Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • تحریک عدم اعتماد آئین قانون کی خلاف ورزی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ:تفصیلات بھی آگئیں

    اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد آئین قانون کی خلاف ورزی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ:تفصیلات بھی آگئیں ،اطلاعات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق کہا ہے کہ وزیرقانون نے جو نکات اٹھائے وہ درست ہیں، عدم اعتماد کی تحریک کا آئین و قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے لیے جہاں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان وزیر اعظم عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وہاں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی۔

     

    اس حوالے سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ پاکستان کی حکومت کو سازش سے گرائے۔

     

     

    ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ تحریک عدم اعتماد آئین و قانون کی خلاف ورزی اور قواعد و ضابطے کے خلاف ہے۔جس پر ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کردی

    ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کا آئین و قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے لہذا تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کو مسترد کیا جاتا ہے۔

  • عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:مبشرلقمان

    عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جوآج پاکستان میں ہوا اس کی مثآل نہیں ملتی ،یہ ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کواچھا نہیں کہا جاسکتا ہے،

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ عمران خان کو بعض ساتھیوں نے غلط مشورہ دیا جوآج انہوں نے اس پرعمل کردکھایا،۔مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جوعمران خان کےلیے مشکلات پیدا کرے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس نے آئین کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور جمہوریت اور جمہوری روح کو پٹڑی سے اتارنے کی ان کی کوششوں کی کوئی وضاحت نہیں کی سکتی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    اسلام آباد:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا ہے جس میں 140 اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ وزیراعظم عشائیہ میں پرجوش دکھائی دیئے تا ہم یوں لگتا ہے کہ اراکین انکا ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔عدم اعتماد پر ووٹنگ کل اتوار کو ہونی ہے اور اپوزیشن کے پاس نہ صرف نمبرز پورے بلکہ زیادہ ہیں

    گزشتہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے 172 اراکین نے شرکت کی تھی جس میں ایم کیو ایم اور باپ کے اراکین بھی شامل تھے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین جو حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں وہ اس اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں تھے اگر وہ شریک ہوتے تو اراکین کی تعداد دو سو کے قریب ہو جاتی۔ آج کے عشائیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد میں کل شکست ہونے والی ہے اور اپوزیشن کی جیت ہو گی

    وزیراعظم نے سرپرائز دینے تھے مگر آج انکا عشائیہ سب سے بڑا سرپرائز نکلا جس میں وہ مطلوبہ اراکین ہی پورے نہیں کر سکے۔ وزیراعظم کے عشائیہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اراکین سے انکے موبایل فون جمع کر لیے گئے تھے ۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپوزیشن کے ساتھ ملکر سازش کی اسکو ناکام بنایا جائے گا جنہوں نے شیروانی سلوا رکھی ہے وہ کل دیکھتے رہ جائیں گے

    دوسری جانب اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہو گی ۔پی ٹی آئی نے کارکنان کو بھی بلا رکھا ہے تاہم فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کسی قسم کا کوئی تصادم نہیں ہو گا ۔شہباز گل کا کہنا ہے کہ میڈیا پر جھوٹی خبریں دی جا رہی ہیں ہمارا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں ہے

    ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے آپ کو پتا چل جانا چاہیے کہ قوم آج کس طرف ہے، اب یہ مجھے پنجاب کا کوئی بھی ضمنی انتخاب جیت کر دکھادیں، شکر ہے کہ وہ چلے گئے جو پیسا بنانے کے لیے آئے تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ لوگ مجھے خدا حافظ کر رہے ہیں جیسے ہم ہار رہے، مجھے تو فکر ہی نہیں کیونکہ ہم کل نہیں ہار رہے، جب تک آخری گیند نہیں پھینکی جاتی فیصلہ نہیں ہوسکتا، ذہن میں نہ ڈالیں کہ کل کیا فیصلہ ہوگا، آپ کا کپتان ماہر ہے اور کوئی پتہ نہیں کل کیا کر جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سازش کی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے، 35 سال سے چند لیڈر ملک کو لوٹ رہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کہتاہوں کہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، اچھائی اور برائی میں نیوٹرل رہیں گےتو بُرائی کا ساتھ دیں گے۔ بیرونی سازش کے خلاف سب کو احتجاج کرناچاہیے۔ عدم اعتماد پر امریکا نے اپوزیشن کیساتھ ملکر سازش کی، آج فیصلہ کریں گے سازشیوں کے خلاف کیا قانونی کارروائی کرنی ہے۔ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ہیں، ہمیں درست راستے کا انتخاب کرنا ہے، قوم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کس طرف لے کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھائی کےساتھ اور برائی کیخلاف کھڑے ہو، جو معاشرہ اچھائی کا ساتھ دیتا ہے وہ زندہ ہوجاتا ہے۔وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے جس میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوجائے۔

  • کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی:بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے

    کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی:بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے

    اسلام آباد :بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی۔اطلاعات کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کل سے پاکستان میں ہرقسم کی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو رمضان کی مبارکباد دیتا ہوں، کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی، کل سےعوام کے مسائل کے حل کا آغاز ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ جمہوریت کیلئے فکرمند رہنے والے تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، اب وقت آگیا ہے کہ آپ باعزت راستہ اپنائیں، کپتان کو اب اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کپتان کو پہلے ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، ہارا ہوا شخص کوشش کرے گا تصادم اور بد امنی ہو، یہ پارلیمان کے اندر اور باہرفساد پھیلانے کی کوشش کرینگے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ اقتدار میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، ہم موجودہ وزیراعظم کو جمہوری طریقے سے نکال رہے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں، اپنے طرز عمل اور دھمکیوں کے ذریعے قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔ غداری کا مقدمہ سب سے پہلے آپ کے خلاف درج ہونا چاہیے۔

    نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی ساری اسٹرٹیجی آخری مرحلے میں کامیابی سے ہمکنار ہو گی، عمران نیازی اپنی شکست ماننے کے بجائے قوم کو تقسیم درتقسیم کرنے کی بھیانک سازش کرنے میں مصروف ہے۔ یہ تمام آئینی اداروں کا فرض ہے تمام اقدامات اٹھائیں۔ عمران نیازی آئین وقانون کے راستے پرچلنے سے انکاری ہے۔

  • امریکہ نےرجیم چینج کی دھمکی دی:عمران خان    پاکستان کاغیرت مندبیٹا:جُھکانہ جھُکنےدے گا

    امریکہ نےرجیم چینج کی دھمکی دی:عمران خان پاکستان کاغیرت مندبیٹا:جُھکانہ جھُکنےدے گا

    اسلام آباد : امریکہ نے رجیم چینج کی دھمکی دی:عمران خان پاکستان کا غیرت مند بیٹا نہ جُھکا نہ جھُکنے دے گا ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ امریکا نے واضح طور پر رجیم چینج کی دھمکی دی،عمران خان کو ٹارگٹ کیا اور کہا عمران خان کوہٹاؤگے توہم آپ کومعاف کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ امریکا سے بیان آرہےہیں ہم نےکوئی ایسی بات نہیں کی، امریکا نے کب سچا بولا؟امریکی حکومت نے ہمیشہ دنیا سے جھوٹ بولا۔

    شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ امریکا سے جو بھی تردیدی بیان آرہے ہیں وہ سراسرجھوٹ ہیں، یادرکھیں امریکا نےجوتردیدکی ہے وہ سراسرجھوٹ ہے، امریکا نےعراقی ہتھیاروں سے متعلق اقوام متحدہ میں بھی جھوٹ بولا۔

    شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ امریکاکے ساتھ آفیشل میٹنگ ہوئی، امریکا نے واضح طور پر رجیم چینج کی دھمکی دی،عمران خان کو ٹارگٹ کیا، امریکانےکہا عمران خان کوہٹاؤگے توہم آپ کو معاف کریں گے۔

    وفاقی وزیر نے سوال کیا کس چیزکی معافی ؟ کیونکہ عمران خان نےقوم کی خودداری کےلیےاسٹینڈ لیا؟ امریکاکویادہوناچاہیےعمران خان کےپیچھےیہ قوم اب خوددارہوگئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر پارلیمنٹ کے فیصلہ کن کارروائی کے دوران وزیراعظم عمران خان بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق پہلے خبر تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے شیڈول قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے ارکان کو جانے سے منع کردیا تھا، تاہم اب حکومت نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر لی ہے۔

     

     

    اب فیصلہ ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ممبران کل قومی اسمبلی جائیں گے۔ ارکان قومی اسمبلی عدم اعتماد کے خلاف ووٹ دیں گے جبکہ وزیراعظم عمران خان بھی کل قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے روز پی ٹی آئی کے ارکان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    اسمبلی قانون کے مطابق وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن کو اپنے نمبرز گیم پورے کرنے ہوتے ہیں اور ممکنہ تعداد کو قومی اسمبلی میں لانا ہوتا ہے۔

    قومی اسمبلی کا ایوان 342 ارکان پر مشتمل ہے، اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے 172 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن پہلے ہی اپنی عددی برتری ثابت کرچکی ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدم اعتماد کے روز بڑا سرپرائز دینگے۔

     

  • سری لنکا:معاشی بحران شدت اختیارکرگیا:     احتجاجی مظاہروں   میں  بھی  شدت آگئی

    سری لنکا:معاشی بحران شدت اختیارکرگیا: احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آگئی

    کولمبو : سری لنکا:معاشی بحران شدت اختیارکرگیا،احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آگئی ،اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں معاشی بحران کی وجہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث صدر راج پکسے نے جمعرات کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی،مگراس کے باوجود عوام الناس کے معاشی حالات سدرھنے کا نام نہیں لے رہے ۔

    کل جمعہ کے دن صدر راج پکسے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ سلامتی، امن عامہ کا تحفظ اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    جمعرات کو کولمبو میں صدر راج پکسے کی رہائش گاہ کے سامنے سینکڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پولیس نے 53 افراد کو گرفتار کیا اور کولمبو میں کرفیو بھی بافذ کی تھی۔

    مظاہرین صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سری لنکن صدر کی رہائش گاہ کے قریب مظاہرین نے گاڑیوں کو آگ بھی لگائی۔ ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 20 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    بدترین معاشی بحران کے علاوہ سری لنکن شہریوں کو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ شہریوں کو پیٹرول کے لیے کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

    دوسری جانب سری لنکا کے سیاحت کے وزیر نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مظاہروں سے معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا۔ ملک میں اقوام متحدہ کی نمائندہ ہنا سنگر ہمدی نے احتجاج کرنے والے افراد اور جھڑپوں میں ملوث تمام فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور تشدد کی رپورٹس تشویشناک ہیں

  • اناں ونڈےریوڑیاں،مُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہباز       وزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی:اطاعت فرض نافرمانی گناہ

    اناں ونڈےریوڑیاں،مُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہباز وزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی:اطاعت فرض نافرمانی گناہ

    لاہور:اناں ونڈے ریوڑیاں،تےمُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہبازوزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی :اطاعت فرض نافرمانی کبیرہ گناہ ، اس شاہ فرمان کی پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے ن لیگ کے ترجمان حمزہ شہباز ہوں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ پنجاب کے امیدوار ہوں گے، پارلیمانی پارٹی نے حمزہ شہباز کے نام کی تجویز دی تھی اور ن لیگ کے قائد نوازشریف نے حمزہ شہباز کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

    پنجاب میں سیاسی ماحول گرم ہوتے ہی نوازشریف نے حمزہ شہبازشریف کو وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے نامزد کردیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے حمزہ شہباز کے نام کی سفارش کی تھی۔ پارلیمانی پارٹی کو حمزہ شہباز کے علاوہ دوسرے نام کا بھی کہا گیا۔ لیکن وہ نام نوازشریف نے سختی سے مسترد کردیا ، پنجاب کی پارلیمانی پارٹی نے دوبارہ بھی متفقہ طور پر حمزہ شہباز کا نام تجویز کیا۔

    اس سے پہلے کل زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ کومیدان میں اتارا ہے اور کہا ہے کہ اب لوگ میری بیٹی کی اطاعت کریں اور سیاست میں ان کو اپنا لیڈرقبول کرلیں

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود اور خواجہ عمران نذیر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

    خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ فلور کراسنگ والی کوئی بات نہیں ہے، لوگوں نے اپنے حلقوں میں بھی واپس جانا ہے۔ ہم انشاء اللہ کامیابی حاصل کریں گے۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد پنجاب کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران تحریک مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں اپنا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سے دھڑا دھڑ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مختلف اراکین صوبائی اسمبلی سے بھی ان کی ملاقاتیں جاری ہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک ہم خیال گروپ جو غضنفر چھینہ کی قیادت میں قائم ہے جسے چھینہ گروپ بھی کہا جاتا ہے نے پرویز الٰہی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ پرویز الٰہی آئندہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔

    پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ حکومتی اتحاد میں تحریک انصاف کے پاس 183 اراکین ہیں، ق لیگ کے پاس 10 اور راہ حق پارٹی کے پاس ایک رکن ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ ن کے پاس 165 اراکین، پیپلز پارٹی کے پاس 7 کا ہندسہ ہے اور ان کی کل تعداد 172 بنتی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلٰی بننے کے لیے تحریک انصاف کے تمام اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

  • بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    اسلام آباد:بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ اور وزرا نے لوگوں کو اکسایا تو آرٹیکل 6 لگے گا۔

    بلاول بھٹو نے خدشات ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ عدم اعتماد کو ناکام کردیا جائے

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طریقہ کار میں مداخلت پر آرٹیکل 6 بہت واضح ہے، آئینہ طریقہ کار میں رکاوٹ ڈالنے پر اسپیکر پر بھی آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پیر کو بھی بلایا جاسکتا تھا، تحریک عدم اعتماد کے وقت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانا غیرمناسب ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، عدم اعتماد جمہوری عمل ہے جس سے کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان معززہوتے تو طریقے سے ہار مان لیتے، امید کرتا ہوں غیرقانونی عمل یا توہین عدالت کی طرف نہیں جائیں گے، عدم اعتماد ناکام ہوگی تو خطرہ ہے اگلے 20سال بھی اسی طریقے سے گزریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے ہر جھوٹ کا جواب دینا جانتے ہیں، یہ ایک موقع ہے قوم کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے، امید ہے اتوار تک کوئی غیرجمہوری قدم نہیں اپنایا جائے گا۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    اسلام آباد:پاکستان میں ضمیرفروشی کی روایات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ، اسی سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق منحرف اراکین قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے، وزیراعظم نے منحرف اراکین کے جوابات نا معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیے ہیں۔

    اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیےتحریک انصاف کے مطابق وزیراعظم نے منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر کیانی کی ملاقات ہوئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز تیار کرلیے گئے ہیں ، منحرف اراکین کیخلاف دستاویزی ثبوت بھی ریفرنسز کے ساتھ بھجوائے جائیں گے۔

    بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم نے بےضمیر اراکین کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے، دستور اراکین پارلیمان پر صداقت و امانت کی بنیادی شرط عائد کرتا ہے، ہارس ٹریڈنگ کے مرتکب اراکین نے پارٹی سربراہ کی ہدایات سے کھلا انحراف کیا ہے، منحرف اراکین کیخلاف قانونی کارروائی کے تحت ریفرنسز جلد اسپیکر کو بھجوادیں گے۔

    خیال رہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر تقریباً 13 ارکان قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً 22 ارکان قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کیخلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 اپریل بروز اتوار ہوگی جس کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 11 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔

  • اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اسلام آباد: اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمے کی کبھی بات نہیں : شہباز شریف کے منہ سے سچ نکل گیا ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کے منہ سے اچانک سچ نکل گیا جس میں‌وہ کہہ بیٹھے کہ اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمےکی کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی یہ ہمارا مقصد ہے، ہم نے عوام کے منصوبوں میں کئی اربوں کی بچت کی لیکن پیسے بچانے پر کبھی ڈھنڈورا نہیں کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا متحدہ اپوزیشن نے مجھے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپا تو یہ مہربانی ہے، متحدہ اپوزیشن کی حکومت آئی تو سب سے پہلے غریب کی زندگی بہتر کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا ابھی تک کسی پارٹی ممبر یا اتحادیوں کو کال نہیں آئی کہ یہ نہ کریں، انتظامیہ اور پولیس کو کہا ہے ووٹنگ کے دن سپریم کورٹ فیصلے پر عمل نہ کیا تو ہم سب کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، ممبرز کو پرامن ووٹنگ میں رکاوٹ ہوئی تو ہم خط لکھیں گے۔

    انھوں نے کہا آج عمران نیازی کی حالت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جیسی ہے، سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ایک لفظ سازش کا نہیں ہے، آج کل عمران بھارتی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں، بھارت سے متعلق نیوٹرل کی الگ اور اپنوں کی نیوٹرل کی تشریح کچھ کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پریس کانفرنس کے دوران ہی شہباز شریف کو نواز شریف کا فون آ گیا، انھوں نے فون پر بات سنی پھر کہا پریس کانفرنس کے بعد اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، بعد ازاں صحافیوں کے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا نواز شریف اپنے علاج کے بعد جلد از جلد پاکستان آئیں گے۔