Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بل گیٹس نے غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک دلچسپ تجویز پیش کر دی

    بل گیٹس نے غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک دلچسپ تجویز پیش کر دی

    مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے دنیا کو نبرد آزما سب سے اہم مسئلے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک دلچسپ تجویز پیش کی ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بل گیٹس نے کہا ہے کہ صرف امداد سے غذائی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ جادوئی بیج کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

    امریکی عدالت نے بہن کی بھائی سے شادی کی اجازت دیدی؟

    بل گیٹس کے مطابق غذائی بحران کی بنیادی وجوہات یوکرین میں جاری جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور وبائی امراض کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امداد کے بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا ہوگا۔

    افریقی ممالک میں زراعت کو بہتر بنانے کے لیے2008ء سے اب تک 131 ملین ڈالرز خرچ کردینے والی بل گیٹس کی این جی او ’’ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘‘ نے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ’جادوئی بیج‘ تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جسے فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی کیڑوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

    بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں گیٹس کا کہنا ہے کہ بھوک کا عالمی بحران اتنا بڑا ہے کہ خوراک کی امداد اس مسئلے کو پوری طرح حل نہیں کر سکتی جس چیز کی بھی ضرورت ہے، وہ کاشتکاری کی ٹیکنالوجی میں اختراعات ہیں جو بحران کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

    جادوئی بیج کی تجویز پر بل گیٹس کو تنقید کا سامنا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ جادوئی بیج کی تیاری میں کئی برس لگ جاتے ہیں اس لیے یہ لانگ ٹرم حکمت عملی تو ہوسکتی ہے لیکن فوری طور پر غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے کارگر نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بل گیٹس کی تجویز ماحول کے تحفظ کے لیے کی گئی عالمی کوششوں کے خلاف ہے کیوںکہ ایسے بیجوں سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے عام طور پر کیڑے مار ادویات اور فوسل فیول پر مبنی کھاد استعمال کرنا پڑتی ہے۔

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

  • پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید 3 ملزمان کو گرفتار

    پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید 3 ملزمان کو گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم نے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم پشاور نے کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے 3 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے کے مطابق تینوں میں ملزمان کو تین مختلف علاقوں ہری پور، بٹگرام اورحویلیاں سے گرفتارکیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان نے گزشتہ چھ ماہ میں سوشل میڈیا اکاؤئٹ بنائے، اور ملزمان نے توہین آمیز ریمارکس پوسٹ کیے تھے۔

    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے 700 سے زائد اکاؤنٹس کا پتا لگایا گیا تھا جن میں بیرون ملک سے چلنے والے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر منفی مہم کی تحقیقات کے لیے قائم چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ میں اس مہم میں ملوث اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی.

    وزارت داخلہ کے اہلکار نے اس وقت بتایا تھا کہ ’ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی صرف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جمع کروائے گی جس کے بعد مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ’آٹھ اگست کو قائم ہونے والی کمیٹی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ابھی صرف ابتدائی رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔‘ اس ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’754 ایسی ٹویٹس کی گئیں جس سے شہدا یا پاکستانی فوج کے خلاف مہم کا تاثر ملتا ہے۔

    اس سلسلے میں تقریباً 237 ٹوئٹر اکاؤنٹس کا پتا چلایا گیا تھا جن میں سے 204 پاکستان سے چلائے جا رہے تھے جبکہ 17 انڈیا اور 16 دیگر ممالک سے آپریٹ ہو رہے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس حوالے سے تقریباً 84 افراد کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں جن میں سے چھ کا تو پتا لگ گیا ہے جبکہ باقی 78 کی شناخت جاننے کے لیے نادرا سے مدد مانگی گئی ہے۔ سیاسی جماعت سے تعلق انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مہم کے تانے بانے ایک سیاسی جماعت سے بھی ملتے ہیں تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ کے اہلکار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مکمل انکوائری کے بعد ہی حتمی طور پر رائے دی جا سکتی ہے۔‘

  • کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پرائمری اسکول کے ایک کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے اور غلطی کو نہ دہرانے کے وعدے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طالب علم کرسی پر بیٹھی بظاہر ناراض نظر آتی اپنی ٹیچر کو منا رہا ہے اور ٹیچر بار بار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تم ہر بار وعدہ کرتے ہوئے اور پھر کلاس میں وہی کرنے لگتے ہو اب میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
    https://twitter.com/Gulzar_sahab/status/1569327422000230400?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر کے اس طرح کہنے پر بچہ مزید پریشان ہو جاتا ہے اور وہ خفا ٹیچر کو منانے کی کوششیں اور تیز کردیتا ہےکبھی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتا ہے تو کبھی ان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر چہرہ قریب لاتا ہے اور معافی مانگتا ہے وہ ایک موقع پر پیار بھی کرلیتا ہے۔

    بچے کو اتنا لاڈ کرتا دیکھ کر ٹیچر کا دل پگھل جاتا ہے اور وہ بچے سے غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لے کر اسے معاف کردیتی ہیں اور بچہ انھیں پیار کرتا ہے جس کے بعد ٹیچرایک بار پھر غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لیتے ہوئے بچے کو پیار کرتی ہے-


    اکثر صارفین نے بچے اور ٹیچر کے درمیان مضبوط جذباتی رشتے کی تعریف کی تاہم کچھ صارفین اپنے زمانہ طالب علمی میں ایسی ٹیچرز میسر نہ آنے پر آہیں بھرتے نظر آئے جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر مرد ٹیچر اپنی طالبعلم کے ساتھ اس طرح بی ہیو کرتا تو ویڈیو پر ایک مختلف ردعمل دیکھنے کو ملتا اساتذہ کے لیے یہ ایک مختلف قسم کی سنسنی ہے۔
    https://twitter.com/SoniAnkitK95949/status/1569385417971044353?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    https://twitter.com/CaugusteC/status/1569765354448236544?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    جس پر ایک صارف نے کہا کہ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے اس سے قطعی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہےلڑکیوں کے ساتھ ایسا کرنے والے مرد اساتذہ بدتمیز ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسئلہ نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اس طرح کے اساتذہ کہاں تھے؟


    بعض صارفین نے ٹیچر کے اس عمل کو سراہا کہا کہ آپ کو ایک بہت بڑا سلام اور بہت زیادہ احترام محترمہ ایک استاد کا ایسا ہی ہونا چاہیئے بہت قریب آنے والا، پیار کرنے والا، نرم دل، بہت زیادہ صبر کے ساتھ ، بچے اس کے ساتھ بہت آرام سے رہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اسے پیشہ ورانہ مقابلے کے نام پر کھو دیا، امید ہے کہ کچھ دن ہم سب اس طرح کی انسان دوستی اور پیار بھری تعلیم کی طرف لوٹیں گے۔

  • صدر کی مرضی کے بغیر اسمبلی کی مدت نہیں بڑھ سکتی. شیخ رشید

    صدر کی مرضی کے بغیر اسمبلی کی مدت نہیں بڑھ سکتی. شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی مدت میں صدر کی منظوری کے بغیر اضافہ نہیں ہوسکتا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 70 وزراء، 240 روپے کا ایک ڈالر اور 4000 من آٹا غریب کی مزید بربادی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور مکان کے کرائے کے بعد غریب کا چولہا نہیں جلتا۔


    سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسمبلی کی مدت میں صدر کی منظوری کے بغیر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایشیائی کانفرنس میں نہ وزیراعظم اورنہ وزیرخارجہ شریک ہوئے۔ سابق وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ستمبر اکتوبر اہم مہینے ہیں، سب لوگ عمران خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

    ملکی تاریخ میں کتنی اسمبلیوں نے آئینی مدت پوری کی؟

    قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی قیام پاکستان سے چار دن قبل یعنی 10 اگست 1947 کو ’انڈین انڈپینڈینس ایکٹ 1947‘ کے تحت متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جاری کردہ ہدایت پر بنائی گئی تھی۔ ملک کی اس پہلی قانون ساز اسمبلی کو ملک کا آئین بنانے کا کام سونپا گیا تھا مگر پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو 24 اکتوبر 1954 کو تحلیل کرکے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
    پاکستان کی دوسری اسمبلی 28 مئی 1955 کو اس وقت کے گورنر جنرل کے نوٹیفکیشن پر تشکیل دی گئی۔ اس اسمبلی نے متنازع ون یونٹ اور پاکستان کا پہلا آئین ’دستور پاکستان 1956‘ دیا۔ اس دوسری دستور ساز اسمبلی کو سات اکتوبر 1958 کو غیر موثر کردیا گیا۔ جس کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ رہا۔

    آٹھ جون 1962 کو پاکستان کی تیسری قومی اسمبلی تشکیل دی گئی۔ جس نے 1962 کا دستور بنایا اور اس اسمبلی کو 12 جون 1965 کو ختم کردیا گیا۔ 12 جون 1965 کو ملک کی چوتھی قومی اسمبلی بنائی گئی۔ جو جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ ہی 25 مارچ 1969 کو ختم ہوگئی۔ جس کے بعد یحییٰ خان کا مارشل لا نافذ رہا۔ سات دسمبر 1970 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسمبلی بنانے کے لیے عوام نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس سے پہلے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اسمبلی بنادی جاتی تھی۔ اس الیکشن میں شیخ مجیب الرحٰمن کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی تو یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے انکار کردیا۔ اس طرح انتخابات ہونے کے باجود اسمبلی کا قیام نہیں ہوسکا۔

    1972 کے انتخابات کے بعد 14 اپریل 1972 کو پاکستان کی پانچویں اسمبلی کا قیام ہوا مگر اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے 10 جنوری 1977 کو اسمبلی توڑ کر انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ سات مارچ 1977 کو ہونے والے انتخابات کے بعد اسمبلی کا قیام تو ہوا مگر انتخابات کے نتائج پر ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی جس کے فوراً بعد جنرل ضیا الحق نے حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ جنرل ضیا نے آمریت کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی کی جگہ مجلس شوریٰ قائم کردی۔ ضیاالحق نے 1985 میں غیرجماعتی انتخابات کرائے مگر یہ اسمبلی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی اور اسمبلی کو تین سال دو مہینے بعد تحلیل کردیا گیا۔

    1988 میں انتخابات کے بعد دو دسمبر 1988 کو نئی اسمبلی بنی مگر یہ اسمبلی بھی ایک سال نو مہینے بعد تحلیل کردی گئی۔
    1990 میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی تین سال بھی مکمل نہ کرسکی اور اسے تحلیل کردیا گیا۔
    1993 میں انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی ایک سال اندر ہی تحلیل کردی گئی۔ جس کے بعد 1993 میں ہی ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو 1996 میں وقت سے پہلے ختم کریا گیا۔
    1997 میں ہونے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی 1999 میں فوجی بغاوت کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم کردی گئی۔
    پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2002 میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی پہلی اسمبلی تھی، جس کے وزیراعظم تو تبدیل ہوتے رہے مگر اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ 2002 سے 2007 تک اپنی مدت پوری کرنے والی اس اسمبلی کے تین وزیراعظم رہے۔
    2008 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ہٹادیا گیا تھا۔ مگر اس اسمبلی نے اپنے آئینی مدت پوری کی تھی۔ پہلے وزیراعظم کے ہٹنے کے بعد دوسرے وزیراعظم نے مدت پوری ہونے تک اسمبلی کو چلایا۔
    2013 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے وزیراعظم کو تو ہٹادیا تھا مگر اسمبلی نے اپنے آئینی مدت پوری کی تھی۔
    2018 کے انتخابات کے بعد بننے والی موجودہ اسمبلی ساڑھے تین سال بعد وزیراعظم کی درخواست پر مدت پوری کرنے سے پہلے ہی توڑدی گئی۔

  • ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

    ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا آج ویسٹ منسٹر لے جایا جائے گا جہاں ملکہ کے تابوت کا دیدار کیا جاسکے گا-

    باغی ٹی وی :”روئٹرز” کے مطابق ملکہ کے تابوت کو خصوصی طیارے میں ایڈنبرا سے لندن لایا گیا پھر بکنگھم پیلس پہنچا دیا گیا بکنگھم پیلس پہنچنے پر ملکہ کے بچوں اور پوتے پوتیوں نے تابوت کا استقبال کیا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کے آخری دیدار کے لیے عوام کا جم غفیر اُمڈ آیا

    بکنگھم پیلس کے اطراف ہزاروں افراد ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ شہریوں نے تابوت پر پھول نچھاور کر کے ملکہ سے عقیدت کا اظہار کیا۔

    ملکہ کے تابوت والی گاڑی جہاں جہاں سےگزری اس کے اطراف ٹریفک رک گئی۔ ایڈنبرا ایئرپورٹ پر تابوت کو رائل رجمنٹ آف اسکاٹ لینڈ نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    محل کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کنگ چارلس، جو گزشتہ ہفتے اپنی والدہ کی موت پربادشاہت کی کرسی پر براجمان ہوئے نے، اپنے تین بہن بھائیوں، دو بیٹوں ولیم اور ہیری اور شاہی خاندان کے دیگر سینئر ارکان کے ساتھ تابوت وصول کیا-

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

    ملکہ الزبتھ کے تابوت کو آج بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ہال لے جایا جائے گا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ملکہ کے تابوت کا دیدار شام پانج بجے سے کیا جاسکے گا ۔ دیدار کیلئے لوگوں نے ابھی سے قطاریں لگانا شروع کردی ہیں، تابوت کو 4 روز تک یہیں رکھا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو دن گیارہ بجے ہوں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن تیز جبکہ عالمی امداد کی فراہمی جاری. این ایف آر سی سی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن تیز جبکہ عالمی امداد کی فراہمی جاری. این ایف آر سی سی

    پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاوشیں جاری ہے، پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے محصور افراد کو نکالنے کے لیے 516 پروازیں چلائیں۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 پروازیں چلائی گئیں جن میں 87 افراد کو بچایا گیا، ہیلی کاپٹرز سے 32.88 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا، اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4 ہزار 570 سیلاب میں گھرے افراد کا انخلاء کیا گیا ہے،جبکہ ریلیف کیمپس اور امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان سمیت ملک میں 147 ریلیف کیمپس اور 278 امدادی اشیاء کلیکشن پوائنٹس قائم ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 8 ہزار 281 ٹن اشیائے خورونوش، غذائی اشیاء اکٹھی کی جا چکیں، جمع کردہ اشیاء میں ایک ہزار 207 ٹن دیگر ضروری اشیاء، 74 لاکھ 3 ہزار 538 ادویات جمع ہوئی ہیں۔ اب تک 7 ہزار 940 ٹن خوراک، 1148 ٹن دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں، جبکہ 72 لاکھ 19 ہزار 698 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    ملک بھر میں طبی امدادی کیمپس سیلاب متاثرین کو علاج فراہم کر رہے ہیں، اور 300 سے زائد میڈیکل کیمپس میں ایک لاکھ 25 ہزار 506 مریضوں کا علاج ہوا، مفت دوا دی گئی۔ ترکی کی جانب سے 12 امدادی پروازیں بھیجی گئیں، جن میں 4 ہزار 8 ٹن غذائی پیکٹس فراہم کیے گئے، ترکی کی امداد میں بچوں کی خوراک کے ایک ہزار پیکٹس، 520 خیمے، 864 کچن سیٹ، 2 ہزار بستر موجود تھے۔ جبکہ 50 کشتیاں، ہزار ہائی جین باکس، 2.63 ٹن خوراک اور 15.6 ٹن ادویات بھی بھجوائیں۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے 32 پروازوں پر 310 ٹن خوراک، 21 ہزار 245 فوڈ پیکٹس، ہزار خیمے، ایک ہزار بستر، 6.9 ٹن ادویات بھجوائی گئیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے چین نے 7 پروازوں کی مدد سے 5 ہزار 719 خیموں کا عطیہ دیا، بیلجئیم نے 300 خیمے، جاپان نے 3 پروازوں سے 700 خیمے اور 303 ترپالیں فراہم کیں. ازبکستان نے 25 ٹن خوراک اور 9 ٹن بستروں کا عطیہ دیا۔

    قطر نے 3 پروازوں پر 5 ٹن ادویات، 291 تکئیے، 300 کمبل،306 گدے بھجوائے ہیں،این ایف آر سی سی کے مطابق قطر نے فیلڈ اسپتال کے قیام کے ساتھ 2 فیلڈ ایمبولینس، طبی آلات سے لیس 2 گاڑیاں دیں۔ امریکہ نے 10 پروازوں میں 14 ہزار 460 کچن سیٹ، 2 ہزار 880 پلاسٹک شیٹس بھجوائیں، فرانس نے 204 خیمے، 208 کچن سیٹ، 1125 بستر، 422 ہائیجین باکس، 78 واٹر پمپس اور 70 موٹر پمپ پائپس بھیجے۔ فرانس نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 8 افراد پر مشتمل میڈیکل ٹیم، 4 افراد پر مشتمل نکاسی آب کی ٹیم بھی پاکستان بھیجی۔

    اردن نے ایک پرواز پر 500 ٹفن باکس، 16 خیمے، ملبوسات کی 52 اور کمفرٹرز کی 2 گانٹھیں، 350 فوڈ پیکٹس، 15 کمبل، 3 ہزار ابتدائی طبی امداد کٹس، 90 جیری کینز، 102 گدے، 101 تکئیے، 280 ری چارجیبل لائٹس، 31 بےبی فوڈ پیکٹس، 2 کچن سیٹس،179 بستر اور ادویات کے 10 باکس بھی عطیہ کیے۔
    ڈنمارک نے ایک پرواز سے 7 پانی صاف کرنے کے یونٹس بھیجے، ترکمانستان نے ایک پرواز سے 40 بیگ آٹا، 60 بیگ دال، 40 بیگ ، 324 پہناوے، 2612 ہائجین باکس، 400 میڈیسن باکس بھیجے۔ یونیسیف نے 2 پروازوں پر میڈیکل ریلیف آئٹمز، سکول کٹس جبکہ اقوام ادارہ مہاجرین نے 9 پروازیں، عالمی ادارہ خوراک نے 7، ہلال احمر نے 2 پروازیں امداد بھیجی۔

  • ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام

    ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام

    ملکی معیشت کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں۔ ڈالر اور روپے میں زبردست مقابلہ جاری ہے، روپیہ بڑی مشکل سے اپنی قدر بچانے میں مصروف ہے۔

    پاکستان کی معیشت خطرات میں گھرتی چلی جا رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی، معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، بچتوں و سرمایہ کاری کی شرحیں ، برآمدات ، غذائی قلت ، بیروزگاری اور غربت کی صورتحال گزشتہ برسوں اور خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایکسپریس کے ایک مضمون کے مطابق: افراطِ زر، مہنگائی اور ملک پر قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عنقریب بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی بے قدری اور امریکی کرنسی کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے، انٹر بینک میں ڈالر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے صرف ستمبر کے دوران بیرونی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 1400 ارب سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

    لوگ مہنگائی، گیس، بجلی اور پٹرولیم کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں، انھیں ملک کی کامیاب بیرونی پالیسی سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی فکر ہے جس پر توجہ بہرحال وزیراعظم میاں شہباز شریف کو ہی دینا ہوگی۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20فیصد رہنے کا امکان ہے حالانکہ رواں ہفتے یہ شرح40فیصد سے زائد ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور اْن کی کمی کا سامنا بھی ہے۔

    اس لیے پاکستان اس کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے جس وقت اپنی یہ رپورٹ مرتب کی اْس وقت پاکستان میں سیلاب کی صورت حال موجود نہیں تھی، برے معاشی حالات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ہماری رہی سہی کمر بھی توڑ دی ہے۔ ملک میں ساڑھے تین کروڑ افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں ، لاکھوں گھر تباہ ہو گئے اور انفرا اسٹرکچر ختم ہو کر رہ گیا ہے ، فصلیں اور مویشی بھی باقی نہیں رہے اور جو خوراک کا بحران ہمیں پہلے ہی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا ، اْس میں مزید شدت آ جائے گی۔

    ملک ایک بڑی ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، اِس وقت پہلی ترجیح معیشت کی بحالی اور سیلاب زدگان کی مدد ہونی چاہیے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد ملکی معیشت کو اس کے اثرات سے نکال کر کیسے نارمل اور خوشحال زندگی کی طرف لوٹنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مفتاح اسماعیل کو ان کی کارکردگی یا معاشی معاملات پہ گرفت کی وجہ سے اگر وزیر خزانہ لگایا ہے تو اب ضروری ہے کہ وہ اس معاشی ابتری سے ملک کو نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔ سابقہ حکومت نے تو پونے چار برس میں چار وزیر خزانہ بدلے مگر عوام کی حالت نہیں بدلی۔ معاشی ابتری آج تک ہمارے سروں پر مسلط ہے۔

    آئی ایم ایف سے جس قدر ممکن ہو عوام کے لیے ریلیف حاصل کر کے ہی حکومت اپنا اچھا امیج برقرار رکھ پائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور سی پیک منصوبے کو بہر صورت جاری رکھنے کا جو اعلان کیا ہے اور چین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی اپنے طویل تعلقات میں بہتری لانے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ عالمی سطح پر ہمیں کسی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مشکل دور میں جس سے پاکستان گزر رہا ہے ہمیں اندرونی و بیرونی سطح پہ نہایت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان اور بہترین منتظم ہیں۔

    انھوں نے درست کہا ہے کہ ہمارے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں۔ معیشت تباہ حال، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے کارخانے بند پڑے ہیں۔ موجودہ حکومت کو بھی اسی طرح معاشی مسائل قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، بیروزگاری اور خالی خزانہ جیسے مسائل سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے پاس نہ تو تجربہ کار ٹیم تھی اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح پالیسی، منصوبہ بندی یا وژن تھا۔ چنانچہ ان کی حکومت ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ میں بھی نہ تو معیشت درپیش مسائل کو حل کر سکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف مہیا کر سکی ، بلکہ اپنی ناقص پالیسیوں کی بنا پر پہلے سے موجود مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ عام آدمی کے لیے ان تک رسائی قریب قریب ناممکن بنا دی گئی۔

    پٹرول، گیس، ڈیزل، بجلی ، گھی اور چینی وغیرہ کے ریٹس بھی انتہا کو پہنچ گئے۔ جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی لیکن اس کے برعکس میاں شہباز شریف کی قیادت میں جو کابینہ تشکیل دی گئی ہے اس میں زیادہ تر پرانے اور تجربہ کار وزیر شامل ہیں، ان میں زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ حکومتوں میں بھی بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عمران خان کے مقابلے میں اس ٹیم میں ’’ امپورٹڈ ‘‘ وزیر مشیر بہرحال شامل نہیں ہیں جنھیں ملک کے معروضی حالات اور عوامی مزاج سے ہی واقفیت نہیں تھی۔ اس لیے عمران خان کے مقابلے میں میاں شہباز شریف کی حکومت سے عوام بجا طور پر یہ توقعات رکھتے ہیں کہ وہ سابقہ ’’نااہل‘‘ حکمرانوں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے اقدامات سے گریز کرے گی جو سابقہ حکومت کرتی رہی ۔

    پاکستان میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری بہت کم ہوگئی ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہونے کا آسان مطلب یہی ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہاں کے حالات کی وجہ سے اپنے سرمائے کے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ داخلی سطح پر حالات بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اقدامات کر کے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت ان تمام شعبوں پر جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھا سکتی ہے۔

    دوست ممالک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ زراعت میں بہتری لا کر زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے بھی یہ معراج زراعت کو ترقی دیکر حاصل کی ہے۔ یہ ممالک آج بھی اپنے زرعی شعبے کو بے تحاشا سبسڈیز فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زرعی پیداوار سستی ہوتی ہے اور ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

    تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ ایک طوفانِ سیاست برپا ہے جس میں سیلاب زدگان کی آہ و پکار کہیں دب کر رہ گئی ہے ، اگرچہ عمران خان اپنے ہر جلسے میں کہتے ہیں کہ وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فنڈ ریزنگ کریں گے مگر ابھی تک عملی طور پر تحریک انصاف کی طرف سے ایسی کوئی امدادی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔

    آنے والے دِنوں میں پاکستان کے حالات امن و امان کے حوالے سے بھی خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کھانے پینے تک کی سہولیات نہیں ملیں گی تو وہ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں، رپورٹ میں یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ بے روزگاری اور بھوک بڑھی تو جرائم میں بھی اضافے کا امکان ہے جو ایک پرامن معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، اب اِن حالات میں فوری الیکشن کا مطالبہ کرنا بھی کسی ستم ظریفی سے کم نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ وسائل کی فراہمی کیسے ممکن ہو، اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک و قوم کی اپنی دولت واپس لائی جائے۔ پاکستانیوں کے بیرونِ ملک کاروبار، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں ، جن لوگوں نے قومی وسائل لوٹ کر یا ٹیکس بچانے کے لیے دولت بیرونِ ملک منتقل کردی ایسی دولت وطنِ عزیز میں لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کھربوں روپے ملک کے نامور شرفا نے قرضوں کی شکل میں بینکوں سے لیے اور بعد میں قرض معاف کروا لیے۔ بینکوں سے بھاری قرضے لینے اور پھر انھیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر معاف کرانے کی داستان بڑی طویل ہے۔

    ماضی میں سب سے زیادہ زرعی قرضے ترقی کے نام پر بڑے بڑے جاگیرداروں نے حاصل کیے۔ تاجر، صنعت کار اور کاروباری طبقے کے افراد بھی صنعتی ترقی کے نام پر اس دوڑ میں شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے قرضوں کی معافی کے لیے سیاسی وفاداریوں بھی تبدیل کرتے رہے۔ اس طرح انھوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی معیشت کو متزلزل کرنے اور مالیاتی اداروں کو دیوالیہ کرنے میں کون سے عناصر سر ِفہرست تھے۔

    میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ ایسی شارٹ ٹرم پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی کہ جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں، اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنی بقا اور آیندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے مفاد میں فوری اور دیرپا اثرات کی حامل پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی، اگر ایسا نہ ہو سکا تو سابقہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی موجودہ حکومت پر آ گرے گا جس سے بچ نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

    اس لیے حکومت کو ’’وقت کم مقابلہ سخت‘‘ کی صورتِ حال کا سامنا ہے ملک ایک طرف آئینی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بدترین مالی بدحالی اور اقتصادی کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نہ ہونے اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث نئی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ انتھک محنت، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے.

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    قومی ادارہ صحت نےکورونا کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3مریض انتقال کر گئے جبکہ 118 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں.

    ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے 16ہزار973 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصدر رہی. قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے82مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔


    قومی ادارہ صحت نےکورونا کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3مریض انتقال کر گئے جبکہ 118 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے 16ہزار973 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصدر رہی ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے82مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔

    ملک میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے ۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا۔
    دوسری جانب تعلیمی اداروں میں کورونا بچاؤ ویکسین مہم کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہو گا۔ پانچ روزہ مہم 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک جاری رہےگی۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور نادرا میں اندراج کرنا بھی ضروری ہو گا۔ بچوں کی ب فارم کےذریعےانٹری کروائی جائےگی۔

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کروانے والے مریضوں کے لیے پینل میں مزید ہسپتال شامل کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ کےذریعےعلاج کرانےوالوں کیلئےآسانیاں پیداکی جارہی ہیں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مزید امراض کےعلاج کی سہولت بھی دیں گے عمران خان کے ویژن کےمطابق ہیلتھ کارڈ کو مزید بہتر بنایا جائےگا۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ ، خیبرپختو نخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اورآزادکشمیر میں بارش متوقع ہے، اسلام آباد میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،پشاور ، کو ہا ٹ اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطۂ پوٹھو ہار، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ، نارووال ، لاہور،سرگودھا اورمیانوالی میں بارش متوقع ہے ،جھنگ ،فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق میرپور خاص ، ٹھٹھہ، مٹھی ، عمر کوٹ، بدین، کراچی اور تھر پارکر میں بارش متوقع ہے ،مانسہرہ، ایبٹ آباد ، کو ہستان،سوات، چترال، دیر،مردان اورچارسدہ میں بارش متوقع ہے-

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-