Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ریلوے میں دوران سفر "جنسی سہولیات” میسر،ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافرپھٹ پڑے

    ریلوے میں دوران سفر "جنسی سہولیات” میسر،ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافرپھٹ پڑے

    پاکستان میں دوران سفر جنسی سہولیات حاصل کریں،ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافرپھٹ پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹرین میں سفر کریں اور دوران سفر جنسی سہولیات حاصل کریں، ایسا مسافروں کو ملنے والے ٹکٹ پر لکھا ہوا مل رہا ہے

    پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے سندھ ، بلوچستان میں ریلوے کا ٹریک متاثر ہے تا ہم پنجاب کے علاقوں میں ریلوے چل رہی ہے، پنجاب کے شہر میانوالی، کندیاں، پپلاں میں بھی ٹرین سروس چل رہی ہے، جب مسافروں نے ٹکٹ لئے تو وہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ ٹکٹ کے اوپر لکھا ہوا تھا ,sex service in train availael

    مسافر نے ٹکٹ اکانومی کلاس کا لیا اور کوٹ ادو سے واہ تک بکنگ کروائی،ٹکٹ پر 30 ستمبر کی تاریخ درج ہے،ایک اور مسافر نے ٹکٹ لیا تو اس پر بھی اسی طرح کے الفاظ درج تھے، وہ ٹکٹ پپلاں سے کندیاں تک کے لئے بک کروایا گیا تھا، اور اس پر بھی 30 ستمبر کی تاریخ درج تھی

    پاکستان میں ٹرین کے ٹکٹوں پر جنسی سہولیات میسر ہونے کا ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافروں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اوربکنگ آفس میں شکایت کی تو باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بکنگ آفس کے عملے نے درخواست دے دی جس میں انہوں نے کہا کہ ہمارا آن لائن ٹکٹنگ سسٹم ہیک کر لیا گیا ہے،

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    تھل ایکسپریس حکام کی جانب سے ڈی ایس پی ریلوے راولپنڈی کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ میں عمران انٹرپرائزز، تھل ایکسپریس کا کنٹریکٹ میرے پاس ہے ،میں بطور آئی ٹی انچارج ، بکنگ آفس میں کام کر رہا ہوں 30 ستمبر کو جب ٹکٹ دینے کا کام شروع کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارا سافٹ ویئر ہیک کر لیا گیا ہے، باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی کو دی گئی درخواست میں مزید کہا گیا کہ ٹکٹ پرنٹ کی صورت میں چند نازیبا کلمات ٹکٹ پر پرنٹ ہو رہے ہیں نامعلوم ہیکرز کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور کاروائی کی جائے تا کہ آنیوالے وقت میں ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہ بنے

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    اسلام آباد سے صحافی محمد اویس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہیکر نے آؤٹ سورس ٹرین چلانے والی نجی کمپنی کا سافٹ وئیر ہیک کر کے ہر جاری ہونے والے ٹکٹ پر نازیبا الفاظ درج کردیئے نجی کمپنی نے ہیکر کے خلاف ڈی ایس راولپنڈی کو درخواست دے دی

  • چین نے سیلاب زدگان کیلئے 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی

    چین نے سیلاب زدگان کیلئے 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی

    مصیبت کے وقت سچا دوست ہی دوست کے کام آتا ہے، چینی حکومت، فوج اور دیگر نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے اپنے دوست ملک پاکستان کو 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی ہے.

    چینی ریڈکراس، کمپنیاں اور عوام پاکستان کی اعانت میں پیش پیش ہیں، چین کے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد پاکستان کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، مصیبت کی اس گھڑی میں چین پوری طرح سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین نے سیلاب زدگان کے لئے 64 کروڑ 41 لاکھ یو آن (90.2 ملین ڈالر) امداد دی ہے، چینی حکومت کی جانب سے 400 ملین اور چینی فوج نے 100 ملین یو آن امداد فراہم کی ہے۔


    چینی عوام نے 125 ملین، سفارتخانہ 17 ملین اور ریڈ کراس سوسائٹی نے 201 ملین یو آن امداد دی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چائنہ تھری گورجز کے وفد نے پاکستان میں چائنہ کے سفیر نونگ رونگ کی سربراہی میں ملاقات کی تھی

    چیئرمین چائنہ تھری گورجز ووشینگ لیان نے وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا چیک عطیہ کیا تھا۔انہوں نے وزیر اعظم کو مزید بتایا تھا کہ چائنہ تھری گورجز(CTG) کے تحت کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پچھلے تین ماہ سے پوری استعداد پر چل رہا ہے۔ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،CPEC فریم ورک کے تحت لگایا جانے والا پن بجلی کا اہم منصوبہ ہے جس کے تحت 720 میگاواٹ ماحول دوست اور کم لاگت بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے بھرپور مالی مدد فراہم کرنے پر چینی صدر شی جن پنگ، چینی کمپنیوں اور چین کی عوام کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم نے چائنہ تھری گورجز کو کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل اور اس منصوبے کو مکمل طور پر فعال کرنے کے اقدام کی پزیرائی کی، اور پاکستان میں ماحول دوست و کم لاگت پن بجلی کی فراہمی پر ان کی کاوشوں کو سراہا۔

  • اکتوبر میں ڈینگی کیسز میں مزید اضافہ ہوگا ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور کی شہریوں کو وارننگ

    اکتوبر میں ڈینگی کیسز میں مزید اضافہ ہوگا ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور کی شہریوں کو وارننگ

    سندھ بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 330 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    باغی ٹی وی : صوبے بھر میں ڈینگی سے متاثرہ 330 میں سے 275 افراد کا تعلق کراچی سے ہے جب کہ کراچی میں ڈینگی سے مزید ایک شخص انتقال کرگیا۔

    برقع پہن کر گھروں میں ڈکیتیاں کرنے والے ملزمان گرفتار

    سیکریٹری صحت کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی کے 389 کیسز رپورٹ ہوئے لاہور 136 اور گوجرانوالہ سےڈینگی کے 29 کیسز رپورٹ ہوئے-

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور ڈاکٹر فیصل نے خبردار کیا ہے کہ اکتوبر میں ڈینگی کیسز میں مزید اضافہ ہوگا لہٰذا شہری گھروں میں اسپرے کروائیں اور احتیاطی تدابیراختیار کریں۔

    محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران ڈینگی کے مزید 88 کیسز رپورٹ ہوئے،راولپنڈی میں رواں برس ڈینگی مریضوں کی تعداد2ہزار 360ہوگئی،راولپنڈی میں رواں برس ڈینگی سے 3 مریض انتقال کر چکے ہیں-

    چین نے کم عرصے میں معاشی طور پر ملک کو مضبوط کیا،وزیراعظم

    ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں ڈینگی کے 104نئے کیسز رپورٹ ہوئے،اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ڈینگی کے 56کیسز سامنے آئے ،اسلام آباد کے شہری علاقوں میں ڈینگی کے 48کیسز سامنے آئے-

    ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں رواں سیزن میں ڈینگی کے 2ہزار 435 کیسز رپورٹ ہوئے،اسلام آباد میں رواں سیزن ڈینگی سے 6 مریض انتقال کرچکے ہیں،پمز میں 26 اورپولی کلینک اسپتال میں ڈینگی کے 2 مریض زیرعلاج ہیں-

    دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کے مطابق حیدرآباد میں 137 سیلاب متاثرین ریلیف کیمپس میں جلدی امراض مبتلا ہوگئے ،133 افراد کو سانس کی تکلیف کے انفیکشن کی شکایت ہوئی ملیریاکے 106 مشتبہ اور تصدیق شدہ 15 کیسز رپورٹ ہوئے ، آنکھوں کے انفیکشن کے 24 کیسز رپورٹ ہوئے،90 افراد ریلیف کیمپس میں ڈائریا میں مبتلا ہوگئے-

    چین ہر حال میں پاکستان کا ثابت قدم دوست رہا،شیری رحمان

  • یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ

    یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ

    ہر سال یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ا س دن کو چین میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔یکم اکتوبر سن 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان ہوا تھا.

    آج چین کے اس قومی دن کے موقع پر ہم آپ کو پاک چین دوستی اورتعلقات کی تاریخ سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ڈاکٹر رشید احمد کے مطابق؛ 1950 کی دہائی میں جب پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ بنیادوں پر باقاعدہ تعلقات قائم ہوئے، تو اس وقت کی دُنیا ، موجودہ دُنیا سے بالکل مختلف تھی سابقہ سوویت یونین (موجودہ جمہوریہ روس)اور ریاستہائے متحدہ امریکہ عالمی سیاست کے دو محور تھے۔ چین کا اگرچہ بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا اور اس وجہ سے اُسے1945 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بھی بنایاگیا مگر طویل عرصے تک بیرونی جارحیت اور خانہ جنگی کاشکار ہونے کی وجہ سے متعدد اندرونی مسائل مثلاً معاشی پسماندگی، بھوک، غربت اور بے روز گاری کا شکار تھا۔

    تاہم نئی حکومت نے چین کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو فوری اور اولین اہمیت دیتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے قیام اور استحکام کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا کا خطہ چین کی کمیونسٹ حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ کیوں کہ اسی خطے کے پانچ ممالک یعنی بھارت، بھوٹان، نیپال، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی تھیں اور یورپی دور کے آغاز سے قبل اس خطے کے ساتھ چین کے تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم تھے۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ جسے اب شاہراہِ قراقرم کا نام دیاگیا ہے، صدیوں سے جنوبی ایشیا ، خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے ذریعے چین اور یورپ کے درمیان نہ صرف تجارتی سامان بلکہ ثقافتی اقدار،علم وہنر اور جدید خیالات کی ترسیل کا ذریعہ تھی۔ اس دور میں امریکہ نے نئے چین کو دنیا میں الگ تھلگ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ پاکستان نے امریکہ کی اس چین دشمن پالیسی کی پروا نہ کرتے ہوئے چین کی نئی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرکے ہر بین الاقوامی فورم پر چین کی حمایت کی، پاکستان اُن ممالک میں شامل تھا جو اقوامِ متحدہ ، خصوصاً سلامتی کونسل میں چین کی نشست بحال کرنے کے حق میں تھا.

    یاد رہے کہ چین نے بھی اُس وقت پاکستان کی خیر سگالی کا احترام کرتے ہوئے، پاکستان کے ساتھ دوستی اور قریبی تعلقات کے لئے ہاتھ بڑھایا۔1951 میں کشمیر کی وجہ سے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہوئے اور بھارتی حکومت نے پاکستان کو کوئلے کی سپلائی اچانک بند کرکے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس مشکل موقع پر چین نے پاکستان کو کوئلہ فراہم کیا۔

    یہ یاد رہے کہ اُس وقت پاکستان کی معیشت صنعت حتیٰ کہ بجلی پیدا کرنے کے لئے کوئلہ توانائی کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔1950 کی دہائی میں پاکستان اور چین کے درمیان خیرسگالی اور باہمی مفاہمت پر مبنی تعلقات کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ سرد جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی اورکمیونسٹ مخالف دفاعی معاہدوں سیٹو(SEATO)اور سینٹو(CENTO) کا رُکن ہونے کے باوجود پاکستان، اقوامِ متحدہ میں چین کے جائز مقام کی بحالی کا حامی تھا اور جنرل اسمبلی کے ہر سالانہ اجلاس میں پاکستان چین کے حق میں ووٹ ڈالتا تھا۔

    دوسری طرف ہندی، چینی بھائی بھائی کے نعروں کی موجودگی میں بھی چین نے کبھی کشمیرکے مسئلے پر بھارت کے مؤقف کی حمایت نہ کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دیگر بڑی طاقتوں کے برعکس چین، جنوبی ایشیا کو بھارت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ بلکہ پاکستان اور جنوبی اشیا کے دیگر چھوٹے ممالک کے ساتھ تعلقات کو اُس نے بھارت کے ساتھ اپنی دوستی سے متاثر نہ ہونے دیا۔ 1955 میں ہنڈرنگ کانفرنس کے موقع پر پاکستانی اور چینی وزرائے اعظم کے درمیان خوشگوار تعلقات اور چینی وزیرِاعظم چواین لائی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کے قیام کی خواہش اور اس کے بعد1955 میں چین کی نائب صدر سونگ چنگ کا دورہ پاکستان اور 1956 میں پاکستانی وزیرِاعظم (حسین شہید سہروردی) کا دورہ چین ، اس حقیقت کا غماض ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قدرتی دوست ہیں اور اس حقیقت کی بنیاد پر 1960 کی دہائی میں دونوں ملکوں میں دوستی کے مضبوط رشتوں کا قیام ناگزیر تھا۔ پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات کو جن دو معاہدوں نے ملکوں کی دوستی کے رشتوں کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا، وہ سرحدی معاہدہ(1963) اور اسی سال پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائنز کو اسلام آباد بیجنگ ایئر روٹ پر سروس شروع کرنے کی اجازت تھی۔

    کہنے کو تو یہ دونوں دوطرفہ معاہدے تھے مگر ان کے دُور رس اور اہم بین الاقوامی مضمرات بھی تھے۔ عوامی جمہوریہ چین نے اپنی سرحدوں کو محفوظ اور مستحکم بنانے کے لئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کی۔ اُس کے نتیجے میں سابقہ سوویت یونین اور بھارت کے ساتھ سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ بلکہ نوبت مسلح تصادم تک آپہنچی تھی۔ چین کو ان دونوں ملکوں کی طرف سے درپیش خطرات کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ پُرامن اور کامیاب مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کا تعین جہاں چین کے لئے اطمینان کا باعث تھا، پاکستان کو بھی چین کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے اہم اور محفوظ راستہ مل گیا۔ آگے چل کر یہی راستہ پاکستان چین اکنامک کاریڈور (سی پیک) کی بنیاد بنا۔

    یکم اکتوبر 1949 کو چین پیپلز ریپبلک آف چائنا کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا،چین میں یہ دن روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا تھا،یہیں سے پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا ہوئی جو مزید گہری ہوتی چلی گئی .

    پاکستان اورچین نظریاتی طورپر بالکل ایک دوسرے کے مخالف لیکن دونوں میں دوستی مضبوط تر ہے ،پاک چین لازوال دوستی خطے میں امن و استحکام کی ضامن ہے پاکستان کے ہرمشکل وقت میں چین نے پاکستان کا سا تھ دیا ،چین پاکستان میں سرمایہ کاری رہا،سی پیک چین کا ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں خوشحالی آئیگی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا

    چین کا شمار دنیا کے مضبوط ترین ممالک میں ہوتا ہے دوسری طرف پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں لیکن اس کے باوجود پاکستان اور چین کے مابین تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ،کوئی بھی حکومت ہو ،ہر دور میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کومزید مستحکم کرنے کی ہی کوشش کی گئی

    چین کے قومی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ین نے کم عرصے میں معاشی طور پر ملک کو مضبوط کیا،پرامن اور مستحکم چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے،اصو ل پسندی اور بہتر ین نظم و ضبط پر چین کا بڑا حامی ہوں بہترین اصولوں سے چین نے اپنی قوم کو غربت سے نکالا

  • ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا کمپنی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر کے متعارف کرائے جانے کے بعد پوسٹ کس طرح دِکھائی دے گی ٹوئٹ میں ’لاسٹ ایڈٹڈ‘ یعنی آخری بار ایڈٹ کیے جانے کا وقت اور تاریخ پوسٹ کے نیچے موجود تھا صارفین اس لنک کو کلک کرتے ہوئے ٹوئٹ کے ایڈٹ کیے جانے کا پورا ماضی دیکھ سکتے ہیں-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1575590534529556480?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوگی۔ یہ کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔

    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    https://twitter.com/Twitter/status/1565318587736285184?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ

    کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مدد سے کوئی ٹوئٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اس ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا جاسکے گا اور ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر وقت لکھا ہوگا اور یہ درج ہوگا کہ اصلی پوسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ اس میں صرف "چند بار” تبدیلیاں کر سکیں گے۔ تمام صارفین ٹویٹ کے ماضی کے ورژنز کو دیکھ سکیں گے، اس لیے یہ فیچر ٹائپ کی غلطیوں کے لیے زیادہ ہے نہ کہ ایسی چیزوں کو چھپانے کے لیے جو آپ کو پہلے پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ لیبل اس لیے ضروری ہے کیوں کہ پوسٹ کی تاریخ گفتگو کی دیانتداری کے تحفظ میں مدد دے گا اور لوگوں کو اس ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی جس سے معلوم ہو سکے گا کہ ٹوئٹ میں کیا کہا گیا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

  • چین ہر حال میں پاکستان کا ثابت قدم دوست رہا،شیری رحمان

    چین ہر حال میں پاکستان کا ثابت قدم دوست رہا،شیری رحمان

    چین ہر حال میں پاکستان کا ثابت قدم دوست رہا،شیری رحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین کے قومی دن کے موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز ریپبلک آف چائنہ کو اس کی 73ویں سالگرہ اور قومی دن کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

    وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی دونوں ممالک کے بیچ گرمجوشی، بھائی چارے اور پائیدار رشتے کا ثبوت ہے۔ چین ہر مشکل میں پاکستان حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی مشکل ترین گھڑی میں ہم چین کی حکومت، عوام اور چین کے پاکستان میں سفیر کی مسلسل حمایت کے لیے انتہائی شکر گزار ہیں۔ چین نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے اب تک 90.2 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنا کا اعلان کیا ہے جو کسی بھی ملک سے آنے والے امداد میں سب سے زیادہ ہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مزید کہا کہ چین کی حکومت اور تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ چین ہر حال میں پاکستان کا ثابت قدم دوست رہا ہے، سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے ہم چین کی حکومت کے بہت مشکور ہیں۔ پاک چین دوستی زندہ آباد۔

    واضح رہے کہ چین کا قومی دن یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس حوالے سے چین میں قومی پرچموں سے سجاوٹ کی گئی ہے ا س دن کو چین میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ یکم اکتوبر سن 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان ہوا تھا۔یکم اکتوبر 1949 میں چین کا قومی پرچم تیان من اسکوائر پر لہرایا گیا۔ یہ وہ دن تھا جب دنیا پہلی بار عوامی جمہوریہ چین کے نام سے قائم ہونے والے ایک وطن سے متعارف ہوئی

    پاک چین دوستی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    پاکستان اورچین دوعظیم اور بااعتماد دوست ہیں،شہباز شریف

    چین نے کم عرصے میں معاشی طور پر ملک کو مضبوط کیا،وزیراعظم

  • کیس میں التوا مانگنے پرعمران خان پردوسری بار "پانچ ہزار” جرمانہ

    کیس میں التوا مانگنے پرعمران خان پردوسری بار "پانچ ہزار” جرمانہ

    کیس میں التوا مانگنے پرعمران خان پردوسری بار "پانچ ہزار” جرمانہ

    عمران خان کا خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس ،عمران خان پر التواء مانگنے پر ایک بار پھر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا

    گزشتہ سماعت پر بھی عمران خان کو التواء کی درخواست پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا ، عمران خان کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر میں کہا گیا کہ عمران خان میٹنگ میں شرکت کے باعث پیش نہیں ہو سکتے، مرکزی وکیل بیرون ملک ہیں پیش نہیں ہو سکتے،

    عمران خان کے بیان پر خواجہ آصف کے وکلاء کی جرح 22 اکتوبر تک موخر کر دی گئی، ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد عدنان خان نے عمران خان کے ہرجانہ کے دعوی کی سماعت کی ،عمران خان اور خواجہ آصف کے وکلاء کی مشاورت سے 22 اکتوبر آئندہ تاریخ مقررکر دی گئی، عمران خان کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا پانچ ہزار روپے جرمانے کے ساتھ منظور کر لی گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر بھی عمران خان نے التوا مانگا تھا جس پر عدالت نے عمران خان پر جرمانہ عائد کیا تھا، عدالت نے گزشتہ سماعت پر عمران خان پرپانچ ہزار جرمانہ عائد کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی
    آڈیو لیکس کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے آنکوائری کمیشن بنانے کے درخواست دائر کردی

    درخواست پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے دائر کی ہے۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم اور کچھ وفاقی وزرا کی آڈیو لیکس سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں ان آڈیو لیکس میں درخواست گزارکو سیاست سے دور رکھنے کے لئے سازش بنائی ان آڈیو لیکس میں ایک مجرمانہ سازش کے تحت درخواست گزارکو ٹارگٹ کیا گیا درخواست میں آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ شامل کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی وزرا نے ایسی سازش اسپیکر اور قومی اسیمبلی کے سیکریٹری کے تعاون سے تیارکی۔ اس آڈیو لیک کو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تسلیم کرچکے ہیں۔نئی صورتحال پیدا ہونے پر عدالت سے استدعا ہے کہ انکوائری کمیشن بنایا جائے،وزیر اعظم ، رانا ثنااللہ ، اعظم نذیر سمیت نامزد شخصیات کے خلاف کریمنل پروسیڈنگزکی ہدایت کی جائے،

    دوسری جانب حکومت نے بھی آڈیو لیکس کے بعد اہم فیصلے کر لئے ہیں،گزشتہ روز وفاقی کابینہ اجلاس ہوا، جاری اعلامیہ کے مطابق آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی طرف سے آڈیو لیکس کی مکمل تحقیق کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ آڈیوز نے سابق حکومت اور عمران نیازی کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ایک سفارتی’سائفر‘ کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیا گیا ،کابینہ نے فیصلہ کیا کہ خصوصی کمیٹی سابق وزیراعظم اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے خلاف کارروائی کا تعین کرے گی، خصوصی کمیٹی سینیئر وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا تعین کرے گی جبکہ کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے جس میں خارجہ، داخلہ، قانون کی وزارتوں کے وزرا شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ ئی ہے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور پی ایس اعظم خان کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے کہ کس طرح سائفر کو موڑ دیا جائے اور اسے عوام میں اپنی حکومت کے خلاف سازش کے طور پر بیچا جائے

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • مودی سرکار نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا

    مودی سرکار نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار پاکستان دشمنی سے باز نہ آئی، بھارت نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا دیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار نے حکومت پاکستان کے آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کروایا ہے، بلاک کروانے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکا، بھارت میں حکومت پاکستان کا ٹویٹر اکاؤنٹ چیک کرنے پر لکھا آتا ہے کہ اکاؤنٹ کو کچھ قانونی تقاضوں کی وجہ سے بلاک کیا گیا ہے

    بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کروانے پر حکومت کی جانب سے ابھی تک مکمل خاموشی ہے، یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے ایسا کیا ہو. بھارت ماضی میں بھی حکومتی شخصیات کے ٹویٹراکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا چکا ہے، باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی مودی سرکار نے بھارت میں بلاک کروایا ہوا ہے

    واضح رہے کہ ماضی میں بھی ٹویٹر کی جانب سے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس بند کیے جاتے رہے ہیں، خصوصی طور پرٹویٹر پر کشمیر کے حق میں کچھ لکھنے پر نہ صرف پاکستان کے حکومتی عہدیداران کے اکاؤنٹس بند کئے گئے بلکہ عام شہریوں کے بھی اکاؤنٹس بند کئے گئے.

    ٹویٹر انتظامیہ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھی نوٹس بھجوا دیا تھا ،اگر حکومت پاکستان ٹویٹر کو کسی کا اکاؤنٹ بند کرنے کا کہتی ہے تو ٹویٹر انتظامیہ مانتی نہیں، قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں انکشاف ہوا تھا کہ ٹویٹر نے اعتزاز احسن کا جعلی اکاؤنٹ کئی بار درخواست کے باوجود بند نہیں کیا، جس پر کمیٹی نے ایف آئی اے سائبر کرائمزونگ اورٹوئٹرکے ساتھ معاہدے کی کاپی مانگ لی تھی، اراکین کمیٹی نے کہا کہ اعترازاحسن کاجعلی ٹوئٹراکاوَنٹ آج تک بندکیوں نہیں ہوا؟روبینہ خالد نے کہا کہ کِیا سارے اکاوَنٹ پاکستان سے باہر آپریٹ ہو رہےہیں ؟کچھ اکاوَنٹس گھنٹوں میں بند کیوں ہو جاتے ہیں ؟

    ٹویٹر پاکستانی حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو نہیں مان رہا البتہ انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی درخواست کو فوری قبول کر لیا جاتا ہے، اس پر پاکستان کی حکومت اور وزارت آئی ٹی کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے.

    ٹویٹربھارتی اشاروں پرناچنے لگا”باغی ٹی وی”کودھمکیاں:وزیراعظم نوٹس لیں‌

    بھارتی مسلمانوں کی آواز”باغی ٹی وی”کے ٹویٹراکاونٹ کوبلاک کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی ٹویٹرکودرخواست، 

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • سائیفر جلایا نہیں، چرایا ہے جو وزارت خارجہ سے مل جائے گا۔ شیخ رشید

    سائیفر جلایا نہیں، چرایا ہے جو وزارت خارجہ سے مل جائے گا۔ شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سائیفر جلایا نہیں، ابھی چرایا ہے، جو وزارت خارجہ سےمل جائے گا۔

    شیخ رشید احمد نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سامراجی ایمبسڈروں کے گھر جاتےہیں اوران کےمنہ میں کیک ڈالتےہیں۔ نوازشریف ان ویٹنگ، مریم ڈارکوکلین چٹ ڈیل کاحصہ ہے۔عمران خان کےخلاف سائیفرکا حکومتی بیانیہ اس کےحق میں گیا ہے۔


    انہوں نے مزید لکھا کہ حکمرانوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، ابھی توآڈیو ویڈیو سے بحران آیا ہے،عوام سڑکوں پر آئےتوبھونچال آئے گا۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ، سراٹھا کےجینا ہے یا سیاسی کیڑے مکوڑوں کی طرح جینا ہے۔ حکمران عوام کےگھیرے میں آگئےہیں، اب بھاگ نہیں سکیں گے۔

    اس سے قبل سائفر سے متعلق رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا کہنا تھا کہ کھویا ہوا سائفر آپکو چیف جسٹس صاحب سے ملے گا۔ شہباز گل نے اپنے آفیشل آکاونٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ن لیگ والوں کا سائفر کھو گیا۔ ان کو انگریزی پڑھنی نہیں آتی۔ وہی سائفر وزیراعظم نے سپیکر کو بھیجا تھا اور سپیکر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو۔ تو آپکا کھویا ہوا سائفر آپکو چیف جسٹس صاحب سے ملے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، فیصلہ وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیرصدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 1 کسان اتحاد دھرنا؛ ڈی چوک کی جانب مارچ کی ڈیڈلائن سے قبل وزیر داخلہ نے مزاکرات کیلئے بلا لیا
    2پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیجانب سے پروپیگنڈہ، مبشر لقمان نے جواب دے دیا
    3پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی سے متعلق آڈیوز نے عمران خان کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی کو من گھڑت معانی دیکر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیا گیا، فراڈ، جعلسازی اور فیبریکیشن کے بعد اسے چوری کرلیا گیا، یہ آئینی حلف اور دیگر متعلقہ قوانین اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، یہ ریاست کے خلاف ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب ہے. اعلامیے کے مطابق؛ وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ اس سارے معاملے کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے گی، اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے۔