Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کےاعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنےپردہشت گردقرا دیا

    سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کےاعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنےپردہشت گردقرا دیا

    ممبئی :سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کے اعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنے پردہشت گردقرا دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بھارت کےخلاف پالیسی، ابھی تک بھارتیوں‌ کےلیے ڈراونے خواب بن کرآرہی ہے، اس سلسلے میں تازہ واقعی اس وقت پیش آیا جب بالی ووڈ اداکار سنجے دت اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی مبینہ ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے اداکار کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

    گزشتہ دنوں سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور اداکار سنجے دت کی ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان دونوں شخصیات کی ملاقات دبئی میں ہوئی۔

    دونوں شخصیات کی ملاقات کی تصویر جیسے ہی وائرل ہوئی تو بھارتی سوشل میڈیا صارفین غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور سنجے دت کو غدار اور دہشت گرد کہنے لگے۔

    سنجے دت اور پرویز مشرف کی تصویر پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے نفرت انگیز تبصروں نے بھارتیوں پرجنرل پرویز مشرف کے خوف کو واضح کردیا ہے

     

    رنجن صارف نے کہا کہ سنجے دت کو گرفتار کرو جیل میں ڈالو، یہ غدار ہے۔اور ساتھ ہی اس پرتقید کے وار تیز کردیئے

     

    ایک بھارتی صارف نے کہا کہ دہشت گرد ہمیشہ دہشت گرد ہی رہتا ہے۔

     

     

    ایک اور بھارتی صارف نے سنجے دت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس شخص کی شخصیت کو بہتر دِکھانے کے لیے بائیوپک بناتے ہیں لیکن ہر بار اس کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے۔

     

    گوتم نامی صارف نے کہا کہ کیا اس ملاقات کے بارے میں سیکیورٹی ایجنسیز کو معلوم ہے؟

     

    https://twitter.com/LiberalAadmi/status/1504737243306491908?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1504737243306491908%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fjang.com.pk%2Fnews%2F1064193

    صارف نے سنجے دت کو ریاست کے برانڈ ایمبیسیڈر کے عہدے سے فوری ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    دوسری جانب سنجے دت اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تصویر کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔

  • پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر    اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد:پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھراثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے پہلے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس کوثبوتاژکرنےکی دھمکیاں دی تھیں اور پھرتھوڑی دیربعد ہی یہ اعلان کہ وہ کسی بھی طرح اثر انداز نہیں ہوں گے ، یہ یوٹرن دیکھ کرہرکوئی حیران رہ گیا

    اسلام آباد سے اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی ملک میں‌پچھلے چند دنوں سے سیاست کوعالمی طورپرخصوصا مسلمان ملکوں میں ناپسند کیا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک طرف اوآئی سی کا اجلاس ہونےجارہا ہےتو دوسری طرف اجلاس کو ثبوتاژ کرنے کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آنے والے مہمان بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہے تھے اور وہ اپوزیش کے احتجاج کو ایک سیکورٹی رسک قرار دے رہے تھے ، بعض نے توپی ڈی ایم کے اس کھیل پرسخت نفرت کا اظہارکیا خصوصا عرب دنیا میں ، یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں‌ اوآئی سی کے اس اہم موقع پر احتجاج کوبہت زیادہ منفی قراردے رہے ہیں‌، ادھر ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ڈی ایم نے اپنی عزت اسی میں سمجھی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ وہ اس اہم اجلاس کے کوثبوتاژنہیں کیا جائے گا

    خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مذکورہ اعلامیہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دے دی تھی اور کہا تھا کہ اگر سپیکر نے پیر تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے اور دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کانفرنس کیسے کرتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ملاقات کے بعد او آئی سی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں، معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں افغانستان، مقبوضہ کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی درپیش مسائل پر غور کے لئے 22 اور 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد تشریف لارہے ہیں، ہم ان کی پذیرائی اور استقبال کے لئے چشم براہ ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن انہیں یقین دلاتی ہے ان کی آمد کے موقع پر پورا پاکستان انہیں خوش آمدید کہتا ہے، ان کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مہمان نوازی کی روایتی چاشنی، احترام، تقاضوں کے مطابق خوش گوار ماحول استوار کرنے میں اپنا کردار یقینی بنائیں گے۔

    اعلامیہ کے مطابق ایسی فضا کی تشکیل میں بھرپورحصہ ڈالیں گے جس میں معززمہمان اپنےطے شدہ امور پوری توجہ، انہماک اور دلجمعی سے انجام دے سکیں OIC کے معزز مہمانوں کےخیر مقدم اور تکریم کے لئے ہی متحدہ اپوزیشن نےلانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اوراپنے کارکنان کو 25 مارچ سے پشتر اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔

    متحدہ اپوزیشن کے مطابق پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا، ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوشگوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔

    دیکھتے ہیں او آئی سی کی کانفرنس کیسے ہوتی ہے؟ بلاول کی للکار

    اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

  • ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:وزیراعظم عمران خان

    ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے غدار جال میں پھنس رہے ہیں۔بڑی حکمت عملی سے ان کوکٹہرے میں لارہےہیں

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے شمس تبریز کا قول شیئر کیا ہے۔

    ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کارکنوں اور حامیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے غدار جال میں پھنس رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نقصان نہیں پہنچنے دوں گا اپنا سب کچھ اس ملک اور اپنی قوم پر قربان کردوں گا مگرآنچ نہیں آنے دوں گا

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    اسلام آباد :سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی ایم این اے عطاء اللّٰہ اور فہیم خان سمیت یوتھ ونگ کے حملے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کروادی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنما پی پی قادر مندوخیل نے سندھ ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کےخلاف درخواست دی، درخواست تھانہ سیکرٹریٹ میں دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز اور کارکنان نے سندھ ہاؤس میں حملہ کیا، گیٹ توڑا، پی ٹی آئی والوں نے سندھ ہاؤس میں ارکان اسمبلی اور فیملیز پر حملے کی کوشش کی۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان ممبران، سیکیورٹی سمیت خواتین کے سامنے گالیاں دیتے رہے، پی ٹی آئی ممبران اور کارکنان نے سندھ ہاؤس کی سیکیورٹی کو دھکے دیے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس میں ممبران قادر مندوخیل، عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللّٰہ فیملیز کے ساتھ موجود ہیں۔

  • اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:قومی قیادت

    اسلام آباد :اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:اطلاعات کے مطابق مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب مولانا طاہر اشرفی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس حزب اختلاف کے لئے بھی اتنا ہی باعث عزت ہے، جتنا حکومت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا بڑا کردار ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو قیمت بھی ادا کرنا پڑی، او آئی سی کے اجلاس کو روکنے کے لیے بھارت گزشتہ دو ماہ سے سازشیں کر رہا ہے۔

    مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے، او آئی سی کا اجلاس حزب اختلاف اور حکومت دونوں کا ہے، ہماری حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے اپیل ہے کہ 24 مارچ تک اسلام آباد میں تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کی جائیں۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    شبلی فراز نے کہا ہے کہ بلاول کی دھمکی اپوزیشن کے عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ بلاول کا او آئی سی کے اجلاس میں خلل ڈالنے کی دھمکی دینا اپوزیشن کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کو اسلامو فوبیا سے لڑنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کے اقدام کو کمزورکرنا چاہتے ہیں۔
    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں

    ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں

    لاہور:ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔

    اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد :اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا۔ ریڈزون کے باہر ایک کلومیٹر تک کے رقبے کو بھی ریڈزون میں شامل کردیا گیا ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈزون میں ایمبیسی روڈ، ساؤتھ یونیورسٹی روڈ، خیابان اقبال،شاہراہ سہروردی، سیرینا چوک، ڈھوکری چوک، شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں مری روڈتھرڈ ایونیو، خیابان اقبال کا ساؤتھ ایریا، چائنہ ایمبیسی کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ریڈزون میں ہمہ وقت ریڈالرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریڈزون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، دفعہ 144 کو مزید دوماہ کیلئے لاگو کردیا گیا۔

    ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

  • اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:نجیب ہارون

    اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:نجیب ہارون

    کراچی:اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے بانی رہنما نجیب ہارون نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اختلاف کے باوجود کسی کی خوبی ،سچائی کو انسان اس وقت تسلیم کرتا ہے جب واقعی ہے وہ حق پر ہواور عمران خان واقعی سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈر ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن و رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے بھی وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجیب ہارون کا کہنا تھاکہ پارٹی میں ناراضگی ہوتی ہے میں نے ایک دفعہ استعفیٰ بھی دیا تھا، جماعت کی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    ان کا کہنا تھاکہ اگر سب ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں گے تو ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں، پارٹی کے اندر کسی اور رہنما کو سامنے لایا جائے جس پر پارٹی اور اتحادیوں کا اتفاق ہو اور لوگوں کی جو شکایات ہیں ان پر توجہ دی جائے۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی نے حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا

    نجیب ہارون کا کہنا تھاکہ 2013 سے 2018 تک بھی حکومت نے مدت پوری کی، 2018 سے 2023 تک بھی حکومت کی مدت پوری ہونی چاہیے، بطور پارٹی کےسینیئر ممبر اس وقت خاموش رہنا ٹھیک نہیں، اس وقت سیاسی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو ضروری نہیں سب کچھ قربان کیا جائے، ہمیں اپنی ذات سے آگے نکلنا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھاکہ جماعت بھی عمران خان نے بنائی، اس جماعت نے لوگوں کو ایک امید دی، میری خواہش ہے کہ پارٹی قائم و دائم رہے اور بہتر یہی ہے کہ عمران خان کسی اور شخص کو آگے لائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ مانتا ہوں کہ وزیراعظم ہم سب سے قدآور ہیں، نمبر ون اگر زیرو کے ساتھ ملے تو سیکڑوں، ملین بلین بنتے ہیں زیرو کی بھی اہمیت ہے۔

    نجیب ہارون نے پارٹی سے اختلافات کے باوجود تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کا ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا۔

  • سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے دروازہ توڑ کر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں داخلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کو سب کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشیدگی گلی محلے کی طرف جارہی ہے اور جب کشیدگی گلی محلے کی طرف جاتی ہے تو پھر کارروائی کرنی پڑتی ہے اور میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی کے دو اراکین اسمبلی کی قیادت میں کارکنوں کی سندھ ہاؤس آمد کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انکوائری کر رہے ہیں کہ کیسے پہنچ گئے، یہ غلطی ہوگئی ہے، ان کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔

    ایک سوال پر کہ حکومت یا وزیراعظم کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی گئی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا، میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر بہت دکھ ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، تین دفعہ آئی جی اور دو دفعہ سیکریٹری سے بات کی ہے کہ اتنے حساس مسئلے میں یہ ہونا ہے تو ابھی تو پھر 27 تاریخ کو عمران خان اور ان کا دونوں کا جلسہ ہے اور جب دونوں پہنچیں گے تو پھر بڑا کام خراب ہوگا۔

    اسلام آباد میں 27 مارچ کو حکومت اور اپوزیشن کے جلسے کی کال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلسے کی کامیابی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں الگ الگ جلسے کریں۔

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ دو الگ جگہوں پر جلسے ہوں لیکن دونوں جماعتیں بضد رہیں تو پھر اچھی بات نہیں ہوگی، میری پوری کوشش ہوگی کہ ایک پریڈ گراؤنڈ میں چلاجائے اور دوسرا ایکسپریس چوک میں چلاجائے تاکہ دونوں اپنے اپنے سیاسی شو کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہوتا ہے ابھی بڑے دن باقی ہیں اور 25 کو صورت حال واضح کرنے کی پوزیشن میں ہوں گا۔

    اپوزیشن کے جلسے کے بارے میں وزیرداخلہ نے کہا کہ ابھی ڈی سی کو ان کی درخواست نہیں آئی ہے تاہم میں نے ڈی سی سے کہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کو الگ الگ جگہ اور الگ راستوں سے اسلام آنے دیں۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس بات پر متفق ہیں کہ دو مختلف جگہوں پر جلسے ہوں۔

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔