Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا  ردعمل

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سعودی عرب سے متعلق بشریٰ بی بی نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا-

    باغی ٹی وی: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے، بشریٰ بی بی کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، ملک میں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہےسعودی عرب سے متعلق بشریٰ بی بی نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے سعودیہ سے متعلق انتہائی گھٹیا بات کی ہے، انہیں سعودی عرب سے تحائف ملے جو فروخت کیے گئے، بشریٰ بی بی نے سیاسی بیانیہ بنانے کیلئے گھٹیا حرکت کی، یہ سیاسی بیانیے کیلئے ممالک سے تعلقات خراب کر رہے ہیں، انہوں نے پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کی ہے۔

    سابق آرمی چیف باجوہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سعودی عرب سے واپسی پر کوئی فون کالز نہیں آئیں، بشریٰ بی بی غلط کہہ رہی ہیں میرے پاس کوئی کالز نہیں آئیں۔

    علامہ طاہر اشرفی نے بشریٰ بی بی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کا دوست ملک پرالزام جھوٹ ہے، میں بانی پی ٹی آئی کے اس دورے میں موجود تھا، اس دورے میں وفد کو سعودی عرب میں بہت احترام ملا، قمر باجوہ ساتھ تھے ان کو کسی کی کال نہیں آئی، پاکستان اور سعودی عرب کسی صورت فلسطین کے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ عمران خان بحیثیت وزیراعظم جب ننگے پاؤں مدینہ منورہ میں گئے تو واپس آنے کے بعد جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئی تھیں، جنرل باجوہ کو کہا گیا تھا کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنا چاہتے ہیں آپ ایسے شخص کو لے آئے ہو جو شریعت کی بات کرتا ہے۔

  • قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،عطا تارڑ

    قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی، قانون پر مکمل طور پر عمل کریں گے اور کروائیں گے۔

    باغی ٹی وی: عطا تارڑ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، سرکاری افسران کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے، ملوث ہونے پر افسران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی،اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی، قانون پر مکمل طور پر عمل کریں گے اور کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے چینی صدر کے دورے کے موقع پر احتجاج کیا گیا، ایس سی او کے موقع پر بھی احتجاج کی کوشش کی گئی، اب بیلاروسی صدر کے دورے کے موقع پر احتجاج کیا جارہا ہے،یہ ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جب کوئی آتا ہے تو یہ احتجاج شروع کردیتے ہیں، کیا احتجاج ملکی معیشت بہتر ہونے کے خلاف ہورہا ہے، کیا یہ احتجاج مہنگائی کم ہونے کے خلاف ہے؟ یہ صرف اپنے لیڈر کیلئے این آر او مانگ رہے ہیں،تحریک انتشار کے احتجاج کا مقصد ملک میں فساد پھیلانا ہے، پی ٹی آئی احتجاج کیلئے سرکاری وسائل استعمال کرتی ہے۔

  • سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    پشاور: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا (کے پی) ندیم اسلم چوہدری نے صوبائی انتظامیہ اور پولیس کو خط لکھا ہے-

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے آئی جی خیبرپختونخوا، صوبائی سیکرٹریز ، کمشنرز اور پولیس افسران کو خط لکھا ہے خط میں کہا گیا ہےکہ پولیس اور انتظامی افسران سیاسی قیادت کے صرف وہ احکامات مانیں، جو آئینی دائرے میں ہوں کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی احکامات پرتعاون کرنے کے نتائج ہوں گے، افسران کسی دباؤ یا لالچ میں سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ تمام افسران پیشہ وارانہ ضابطہ اخلاق کی پاپندی کریں، قانون کو بغیرکسی خوف، حمایت یا تعصب کے برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان کے لیے وژن ہماری رہنمائی کی روشنی ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ غیر سیاسی، غیر جانبدار رہنا، ثابت قدمی سے قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم رہنا، عوامی اعتماد کے رکھوالوں کے طور پر ہم اس کے پابند ہیں۔

    چیف سیکرٹری نے انتباہ کیا ہےکہ سیاسی منظر نامے سے قطع نظر غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں، ہمارا حلف آئین اور ریاست کے لیے ہے ،کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کے لیے نہیں، آپ کو کسی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے دباؤ میں نہیں آناچاہیے۔

    چیف سیکرٹری نے کہا ہےکہ آپ نے بے خوف ہوکر اپنی ساکھ، اپنے وقار کو برقرار رکھنا ہے سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیار کا غلط استعمال کسی دباؤ یا لالچ میں نہ کریں سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں کوئی بھی سرکاری املاک، سامان اور اتھارٹی کے استعمال پر دباؤ قبول نہ کرے، کسی بھی سیاسی جماعت کی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سپورٹ نہ کی جائے، ایسے اقدامات سے بحیثیت پبلک سرونٹ ہمارا احترام بڑھےگا، احکامات نہ ماننے پر کار روائی کی جائے گی۔

  • بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیان پر ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عظمیٰ بخاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک گھریلو غیرسیاسی خاتون نے قوم سے خطاب کیا، موصوفہ نے ایک دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ کردیا ہے بشریٰ بی بی دوست ملک پر شریعت ختم کرنے کا بڑا الزام لگا کر خود شریعت کی ٹھیکیداربن رہی ہیں ان فسادیوں کے ہوتے ملک کا بھلا نہیں ہوسکتا، بڑا دوست اسلامی ملک جو مسلم امہ کا ستون ہے اس پر یہ الزام بہت خطرناک ہے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ عمران خان بحیثیت وزیراعظم جب ننگے پاؤں مدینہ منورہ میں گئے تو واپس آنے کے بعد جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئی تھیں جنرل باجوہ کو کہا گیا تھا کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنا چاہتے ہیں آپ ایسے شخص کو لے آئے ہو جو شریعت کی بات کرتا ہے۔

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    بشری بی بی کا کہنا تھا کہ جو لوگ مذاکرات کے نام پر احتجاج ملتوی ہونے کی باتیں کررہے ہیں، یہ سب پروپیگنڈا ہے، 24 نومبر کو احتجاج ہر صورت ہوگا، 24 نومبر کے احتجاج کی تاریخ صرف اسی صورت میں تبدیل ہوسکتی ہے کہ عمران خان کو جیل سے رہائی کیا جائے اور وہ خود عوام کا آئندہ کا لائحہ عمل دیں ملک کا بچہ بچہ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے التجا ہے کہ احتجاج کرنے والے بھی آپ کے بھائی ہیں، ان پر ظلم نہ کریں۔

  • 24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ججز اور وکلا سے 24 نومبر کے احتجاج میں شرکت کی اپیل کر تے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد کررہے ہیں، تو کیا ججز اور وکلا کا فرض نہیں بنتا کہ وہ احتجاج میں شریک ہوں۔

    باغی ٹی وی: بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے 24 نومبر کے احتجاج میں تمام شعبے ہائے زندگی کے افراد شریک ہوں، کیونکہ جب ہر شخص اس کا حصہ بنے گا تو تحریک کامیاب ہوگی عمران خان قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں جیل میں ہیں، انہوں نے فائنل کال کی کامیابی کے لیے بہت سے لائحہ عمل بھیجے ہیں جو وقت آنے پر سامنے لائیں گے۔

    بشری بی بی کا کہنا تھا کہ جو لوگ مذاکرات کے نام پر احتجاج ملتوی ہونے کی باتیں کررہے ہیں، یہ سب پروپیگنڈا ہے، 24 نومبر کو احتجاج ہر صورت ہوگا، 24 نومبر کے احتجاج کی تاریخ صرف اسی صورت میں تبدیل ہوسکتی ہے کہ عمران خان کو جیل سے رہائی کیا جائے اور وہ خود عوام کا آئندہ کا لائحہ عمل دیں ملک کا بچہ بچہ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے التجا ہے کہ احتجاج کرنے والے بھی آپ کے بھائی ہیں، ان پر ظلم نہ کریں۔

    بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزاریں اور گھر پر رہیں، لیکن وہ قوم کی خاطر جیل کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں عدالتوں میں پٹیشنز دائر کی جارہی ہیں کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، اس ظلم کو بند کرنا ہوگا، یزید مت بنیں، وہ بھی ایک مسلمان تھا لیکن انا میں آکر اس نے ظلم کیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ہے کہ وہ جیل سے باہر آکر کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیں گے، وہ بالکل کلیئر ہیں کہ طاقت آکر کسی سے بدلہ لینا اللہ کی ناراضی کو مول لینے کے مترادف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو بھی آکر یہ پیغام دے رہا ہے کہ عمران خان باہر آکر بدلہ لے گا، اور غصے میں وہ غلط بیانی کررہا ہے پورے پاکستان کے سیاسی نظام میں عمران خان ایسے ہیں جیسے کیچڑ میں کنول کا پھول ہو ہمارے ملک کے حکمران کرسیوں کی جنگ لڑرہے ہیں، جبکہ عمران خان ملک میں حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے کہا کہ ہم پر الزام ہے کہ آپ کے لوگ الجہاد الجہاد کے نعرے لگا رہے ہیں، تو ہم نے کسی کارکن کو یہ ہدایت نہیں دی، یہ سب لوگوں کے دلوں سے نکل رہا ہے،عمران خان بحیثیت وزیراعظم جب ننگے پاؤں مدینہ منورہ میں گئے تو واپس آنے کے بعد جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئی تھیں جنرل باجوہ کو کہا گیا تھا کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنا چاہتے ہیں آپ ایسے شخص کو لے آئے ہو جو شریعت کی بات کرتا ہے،میں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ہے، اب آپ پر منحصر ہے کہ حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہے یا نہیں۔

  • مججھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے، فیصل واوڈا

    مججھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے، فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ عمران خان کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور یہ مشکلات ان کے اپنے کمپرومائزڈ لوگوں نے پیدا کی ہیں-

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور یہ مشکلات ان کے اپنے کمپرومائزڈ لوگوں نے پیدا کی ہیں، اپنے آپ کو بچانے کیلئے عمران خان اب خود ہی ہیں، عمران خان دو قدم پیچھے لیں، صبر دکھائیں، سیاست کو سیاست کی طرح لے کر چلیں، سیاستدانوں سے انگیج کریں وہ آگے بات کریں گے، آگے کا راستہ بنانے کی بات کریں،24 نومبر کو احتجاج کی کال فائنل نہیں ہے، یہ کال پھر آجائے گی۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ لوگ ڈی چوک نہیں آسکتے، علی امین گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے اور باقیوں کا کام آسان کر رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی نہ رہائی ہو رہی ہے نہ آگے ہونے جا رہی ہے، اگر آپ کسی پر چڑھائی کرکے بدمعاشی کرکے رہائی مانگ رہے ہیں، پھر تو آپ اپنی مشکلات کو دعوت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، پی ٹی آئی کی 30 فیصد قیادت ملک سے باہر ہے، نہ پنجاب میں کوئی ہے اور نہ سندھ اور بلوچستان میں، سب خیبرپختونخوا وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں موج لگی ہوئی ہے باپ کی جاگیر ہے وہ، وزیراعلیٰ ہاؤس انڈیا کا حصہ تو نہیں ہے، اگر اس میں ملک دشمنی کو کوئی عنصر نظر آگیا تو وہاں بھی ریڈ کردیں گے، ادھر سے بھی بالوں سے پکڑ کر نکال لیں گے ایسا کوئی مشکل کام نہیں ہے، 24 نومبر کی کال اس لئے ہے کیونکہ 25 نومبر کے بعد عمران خان پر فرد جرم عائد ہونی ہیں، پی ٹی آئی کی گھبراہٹ سے نظر آرہا ہے فیض حمید کا ٹرائل اور کورٹ مارشل آخری مراحل میں ہے۔

  • پی ٹی آئی 24 نومبر  احتجاج:اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاجروں کی درخواست پر فیصلہ  جاری

    پی ٹی آئی 24 نومبر احتجاج:اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاجروں کی درخواست پر فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج کے خلاف تاجروں کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امن قائم رکھنے کیلئے انتظامیہ قانون کے مطابق تمام اقدامات کرے انتظا میہ کی ذمہ داری ہے کہ قانون کے خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے، یقینی بنایا جائے کہ شہریوں کے کاروبار زندگی میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پبلک آرڈر 2024 دھرنے، احتجاج، ریلی وغیرہ کی اجازت کیلئے مروجہ قانون ہے، اسلام آباد انتظامیہ مروجہ قانون کے خلاف دھرنا، ریلی یا احتجاج کی اجازت نہ دے عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو وزیر داخلہ یا کسی متعلقہ شخص کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا عدالت نے کہا کہ کمیٹی میں چیف کمشنراسلام آباد کو بھی شامل کیا جائے،جبکہ عدالت نے کمیٹی کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ رابطہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کمیٹی پی ٹی آئی قیادت کو بیلاروس کے صدر کے دورے کی حساسیت سے آگاہ کرے، عدالت کو یقین ہےجب یہ رابطہ ہوگا تو کچھ نا کچھ پیشرفت ہوگی۔

    واضح رہے کہ تاجر رہنماؤں کی جانب سےپی ٹی آئی احتجاج کےخلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت میں فوری سماعت کی گئی،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

  • روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ بھیجا ہے۔ ان میں افریقی شیر، 2 بھورے ریچھ، 45 تیتر، بطخیں اور چند بڑی کلغی والے طوطے شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق ماسکو کے چڑیا گھر سے منتقل کیے جانے والے اِن جانوروں کو صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے شمالی کوریا کے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا جارہا ہے،قدرتی وسائل کے روسی وزیر الیگزینڈر کوزلوف جانوروں کی منتقلی کی نگرانی کی یہ جانور کارگو طیارے کے ساتھ پیانگ یانگ بھیجے گئے ان کے ساتھ چند ڈاکٹرز بھی پیانگ یانگ گئے۔

    کوزلوف کے دفتر نے بدھ کو اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ پیوٹن کے وزیر ماحولیات الیگزینڈر کوزلوف ان جانوروں کو ایک کارگو طیارے میں شمالی کوریا کے دارالحکومت لائے،ماسکو سے جانوروں کی کھیپ میں دو یاک، پانچ کاکاٹو اور درجنوں تیتر کے ساتھ ساتھ مینڈارن بطخیں بھی شامل تھیں۔

    کوزلوف کا کہنا تھا کہ تاریخ کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات بہتر بنانے میں جانوروں کے تبادلے نے ہمیشہ اچھا کردار ادا کیا ہے۔

    یہ تحفہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے اس انکشاف کے چند ہفتوں بعد آیا ہے جب شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے تھے،یوکرین جنگ میں شدت آجانے پر روس نے حملے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شمالی کوریا کے 10 ہزار فوجیوں کو یوکرین کے محاذوں پر تعینات کرنے کی منصوبہ سازی کی ہے-

    روس اور شمالی کوریا نے جون میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ ایک دوسرے کے دفاع کے لیے تعاون کریں گے شمالی کوریا کا روس کو 10 ہزار فوجیوں کی خدمات فراہم کرنا اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔

  • نیدر لینڈ  نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدر لینڈ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدرلینڈز نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل کرنےکاعندیہ دے دیا، نیدر لینڈز کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق نیدرلینڈز کے وزیرخارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو ہماری سرزمین پر پاؤں رکھتے ہیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

    نیدرلینڈ کے نشریاتی ادارے این او ایس سے جاری بیان کے مطابق کیسپر ویلڈکیمپ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ نیدرلینڈز عالمی عدا لت کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ ڈچ سرزمین پر پہنچتے ہیں تو وہ گرفتار ہوجائیں گے یہی اصول اسرائیل کے سابق وزیردفاع یووو گیلنٹ اور حماس کے رہنما محمد ضیاب ابراہیم پر لاگو ہوتا ہے جنہیں عالمی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ غیرضروری تعلقات ختم کردیئے جائیں گے کیونکہ اسرائیل کے اعلیٰ عہدیدارغزہ میں انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوگئے ہیں نیدرلینڈ روم اسٹیٹیوٹ پر 100 فیصد عمل کرتا ہے جس کے تحت ہیگ میں عالمی عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے قواعد و ضوابط بھی اسی کے مطابق وضع کی گئے تھے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے عالمی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں،عدالت نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد ضیف کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے رواں سال مئی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر کے جنگی جرائم کےارتکاب کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

  • حکومت نے  گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے،اسد قیصر

    حکومت نے گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے،اسد قیصر

    صوابی: پی ٹی آئی رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے علی امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : صوابی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی اجازت دی ہے، اب پارٹی اپنا فیصلہ کرے گی کہ وہ کس طرح اور کس حد تک مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کتنی سنجیدہ ہے اور کتنی سنجیدگی سے اس ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہے، 24 نومبر کے احتجاج کیلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پہلی دفعہ عوام میں بڑا جوش و خروش ہے، ہمارے صوابی سے اتنے لوگ ہوں گے کہ اگر باقی علاقوں سے لوگ نہ بھی آئیں تو یہ کافی ہیں، پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے کارکنان صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکنان مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا اور ہم سے یہ مینڈیٹ زبردستی چھینا گیا، جعلی مینڈیٹ کی بنیاد پر حکومت بنائی گئی اور اس کے ذریعے قانون سازی ہو رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں استحکام آنا چاہیے، اس وقت لاء اینڈ آرڈر چیلنجز کا سامنا ہے، اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو ملک انارکی کی طرف جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں جب عدلیہ آزاد، قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی اور عوام کو عزت نہیں ملے گی تو ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا، ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، ظلم، جبر اور تشدد کا راج ہے، پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، پارلیمنٹ بے توقیر ہو گئی ہے، آئین سیاسی جماعت اور عوام کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، یا تو آئین سے یہ شق نکال لیں، آپ ہمیں دیوار سے لگائیں گے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کونسا راستہ ہے۔