Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاکستان:کرونا مزید 6 زندگیاں نگل گیا، 372 نئےکیسز رپورٹ:اومی کرون سے بچاوکی سخت حفاظتی تدابیر

    پاکستان:کرونا مزید 6 زندگیاں نگل گیا، 372 نئےکیسز رپورٹ:اومی کرون سے بچاوکی سخت حفاظتی تدابیر

    اسلام آباد:پاکستان:کرونا مزید 6 زندگیاں نگل گیا، 372 نئےکیسز رپورٹ:اومی کرون سے بچاوکی سخت حفاظتی تدابیر ،اطلاعات کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں‌ میں‌ پاکستان میں عالمی وبا کرونا وائرس سے مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئےجبکہ مجموعی اموات کی تعداد28ہزار767 ہو گئی ہے۔

    اس حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 372کرونا کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 86 ہزار825 تک جاپہنچی ہے۔

    ادھرپاکستان میں‌ تازہ ترین صورت حال کیا ہے اس کے بارے میں‌ این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 45ہزار307کرونا ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح 0.82فیصد رہی۔

    دوسری جانب کرونا کی نئی قسم اومیکرون سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان نے سے بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، بوسٹر ڈوز مرحلہ وار لگائی جائے گی، پہلے ہیلتھ کیئرورکرز اور 50سال سے زائد عمر والوں کو ڈوز لگائی جائے گی۔

    اعدادو شمار کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد چار لاکھ 76 ہزار494، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار379، خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار254 اور بلوچستان میں 33 ہزار491 ہے جبکہ اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار 848، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 413 اور آزاد کشمیر میں 34 ہزار574 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ نئے خطرناک اومی کرون وائرس سے بچاو کی حفاظتی تدابیر سخت کردی گئی ہیں اور اس حوالے سے باہرسے آنے والے مسافروں کی مانیٹرنگ اور ان کے ٹیسٹ بھی جاری ہیں‌

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • خیبرپختونخوا کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ!!!

    خیبرپختونخوا کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ!!!

    باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق کورونا وائرس کی صورتحال:
    محکمہ صحت: خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں میں کورونا سے4 افراد کا انتقال ہوا، کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد1980 ہوگئی۔
    اگلے 24 گھنٹوں میں کورونا کے192 کیسز رپورٹ ہوئے، خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد69 ہزار164 ہوگئی، خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے277 مریض صحت یاب ہوئے، کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد65 ہزار213 ہوگئی ہے۔
    پشاورمیں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے92 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، مزید کورونا کیسز کی تعداد27ہزار 986 تک پہنچ گئے،1021 افراد کا انتقال ہوا۔

  • چند ایسی علامات جن سے ہر خاتون کو خبردار رہنا چاہئے

    چند ایسی علامات جن سے ہر خاتون کو خبردار رہنا چاہئے

    ہمارے جسم کے اندر ہیر وقت متعدد عمل جاری رہتے ہیں جو ہارمونز کنٹرول کرتے ہیں مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہارمونز کا نظام زیادہ پچیدہ ہوتا ہے اور اس کا انتشار بھی زیادہ ہوتا ہے اگر ہارمونز کا نظام متاثر ہو تو مزاج روپ رویہ اور شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے ہار مونز متا ثر ہونے کی نشانیوں کا خواتین کو علم ہونا ضروری ہے تاکہ اس حوالے سے ڈاکٹر رجوع کر سکیں

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    عام طور پر مسام بند ہو جانے کی وجہ سے کیل مہاسے نمودار ہوتے ہیں لیکن طبی ماہرین کے مطابق کیل مہاسوں کا بے وقت نمودار ہونا ہارمونز کی تبدیلی کا نتیجہ ہے جسا کہ اینڈروجن کی سطح میں کمی کیل مہاسوں کے نکلنے کا باعث بنتی ہے ایسا خواتین کے ساتھ اکثر نوجوانی کے دور میں ہوتا ہے-

    اگر ہارمونز کا نظام متوازن نہ ہو تو جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے بھلے آپ صحت بخش غزا کا استعمال کیوں نہ کریں مخصوص ہارمونز کی کمی یا زیادتی جسم میں چربی کی مقدار بڑھانے اور مسلز کے حجم میں کمی کیا باعث بنتی ہے مثلاً ایسٹروجن کولیسٹرول اور انسولین کی مقدار میں اضافہ جسم میں چربی کے اضافے کا باعث بنتی ہے جبکہ تھائی رائیڈز کی سطح میں کمی میٹا بولزم کو سست کر کے جسمانی حجم کو بڑھاتا ہے

    اچانک بہت زیادہ پسینہ بہنا اور متواتر بخار ہارمونز کی گڑ بڑ میں کمی کی بڑی علامات میں سے ایک علامت ہے ہارمونز جو جسم کے درجہ حرارت کو کنٹروک کرتے ہیں ان میں گڑبڑ کی صورت میں اچانک گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے بخار کی کیفیت ہو جاتی ہے اور پسینہ بہنے لگتا ہے

    ویسے تو ہر ایک کو کسی نہ کسی کا تھکاوٹ کا سامنا رہتا ہے اگر کسی خاتون کو مناسب آرام کرنے کے باوجود بھی ہر وقت تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ بھی ہا رمونز میں عدم توازن کی علامت ہو سکتی ہے

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    اگر کسی خاتون کو اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہو تو یہ ایسٹروجن کی سطح میں کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہے یہ ایسا ہارمون ہی جو خواتین کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے میٹابولک نظام کو کنٹرول کرتا ہے اس کی مقدار میں بہت زیادہ کمی آدھے سر کے درد اور چڑچڑے پن کا باعث بنتی ہے

    خواتین کے بالوں کا بہت زیادہ گرنا تھائی رائیڈ ،انسولین یا ٹیسٹو سیٹرون کے باعث ہو سکتاہے مردوں میں یہ ہارمونز ان کے جسم کو بھاری کرتا ہے اور بالوں سے بھرتا ہے جبکہ خواتین میں اس کی زیادہ مقدار بہت زیادہ بال گرنے کا باعژ بنتی ہے اکثر گنج پن کی طرف لے جاتی ہے

    بے خوابی ایک خطرنک علامت ہے یہ پروجسٹرون کی انتہائی کم سطح کے باعث ہوتی ہے طبی ماہرین کے مطابق یہ ہارمون نیند کو معمال پر لاتا ہے اور قدرتی طور پر پر سکون رکھتا ہے ایسٹروجن اور پروجسٹرون میں کمی اس وقت آتی ہے جب خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں

    بھوک اور اشتہا کو کنٹرول کرنے میں ہارمونز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ہارمونز میں عدم توازن بھوک کو کنٹرول سے باہر کر دیتا ہے بھوک کو کنٹرول کرنے میں لپنن اور کیرلین اہم کردار ادا کرتے ہیں لپنن بھوک کم کرتا ہے جبکہ گیرلین جسم میں احساس پیداکرتا ہے کہ کب کھانا کھانا ہے

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    نظام ہاضمہ کے مسائل بھی ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے جنم لیتے ہیں مثلاً یسٹراجن کی سطح میں اضافہ آنتوں کے مائیکروفلور پر اثر انداز ہوتا ہے اس ہارمون کی مقدار میں اضافہ معدے کے درد اور جکڑن کا باعث بن سکتی ہے

    ہارمونز کے نظام میں عدم توازن کی ایک بڑی وجہ باتیں بھولنا اور چیزوں پر اپنی توجہ قائم نہ رکھ پانا ہے کورینسول اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی اس کا باعث بنتی ہے

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے