Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں؟ عوام کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں انکی نشاندہی کریں؟ یہ بھی بتائیں کونسی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نیب ترامیم کیخلاف درخواست زیر سماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ایک ہائیکورٹ نہیں پورے ملک پر ہوگا، نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں،درخواستیں شاید مختلف ہائیکورٹس میں بھی آ جائیں، ابھی تک کسی اور ہائیکورٹ میں درخواست نہیں آئی، احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بے نامی دار ایشو پر بھی وضاحت کریں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث کو تجویز دی اور کہا کہ اگر آپ اپنی گزارشات کا مختصر چارٹ بنالیں تو بہتر رہے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو آپکی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام اور آئین دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے، عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کی بنیادی جزو ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ختم کیا گیا نیب قانون بحال کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئین کی اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں، چیک اینڈ بیلنس ہونا جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے، کرپشن یہ ہے کہ آپ غیر قانونی کام کریں اور اس کا کسی کو فائدہ پہنچائیں، کرپشن بنیادی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور خزانے کو نقصان پہنچانا ہے، اگر کہیں ڈیم بن رہا ہو اور کوئی لابی اسکی مخالفت کرے وہ قومی اثاثے کی مخالفت ہوگی، سابق جج مظہر عالم کہتے رہے ڈی آئی خان کو ڈیم کی ضرورت ہے،احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ترمیم اگر مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے تو وہ بتائیں،کیا آپ چاہتے ہیں عدالت پارلیمنٹ کو قانون میں بہتری کا کہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے،کئی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے برعکس کے ہیں، پارلیمان کا اختیار ہے کہ مکمل آئین بھی تبدیل کر سکتی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی،نئی نیب ترامیم کا بھی 1985 سے نفاز کردیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ترمیم سے تمام زیر التوا مقدمات انکوائریز پر فرق پڑتا ہے،جن کو سزا ہو چکی ہے ان پر ترمیم کا کیا فرق پڑے گا ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیم کی ذریعے ملزم کو اثاثے ٹرانسفر کرنے کا اختیار دیدیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نیب ملزم کے اثاثے عدالت سے منجمد کرا دیتا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ اب قانونی اجازت کو ترامیم سے نیب قانون سے حذف کردیا گیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں ایک ثبوت آ گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا باہر سے دوبارہ ثبوت لائے،خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کیا اعتراض ہے،

    خواجہ حارث نے کہاکہ نیب قانون میں ترامیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،یہ ترمیم بھی شامل ہے جو پلی بارگین کریں وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بن سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پلی بارگین کرنے والے کا وعدہ معاف گواہ بنایا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کئی نیب ترامیم سے جرم کو ثابت کرنا مشکل بنادیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملہ پر عدالتی اختیار تب شروع ہوگا جب وہ غیر آئینی ہو،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ترامیم کے تحت ریلیف کو درخواست پر فیصلے سے مشروط کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریلیف کے حوالے سے کوئی بہت ایمرجنسی ہے اس حوالے سے بتائیں، یہ بھی بتائیں کیا بہت زیادہ زیر التوا مقدمات ترامیم سے متاثر ہونگے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ حکم امتناعہ نہیں مانگ رہا لیکن ترامیم کے تحت ملنے والا ریلیف مشروط کیا جائے،عدالت نے ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت عدالت نے اپنا کام کرنا ہے،اپنے حلف کے تحت شفاف انداز میں کام جاری رکھیں گے،جمعہ پرامن ہوتا ہے اس لیے آئندہ جمعہ کو دوبارہ سماعت کرینگے،عام دنوں میں تو شام کو بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رات 9 بجے تک بیٹھتے ہیں کبھی آپکو بھی زحمت دینگے، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کریں ،ہمیں خوشی ہے کہ آپ تیاری کرکے آئے ہیں، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دن پہلے عدالت کی معاونت کی تھی جب کچھ لوگ چلے گئے تھے،

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • پی ٹی آئی کا مطلب ہے پاکستان تحریک انتشار،مرتضیٰ وہاب کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کا مطلب ہے پاکستان تحریک انتشار،مرتضیٰ وہاب کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا مطلب ہے پاکستان تحریک انتشار یا اشتعال ہے

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آئین کے الفاظ غیر مبہم ہوں تو اس میں تشریح کی گنجائش نہیں ہوتی، عمران خان نہ ایم پی اے ہیں نہ پارلیمانی لیڈر ، عدالتی ہدایت پر اراکین کو ڈی سیٹ کر چکے، میں نے ڈپٹی اسپیکر کو سنا انہوں نے خط بھی دکھایا اور کہا فون پر بھی بات ہوئی،یہ نہیں ہوسکتا جو اچھا نہ لگے اس کے خلاف بات کی جائے، پی ٹی آئی نے اتنی الزام تراشی کی جس کی مثال پاکستان میں نہیں ملتیپی ٹی آئی نے ہر قول و فعل سے افراتفری اورڈرانے کی کوشش کی،

    دوسری جانب وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان معاشرے میں پرتشدد انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں،عمران خان نے 4سال میں 50ہزار ارب روپے قرضہ لیکر معیشت ڈبو دی 70سال میں کسی حکومت نے اتنا قرض نہیں لیا جتنا عمران خان نے اپنے دور میں لیاعمران خان نااہلی کی وجہ سے ملک کو دیوالیہ کی طر ف لے گئے،

    وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حق میں فیصلہ نہ آنے پر عمرا ن خان اداروں پر چڑھائی کررہے ہیں، سوال یہ ہے کہ پیسوں کا الزام لگانے والے اب معذرت کریں گے یا نہیں،اب جن لوگوں نے قیادت کے فیصلے کے باوجود بات نہیں مانی وہ ڈی سیٹ ہوں گے، ادارے پارلیمان سے جنم لیتے ہیں، اداروں سے ہمیں فیصلے نہیں کرانے چاہیے،ہمیں اپنے فیصلے پارلیمان میں کرنے چاہیے، اگر کوئی متنازعہ فیصلہ آیا تو حالات مزید کشیدہ ہوں گے،پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ 5 رکنی بینچ ہونا چاہیے تھا،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

  • آزاد کشمیر میں بھی آئیگی تبدیلی،سردارتنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کا فیصلہ ہو گیا

    آزاد کشمیر میں بھی آئیگی تبدیلی،سردارتنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کا فیصلہ ہو گیا

    آزاد کشمیر میں بھی آئیگی تبدیلی،سردارتنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کا فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے خلاف عید کے بعد تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی

    باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے، تحریک انصاف کے 9 اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے جائے گی تو وہ ن لیگ کا ساتھ دیں گے، ن لیگ کی قیادت نے حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ عید کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی اور آزاد کشمیر سے بھی تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ کیا جائے گا،

    سردار تنویر الیاس وزیراعظم آزاد کشمیر ہیں، انہیں عمران خان کا اے ٹی ایم بھی کہا جاتا ہے، سردار تنویر الیاس عبد القیوم نیازی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروا کر وزیراعظم بنے تھے، اب ن لیگ سمیت اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عید کے بعد آزاد کشمیر میں بھی تبدیلی لائی جائے گی،اور اس میں اہم کردار پی ٹی آئی کے اراکین کا ہی ہو گا، باغی ٹی وی کے باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین نے ن لیگی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں بھر پور یقین دہانی کروائی ہے کہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لئے وہ انکے ساتھ ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس عمران خان کے قریب ہیں لیکن آزاد کشمیر کے اراکین اسمبلی سے دور ہیں، اس وجہ سے اراکین اسمبلی نالاں ہیں کیونکہ انکے کاموں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی،

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جو کامیاب ہو چکی ہے اور شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں پنجاب میں وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد جمع ہوئی تو عثمان بزدار نے استعفی دے دیا ا اور حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن گئے، اسد قیصر اور قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا،

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے بغیر ہم ان کو شکست دیں گے،عمران خان

    ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے بغیر ہم ان کو شکست دیں گے،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 5 جولائی کو مارشل لا لگاکر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی گئی ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے خوش نہیں تھا، امریکہ خوش نہیں تھا کہ پاکستان ایک آزاد خارجہ پالیسی بنائے،ذوالفقارعلی بھٹو بھی پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی کی طرف لے جا رہے تھے، آج وہ لوگ مسلط کیے گئے ہیں جن پر اربوں روپے کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں، نوازشریف کی کرپشن پر فلمیں بنی ہوئی ہیں،ان کا صرف ایک مقصد تھا کسی طرح این آر او مل جائے، ہماری حکومت میں معیشت بہتری کی طرف جارہی تھی، ہمارے دور میں ٹیکس کلیکشن میں ریکارڈ اضافہ ہورہا تھا ,آج اس حکومت نے مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں،ان لوگوں نے ہماری حکومت گرانے کے لیے این آر او حاصل کیا،ہمارے دور میں آئی ٹی کے شعبے میں ریکارڈ ترقی ہوئی،سازش کرنے والوں کو عوام قبول نہیں کریں گے آج سوشل میڈیا کا دور ہے کوئی بھی خبر نہیں روکی جاسکتی، ان لوگوں کو موقع ملے تو اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیں یہ امریکہ کو اڈے بھی دیں گے،اورکسی نئی امریکی جنگ میں پڑجائیں گے ،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور لبرٹی چوک پر لوگوں پر شیلنگ کی گئی،مجھے سب پتہ ہے کس نے کیا کیا ہے ،ایک ویڈیو بناکر محفوظ جگہ پررکھی ہوئی،مجھے کچھ ہوا تو قوم کو بتائیں گے کہ ذمہ دار کون ہے حمزہ شہباز کا فیصلہ کیوں جلدی نہیں ہوا،کیا حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بننے کے اہل ہے؟ سندھ بلدیاتی انتخابات میں 15 فیصد امیدواروں نے ڈر کی وجہ سے حصہ نہیں لیا،30 سال سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ اقتدار میں ہیں،پیپلزپارٹی اورن لیگ کی وجہ سے آج بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا ،پنجاب کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے باوجود حکومت کو شکست دینی ہے، شہبازشریف اور حمزہ پر 16 ارب روپے کرپشن کے کیسز ہیں وہ آزاد گھوم رہے ہیں،مریم نواز نے کہا کہ لندن تو کیا پاکستان میں میری کوئی جائیداد نہیں، لندن کے سب سے مہنگے علاقوں میں چار چار فلیٹ مریم کے نام پر ہیں لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں چارچار فلیٹ مریم کے نام پر ہیں، ان لوگوں نے ایف آئی اے اور نیب کو تباہ کردیاہے،پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کو تباہ کردیا گیا ہے،پنجاب کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے بغیر ہم ان کو شکست دیں گے،

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

  • عامر لیاقت کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر تحریک انصاف کے امیدوار کا اعلان

    عامر لیاقت کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر تحریک انصاف کے امیدوار کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عامر لیاقت کی سیٹ پر تحریک انصاف نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے

    تحریک انصاف نے محمود مولوی کو این اے 245 کے لیے امیدوار نامزد کردیا، تحریک انصاف کے رہنما علی حیدر زیدی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے ایک درخواست کرنا چاہتے ہیں،سندھ بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کے بعد تقرر وتبادلے ہوئے حیدرآباد میں من پسند پولیس والوں کی تقرر تبادلے کیے گئے،الیکشن کو 20دن باقی ہیں اور آج سندھ کے آراو کو تبدیل کر دیا گیا،سپریم کورٹ سے گزارش ہے پنجاب کی طرح سندھ کیلئے بھی ہدایت دے، الیکشن کمیشن کو خط لکھیں گے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے،پتہ چلا ہے کہ خیر پور سے کوئی راؤ صاحب آ رہے ہیں، تحریک انصاف اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، سندھ والے سیاست کرنے پنجاب نہیں جا سکتے اور ن لیگ یہاں سیاست نہیں کر سکتی، ہماری واحد جماعت ہے جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے،تحریک انصاف این اے 245 کے انتخاب میں حصہ لے گی ایم کیو ایم بھی کراچی کے اندر کی جماعت بن کر رہ گئی ہے،

    این اے 245 کراچی ضمنی انتخابات میں جے یوآئی نے بزنس فورم کے صوبائی صدر حاجی امین اللہ کو ٹکٹ جاری کردیا ، جے یو آئی بھی الیکشن میں حصہ لے گی

    این اے 245 کے الیکشن کے حوالہ سے الیکشن شیڈول کے مطابق نظر ثانی شدہ لسٹ 5 جولائی کو شائع کی جائے گی اور امیدواروں کو 7 جولائی کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے،الیکشن 27 جولائی 2022 کو ہوں گے۔

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ہیں

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • کچھ چیزیں سامنےرکھنا چاہتےہیں مگرعمران خان سے ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا:حامد خان

    کچھ چیزیں سامنےرکھنا چاہتےہیں مگرعمران خان سے ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا:حامد خان

    لاہور:کچھ چیزیں سامنے رکھنا چاہتےہیں مگرعمران خان سے ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے سینئرز کارکنوں کی میٹنگ بانی رہنما حامد خان صاحب کے ساتھ ان کے آفس میں ہوئی۔ جس میں انہیں بتایا گیا کہ پارٹی میں موجود ایک ایسا طبقہ جو کہ پارٹی چیئرمین عمران خان صاحب کو اصل حقیقت سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔

     

    عمران خان چوروں کو نہیں چھوڑے گا

    امریکی صدر کی عمران خان کو دورہ امریکہ کی دعوت

    حامد خان صاحب نے تمام دوستوں کو بڑی تسلی سے سنا اور اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کے لئے جو کچھ بھی مجھ سے ہو سکا کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔ انشاء اللہ اچھا وقت آئے گا۔ تحریک انصاف ہماری پارٹی ہے ۔ہم اس کی بہتری کے لئے عمران خان صاحب کی قیادت میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ آخر میں سب دوستوں کی رائے سے طے پایا ضمنی انتخابات کے بعد پنجاب کا ورکرز کنونشن رکھا جائے گا۔ جو اضلاع کل کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے عید کے بعد ایک اور میٹنگ رکھی جائے گی۔ جن میں ان کو دعوت دی جائے گی۔

     

    حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    میٹنگ میں لاہور سے مظہر ساہی، محمد خان مدنی، سلمان ظفر، خرم جوئیہ، جمیل شاہ، عامر سیموئل وقار طور ایڈووکیٹ، فیصل آباد سے سجاد حیدر،میاں طیب، عطاء اللہ نیازی،فرحت عباس،زولفقار علی سن پال،رانا عبداغفار، ساہیوال سے شفیق خاں، پاکپتن سے ریاض ارشد نیازی،ریاض احمد،گوجرانوالہ سے رانا ناصر محمود،گجرات سے میجر خلیل الرحمٰن،صہیب، نارووال سے رانا لال بادشاہ،شیخوپورہ سے راشدمنیر، سرگودھا سے ملک سجاد حیدر، آخر میں سب دوستوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔

    عید کے بعد ورکرز کنونشن کروانے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے میٹنگ رکھی جائے گی۔ اس کے لئے نو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ریاض ارشد نیازی، میجر خلیل الرحمٰن، محمد خان مدنی، راشد منیر ایڈووکیٹ ،میاں طیب ایڈووکیٹ، بشارت ڈوگر، رانا ناصر محمود،عامر سیموئل،وقار طور ایڈووکیٹ شامل ہوں گے

  • سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے مسلح گارڈر نے راولپنڈی میں صحافیوں کو زدوکوب کیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا ہے

    واقعہ گزشتہ شب مویشی منڈی میں پیش آیا، قاسم سوری کے گارڈ نے نجی ٹی وی جی این این کے رپورٹر کو سوال پوچھنے کی کوشش پر تشدد کا نشانہ بنایا، صحافی کو تھپڑ مارے گئے، قاسم سوری کے واقعہ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی جا رہی ہے،صحافتی تنظیموں نے بھی واقعہ پر احتجاج کیا ہے،

    نیشنل پریس کلب نے راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قاسم سوری کے مسلح گارڈز کا قاسم سوری پر تشدد قابل مذمت فعل ہے، ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے، نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ایسے واقعات کو روکا جائے،

    آر آئی یو جے نے بھی راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت نوٹس لے اور واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے،

    صحافی مطیع اللہ جان نے اس حملہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ: "انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے لہذا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو سوری بولناُچاہئیے اس میڈیا ورکر سے”

    قاسم خان سوری سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، قاسم خان سوری کی نااہلی کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، قاسم خان سوری این اے 265 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے، الیکشن ٹربیونل کی سربراہی جسٹس عبداللہ بلوچ نے کی تھی اور الیکشن ٹربیونل نے این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد قاسم سوری نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر دے دیا ،اسکے بعد ابھی تک سماعت نہیں ہوئی،

    قاسم سوری سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی تنقید کرتے نظر آئے ہیں، ٹویٹر پر عمران خان کی حکومت جانے کے بعد قاسم سوری نے ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں قاسم سوری ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ انڈیا کا پاکستانی حدود میں سوپر سانک کروز میزائل ’براہموس‘ پاکستانی ریڈار سے کیسے بچ نکلا؟
    اس سوال کا موثر جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے، #وہ_کون_تھا کہ جس نے براہموس نہ گرا سکنے کا غصہ حکومت پاکستان گرا کر لے لیا؟

    https://twitter.com/QasimKhanSuri/status/1537631670169378822

    قاسم خان سوری کے گارڈز کی جانب سے صحافی پر تشدد کے خلاف عوامی حلقوں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے دعویدار اب اپنی کرپشن، فرح گوگی کے کارناموں، توشہ خانہ کی گھڑیوں کے بارے میں سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے، قاسم سوری خود ایک سٹے پر رکن اسمبلی رہے، حلقے کے عوام بھی ان سے ناخوش ہیں کیونکہ قاسم سوری نے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کروائے

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

    ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ‏اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، ‏قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، مطمئن کریں کی 4 ججز کا دیا وقت مناسب نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن تک کیا صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے، سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں،‏مزید سماعت 2.45 تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں، ہم آپکو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں،ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت زیادہ زیادہ نہیں دیا گیا،زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا،بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں،کیا یہ بات درست ہے؟ چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بات اس طرح نہیں، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے،وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے، آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے،آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی،آپ کی طرف سے آنے والی سفارش پر ہمیں لگا کہ آپ اس پر سوچیں، آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی صاف شفاف الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہو وہ وزیر اعلی ٰبن جائے گا،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں ہاوس 17تاریخ تک مکمل ہوگا،اس وقت تک ساراعمل مکمل ہو جائے تو ہمارا کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں ،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا،پرویز الہیٰ نے کہاکہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب،

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے، آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، انہوں نے اپنے بندوں کو کیوں نہیں روکا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو پرویز الہٰی کی تجویز منظور نہیں،آج جو 4 بجے اجلاس ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ4 بج چکے ہیں،اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17 تک دونوں فریقیں راضی ہیں کہ الیکشن نہ ہو ، حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ہم گورنر کو ہدایت کرسکتے ہیں کہ وہ نظام چلانے کے اقدامات کرے اگر ہم مزید وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے،حمزہ شہباز نے کہا کہ اس کا بہتر حل ہے کہ آج رات12بجے تک الیکشن کرائے جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایک مناسب وقت دیا ہے،اب جو وقفہ آیا ہے اس کے لیے وقت دینا چاہیے،حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ معاملہ اسی فورم پر حل ہونا ہے عدالت جو فیصلہ دے،

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارے آنے کا سبب یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش ہوئے ہیں،17 جولائی کے بعد تک کا وقت مل جائے تو بہتر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق یہ الیکشن فوری ہو، ہائوس پورا ہو یا پھرابھی،ہمیں 17 تک کا وقت دینا مناسب نہیں لگتا ،اگر حمزہ شہباز یہ کہیں کہ 17 کو الیکشن کرائیں لیکن اس دوران حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر حل نکالنا نہیں چاہتے، وہ رن آف الیکشن کی بات کررہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے 17 تک وزیر اعلی رہنے دیں،ہم آپ کو کچھ وقت دیتے ہیں اس پر عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن کرائیں،پرویز صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں کہ حمزہ شہباز کو17 تک وزیر اعلی مانیں یا پھر اس سے پہلے جو وقت دیتے ہیں تو اس دوران الیکشن کرائیں،پرویز الہیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان کو 17تک وزیر اعلی مانتے ہیں تو اس سے پہلے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں اور پکڑ دھکڑ نہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حکم دینگے کہ کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو،الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں اس وقت کہ کمپرومائیز نہ ہو،آپ دونوں بیٹھ جائیں اس کا کوئی قانونی حل نکالتے ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ حمزہ شہباز17 تاریخ تک قائم مقام وزیر اعلی رہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہاں پنجاب اسیمبلی والوں کا موقف الگ یے بابر اعوان آپ کا موقف کیوں الگ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے سیاست میں کوئی اختلاف نہ رہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل چلتا رہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا کا موقف اپنے امیدوار سے الگ کیوں ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں وہاں اکثریت میں ہیں، درخواست گزار اپوزیشن لیڈر ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میاں محمود الرشید کا مشورہ عدالت کے سامنے رکھا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی پارٹی کی نہیں ایک انفرادی شخص کی درخواست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وقت دیں تب تک وزیر اعلی کو ہٹا دیں بابر اعوان صاحب ہم آئینی بحران نہیں پیدا کرنا چاہتے،اگر دو دن کا وقت دیتے ہیں تو نظام حکومت کون چلائے گا ،بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم حمزہ شہباز شریف کو عبوری طور پر وزیر اعلی نہیں مانیں گے، بابر اعوان نے پرویز الہی کے موقف کی عدالت میں تردید کردی۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف سامنے رکھنا چاہتے ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار آپ نے کہا کہ 17جولائی تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور 7 دن کا وقت مانگا،بابر اعوان نے کہا کہ سوال ہے کہ ہمیں مزید وقت چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے کہا کہ لگتا ہے آپ نےآئین کا آرٹیکل 130 مکمل نہیں پڑھا، اس کو پڑھیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اور آپکے امیدوار کا موقف ایک جیسا نہیں ہے تو عدالت کیا کرے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ باقی عدالت جو حکم دیگی وہ ہم مانیں گے،اس بحران سے نکلنے کےلئے کچھ وضاحت آپ نے کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں آئینی معاملہ ہے، اس کوحل کرنا ہے اس کو مزید خراب نہیں کرنا، بابر اعوان نے کہا کہ آئین کی ایک شق ہے جو 187/1 ہے ، عدالت نے کہا کہ آئین کی شق 187/1 کو ایسے ہی استعمال نہیں کرسکتے ،اب ساڑھے چار بج چکے ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ آپکا شکریہ جو آپ ہمیں سن رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکریہ ادا نہ کریں یہ ہمارا کام ہے، اگر دوبارہ پول کی اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت دینا ہوگا،وزیر اعلی کے الیکشن میں پہلی بار ایسی صورتحال ہوئی ہے،اب نکتہ یہ ہے کہ اگر وزہر اعلی کو ہٹا دیتے ہیں تو اس کا حل نکالنا ہوگا، ہوسکتا ہے چند دنوں میں اس کا حل نکل آئے لیکن20 دن نہیں دے سکتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو ہم آرڈر پاس کردیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیئر سیاستدان اس کا حل نکالیں،وکیل پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم نے کورٹ میں مشاورت کی ہے اسپیکر کے ساتھ کہ 17جولائی کے بعد کا وقت دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کی درخواست ہی نہیں اس لئے آپ کو کیوں سنیں،بابر اعوان نے کہا کہ ہمیں مزید دس منٹ دیں پارٹی لیڈر سے بات کرنا چاہتا ہوں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان آپ کو ہم دو سے تین دن دینگے اس قانون میں بھی جواز ہے،پرویز الہی آپ بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ بتائیں ،

    دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم اس نکتے پر راضی ہیں کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھیں،اس بات پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اتفاق ہوا ہے، پرویز الہیٰ نے کہا کہ اسپیکر ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کو لیڈر آف اپوزیشن مانا اور ان کی رہائی کے آرڈر جاری کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس نکتے پر راضی ہونا اچھی بات ہے،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دونوں فریقین راضی ہو گئے ہیں، بابر اعوان آپ بتائیں کیا بات ہوئی؟ بابر اعوان نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر کے ساتھ پنجاب میں پارلیمانی لیڈر اور امیدوار سے بھی بات ہوئی،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھیں عمرن خان چاھتے ہیں عدالت آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو قانون کے مطابق عمل کی ہدایت کرے،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھے، پی ٹی آئی وکلا نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ کام حاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

    بابراعوان نے کہا کہ ااس دوران حکومت کوئی بھی فنڈز اور اختیارات استعمال نہیں کرے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈیکٹ پر سختی سے عمل در آمد کرے، آپ کو آپریشنل صورتحال پر اعتراض ہے کہ تنگ نہ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا حکم دے گی جو سب کو قبول ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ وہاں سب کو بلاکر بٹھایا جارہا ہے، اس صورتحال کو عدالت دیکھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ دوبارہ ہمارے پاس آئیں،بابر اعوان نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں نہیں آنا چاہتے لیکن دوسرے کیسز میں آئیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ارادہ ہے کہ انتخابات میں کسی کو ہراساں اور دھاندلی کریں؟ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی کو ہراساں اور دھاندلی نہیں کرینگے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جی میں بالکل ایسا نہیں کروں گا،

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ حمزہ شہباز سے متعلق 13 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری ہوا،آپ ہمیں عدالتوں میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم عدالت میں آتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق ہیں۔ہم ایسا آرڈرجاری کرینگے الیکشن صاف اور شفاف ہوں اور عزت اور تکریم رہے، مختصر حکمنامہ آج رات تک جاری کردینگے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئ ہے، امید ہے سپریم کورٹ اس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی سماعت کرے گی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس روک دیا جائے گا

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی سماعت کی جائے،وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہونے والے الیکشن کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں پنجاب حکومت اورڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں حمزہ شہباز،پرنسپل سیکریٹری گورنر اورسیکریٹری اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دیا جائے تاکہ دوردراز کے ممبرز پہنچ سکیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیے دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے جمعہ کو 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئی ایاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

  • ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے اسلام آباد میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہمارے دور میں مہنگائی کا شور کررہے تھے خود اقتدار میں آتے ہی مہنگائی کردی ہے.

    عمران خان نے دعوی کیا کہ دو جولائی کو اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، اور ساتھ ہی کارکنان کو کہا کہ آپ نے ڈور ٹو ڈور جانا ہے اور جلسہ میں شرکت کیلئے عوام سے درخواست کرنی ہے انہوں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ملزم ہے وہ کبھی قاضی نہیں بن سکتا کیونکہ چور کبھی بھی اپنا احتساب نہیں کرسکتا ہے اور امریکہ نے یہ جو لوگ ہم پر سازش کے ذریعے نازل کیئے یہ مانے ہوئے کرپٹ لوگ ہیں اور ان غداروں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک متخب حکومت کوختم کیا تاکہ یہ لوگ جو مسلسل تیس سال سے چوری کررہے ہیں اس کو جاری رکھ سکیں.

    انہوں نے ورکز کو بتایا کہ امریکہ کے غلاموں کی اس حکومت نے آتے ہی ناصرف مہنگائی کی بلکہ نیب کو ختم کیا، ایف آئی اے کو اپنے ماتحت کیا اور اپنے اوپر بنائے گئے سارے کیسز ختم کروائے، گیارہ سو ارب کے کرپشن کے کیسز انہوں نے ختم کیئے نیب ترامیم کرکے تاکہ یہ اپنی کرپشن کا تحفظ کرسکیں.

    عمران خان نے کہا کہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی محض دو ماہ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی ان کے دور میں ہوئی ہے. اور اس سے عام آدمی کے اوپر شدید ترین بوجھ پڑا کیونکہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس سب مہنگا کردیا، اور پھر ضروری اشیاء خوردونوش آٹا، گھی، حتکہ چاول کو بھی دگنا مہنگا کردیا.

    ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی آسمان پر اور معیشت زمین پر آگئی، اور ہمارا روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے تیس روپے اور گر گیا ہے، لیکن بات صرف اتنی نہیں بلکہ اور مہنگائی آنی ابھی باقی ہے.

    سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ پاکستان کی معاشی سروے کہتی ہے کہ سترہ سال میں جو بہترین پرفامنس تھی وہ ہمارے آخری دو سالوں میں تھی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کاپریشر تھالیکن ڈھائی سال مہنگائی روکے رکھی، امپورٹڈ حکومت نے ایک طرف مہنگائی مسلط کردی،وہ بوجھ ڈالا،بجلی ،گیس،پیٹرول ،ڈیزل سب مہنگا ہوگیا، ڈالر30روپےاور مہنگا ہوگیا،ڈیزل، پیٹرول،گیس اور مہنگی ہونگی۔

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب مشکل وقت آتاہے توڈیزل عمرہ کرنےچلا جاتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر دور میں یزید آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، کوفے والوں کو پتہ تھا کہ امام حسین ؑ حق پر تھے مگر یزیدی خوف کے باعث انہوں نے مدد نہ کی ہمارے ملک کےساتھ جو ظلم ہورہاہےاس کےخلاف سارےپاکستانی آواز بلند کریں۔

  • تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست
    سپریم کورٹ میں‌ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کیخلاف ایک اور درخواست دائرکی گئی ہے

    درخواست میں عمران خان،فواد چودھری،شیریں مزاری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،الیکشن کمیشن،پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو بھی فریق بنایا گیا ہے ،دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کو اداروں کیخلاف بیان بازی سے روکا جائے،اقتدار جانے کے ساتھ ہی عمران خان نے ملک کو کمزور کرنے کی تحریک شروع کی پی ٹی آئی رہنما عدلیہ،فوج اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر اداروں پر الزامات لگا رہے ہیں تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں ملکی ادارے کمزور ہوں گے تو بیرونی سازشیں کامیاب ہوسکتی ہیں،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے عدلیہ ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات جاری ہیں اپنی تقاریر میں عمران خان نے فوج کو سیاست میں شامل ہونے اور ان کا ساتھ دینے کا کہا سپریم کورٹ عمران خان کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن تشکیل دے جو ا ن بیانات کا جائزہ لے کر ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لے عدالت عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کو قومی اداروں کے خلاف بیانات دینے اور میڈیا پر نشر کرنے سے روکنے کے احکامات دے

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے تب سے وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس میں پراجمان ہونے کے لئے بیتاب ہیں، عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے جا نہیں رہے تھے گئے تو پھر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان اب بنی گالہ کو ہی وزیراعظم ہاؤس کا نام دے دیں کیونکہ ان حالات میں عمران خان نے کرسی جانے کے بعد اداروں پر تنقید کی، عسکری قیادت پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ چلائے اور تنقید کی، اپنی کرپشن چھپانے کے لئے ،جیل سے بچنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے عمران خان اتنے بہادر ہیں کہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد چھوڑ دیا اور گرفتاری کے خوف کی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں چھپ کر بیٹھ گئے، اسکے بعد لانگ مارچ کرنے آئے تو پھر گرفتاری کے خوف سے ہی واپس چلے گئے، اسکے بعد اب بھی گرفتاری کا اتنا خوف ہے کہ انہوں نے عدالت سے ضمانت کروائی ہے،

    فرح گوگی کی کرپشن کے چرچے عمران خان کی حکومت کے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، نیب نے بھی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، فرح گوگی کے ساتھ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی بے نقاب ہونے والے ہیں جنہوں نے حکومت میں رہ کر کرپشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا،