Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • تحر یک انصاف کی امریکا میں  پاکستان کیخلاف لابنگ کی کوششیں قابل مذمت ہیں،شیری رحمان

    تحر یک انصاف کی امریکا میں پاکستان کیخلاف لابنگ کی کوششیں قابل مذمت ہیں،شیری رحمان

    اسلام آباد: رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے امریکی کانگریس ارکان کے صدر جوبائیڈن کو لکھے گئےخط پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ امریکی ارکان کانگریس کا صدربائیڈن کو خط "حقیقی آزادی” بیانیےکے تابوت میں ایک اورکیل ہے، امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی مسلسل غیر ملکی مداخلت کو دعوت دے رہی ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ دوسرے ملک کے سیاسی وقانونی معاملات میں مداخلت بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے، خط پاکستان کے سیاسی نظام اور عدلیہ کی خود مختاری کو چیلنج کرتا ہے، خط خطرناک مثال بھی قائم کرتا ہےکہ کوئی ملک مداخلت کو جائز سمجھنےلگے تحر یک انصاف کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں "امر یکی مداخلت” پر بیانیہ بنا کر سیاست کرتی رہی، تحریک انصاف کا اب خود ایسی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔

  • حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    آدمی کو بے سر و ساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ

    ڈاکٹر جی آر کنول

    16؍نومبر 1935 : یوم پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر گلشن رائے المعروف ڈاکٹر جی آر کنول 16؍نومبر 1935ء کو لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کی تشکیل زیر غور ہی تھی کہ لاہور کے متعدد ہندو سکھ گھرانوں نے سلسلۂ ہجرت (قسطوں میں) شروع کر دیا تھا۔ کنول آخری قسط میں اپنے والد محترم کے ہمراہ لاہور سے سیالکوٹ جمیون، پٹھان کوٹ، امرتسر اور دیگر شہروں کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ایک سال میں دلی پہنچے۔ سفر کا بیشتر حصہ، پا پیادہ تھا اس لیے مسلسل آبلہ پائی کا سبب بنا ہر طرف ایک کربناک منظر در پیش تھا۔ آتش زنی، افراتفری اور قتل و غارت گری کے ماحول میں باحفاظت سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ دلی پہنچ کر بھی سکون میسر نہ ہوا۔ کئی سال تک خانہ بدوشی اور بے سرو سامانی کا سایہ نصیب رہا۔ ان کے والد محترم کاروباری مشاغل کے علاوہ ”پیسہ اخبار لاہور“ سے وابستہ تھے۔ انھوں نے کنولؔ صاحب کے ادبی ذوق کو بچپن ہی میں پہچان لیا تھا۔ وہ انہیں شورشؔ کاشمیری، عطاء ﷲ خاں بخاری اور استاد ہمدمؔ کی محلفوں میں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔

    ان کی ابتدائی تعلیم تو لاہور ہی میں مکمل ہو چکی تھی۔ مڈل سے لے کر انگریزی میں پی۔ ایچ۔ ڈی تک کے مراحل بڑی سخت جانی سے دلی میں طے کرنے پڑے۔ وہ دلی میں تنہا ہی تھے کیوں کہ ان کے والدین انبالہ شہر میں آباد ہوگئے تھے۔ ایک لمبے عرصے تک دلی کے گلی کوچوں، خصوصا اردو بازار کے اطراف کی خاک چھانی جہاں اُس وقت کی بلند قامت شخصیتوں مثلاً جوشؔ ملیح آبادی، مجازؔ لکھنوی، علامہ انورؔ صابری، شعریؔ بھوپالی اور مخمورؔ دہلوی کے دیدار ہو جاتے تھے۔ اُردو بازار ہی میں ان کا رابطہ استاد رساؔ دہلوی سے ہوا جو کئی سال تک قائم رہا لیکن کبھی تلمذ میں تبدیل نہ ہوا۔ اس بازار سے تھوڑی دور کنولؔ صاحب نے کچھ عرصہ تک ادارۂ شرقیہ میں مولوی عبدالسمیع صاحب کے سامنے زانوئے ادب تہ کرکے فارسی نظم ونثر کا مطالعہ کیا جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما میں بہت کار گر ثابت ہوا۔

    کنولؔ کی معاشی زندگی کی ابتداء ایک اردو ہفت روزہ اخبار ”ساتھی دیکلی“ کی اشاعت اور ادارت سے ہوئی۔ چند سال بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیوں کہ اردو زبان کے قارئین کی تعداد بڑی تیزی سے رو بہ زوال ہو رہی تھی۔ مصلحتاً انہوں نے انگریزی صحافت اور انگریزی زبان و ادب کی درس و تدریس کی طرف رجوع کیا۔ کنول نے دلی یونیورسٹی کے آر ایل اے کالج کی لیچررشپ کی۔ دلی سینئر سیکنڈری اسکول اے ایس وی جے کی تقریباً 20 سال تک پرنسپل رہے۔ سمیر مل جنین پبلک اسکول جنگ پوری، نئی دہلی کی ڈائرکٹر اور ڈاون پبلک اسکول پچھم وبار نئی دہلی اور ڈون پبلک اسکول پنچکولہ (ہریانہ) کی چیئر مین کے منصبی فرائض انجام دیے۔ علاوہ ازیں کئی تعلیمی، ادبی اور سماجی تنظیموں کی عہدے داری اور اہم رکنیت حاصل رہی۔ کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ اٹھارہویں صدی کے عظیم طنز نگار شاعر نثار جوناتھن سوفٹ کے ”نظریۂ انسان“ پر ہے اور بیشتر تصانیف انگریزی ادب کے اُن شہ پاروں پر ہیں جو بی۔ اے آنرز یا ایم۔ اے کے نصاب میں شامل ہوتے ہیں۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
    ”شیشہ ٹوٹ جائے گا“ 1991ء، ”قلم آشنا“ 2003ء، ”درد آشنا“ 2006ء، ”غزل آشنا“ 2008، ”نیند کیوں نہیں آتی“ 2009ء، ”ریزہ ریزہ زندگی“ 2011ء وغیرہ۔
    #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_قلم_آشنا

    💫� ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنولؔ کی شاعری سے منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آدمی کو بے سروساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ
    ——
    بے مزہ کردے جو تیری زندگی
    اُس دوا کو درد کا درماں نہ لکھ
    ——
    ندی جیسے کوئی بے آب سی ہے
    ہماری زندگی بے خواب سی ہے
    ——
    لمحہ لمحہ بے انتشار مرا
    لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
    ——
    کبھی زینہ، کبھی در بولتا ہے
    مرے اندر مرا گھر بولتا ہے
    ——
    کیسے کہہ دوں بچھڑ گیا ہے وہ
    اُس نے مقطع ابھی نہیں لکھا
    ——
    لوگ کہتے ہیں مشت خاک مگر
    اپنے اندر تو کائنات ہوں میں
    ——
    حرف اول سے حرف آخر تک
    کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے
    ——
    قلندر ہوں مری خواہش نہ پوچھو
    میں دُنیا میں فقیری چاہتا ہوں
    ——
    دیار زندگی سینے میں تیرے
    مرے دل کا دیا بھی جل رہا ہے
    ——
    ذوق آوارگی سے بہتر تھا
    ہم کسی در پہ مر گئے ہوتے
    ——
    آه! قسمت کہ ہاتھ خالی ہیں
    اف یہ خواہش کہ سب ہمارا ہو
    ——
    ابھی ہے نا مکمل ہر فسانہ
    ابھی دنیا ادھوری داستاں ہے
    ——
    اوس اب اُنگلیاں جلاتی ہے
    جیسے شبنم نہ ہو شرارا ہو
    ——
    روح بھی چاہیے کنولؔ اُس میں
    صرف پیکر سے کچھ نہیں ہوتا
    ——
    ناز ہے جس پر مجھے اے ہم نفس
    وہ ترا چہرہ نہیں کردار ہے
    ——
    بہت میلی ہے میرے دل کی چادر
    نہیں آنسو کوئی اب دھونے والا
    ——
    دھوپ یہ کہہ کے ہوگئی غائب
    میرے سائے کی اب پرستش کر
    ——
    موج در موج ہو تو بات بھی ہے
    قطره قطره شراب بے معنی
    ——
    جس پہ چہکا تھا اک پرندہ آج
    مدتوں سے تھا وہ شجر خاموش
    ——
    کبھی تو بے ٹھکانہ پنچھیوں کا
    بنانے گی ہوا خود آشیانہ
    ——
    تو ہے خاموش اور برسوں سے
    میرے دل میں سوال کتنے ہیں
    ——
    زندگی بھر یہاں وہاں ٹھہرے
    پھر بھی دنیا میں بے نشاں ٹھہرے
    ——
    آپ آئیں تو ختم ہو قصہ
    آپ جائیں تو داستاں ٹھہرے
    ——
    حقیقت خواب سے ہوتی ہے بہتر
    ترے آگے تری تصویر کیا ہے
    ——
    قلم بے روح کر دیتا ہے نسلیں
    قلم کے سامنے شمشیر کیا ہے
    ——
    میری دستک تو تھی مکمل ہی
    اُس نے کھولا تھا اپنا در آدھا
    ——
    میرا آغاز ہے جب اک معمہ
    کسے معلوم ہے انجام میرا
    ——
    کہاں تک ٹھوکریں کھاؤں جہاں میں
    کوئی پتھر نہیں انسان ہوں میں
    ——
    نام ہر آدمی کا فانی لکھ
    صرف اعمال جاودانی لکھ
    ——
    زباں خاموش ہو جاتی ہے میری
    مگر چہرہ برابر بولتا ہے
    ——
    رند وہ ہو گیا خراب بہت
    جس کو ساقی نے دی شراب بہت
    ——
    کیسے بچتا چبھن سے کانٹوں کی
    جس کے دامن میں تھے گلاب بہت
    ——
    مکمل ہو تو سننے کا مزہ ہے
    ادھوری داستاں کچھ بھی نہیں ہے
    ——
    سلگتی آگ بے سرمایہ دل کا
    کنولؔ اُس میں دھواں کچھ بھی نہیں ہے

    👈 #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_ریزہ_ریزہ_زندگی

  • پشاور:پی ٹی آئی کے  دو رہنما مستعفیٰ

    پشاور:پی ٹی آئی کے دو رہنما مستعفیٰ

    پشاور: پشاور ایسٹ کے جنرل سیکرٹری تقدیر علی اور نائب صدر جان خالد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنماؤں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہ اٹھانے پر مقامی رہنما ناراض ہیں، پی ٹی آئی کے دو عہدیدار مستعفی بھی ہوگئے ہیں،پشاور ایسٹ کے جنرل سیکرٹری تقدیر علی اور نائب صدر جان خالد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفے پیش کئے،پی ٹی آئی کے ضلعی ترجمان رحمان سدیس کا کہنا ہے کہ تقدیر علی اور جان خالد نے قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا، دونوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استفعے دئیے-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت اس احتجاج کو ’فائنل کال‘ قرار دے رہی ہے احتجاج کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کیا ہے اور علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے جلسے کے کچھ مطالبات بھی سامنے رکھے ہیں۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عمران خان کہہ چکے ہیں کہ احتجاج میں 26ویں آئینی ترمیم کے خاتمے، جمہوریت اور آئین کی بحالی، مینڈیٹ کی واپسی اور تمام بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا،جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے تو گھروں کو واپسی نہیں ہوگی۔‘

    پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے اور ماضی قریب میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کی تھی۔

  • اداروں اور فری لانسرز کیلئے وی پی این رجسٹریشن کا عمل آسان

    اداروں اور فری لانسرز کیلئے وی پی این رجسٹریشن کا عمل آسان

    اسلام آباد:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) نے اداروں اور فری لانسرز کیلئے وی پی این رجسٹریشن کا عمل آسان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی اے کے مطابق ادارے اور فری لانسرز پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر وی پی اینز باآسانی رجسٹرڈ کر سکتے ہیں۔رجسٹریشن کیلئے آن لائن فارم مکمل اور بنیادی تفصیلات فراہم کرنا اہم ہے شناختی کارڈ نمبر، کمپنی کی رجسٹریشن کی تفصیلات اور ٹیکس دہندہ کی حیثیت شامل ہیں،فری لانسرز کو اپنے پروجیکٹ یا کمپنی کے ساتھ وابستگی کی تصدیق کیلئے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔

    پی ٹی اے کے مطابق درخواست دہندگان کو وی پی این کنیکٹیویٹی کیلئے آئی پی ایڈریس بھی فراہم کرنا ہوگا، فکسڈ آئی پی ایڈریس کی صورت میں اسے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے حاصل کیا جا سکتا ہے،درخواست جمع کرانے کے 8 سے 10 گھنٹوں کے اندر منظوری کا عمل مکمل ہو جائے گااب تک 20 ہزار سے زائد کمپنیاں اور فری لانسرزاپنے وی پی اینز رجسٹر کروا چکے، کمرشل مقاصد کیلئے وی پی این استعمال کرنے والےفری لانسر کی کیٹیگری کے تحت درخواست دے سکتے ہیں مطلوبہ معلومات سمیت امپلائر سے متعلقہ ثبوت بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

  • برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا،زلفی بخاری

    برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا،زلفی بخاری

    لندن: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے عمران خان کی گرفتاری پر آواز اٹھانے والے برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں زلفی بخاری نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری اور پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر خط کے ذریعے آواز بلند کی، کِم جانسن ایم پی اور دیگر ارکان نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا جبکہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامے نے خط کا جواب دیتے ہوئے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے عوام ناقابل بیان مشکلات کا شکار ہیں، آزاد اور شفاف انتخابات، قانون کی حکمرانی، اور آزاد عدلیہ ہی جمہوریت کی بنیاد ہیں پاکستانی عوام ان جمہوری حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے غصب کر رکھا ہے۔

    اکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر …

    پاکستانی حسن عثمانی نے ترکمانستان میں اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا

    محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

  • محمد یوسف  نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

    محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

    لاہور: محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں-

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹ محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی کوچنگ چھوڑنے کا فیصلہ، محمد یوسف نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیٹنگ کوچ تعینات تھے،محمدیوسف پاکستان انڈر 19 کے کوچ بھی تعینات رہے،محمد یوسف کے بعد غلام علی کو پاکستان انڈر19 کا کوچ مقرر کر دیاگیا-

    بیٹنگ کوچ سے پہلے محمد یوسف سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی رہے ہیں سلیکشن کمیٹی کے سابق ممبر وہاب ریاض کو بھی ایک بار پھر پی سی بی میں ذمہ داریاں ملنے کاامکان ہے ، وہاب ریاض کو چیمپئنز ایونٹس کےمعاملات پر اہم ذمہ داری مل سکتی ہے، وہاب ریاض قومی سلیکشن کمیٹی کے ممبر اور ٹیم مینجر بھی رہے ہیں-

  • پاکستانی حسن عثمانی نے  ترکمانستان میں اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا

    پاکستانی حسن عثمانی نے ترکمانستان میں اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا

    اشک آباد: پاکستان کے حسن عثمانی نے ترکمانستان میں ہونیوالا اشک آباد اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا۔

    باغی ٹی وی : ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں ہونیوالے اشک آباد اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے انڈر 14 ایونٹ میں حسن عثمانی نے وائلڈ کارڈ انٹری حاصل کی تھی پہلے پری کوارٹر فائنل میں سیڈ نمبر 8 کو ہرایا اس کے بعد کوارٹر فائنل میں سیڈ نمبر چار کو زیر کیا اور پھر فائنل میں حسن عثمانی نے ترکمانستان کے سیکنڈ سیڈ پلیئر کو ہرایا –

    میزبان ملک کے پلیئر سلیمان ہو دیبر دیو کے خلاف فائنل میں حسن 1-6اور 0-6 سے کامیابی حاصل کی، حسن عثمانی کی پورے ٹورنا منٹ میں زبردست کارکردگی رہی، پانچ میچز میں حسن عثمانی نے 10 سیٹ جیتے، صرف ایک سیٹ ڈراپ کیا۔

  • پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    لندن: برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کے کوئی حالیہ اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم اورپی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی وزیر برائے خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی امور نے یہ بات کم جانسن کے خط کے جواب میں کہی جو انہوں نے عمران خان کے مشیر برائے بین الاقوامی امور زلفی بخاری کی درخواست پر برطانوی حکومت کو لکھا تھا زلفی بخاری نے ایک ماہ قبل تمام جماعتوں کے 20 ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے برطانوی حکومت کے لیے ایک خط لکھا تھا، جس میں عدلیہ میں تبدیلیوں اور 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    جس پر برطانوی ممبر پارلیمنٹ نے خط میں لکھا تھا کہ ’برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو عمران خان سمیت عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے ممکنہ استعمال پر تشویش ہے کیونکہ فوجی عدالتوں میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر انصاف کے معیار کی تعمیل کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی کے نام خط پر دستخط کرنے والوں میں جانسن ایم پی، پاولا بارکر ایم پی، اپسانا بیگم، لیام بائرن، روزی ڈوفیلڈ، گل فرنس، پاؤلیٹ ہیملٹن، پیٹر لیمب، اینڈی میکڈونلڈ، ابتسام محمد، بیل ریبیرو ایڈی، زارا سلطانہ، اسٹیو ویدرڈن، نادیہ وٹوم، بیرونس جون بیکویل، بیرونس جان بیکویل، بیرونس کرسٹین بلور، لارڈ پیٹر ہین، لارڈ جان ہینڈی اور لارڈ ٹوڈونفیل شامل ہیں۔

    اس خط کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ نے لکھا کہ ہمیں پاکستانی حکام کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اگرچہ پاکستان کا عدالتی نظام داخلی معاملہ ہے لیکن ہم بہت واضح رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اور بنیادی انسانی آزادیوں کے احترام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیں، جس میں منصفانہ ٹرائل کا حق، مناسب طریقہ کار اور حراست جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کا اطلاق عمران خان پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان کے تمام شہریوں پر ہوتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی نے جواب میں لکھا کہ آپ کی طرح میں بھی اظہار رائے اور شخصی آزادیوں پر پابندیوں کے بارے میں فکرمند ہوں، برطانوی حکومت پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے رابطوں میں اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ سنسرشپ، ڈرانے دھمکانے یا غیر ضروری پابندیوں کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی جمہوریت میں انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، ایف سی ڈی او (فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس) کے وزیر برائے پاکستان فالکنر نے پاکستان کے وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کے سامنے شہری اور سیاسی حقوق کو مدنظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر فالکنر اس سال کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں اور میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ واپسی پر آپ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کا انتظام کریں، جہاں تک پاکستان کی آئینی ترامیم کا تعلق ہے تو ہمارے علم میں ہے کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اکتوبر میں منظور کی تھیں اگرچہ پاکستان کے آئین میں کوئی بھی ترمیم پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن ہم واضح رہے ہیں کہ ایک آزاد عدلیہ، جو دیگر ریاستی اداروں پر چیک اور بیلنس رکھنے کا اختیار رکھتی ہو ، ایک فعال جمہوریت کے لیے اہم ہے، اس حوالے سے برطانیہ اپنے مشترکہ مفادات کے دائرے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

  • خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    ڈی آئی خان: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کا گھمبیر مسئلہ لا اینڈ آڈر ہے اور صوبائی حکومت امن وامان کے حوالے سے مکمل ناکام ہے-

    باغی ٹی وی: ڈیرہ اسماعیل خان کے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایسے عمل سے ان کا بانی رہنما رہا ہو جائے گا، جلسے جلوسوں سے کوئی قیدی رہا نہیں ہوتے-

    انہوں نے کہا کہ کے پی کی عوام اور ان کے وسائل احتجاج و جلسوں میں استعمال ہورہے ہیں، صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں میں تنخوا ہیں نہیں دی جا ر ہیں، کے پی میں روز فوجی جوانوں کےجنازے اٹھا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فوج صوبے سے نکل جا ئے،وزیراعلی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی، انتظامیہ لا اینڈ کا نفاذ میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، پاراچنار میں ایک ماہ سے روڈ بند ہیں اور حکومت مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس پر مکمل اعتماد ہے لیکن جو سہولت فوج کے پاس ہے وہ پولیس کے پاس نہیں، دلیل اور دلائل سے وفاق سے پیسے لیں، بدمعاشی سے صوبے کو کچھ نہیں ملنے والا، ڈی آئی خان میں جلد بلاول بھٹو لفٹ کینال کا افتتاح کریں گے جس سے سبز انقلاب آئے گا، کوشش ہے دہشت گردی کا مقابلہ منصوبہ بندی کے ساتھ کریں۔

  • 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،عطا تارڑ

    9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،عطا تارڑ

    لاہور:وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایک جماعت نے منظم سازش کے ذریعے 9 مئی کے حملے کیے، تحریک انتشار کے سرکردہ رہنما 9 مئی کے حملوں میں ملوث تھے اور پی ٹی آئی عہدیداروں کو 9 مئی کے لیے ہدایات دی گئیں۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے لاہور میں سانحہ 9 مئی اور سی سی ٹی وی شواہد سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، تحریک انتشار کے لوگ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی رٹ لگاتے رہے کہ ہمارے لوگ نہیں تھے ایک جماعت نے منظم سازش کے ذریعے 9 مئی کے حملے کیے، تحریک انتشار کے سرکردہ رہنما 9 مئی کے حملوں میں ملوث تھے اور پی ٹی آئی عہدیداروں کو 9 مئی کے لیے ہدایات دی گئیں۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے حساس تنصیبات پر حملے کیے، شہدا کی یادگاریں مسمار کیں، 9 مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنماﺅں کی ویڈیوز موجود ہیں گوجرانوالہ، راولپنڈی، پشاور کی سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے صاف ظاہر ہے کہ 9 مئی کے سانحے میں پی ٹی آئی کے لوگ ملوث تھے۔

    انہوں نے کہا کہ کیا بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے حواری قوم سے معافی مانگیں گے قومی تشخص اور دفاعی تنصیبات کو جو نقصان پہنچایا گیا، کیا یہ اس کا خمیازہ بھگتنے کو تیار ہیں، میرا مطالبہ ہے کہ 9 مئی کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی مکروہ حرکت نہ کر سکے۔

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور تمام ریکارڈ محفوظ ہے، اسے بدلا نہیں جا سکتا، ان لوگوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، انہوں نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے تمام شواہد قوم کے سامنے لے آئے ہیں، تحریک انتشار قوم سے معافی مانگے، 9 مئی کے زیر التوا کیسز کا جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہیے، ان ملزمان نے دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا لہٰذا انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے،یہ آج بھی اسی مائنڈ سیٹ پر عمل پیرا ہیں، یہ آج بیرونی مداخلت کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔