سے بڑھ کر 357,900 روپے ہو گئی ہے-

    نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر 2022 سے ہو گا۔

    واضح رہے کہ کمپنی نے یکم اگست 2022 کو اپنی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے اس مرتبہ بھی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں کوئی وجہ نہیں بیان نہیں کی اور، ہونڈا اٹلس نے یہ فیصلہ اس وقت لیا ہے جب امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر بڑھ رہی ہے۔

    حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اونچی قیمتوں کے باوجود، "آن منی” کلچر بائیک مارکیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔ اور لوگ دیر سے ڈیلیوری پر بائک بک کر رہے ہیں-.

  • کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیولین یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں ہیموگلوبین اے 1 سی (جو بلڈ شوگر کی سطح کی نشان دہی کرتا ہے) کو کم کرتا ہے۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 40 سے 70 برس کے درمیان 150 افراد شریک ہوئے جن کے بلڈ شوگر کی سطح ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے قبل کیفیت سےذیابیطس میں مبتلا ہونے تک تھی اور ان میں ایسے افراد بھی تھےجو ذیابیطس کی ادویات نہیں لیتے تھے۔

    اس نئی تحقیق میں کم کاربوہائیڈریٹ کی غذا کھانے والے گروپ نے ابتدائی تین ماہ میں 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کی کھپت کا ہدف رکھا اور تین سے چھ ماہ کے دوران یہ ہدف بڑھا کر 60 گرام تک کم کیا گیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    عمومی طور پر کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں میں پروٹینز اور بغیر نشاستہ والی سبزیوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ اناج، پھل، روٹی، میٹھا اور نشاستہ کی حامل سبزیاں اور پھل کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق امریکیوں کو دی جانے والی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کی جانب سے روزانہ لی جانے والی کیلوری کا 45 سے 65 فی صد حصہ کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں یعی روزانہ 2000 کیلوریز میں 900 سے 1300 تک کا حصہ کاربو ہائیڈریٹس کا ہوتا ہےاس کے برعکس کاربوہائیڈریٹس کو 20 گرام سے 57 گرام تک محدود کرنے سے 80 سے 240 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

    معالجین عموماً ذیابیطس کےمریضوں کو کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کی تجویزدیتے ہیں لیکن آیاکم کاربوہائیڈریٹس کا کھایا جانا ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے افراد جو اس مرض میں مبتلا ہونے والے ہوں میں بلڈ شوگر کو متاثر کرسکتا ہے کہ نہیں، اس متعلق بہت محدود شواہد موجود ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • صدف نعیم واقعہ، پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    صدف نعیم واقعہ، پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    صدف نعیم واقعہ: پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ
    پنجاب حکومت نے ٹی وی چینل کی خاتون رپورٹر صدف نعیم کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی میں متعلقہ محکموں کے افسر شامل ہونگے اور وہ اپنی رپورٹ جلد پیش کرے گی۔ اس بات کا فیصلہ کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر (ایس سی سی ایل او) کے سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر پارلیمانی امور، تحفظ ماحول و کوآپریٹوز محمد بشارت راجہ نے راولپنڈی سے بذریعہ ویڈیو لنک صدارت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب عبداللہ خان سنبل، آئی جی پولیس فیصل شاہکار اور متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔

    کابینہ کمیٹی نے چینل فائیو کی رپورٹر صدف نعیم کی شہادت کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور شرکا نے مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے ہدایت کی کہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین عمران خان مرحومہ صدف نعیم کے گھر خود گئے اور اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے پہلے ہی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے اس واقعے پر مثبت کردار ادا کیا جو قابل تعریف ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری عبداللہ خان سنبل نے کہا کہ انہیں صدف نعیم کے واقعے پر دلی افسوس ہوا۔ حکومت پنجاب سوگوار فیملی کے ساتھ رابطے میں ہے۔ کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد کر دیا جائے گا۔ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی سکیورٹی کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟

  • راولپنڈی: ڈاکوؤں نے کیش وین لوٹ لی،مزاحمت پر ملزمان کی فائرنگ سے سیکورٹی گارڈ ہلاک

    راولپنڈی: ڈاکوؤں نے کیش وین لوٹ لی،مزاحمت پر ملزمان کی فائرنگ سے سیکورٹی گارڈ ہلاک

    راولپنڈی: نصیر آبد میں کیش وین پر ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی گارڈ جاں بحق ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ نصیر آباد کی حدود میں نجی بینک کے لیے کیش وین سے نقدی نکال کر بینک منتقل کی جارہی تھی کہ اسی دوران ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا ، مزاحمت پرملزمان کی فائرنگ سے ایک سیکورٹی گارڈ عبدالوحید جاں بحق جبکہ دوسرا سیکورٹی عمر پستول کے بٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔

    روجھان میں نوجوان اغوا ، پولیس اور کچہ کے ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ

    پولیس کے مطابق ملزمان رقم چھیننے میں کامیاب رہے جس کا تخمینہ لگانے کے لیے نجی سیکورٹی کمپنی سے رابطے میں ہیں،واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔

    سی پی او سید شہزاد ندیم بخاری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی پوٹھوہار سے رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے علاوہ ازیں ایس ایس پی آپریشنز وسیم ریاض خان نے بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تحقیقاتی ٹیم کو خصوصی ہدایات دیں۔

    قبل ازیں راجن پور میں تھانہ روجھان کےحدود موضع چک چانڈکہ میں نا معلوم مسلح افراد نےنوجوان کو اغوا کر لیا تھاشوکت ولد صدردین اپنے رقبے پر کاشتکاری کر رہا تھا ڈاکوؤں نےاسلحے کے زور پر اسے اغوا کر لیا۔ نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے نوجوان کو اغوا کر کے کچے کے علاقے میں لے گئے ۔

    بھارت: 140 سالہ قدیم کیبل پُل مرمت کے 5 ویں روز ٹوٹ گیا،60 افراد ہلاک درجنوں ڈوب…

    دوسری جانب ڈاکوؤں نے کچہ میں موجود پولیس پر حملہ کردیا تھا ترجمان پولیس کے مطابق پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا پولیس کی جانب سے شدید جوابی فائرنگ کی گئی جس کےنتیجے میں دو ڈاکو شدید زخمی ہوگئے ۔ پولیس کی جوابی فائرنگ اور ٹیمز کے بروقت رپسپانس کی بدولت ڈاکو فرارہوگئے ۔

    پکٹ پرموجود تمام پولیس ملازم محفوظ، پولیس کی مزید بھاری نفری موقع پرموجود ہے،کچہ میں ڈاکوؤں کوان کےمزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا،پولیس ترجمان کامزید کہنا ہے کہ کچہ میں فرنٹ لائن پر تعینات پولیس ملازمان کے حوصلے بلند ہیں،پولیس کی جانب سے ہر محاظ پر کچہ ڈاکوؤں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا-

    پی ٹی آئی لانگ مارچ : ڈیوٹی کے دوران پولیس کانسٹیبل ہارٹ اٹیک سے جاں بحق

  • ارشد شریف کیس: وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ارشد شریف کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا گیا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق تین رکنی انکوائری کمیشن کے سربراہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عبدالشکور ہی جبکہ کمیشن کے دیگر مبران میں ایڈیشنل آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حامد شامل ہیں-

    حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن سینئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کرے گا اور 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گا۔

    کمیشن میں شامل ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حیات اس وقت دو رکنی اس تحقیقاتی ٹیم میں بھی شامل ہیں جو اس وقت کینیا میں ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔

    کمیشن پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنایا جارہا ہے، کمیشن کی منظوری کے لیے وزارت داخلہ نے کابینہ کی منظوری کے لیے سمری بھیجی-

    دریں اثنا ارشد شریف قتل کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے اکیڈمی اطہر وحید اور ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حامد پر مشتمل دو رکنی ٹیم کی کینیا میں تحقیقات جاری ہیں۔

    لال حویلی ان کا باپ بھی خالی نہیں کرا سکتا،شیخ رشید

    ٹیم نے کینیا میں جائے وقوع، فارم ہاؤس اور واقعہ سے قبل ارشد شریف کے آخری ڈنر کے مقام کا جائزہ لیا تحقیقاتی ٹیم نے کینیا حکام کے ساتھ فائرنگ سے متاثرہ گاڑی کا بھی جائزہ لیا اور اس پر لگنے والی گولیوں کے نشانات وغیرہ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر نوٹس لیے جس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے خرم احمد اور وقار احمد سے تفصیلی پوچھ گچھ کرتے ہوئے مختلف زاویوں سے سوالات کیے پاکستانی تفتیش کاروں کو کینیا حکام نے بھی تفصیلات فراہم کیں

    لانگ مارچ میں دوران ڈیوٹی حرکت قلب بند ہونے سے شہیدہونے والےپولیس ڈرائیور کی نماز…

    خرم احمد نے تفتیشی حکام کے مختلف سوالات پر بتایا کہ جائے وقوعہ سے اول ٹیپیسی فارم 22 کلومیٹر دور ہے اور بیشتر راستہ کچا ہے، محسوس ہوا فائرنگ کے بعد بھی میرا پیچھا کیا جارہا ہے تو گاڑی بھگائی، اچانک فائرنگ سے گھبرا گیا تھا، واقعے کے فوری بعد بھائی وقار کو کال کی جس پر وقار نے اول ٹیپیسی فارم پہنچنے کا کہا۔

    وقار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ خرم کی کال آئی تو اس نے گاڑی پر فائرنگ کا بتایا، کال آتے ہی میں بھی اول ٹیپیسی فارم کے لیے نکل گیا، راستے سےکینیا پولیس کے حکام اور پاکستانی دوست کو تفصیلات بتائیں، اول ٹیپیسی فارم پہنچا توارشدشریف کی لاش گاڑی میں موجود تھی، اس وقت تک گاڑی پر فائرنگ پولیس کیجانب سے کیےجانےکا شبہ نہیں تھا، میرے پہنچنے کے بعد کینیا کے پولیس افسران بھی پہنچے اور شواہد جمع کیے۔

    صدف نعیم کی موت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،وزیر اطلاعات

  • برطانیہ امیگریشن دفتر پرنامعلوم شخص کا بم حملہ ،ملزم نے خودکشی کر لی

    برطانیہ امیگریشن دفتر پرنامعلوم شخص کا بم حملہ ،ملزم نے خودکشی کر لی

    لندن: جنوبی برطانیہ کی بندرگاہ پر بنے تارکین وطن کی امیگریشن کے دفتر پر نامعلوم شخص نے تین بم پھینک کر خود کو بھی دھماکے سے اُڑالیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق اتوار کے روز جنوبی برطانیہ کے چینل پورٹ ٹاؤن ڈوور میں تارکین وطن کےلیےبنائے گئے پروسیسنگ سینٹر میں تین بم پھینکے گئے جس میں ایک شخص زخمی ہوگیا اور دفتر کو شدید نقصان پہنچا۔

    دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب

    بعد ازاں حملہ آور نے خود کو ہلاک کر لیا اس شخص نے تین پٹرول بم پھینکے تاہم ان میں سے ایک پھٹنے میں ناکام رہا۔

    ایک عینی شاہد نے کہااس شخص نے سفید Saeat گاڑی کو کینٹ میں ٹگ ہیون پروسیسنگ کی سہولت تک پہنچایا۔ اس نے باہر نکل کر تین پٹرول بم پھینکے، جن میں سے ایک نہیں چلا۔

    کینٹ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعاقب کیا گیا تاہم اس نے خود بارودی مواد سے اُڑا کر خودکشی کرلی۔ حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے جو شکل سے تارکین وطن لگتا ہے۔

    دفتر میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا یہ دفتر چھوٹی کشتیوں میں چینل کراس کرنے والے تارکین وطن کا ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاحال واقعے کے محرک کا پتہ نہیں چل سکا۔

    پولیس حملے کے چند منٹوں میں پہنچی اور اتوار کی صبح 11:22 بجے ڈوور میں علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس شخص کی ذہنی صحت کے مسائل کی تاریخ تھی۔

    بعد میں، پولیس نے تصدیق کی کہ مشتبہ شخص کی شناخت ہوگئی ہے اور وہ قریبی پولیس اسٹیشن میں واقع ہےجہاں اس کی موت کی تصدیق کی گئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایکسپلوسیو آرڈیننس ڈسپوزل یونٹ جائے وقوعہ پرپہنچی اور ایک اور ڈیوائس کا پتہ لگایا، جس کی "مشتبہ گاڑی کے اندر محفوظ ہونے کی تصدیق کی گئی-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام متحدہ

  • عمران خان، کان کھول کے سن لو، یہی ہیں نہ وہ خفیہ راز، تحفہ قبول کرو

    عمران خان، کان کھول کے سن لو، یہی ہیں نہ وہ خفیہ راز، تحفہ قبول کرو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صھافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کو دیکھ کر ماوزے تنگ کی روح اپنے آپ کو کوس رہی ہے کہ اس نے عمران خان کی طرح انقلاب برپا کیوں نہیں کیا۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیوں اسنے لاکھوں لوگ، اپنے پیارے رشتے دار اور فیملی کو اس انقلاب میں مروا دیا جبکہ انقلاب تو ائیر کنڈیشنر والے کنٹینر میں بیٹھ کر بھی آ سکتا ہے۔کیوں اس نے ہزاروں میل کا سفر طے کیا اور سڑکوں پر راتیں گزاری جبکہ انقلاب تو شام کو چار گھنٹے سڑکوں پر اور ساری رات اپنے گھر میں نرم بستر پر سو کر بھی آ سکتا ہے۔وہ انقلاب جس میں صبح کے وقت سو بندے بھی نہیں ہوتے لیکن شام کو اپنے سارے کام کاج کر کے انقلاب کو شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ انقلاب جو شاہدرہ پر رات کو رکتا ہے لیکن صبح آنکھ کھلتی ہے تو انقلاب کامونکی پہنچ چکا ہو تا ہے اور لیڈر زمان پار ک میں نیند کی سرگوشیوں میں مصروف ہوتا ہے۔وہ انقلاب جو لیڈر اور عوام کے بغیر کئی سو کلو میٹر کا سفر خود ہئ طے کر لیتا ہے۔اللہ ایسا پرسکون، آسائیشوں والا انقلاب ساری دنیا کو نصیب فرمائے۔لیکن ماوزے تنگ تم کان کھل کے سن لو تم کبھی بھی ہمارے کپتان کو نہیں پہنچ سکتے۔ کیونکہ ہمارے کپتان کے پاس ارسلان بیٹاہے۔ ہمارے کپتان کے پاس سوشل میڈیا پر ایسے مداری ہیں جو شام ہوتے ہیں انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دیں گے وہ انقلاب جو صبح گیارہ بجے دم توڑ چکا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے وینٹیلیٹر پرشام کو ہشاش بشاش ہو کے بھاگنے لگے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جادو گر بیٹھ کر لوگوں کو بتائیں گے کہ کیسے یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہے کیسے لاکھوں کروڑون لوگ کنٹینر کے ٹائروں سے چپکے ہوئے ہیں۔ کیسے روح پرور مناظر اس مارچ میں دیکھنے کو مل رہے ہیں اور کیسے پورا پاکستان اپنے سارے کام چھوڑ کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جبکہ حقیقت بلکل اس کے برعکس ہو گی اس لیے ماوزے تنگ میرا تمھیں مشورہ ہے کہ خام خواہ میں میرے کپتان سے مقابلہ کر کے پنگا مت لو ورنہ تم بھی اپنی قوم کے غدار قرار پاو گے۔
    کیونکہ ہمارا کپتان کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو
    پاکستان کے سپہ سالار کو غدار کہتا ہے جو
    پاکستان کے وزیر اعظم کو چور بھکاری کہتا ہے جو
    پاکستان کی عوام جو اس کا ساتھ نہیں دے رہی اسے غلام اور جاہل کہتا ہے جو
    پاکستان کے صحافیوں کو جو اس کی حقیقت بے نقاب کرتے انہیں لفافہ، کہتا ہے۔
    پاکستان کے الیکشن کمشنر کو مخالفین کا ذاتی غلام کہتا ہے ۔
    پاک فوج کے جرنیلوں اور اعلی افسران کو وحشی کہہ کر پکارتا ہے۔
    پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے چیف کو جلسوں میں للکارتا ہے۔
    جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے میں اعلی محارت رکھتا ہے
    ماوزے تنگ سن لو اگر تم نے اس سے پنگا لیا تو یہ تمھیں تمھاری اپنی قوم کے سامنے ایسا غدار بنا کر ایسی تمھاری مٹی پلیت کرے گا کہ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس لیے ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔
    کیونکہ ہمارا کپتان وہ کپتان ہے
    جس نے اپنے مفاد کے لیے معاشرے میں نفرت پرو کر اس کی جڑ یں کھوکھلی کر دی۔
    جس کے شر سے کوئی گھر اور کسی کا گھر بھی محفوظ نہیں تھا۔ میرا اشارہ خاور مانیکا کی طرف نہیں ہے۔
    تاریخ بتاوئے گی کہ ہمارا کپتان کیسا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کپتان جو سوشل میڈیا پر اربوں روپے خرچ کر کے جعلی اکاونٹوں سے معصوم لوگوں کے ذہنوں سے کھیلتا تھا۔ کبھی کسی کی جعلی امی بنا دیتا تھا، کبھی کسی انگریر کے نام سے جعلی اکاونٹ بنوا کے اس پر اپنی تصویر لگوا دیتا تھا کہ میں نے اس کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا۔
    کبھی بنی گالہ میں بیٹھا ہوا ۔۔۔ لونڈا۔۔ کینیا کا صحافی بن جاتا ہے، کبھی سائفر کا معاملہ ہو تو یہی امریکی صحافی بن کر کہتا کہ عمران خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ قصہ مختصر عمران خان کے کالے کرتوتوں پر ایک آدھ کتاب نہیں بلکہ پوری پوری سیریز اور جلدیں لکھی جائیں گی لیکن اسکے گھناونے کاموں کی فہرست پھر بھی نا مکمل ہو گی۔اس لیے ماوزے تنگ ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔لیکن میری مجبوری ہے اپنی قوم کے مستقبل کے لیے میں پنگا لے چکا ہوں اس لیے میں عمران خان کا اصلی چہری بے نقاب کروں گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ لانگ مارچ، رانگ مارچ، خونی مارچ اور حقیقی آزادی کی مارچ اس وقت ملکی سالمیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہونے کا انتظار کر رہاہے،
    انتہائی خطرناک کھیل شروع ہو چکا ہے۔ اس بات پر چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن سب اتفاق کر رہے ہیں کہ اس مارچ میں خون بہایا جائے گا، جنازعے اٹھائے جائیں گے۔اور اس کے لیے کھیل تیار ہو چکا ہے جبکہ اس کھیل کے کچھ کرداروں کی فون کالز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب گیدڑ کی گیدڑ بھبکیاں جنگل میں کام کرنا شروع کر دیں تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے اور وہیں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ عمران خان اپنی سیاسی موت کو دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے جھوٹ، فراڈ، دھوکے بازی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور بولیں بھی کیوں نہ۔ انہوں نے منافقت کی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور مسلسل نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی محرومیوں سے کھیل رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے عوام کو بہت مایوس کیا۔ان کی کرپشن کی کہانیوں نے عوام کو بہت دکھی کیا۔ان کے مافیا نے عوام کو بری طرح سے محروم کیا۔ اور عمران خان جو خود تو کچھ نہ کر سکے، اس مافیا کا حصہ بن کر اقتدار میں آئے اب خود ہی
    ان کی محرومیوں سے خوب کھیل رہے ہیں، ناراض لوگوں کی دل کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے طور پر عمران خان کی منافقت دیکھیں کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کہتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کان کھول کے سن لو۔ میرے پاس بھی راز ہیں۔میں کہتا ہوں عمران خان تم نے نہ پہلے شرم کی اور نہ ہی تم اب کرو گے۔ کیونکہ جس میں جو چیز ہو ہی نہ تو وہ کام وہ کیسے کر ے گا۔کیا بتاو گے تم عوام کو میں بتا دیتا ہوںتم عوام کو بتاو گے کہ کیسے تمھارے صبح شام پیمپر بدلے گئے۔کیسے تمھیں مقبول اور پھر قبول کروایا گیا۔کیسےتم نے اقتدار کے لیے صحیح اور غلط کا فرق ختم کیا۔ کیسے تمھیں Electables جاگیر دار، وڈیرے، صنعتکار لا لا کر تمھاری گود میں ڈالے گئے۔کیسے تمھاری خواہش پر تمھارے سیاسی مخالفین کو نااہل کر کے تمھارے لیے میدان صاف کیا گیا۔کیسے ان لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی جو تمھیں پسند نہیں تھے۔ کیسے لوگوں پر جعلی ڈرگ کے کیس ڈالے گئے۔عمران خان تمھارے پاس بتا نے کو ہے کیا۔ تم یہ بتاو گے کہ کیسے اکثریت نہ ہونے کے باوجود چیئر مین سینٹ منتخب ہوا۔ کیسے تمھارے بحٹ پاس ہوئے۔کیسے تم نے ادارے کی سپورٹ حاصل کرنے کے بعد اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔کیسے تم نے کلبھوش یادیو کے لیے قانون سازی کرنے میں دن رات ایک کیئے۔ کیسے ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا۔تمھارے کون کون سے راز بتاوں۔ جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔احتساب کے نام پر آئے تھے اور گندی ویڈیوز سے تم چیئرمین نیب کو ہی بلیک میل کرتے رہے۔ اب کہتے ہو حقیقی آزادی مارچ۔ کون سی مارچ اور کون سی آزادی۔آج تمھیں اقتدار مل جائے۔ پھر بھاڑ میں جائے آزادی، بھاڑ میں جائیں غریب ، بھا ڑمیں جائے سب کچھ۔ تم لوگوں کی محرمیوں کو صرف اقتدار کے لیے استعمال کر رہے ہو۔وہی ہو نہ تم جو باہر لوگون کو مشرک کہہ رہے تھے اور اندر ہی اندر پانچ خرید رہے تھے۔وہی ہو نہ تم جو ایک کاغذ کو بیرونی سازش کہہ کر لہرا رہے تھے اور اپنے لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ Lets play with it. وہی ہو نہ تم جس نے گوگی گینگ کی سربراہی کی۔وہی ہو نہ تم جس کا وزیر صحت، وزیر احتساب، وزیر پٹرولیم، اور دیگر وزیر کرپٹ نکلے ۔وہی ہو نہ تم جو ارسلان بیٹا کو کہہ کر دنیا بھر کی پگڑیاں اچھلواتے ہو۔وہی ہو نہ تم جو عوام کی فلا ح کا کام کرنے میں بری طرح ناکام اور اپنے ذاتی مشہوری کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہو۔نہ تمھارا ماضی اچھا، نہ تمھارا حال اچھا۔ مستقبل کی کسی کو خبر نہیں جھوٹ کی بنیاد پر جعلی نیک بننے سے کوئی نیک نہیں ہو جاتا۔ ہٹلر کے نقش قسم پر چلتے ہوئے پاکستان میں بھی اپنی جماعت بالکل اسی فارمولے پر چلا رہے ہو۔ لوگوں کی نفسیات سے کھیل رہے ہو ۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
    جھوٹ اور مفاد پرستی میں عمران خان کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ جس طرح یہ اپنے محسنوں کو کاٹ کے پھینکتا ہے اس میں بھی کوئی اس کا ثانی نہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بات مفاد پرستی اور سیاسی قلابازیوں کی ، کی جائے تو اس میں بھی عمران خان کا کوئی ثانی نہیں ۔ کس کو کس وقت اپنے سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ہے اور کس کو استعمال کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینکنا ہے یہ انھیں اچھی طرح سے آتاہے۔ بیانیہ بنانے میں بھی ان کی مثال نہیں ۔ ایک جھوٹ کو بار بار ایسے بولنا کہ وہ سچ لگنے لگے اس میں بھی ان کی مہارت کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ امریکی سازش، اسلامی ٹچ، کفر کے فتووں سے لے کر غداری کارڈ تک انھیں اچھی طرح خبروں کی زینت بننا آتا ہے۔ لیکن حقیت بلکل اسکے برعکس ہے۔نااہل تم ہو، خود غرضی کا مجسمہ تم ہو ، شاطر چالوں کے شہنشاہ تم ہو، بدترین گورننس کی مثال تم ہو۔ جھوٹ کو یوٹرن کا نام تم دیتے ہو۔ سارے بے کردار لوٹے تم نے اکھٹے کیئے ہوئے ہیں۔ خود غرضی تم میں انتہا سے زیادہ ہے اور تم لوگوں کی کردار کشی کر کے خود بڑا بننے کی کوشش کرتے ہو۔لوگوں کے سامنے تسبیح گھما کر مذہبی ٹچ دیتے ہو اور پس منظر میں کہتے ہو کہ غلط اور صحیح مت دیکھو ہم نے ہر صورت اقتدار میں آنا ہے۔لوگوں پر غداری کے فتوے لگاتے ہو اور خود فارن فنڈنگ پر پلتے ہو۔ امریکی سی آئی اے کی ایجنسی سے اپنی پی آر کرواتے ہو۔ شہباز گل سے تم اداروں پر حملے کرواتے ہو۔ بغاوت اور پھوٹ کی کوشش کرواتے ہو۔ملک کے سپہ سالار پر اعظم سواتی سے حملہ کرواتے ہو تاکہ چوروں کا ساتھ دینے کا بیانیہ بنا سکے۔ آدھی بات اپنے چیلوں سے کرواتے ہو اور پھر تشریخ خود کرتے ہو۔نام اپنے چیلوں سے دلواتے ہو اور اور پھر نام لیے بغیر زہر پاشی خود کرتے ہو۔پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکڑیاں ہیں۔ نہیں تم بھیر بکریاں نہیں باقی پورا پاکستان آتے کی بوری ہے۔ تم جو مرضی کہو، تم جو مرضی سازش رچاو۔ تم جس کی مرضی عزت کے ساتھ کھیلو۔ تم جس کی مرضی بدنامی اور ساکھ کے ساتھ کھیلو۔ اور اگر ادارے حرکت میں آئیں تو پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ کسی پر کوئی الزام لگائے سمجھ جائیں پس منظر میں یہی کھیل یہ کھیل رہا ہے۔سائفر پر ملکی سالمیت کے ساتھ کھیل کے غداری کی اور اپنے مخالفین پر غداری کا الزام لگا دیا۔خود ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کر رہا تھا جو آڈیو لیک میں ثابت بھی ہو گیا اور دوسروں کو مشرق اور پچیس کروڑ کے الزام لگا رہا تھا۔کہتا تھا شریفوں اور بھٹو خاندان نے قوم کو ذہنی غلام بنا لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے ایک بڑے طبقے کو اپنا ذہنی غلام بنا لیا ہے، اور ان کے سامنے جب عمران خان آتا ہے تو ساری منطق، دلیل، عقل ، شعور ۔۔سکتے کے عالم میں چلا جاتا ہے۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

     صدف نعیم کی موت شہادت ہے، اسکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،

  • حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    حکومت نے کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہبازشریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں 400ارب روپے زیادہ ہے، کسانوں کوملنےوالے قرض پرحکومت سبسڈی فراہم کرے گی،زرعی ترقی کےلیےکسانوں کے مسائل کاحل ضروری ہے،زرعی ترقی کیلئے کسانوں کے مسائل حل کریں گے-

    ٹک ٹاک اور زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل سیفٹی ورکشاپس کا انعقاد

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار زرعی ترقی پر ہے،سیلاب میں پورے پاکستان میں تباہی مچائی،سیلاب سے 40لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں،زرعی زراعت ہماری معیشت کو آگے بڑھا سکتی ہے،88ارب روپے سیلاب متاثرین میں نقد اور اشیا کی شکل میں امداد تقسیم کی ہے-

    شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں کی بہتری کیلئے حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی وہ پاکستان کے مفاد میں ہوگا، حکومت ان قرضوں پر6ارب40کروڑ رروپے کی سبسڈی فراہم کرے گی، حکومت نے ڈی اے پی کھاد کی بوری کی قیمت 11ہزار 250روپے مقرر کردی-

    انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کی پیداوار کیلئے کھاد بنانے والوں کو سستی گیس فراہم کریں گے،ڈی اے پی کی فی بوری میں 2500 روپے کمی کروائی گئی ہے،ڈی اے پی پر58ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی-

    ٹھٹھہ : ڈپٹی کمشنر آفس میں آگ لگ گئی،کمپیوٹر روم کے اندر کمپیوٹرز،دیگر آلات جل کر خاکستر

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو بلا سود قرض فراہم کیے جائیں گے، سیلاب زدہ علاقوں میں گندم کے بیج کے 12 لاکھ تھیلے فراہم کیے جائیں گے، سیلاب زدہ علاقوں میں بے زمین ہاریوں کو بلاسود5ارب کے قرضے دیئے جائیں گے-

    انہوں نے پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمال میڈیم انٹر پرائز معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،وفاق اور صوبے ملکر بیج کیلئے 13ارب20کروڑ روپے دیں گے،ٹریکٹر کی قیمت عام کسانوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے،ٹریکٹر کی قیمت کم کرنے کیلئے ہم نے پوری کوشش کی-

    انہوں نے کہا کہ 5سال تک استعمال شدہ ٹریکٹرزکی درآمدکی اجازت دے رہے ہیں استعمال شدہ ٹریکٹرز کی درآمد کیلئے ڈیوٹی چھوٹ دی جائے گی،حکومت 5لاکھ ٹن یوریا درآمد کرے گی، حکومت یوریا پر بھی 30ارب روپے کی سبسڈی دےگی،گزشتہ حکومت گندم اور چینی پہلے برآمد پھر درآمد کرتی رہی،ہم نے مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ ہم 16لاکھ ٹن گندم اور امپورٹ کرینگے اب ٹوٹل 26لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوگی،10لاکھ ٹن آچکی ہے،جب بھی صوبے چاہیں گے ان کو گند م فراہم کریں گے،اجتماعی کوشش سے ہم ایک ایک ڈالر بچا رہے ہیں-

    فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب

  • اولمپیئن منظور حسین جونیئر انڈر 16 نیشنل چیمپیئن شپ ملتوی

    اولمپیئن منظور حسین جونیئر انڈر 16 نیشنل چیمپیئن شپ ملتوی

    اولمپیئن منظور حسین جونیئر انڈر 16 نیشنل چیمپیئن شپ ملتوی

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام 9 نومبر تا 18 نومبر کراچی میں ہونے والی اولمپیئن منظور حسین جونیئر انڈر 16 نیشنل چیمپیئن شپ کو بلوچستان کے چار سینئر آفیشلز کے روڈ حادثے میں انتقال کے باعث ملتوی کردی گئی ہے. اس حوالے سے پی ایچ ایف سیکریٹری جنرل کی جانب سے تمام صوبائی ایسوسی ایشنز کو اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے. مزکورہ چیمپیئن شپ کی نئی تاریخوں کا اعلان بہت جلد کردیا جائے گا.

    واضع رہے بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے چار آفیشلز جو کہ خضدار میں وزیراعظم ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے سلسلے میں ہاکی ٹیم کی سلیکشن کرنے کے بعد واپس کوٸٹہ آرہے تھے کہ غوث آباد آغا جان ہوٹل کے قریب ان کی کار اور کوچ میں تصادم ہوگیا تھا. جس کے نتيجے میں کار میں سوار کوٸٹہ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے چار آفیشلز شہید ہوگٸےتھے. مرحومین میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوآرڈینیٹر بلوچستان شرافت اسلام بٹ کے برادر بلوچستان ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور کوچ مجاہد اسلام بٹ، کوٸٹہ ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری میر علی کرد، بلوچستان ہاکی پلیئر ٹیکنیکل آفیشل سلیکٹر عبدالرحیم درانی اور بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے ممبر و ٹیکنیکل آفیسر امتیاز شاہ شامل تھے

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا