Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    راولپنڈی :پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے،اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بلے بازوں کی آسٹریلیا کے خلاف شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری ہے اور گرین کیپس نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 450 رنز بنالیے ہیں۔

    کھیل کے دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 245 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔پنڈی ٹیسٹ کا پہلا روز پاکستان کے نام، گرین کیپس نے ایک وکٹ پر 245 رنز بنالیے

     

     

    پاکستانی بیٹرز امام الحق اور اظہر علی دوسرے روز کے پہلے سیشن میں بھی آسٹریلوی بولرز پر حاوی نظر آئے اور اسی دوران امام الحق نے 150 رنز مکمل کیے۔کھانے کے وقفے کے بعد کھیل کا دوبارہ آغاز ہوا تو اظہر علی نے بھی 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 19 ویں سنچری مکمل کی۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 313 رنز پر گری جب امام الحق 157 رنز بنا کر پیٹ کمنز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔پاکستان کی تیسری وکٹ 414 رنز پر گری اور قومی کپتان بابراعظم 36 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

    بابر کے بعد 444 کے مجموعے پر پاکستان نے چوتھی وکٹ گنوائی، امام کی طرح اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے اور 185 رنز پر کیچ دے بیٹھے۔

  • اپوزیشن کی سیریزکاآخری سیزن،اس کےبعد یہ ڈرامہ ختم ہوجائےگا:حسان خاورنےحقیقت بتادی

    اپوزیشن کی سیریزکاآخری سیزن،اس کےبعد یہ ڈرامہ ختم ہوجائےگا:حسان خاورنےحقیقت بتادی

    لاہور:اپوزیشن کی سیریزکا آخری سیزن،اس کےبعد یہ ڈرامہ ختم ہوجائےگا:حسان خاورنےحقیقت بتادی ،اطلاعات کے مطابق حسان خاور نے کہا ہے کہ اتحادیوں نے وعدوں کا پاس رکھا، وہ ہمارے ساتھ ہیں، اپوزیشن کی سیریز کا آخری سیزن ہے، اس کے بعد یہ ڈرامہ ختم ہو جائے گا۔

    ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں نے نہ صرف فضائی آلودگی پھیلائی بلکہ سیاسی آلودگی بھی پھیلائی، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سیاسی آلودگی کا انڈیکس بہت اوپر جا رہا ہے، وزیراعظم کے ایجنڈےمیں فضائی آلودگی کیساتھ ساتھ سیاسی آلودگی ختم کرنا بھی ہے۔

    حسان خاور کا کہنا تھا کہ بلاول نے وزیراعظم کو 5 دن کی مہلت دی، انہوں نے کہا 5 دن میں نمبر پورے کریں گے، فضل الرحمان کہتے ہیں وہ سفر میں ہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، اس فلم کے پروڈیوسر زرداری صاحب ہیں اور ہیرو کیلئے کشمکش چل رہی ہے،آصف زرداری نے اپنی انتخابی مہم چلا دی ہے، ن لیگ سارا ملبہ شہباز شریف پر ڈلے گا، ہوسکتا ہے چھوٹے بھائی کی بڑے بھائی سے سرزنش بھی ہو۔

    حسان خاور نے کہا ہے کہ پاکستان کی حزب مخالف جماعتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں

    یاد رہےکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ان کا مقصد عمران خان کو ہٹانا ہے، اس موقع پر صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہٹانے سے بہار آئے یا نہ آئے یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے

  • امریکہ کےسامنےڈٹ جانا:پاکستانی قوم کا امتحان:FATF    کاپاکستان کوجون تک گرےلسٹ میں ہی رکھنے کا اعلان

    امریکہ کےسامنےڈٹ جانا:پاکستانی قوم کا امتحان:FATF کاپاکستان کوجون تک گرےلسٹ میں ہی رکھنے کا اعلان

    پیرس:امریکہ کےسامنےڈٹ جانا:پاکستانی قوم کا امتحان:FATF کاپاکستان کوجون تک گرےلسٹ میں ہی رکھنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اضافی معیار کے تحت کچھ اہداف کی تعمیل کے لیے پاکستان کے مزید 4 ماہ یعنی جون تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کردیا ہے

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کا ورچوئل اجلاس یکم مارچ سے 4مارچ تک پیرس میں جاری رہا جس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق ایف اے ٹی ایف نےجمعے کے روز اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل رہے گا جب کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلا ن کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”469782″ /]

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

    عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    ادھر دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب سے پاکستان میں عمران خان کی حکومت آئی ہے امریکہ پاکستان سے مرضی کے فیصلے نہ کروا سکا بلکہ امریکہ کو ایک مضوط اور دلیر پاکستان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،ان مبصرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جس طرح قوم کی امنگوں‌ پر امریکہ کے دوٹوک موقف رکھا ہے اس کی سزا پاکستان کی دی جائے گی جو کہ پاکستانی قوم کی غیرت کا امتحان ہوگا ، قوم عارضی فائدے کےلیے پالیسی پرنظرثآنی کرے گی یا ہمیشہ اور دیرپا فیصلوں کےلیے عمران خان کے پیچھے کھڑی ہوگی یہ قوم کی اجتماعی سوچ پر منحصرہے

    لیکن اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کی اعلیٰ قیادت کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی کارروائیاں دکھانے کے لیے ملک کو ’اضافی نگرانی کی فہرست‘ میں برقرار رکھا گیا تھا۔

    ایشیا پیسیفک گروپ نے بھی پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا اور ذرائع کے مطابق اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور اس کی روک تھام جیسے معاملات میں پاکستان میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    بعد ازں اس پیشرفت کی بنیاد پر ہی پاکستان کو آئندہ گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیرحماد اظہر ایف اے ٹی ایف کے اس فیصلے سے متعلق کہتےہیں کہ پاکستان اب اپنے دونوں FATF ایکشن پلان کو مکمل کرنے سے صرف 2 آئٹمز دور ہے۔ ، ان کا کہنا تھاکہ ایم ایل ایکشن پلان: 7 میں سے 6 آئٹمز کو ایک بے مثال ٹائم فریم کے اندر حل کیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ TF ایکشن پلان: 27 میں سے 26 آئٹمز پر توجہ دی گئی۔ کئی ممالک کا خیال ہے کہ ہم نے یہ منصوبہ پہلے ہی مکمل کر لیا ہے۔

     

    حماد اظہر کہتے ہیں کہ چیلنجوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے FATF تکنیکی پیرامیٹرز کی تکمیل کو جلد تسلیم کیا جائے گا۔ایم ایل اور ٹی ایف کے خلاف ہماری جنگ ایک غیر متزلزل قومی عزم کے ساتھ جاری ہے۔ ہم ان سرگرمیوں کے خلاف جنگ صرف عالمی تعمیل کے لیے نہیں بلکہ سب سے پہلے اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔

  • گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    برلن :گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام ،اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولس نے سابق چانسلر گیرہارڈ شروڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی کمپنیوں سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کریں۔

    جرمن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق جرمن گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے برسوں کے گہرے تعلقات ہیں۔سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر روسی حکومت کی انرجی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز میں اعلیٰ حیثیت کے حامل ہیں۔

    ستتر سالہ شروڈر روسی صدر پیوٹن اور کریملن کے کاروباری حلقے کے ساتھ دیرینہ بزنس رفاقت رکھتے ہیں۔

    وہ روس کے توانائی کے بڑے ادارے ‘روس نیٹ‘ کے سپروائزری بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی حد تک متنازعہ خیال کیے جانے والے قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبوں نارتھ سٹریم ون اور نارتھ سٹریم ٹو کے نگران بورڈز میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

    جرمنی میں گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر پیوٹن اور روسی انرجی کمپنیوں سے تعلقات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور اب تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کسی حد تک جرمن سیاسی اور سماجی حلقے اس تعلق پر ندامت بھی محسوس کرتے ہیں۔

    جرمنی کے این ٹی وی چینل پر ایک بیان دیتے ہوئے وفاقی چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ ان کے خیال میں اب یہ مناسب نہیں رہا کہ گیرہارڈ شروڈر ان مناصب پر فائز رہیں اور یہ صحیح ہو گا کہ وہ یہ عہدے چھوڑ دیں۔شولس نے اس امر پر زور دیا کہ ایک عام شہری کے طور پر بھی انہیں ان عہدوں سے علیحدگی اختیار کر لینا چاہیے۔

    موجودہ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ گیرہارڈ شروڈر جرمنی کے سابق سربراہِ حکومت ہیں اور موجودہ حالات میں ان کے کاروباری تعلقات کی اہمیت ان کی شخصیت سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو جزوی بند رکھنےکےفیصلہ:    نوٹیفکیشن بھی جاری

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو جزوی بند رکھنےکےفیصلہ: نوٹیفکیشن بھی جاری

     

    اسلام آباد:پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کے سبب قومی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کر دی گئیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کے موقع کی مناسبت سے سیکرٹریٹ کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے

     

    اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ 7 سے 11 مارچ کے دوران بند رہے گا

    نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا کا ممکنہ پھیلاؤ روکنے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ  5 دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں ب

     

    واضح رہے کہ پاکستان انشا اللہ 22 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

     

     

     

    پاکستان انشا اللہ 22 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی کرے گا اور اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل 23مارچ پریڈمیں بطورمہمان شرکت کرے گی ، پاکستان 75 واں یوم پاکستان کشمیریوں کیساتھ منائے گا

     

    یاد رہے گذشتہ سال دسمبر میں بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھ

     

  • وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    اسلام آباد :وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن بھی کپتان کے فین نکلے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن نے کابینہ سے استعفے کے بعد اے آر وائی نیوز کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سب کہتےہیں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے توپھر نیوٹرل ہی ہوگی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوتوپھر بہت کچھ ہوجاتا ہے۔

    سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ تاریخ مجبوروں کو نہیں بہادروں کو یاد رکھتی ہے، خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے، بعد میں بندہ کہتا ہے یہ مجبوری وہ مجبوری تھی،ایسے لوگ یاد نہیں رہتے۔

    انہوں نے حکومت کے موجودہ ماحول میں خود کو اَن فٹ قرار دیتے ہوئے کہا پی ٹی آئی میں عہدہ نہیں لینا چاہتا کیونکہ اگر اختیارات نہ ہوں تو ڈلیور نہیں کرسکوں گا۔

    ندیم افضل چن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صنعت کی وزارت ٹاپ ٹین میں ہے مگر ملک میں کھاد کی قلت ہے، صرف سیاست دانوں پر الزامات نہیں لگنےچاہئیں،

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سےمیسجنگ ہوتی ہےمگراب عہدہ نہیں چاہتا کیونکہ ڈلیورنہ کرسکتا، موجودہ ماڈل میں اچھی انگریزی ، سلجھے اور قابل لوگ فٹ ہوتے ہیں، ہم سلجھے ہوئےنہیں ، سیاسی انگریزی توآتی ہے مگر درباریوں والی نہیں۔

    سابق ترجمان نے کہا کہ کسی سے ناراضی نہیں لیکن پیچھے پیچھے دوڑنے کا قائل نہیں، دولت مند اورتگڑے لوگ وزیراعظم کےقریب ہیں، اگلا الیکشن کس کے ساتھ لڑنا ہے یہ ابھی فیصلہ نہیں کیا

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔

  • وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    ریاض:وزیراعظم عمران خان کےامریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین سے معاملات ٹھیک کر لے تو اتحاد ہوسکتا ہے، سعودی عرب میں بادشاہت ہی قائم رہے گی۔

    ایران سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تہران سے ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں، دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کے لیے با مقصد مذاکرات لازمی ہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ملک کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، ایران ہمارا مستقل ہمسایہ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

  • عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    لاہور: عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ ہوچکا تھالیکن جب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑی ہے اس وقت سے لیکر اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مسلسل آگ لگی ہوئی ہے اور آج تیل کی قیمتیں‌تاریخ کی بلند تارین سطح پرآگئی ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ آج اچانک تیل کی قیمتیں 113 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں‌، ۔ روس پر پابندیوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے ابھی اور بھی بڑھنے کے مواقع ہیں ، ۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طئے نہیں ہوتے تو عالمی منڈی میں یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت 4 ماہ کے لئے قیمتیں مستقل رکھنے کا فیصلہ پاکستانی صارفین کو مہنگائی کی اس آگ سے محفوظ رکھے گا۔

    دوسری طرف عوام الناس اور عالمی امور سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بڑی حکمت عملی سے ملکی معیشت کو ٹریک پرچلایا ہے اور اب ملکی معیشت درست سمت چل پڑی ہے ، اس لیے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں‌ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود قوم کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی مختلف میڈیا چینلز پر یہ حیرانی طور پر کہہ چکے ہیں‌کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں اور ان حالات میں عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں‌ کم کرکے حیران کردیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے جس کی وجہ سے سے بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں بلا سود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں کے وہ ٹیکس ادا کریں تاکہ اسے نچلی سطح کے عوام پر خرچ کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ بدقسمتی سےہم نے ا س نظریے سے روگردانی کی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھا۔ دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔

    عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دنیا میں اس کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہمارے پاس جتنازیادہ پیسہ جمع ہو گا عوام پر اتنا ہی زیادہ خرچ کریں گے اور ریلیف دیں گے۔ 45 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی ہے، اس کا آغاز پسماندہ علاقوں سے کیا۔ دیہات میں ساڑھے 3 لاکھ روپے تک جبکہ شہروں میں 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ گھر کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ روپے قرض دیاجائےگا۔ حکومت نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے گی تاکہ و ہ اپناروزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔