Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    برسلز:نیٹو رہنماؤں نے چار نئے فوجی گروپوں کو سلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور بلغاریہ میں تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان فوجیوں کی تعداد عام طور پر ایک ہزار سے 13 سو فوجیوں کے درمیان تک ہوتی ہے جبکہ چار دیگر گروپ بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں پہلے سے ہی تعینات ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ جمعرات کو سربراہی اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے یوکرین کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے بچانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے سامان بھیجنے پر رضا مندی بھی ظاہر کی۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے دفاع کو تیز کر رہا ہے کیونکہ روس کے یوکرین میں ایسے ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

    انہوں نے برسلز میں میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اس میں شناخت کرنے کا سامان، تحفظ، اور طبی امداد کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک کرنے اور بحران سے نمٹنے کی تربیت شامل ہو سکتی ہے۔جینز سٹولٹن برگ کے مطابق نیٹو کے 30 اتحادی بھی اپنی تیاریاں بڑھا رہے ہیں۔

    نیٹو ممالک کو تشویش ہے کہ روس کی جانب سے ان پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں پر کام کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کی کوشش ماسکو کی طرف سے خود اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنانے کی سازش کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ یوکرین پر روسی حملے کے خلاف مزید 65 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں لگا رہا ہے۔پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں روس کا سب سے بڑا نجی بینک اور ایک خاتون شامل ہیں جس کے حوالے سے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روسی وزیر خارجہ کی سوتیلی بیٹی ہیں۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس آج:وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:اسپیکرنے وارننگ جاری کردی

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج:وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:اسپیکرنے وارننگ جاری کردی

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کا اجلاس آج:وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد 15 نکاتی ایجنڈے میں شامل:اسپیکرنے وارننگ جاری کردی ،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے ہوگا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا ہے جس کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی قرارداد 152 ارکان کی جانب سے پیش کی جائے گی۔

     

    تحریک کے محرکین میں 147 ارکان شامل ہیں، وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 95 اے کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی، اپوزیشن کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے ہے وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ایم این ایز کے نام ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان کی گاڑی میں آمد پر پابندی عائد کی گئی ہے، ایم این ایز کو شٹل سروس کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچایا جائے گا۔

    ہدایت نامہ میں کہا گیا کہ اراکین پارلیمنٹ مخصوص پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے پابند ہونگے، قومی اسمبلی سیشن میں مہمانوں کے داخلے پابندی ہو گی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنے ملازمین پر بھی پابندی عائدکردی ہے۔

    سرکلر کے مطابق ملازمین اپنے دفاتر سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں، بلاجواز پارلیمنٹ ہاؤس میں ادھر ادھر پھرتے پائے گئے ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

  • اپوزیشن حکومت گرانے جبکہ پنجاب حکومت سرمایہ کاری کے لئے 20 معاہدوں پر دستخط کرنے میں‌ مصروف

    اپوزیشن حکومت گرانے جبکہ پنجاب حکومت سرمایہ کاری کے لئے 20 معاہدوں پر دستخط کرنے میں‌ مصروف

    لاہور:اپوزیشن حکومت گرانے جبکہ پنجاب حکومت سرمایہ کاری کے لئے 20 معاہدوں پر دستخط کرنے میں‌ مصروف،اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب نے دبئی انٹرنیشنل فنانس سٹی میں عالمی بزنس کانفرنس کے دوران پنجاب میں سرمایہ کاری کے لئے 20معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

    صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس میں دبئی ایکسپو کے دوران طے پانے والے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

    یاد رہے کہ دبئی انٹرنیشنل فنانس سٹی میں عالمی بزنس کانفرنس کے دوران پنجاب میں سرمایہ کاری کے لئے 20معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ان معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے سے پنجاب میں 45ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری ہوگی۔

    صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے بزنس کانفرنس کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا کہ معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرمایہ کار کمپنیوں کو ہرممکن سہولتیں دی جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت نے پنجاب کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا مرکز بنادیا ہے، نئی سرمایہ کاری سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیداہونگے۔

    صوبائی وزیر صنعت وتجارت کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بننے والے 10 سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں پنجاب میں ساڑھے تین سو ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، صوبہ میں سیمنٹ کے 16 نئے کارخانے لگنے سے 600ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعت کاری کے عمل کو تیز کر کے روزگار کے مواقع بڑھانا حکومت کی پالیسی ہے، صنعت کار دوست پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات دی جارہی ہے۔

  • افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے   وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان کی حکومت نے اسلام آباد میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں وزیرخارجہ امیرخان متقی کے بجائے اپنے نمائندے کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا جہاں افغانستان کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ تھا ۔

    اس حوالے سے افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا تاکل کا کہنا تھا کہ وزارت کے حکام نے محمد اکبر عظیمی کو نامزد کیا ہے جو اسلام آباد میں اجلاس میں طالبان حکومت کے وفد کی قیادت کریں گے۔اور پھرمحمد اکبرعظیمی نے شرکت کی

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ قبل ازیں طالبان حکومت نے دسمبر میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیرخارجہ امیرخان متقی کو بھیج دیا تھا۔

    اسلام آباد میں اوآئی سی کے گزشتہ اجلاس میں وزرائے خارجہ کے گروپ فوٹو میں افغان وزیرخارجہ کی عدم موجودگی پر اجلاس میں ان کی شرکت سے متعلق بڑی بحث ہوئی تھی جبکہ افغانستان کی نشست بدستور خالی تھی اور امیر متقی آخری قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔

    اس مرتبہ افغآن طالبان حکومت نے اب او آئی سی اجلاس میں اپنی شرکت کو کم سطح پر کیوں رکھا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ چونکہ ابھی تک افغآنستان کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا اس لیے او آئی سی کے منتظمین نےیہ فیصلہ کیا کہ افغآنستان کواس حد تک اہمیت دی جوباعث نزاع نہ بنے ، انہیں‌ اصولوں کے پیش نظر افغان حکومت کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کے بجائے افغان وزارت خارجہ کے عہدیدار کو بھیجا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ او آئی سی کے تمام 57 اراکین میں سے کسی ریاست نے تاحال طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کی ہے۔اقوام متحدہ کی طرح افغانستان کی نشست سرکاری سطح پر تاحال اشرف غنی کی سابق حکومت سے جڑی ہوئی ہے۔

    دوسری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انسانی بنیاد پر اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے زیرانتظام ایک فلاحی فنڈ بھی تشکیل دیا جارہا ہے، جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے افغانستان میں انسانی مددکے لیے براہ راست استعمال کیا جائے گا۔

    اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طحہ نے دسمبر میں منعقدہ اجلاس میں او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ، آئی ایس ڈی بی، ٹرسٹ فنڈ سے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر فنڈ کے لیے درخواست کی تھی کہ انسانی بنیادوں پر مالیاتی بہاؤ اور بینکنگ چینلز بحال کرنے ک لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے علاوہ ایران اور بنگلہ دیش نے بھی اپنے وزرائے خارجہ کو اس اہم ایونٹ میں شرکت کے لیے نہیں بھیجا بلکہ وزارت خارجہ کے سینیئر افسران کو بھیجا ہے

  • تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید کا ایمان ،اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اللہ کے فضل وکرم سے کامیاب ہوں گ ، شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں ،27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان پاکستان ہی نہین بلکہ عالم اسلام کی بھی ضرورت ہےتفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انشااللہ 25 تاریخ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور 30 یا 31 مارچ یا یکم اپریل ، اسپیکر جس دن چاہیں ووٹنگ کراسکتے ہیں، اللہ سے پوری امید ہے کہ عمران خان جیتے گا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ 27تاریخ کی رات کو فائنل ہوجائے گا، عوام کس کےساتھ ہیں ، یہ جلسہ ہی ہمارے اعتماد اور ریفرنڈم کا دن ہے ، اپوزیشن اگر پراعتماد ہے تو ہم بھی پراعتماد ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کےلئے پرامید ہیں، وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں، امید ہے اتحادی عمران خان کے ساتھ ہوں گے، اتحادیوں کو وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیے۔

  • ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو:ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے تو ہی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں ملکی بقا کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہی وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرے گا۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم ملکی سلامتی کا تصور رکھتے ہیں اور یہ عوامی سطح پر سب کے سامنے ہے، آپ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تمام وجوہات جان سکتے ہیں لہٰذا اگر ہمارے ملک کے لیے وجود کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اسے ہمارے تصور کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب انٹرویو لینے والے کرسٹیئن امان پور نے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں ’یقین یا اعتماد‘ ہے کہ صدر ولادمیر پیوٹن یوکرین کے تناظر میں جوہری آپشن کا استعمال نہیں کریں گے۔

    روسی فوجیوں کے یوکرین پر حملہ کرنے کے چند دن بعد پیوٹن نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک کی اسٹریٹیجک نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ماسکو کی بیان بازی کو خطرناک قرار دیا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ذمہ دار جوہری طاقت کو اس طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔

    جان کربی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کے حکام نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہمیں اپنے اسٹریٹجک مزاحمتی پوزیشن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر روز اس کی بہترین نگرانی کرتے ہیں۔

    روس جوہری ہتھیاروں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے اور اپنے سابق سوویت پڑوسی ملک پر حملے کے حوالے سے اسے چین کے سوا دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کی تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے۔

    مغربی دفاعی حکام نے پیوٹن کے فروری کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے روس کی جوہری قوتوں، اسٹریٹیجک بمباروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے متحرک ہونے کی کوئی خاص علامت نہیں دیکھی۔

    البتہ روس نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے یوکرین کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تو یہ جنگ وسیع تر ہو سکتی ہے اور اس سے ممکنہ طور پر روس کو مغرب میں جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم کی سربراہی کرنے والی بیٹریس فیہن نے خبردار کیا تھا کہ پیوٹن جوہری ہتھیاروں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو یوکرین پر حملے میں مداخلت سے روکا جا سکے۔

    یوکرین میں روس کے حملے کے بارے میں مزید سوال کرنے پر پیسکوف نے کہا کہ ان کا اپنے پڑوسی ملک پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ان کا ملک شہریوں پر حملے بھی نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بنیادی اہداف یوکرین کی فوجی صلاحیت سے چھٹکارے کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج یوکرین کی سرزمین پر شہری نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    البتہ روسی دعووں کے برعکس وسیع پیمانے پر دستیاب تصاویر اور ویڈیو ثبوت انسانی حقوق گروپوں کے ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روس نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  • اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    جینوا :اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی حملے کو اب تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے اور جنگ کے خاتمے کے ابھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ ادھر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے یوکرین کے خلاف آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور یہ پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ یہ اتنا مختصر نہیں ہو گا۔

    اس دوران یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی محاصرے کے سبب اسٹریٹیجک اعتبار سے اہم بندرگاہی شہر ماریوپول کے باشندے خوراک، پانی اور ادویات سے محروم ہو چکے ہیں۔ زیلنسکی نے اطالوی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ ماریوپول میں اب ”کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

    انہوں نے روس سے اپیل کی کہ شہر میں بچ جانے والے تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔ جس وقت وہ یہ باتیں کہہ رہے تھے اسی دوران یوکرین کے حکام نے دعوی کیا کہ روس نے شہر پر دو مزید بڑے بم گرائے ہیں۔

    روس کی جنگی طاقت میں کمی کا امریکی دعویٰ امریکہ کے ایک سینیئر دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے سے پہلے کے مقابلے میں روس کی جنگی قوت میں اب تقریبا ً90 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان کا امکان ہے۔ امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا، ”پہلی بار وہ نوے فیصد سے تھوڑا سا نیچے ہو سکتے ہیں۔” تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    اس ماہ کے اوائل میں روس نے کہا تھا کہ اس کے حملے کے بعد سے اب تک 498 اہلکار ہلاک اور 1597 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ ‘لغو اور ناقابل فتح’ ہے، انٹونیو گوٹیرش اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق عالمی ادارے کے سکریٹری جنرل، انٹونیو گوٹیرش نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران روس کو ایک ”سخت پیغام” دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ جنگ لغو ہے جسے ”جیتا نہیں جا سکتا۔” انہوں نے ماسکو سے کہا کہ یہ، ”جنگ ناقابل فتح ہے۔ جلد یا بدیر، اسے میدان جنگ سے امن کی میز کی جانب لے جانا پڑے گا۔یہ ناگزیر ہے۔

    سوال صرف یہ ہے کہ اب اور کتنی جانیں ضائع ہونی چاہئیں؟ انہوں نے مزید کہا، ”جنگ تیزی سے ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے، ماریوپول کو روسی فوج نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس پر مسلسل بمباری، گولہ باری اور حملے کیے ہیں۔ آخر کس لیے؟ اگر ماریوپول کا زوال ہو بھی جائے، پھر بھی یوکرین کو شہر بہ شہر، گلی بہ گلی، یا پھر اس کے گھر گھر کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے فوری بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی پر فوری عمل ہو اور بات چیت کے لیے میز پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ روس کی جی 20 رکنیت خطرے میں خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس کو یوکرین پر حملے کے بعد گروپ آف ٹوئنٹی (جی ٹوئنٹی) میں رہنا چاہیے یا نہیں۔ جی سیون کے ایک سینیئر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے کہ آیا روس کے لیے جی 20 کا حصہ بنے رہنا مناسب ہے یا نہیں۔ اور روس اگر اس کا رکن برقرار رہتا ہے، تو پھر یہ تنظیم شاید بہت زیادہ کار آمد نہیں رہے گی۔”

  • بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ

    بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ

    نئی دہلی :بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ ،اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال کے ضلع بیر بھوم میں حکمران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک رہنما کے قتل کے نتیجہ میں تقریباً ایک درجن جھونپڑیوں کو آگ لگا دی گئی جسکے باعث دو بچوں سمیت آٹھ افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پولیس مغربی بنگال منوج مالویہ نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات ساڑے آٹھ بجے کے قریب ٹی ایم سی کے برشال گاوں پنچایت کے نائب سربراہ بھدو شیخ کے قتل کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک 11 گرفتاریاں کی گئی ہیں اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک 34 سالہ نوجوان پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عاشق حسین حجام نامی نوجوان ضلع کے علاقے یاریکہ میں اپنے ایک رشتہ دار مشتاق احمد حجام کے گھر پر مردہ پایا گیا۔ ابتدائی تشخیص کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحویل میں لیا گیا۔

    ادھر کل ایک واقعہ میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں دو افراد نے ایک 14 سالہ لڑکی کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اتردیش کے شہر کانپور میں نابالغ لڑکی اپنے گھر کے باہر جانوروں کو چرا رہی تھی کہ دو افراد نے اسے پکڑ کر اغوا کیا اور بعد میں آبروریزی کر ڈالی۔لڑکی کے گھنٹوں لاپتہ ہونے پر اس کے اہل خانہ نے پولیس کو شکایت درج کرائی۔ پورے گاوں نے لڑکی کی تلاش کی لیکن وہ نہ ملی۔ اس دوران لڑکی کے ایک رشتہ دار کو اطلاع ملی کہ لڑکی رسی سے بندھی جھاڑیوں میں بے ہوش پڑی ہے ۔

  • شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    اسلام آباد:شہبازشریف قول وفعل کے کتنے پکے ہیں:ماضی کی سیاست مستقبل کے بیانیے میں کتنی ہم آہنگی؟حقائق بول اُٹھے،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی سیاست میں تضادات کے حوالے سے بڑی دلچسپ چیزیں سامنے آرہی ہیں ، کہیں پی ٹی آئی کے سابقہ بیانیئے اور موجودہ پالیسی میں فرق ہے تو کہیں ن لیگ کی قیادت کے قول وفعل میں بہت بڑا تضاد پایا جارہا ہے ،

    اس حوالے سے ویسے تو بہت سے حقائق ہیں لیکن فی الوقت ان دنوں پاکستان میں ضمیرفروشی کی منڈیاں‌ لگی ہوئی ہیں اور خریدوفروخت کرنے والے بروکرز اپنے ہی دعووں کی نفی کررہے ہیں ، مریم نواز، نوازشریف اور پوری ن لیگ اس بات پرچیخیں مار مار کرکہہ رہی تھی کہ سینیٹ انتخابات میں ضمیرخریدے گئے اور پھر اس کی آڑ میں ن لیگ کی قیادت نے ضمیرفروشوں پرغصہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افراد اور اداروں پر نکالا جن کا اس سے دور تک کا بھی تعلق نہیں تھا

    ایسے ہی ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے ریمارکس دیئے تھے جو تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن شہبازشریف اپنے ہی الفاظ اور کردار کی نفی کرتے ہوئے ان دنوں ضمیرفروشی کوحلال سمجھ رہے ہیں اور اس کی آڑ میں بائیس کروڑ پاکستانیوں کےلیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں‌ ،

    شہبازشریف اس وقت ضمیرفروشوں کو مجاہد قراردے رہے ہیں جبکہ ماضی میں شہبازشریف انہی ضمیرفروشوں کوسب سے بڑے مجرم قرار دے رہے تھے

    اس وقت جب چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نےاسے جمہوریت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ضمیر فروشی ہوئی ہےاور میں ضمیر فروشی پر لعنت بھیجتا ہوں ۔

     

    جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

     

    پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جادو تو چلا ہے، ضمیر فروشی ہوئی ہے۔صحافی کے سوال پر کہ کون سا جادو چلا ہے ؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ امیر ترین جو ہیں وہ حرکت میں آئے ہیں اور ضمیر فروشی ہوئی۔

    اس وقت دوسروں کو الزام تراشی دینے والے شہبازشریف آج نہ تو اپنے بڑے بھائی کی مذمت کررہے ہیں اور نہ ہی آصف علی زرداری کی جن کا پیٹ پھاڑنے کے لیے شہبازشریف نے اپنی مہم پراربوں روپے اڑا دیئے تھے

    اس وقت اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا تھا کہ 14 ارکان کم ہوئے ہیں، ہمارے 64 ارکان تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے تھے، آج جو ہوا اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

    لیکن بڑے افسوس کے ساتھ وہی شہبازشریف آج ضمیرفروشی کو حلال سمجھ رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کوایک غلط روش پر لگا رہے ہیں اور ساتھ ہی اس غلط روش کی ترویج واشاعت کے لیے میڈیا کا بھرپوراستعمال کررہےہیں

  • ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے:تحریک لبیک

    ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے:تحریک لبیک

    لاہور:تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی والدہ محترمہ مرحومہ کے آٹھویں سالانہ ختم مبارک اور مناظر کبیر، مفکر اسلام، مفتی محمد عابد جلالی رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے سالانہ ختم شریف کے موقع پر چوک حافظ الحدیث بھکھی شریف کی جلسہ گاہ میں تاریخی ”عظمت قرآن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔

    کانفرنس کی صدارت برصغیر کی عظیم روحانی درگاہ کوٹلہ شریف کے سجادہ نشین پیر طریقت حضرت ڈاکٹر میاں صغیر احمد نقشبندی نے کی۔ کانفرنس میں قرآن مجید کا حفظ مکمل کرنے والے پچاس (50) حفاظ کرام کی دستارِ فضیلت کی گئی۔ کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: رسول اکرم ﷺ کی ہر نسبت کا احترام فرض ہے۔ آل و اصحاب رسول ﷺ کی محبت میں وساطت مصطفی ﷺ کو پیش نظر رکھنا فرض ہے۔ اہل بیت اطہار علیہم الرضوان اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت آپس میں لازم و ملزوم ہے۔یہ محبت انتشار کی نہیں، اتحاد کی دعوت دیتی ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے، جب اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہر دو اطراف کے ساتھ ر سول اکرم ﷺ کی وساطت سے محبت کی جائے۔

    ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے کے بارے میں گفتگو کا لہجہ باعث شرم ہے۔ ایسے لوگوں کے سیاست میں رہنے سے پاکستان کے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوں گے۔ یہ لوگ سیاست کے لیے بد نما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اکثر ارکانِ اسمبلی کا کوئی ویژن نہیں، مفادات کے گرد گھومتی سیاست نے عوامی نمائندگان کو بھیڑ بکریوں کی صف میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اس وقت تک ہمارا ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا جب تک لفظ سیاست کو غلط معنی و مفہوم سے نکال کر اپنے اصل مصداق کی طرف لوٹا نہ دیا جائے۔ نواز شریف، زرداری اور عمران خان سب کھوٹے سکے ہیں۔پاکستان کے مسائل کا حل صرف اسی سیاست میں ہے جو نظام مصطفی ﷺ کے تابع ہو۔ مولوی فضل الرحمن نے مذہبی سیاست کو داغدار کیا ہے۔

    مذہبی سیاست سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کرنے میں جہاں لبرل طبقے کا حصہ ہے، وہاں مولوی فضل الرحمان جیسے نام نہاد علماء کا بھی کردار ہے۔ چوک اعظم لیہ میں جماعۃ المسلمین نامی تنظیم کے رکن زاہد ظفر ملعون کی طرف سے عالم اسلام کی عقیدتوں کے مرکز گنبد خضریٰ کے خلاف کی گئی مبینہ گستاخیوں کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس ملعون کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحریک صراط مستقیم ضلع لیہ کے امیر صاحبزادہ محمد عمر حفیظ نقشبندی کی کوششوں سے اگرچہ اس ملعون کو گرفتار تو کر لیا گیا ہے مگر ابھی تک اس کے خلاف 295C کے تحت F.I.R نہیں کاٹی گئی، آج کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس ملعون کے خلاف 295C کے تحت فی الفور F.I.R کاٹ کے اس کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

    مجاہد آزادی حضرت پیر سید صبغۃ اللہ شاہ راشدی کے یوم شہادت (20 مارچ) پر آج ہم ان کے حریت پسندانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انگریز کے خلاف ان کا جہاد تاریخ برصغیر کا روشن باب ہے۔ ذات خداوندی جل جلالہ کے مبینہ گستاخ امرجلیل سمیت سیفی علی نامی ملعونہ، ملعون آصف رضا علوی، امجد جوہری ملعون، حامد رضا سلطانی ملعون، نوید عاشق ملعون و دیگر گستاخانِ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی عدم گرفتاری پر ہم حکومت پاکستان کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

    آج کا یہ اجتماع امام اہل سنت، حافظ الحدیث حضرت پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب نقشبندی قادری قدس سرہٗ العزیز کی عظیم دینی، ملی اور روحانی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ ان کے مشن کے تحت تحفظ عقائد اہل سنت اور غلبہئ اسلام کے لیے آخری سانس تک کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مانگٹ شریف کے عظیم مذہبی پیشوا شیخ الحدیث مفتی محمد عبد اللطیف مجددی جلالی قدس سرہ العزیز، چند دن پہلے جن کا وصال ہوا، یہ اجتماع ان کی دینی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے لحاظ سے ان شاء اللہ تعالیٰ تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک سلم و تحریک صراط مستقیم کے زیر اہتمام گجرات میں ڈویژنل سطح پہ ”سنی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ سندھ سطح پر ”سنی کانفرنس“ کا  انعقاد 28 مئی کو کراچی کی سرزمین پہ کیا جائے گا۔