Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی طور پر قید کیا گیا ہے۔

    جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے صوابدیدی حراست سے متعلق ورکنگ گروپ کاکہنا ہے کہ مناسب یہ ہوگا کہ مسٹر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق معاوضے دیئے جائیں، انکی حراست کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے،عمران خان کی قانونی پریشانیاں، اُن کے اور تحریک انصاف کے خلاف جبر و زیادتی کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے،2024 کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی پارٹی کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی سیاسی ریلیوں کو روکا گیا،ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمران خان کی حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد انہیں سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دینا تھا عمران خان کے خلاف کارروائیاں شروع سے ہی قانون کی بنیاد پر نہیں تھیں اور مبینہ طور پر ان کارروائیوں کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن میں بڑے پیمانے میں فراڈ ہوا اور درجنوں پارلیمانی نشستیں چوری کی گئیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ورکنگ گروپ نے عمران خان کے خلاف مقدموں میں کئی قانونی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا اور یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تھا تا ہم حکومت نے کسی قسم کو کوئی جواب نہیں دیا.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد ابھی تک حکومت پاکستان کا کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا،عمران خان ابھی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، 2022 کے ماہ اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا جس کے بعد سے انہوں نے پی ڈی ایم حکومت اور اداروں کے خلاف تحریک چلائی، نومئی کا واقعہ بھی ہوا جس میں پاکستان دشمنی کا کردار ادا کرتے ہوئے عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا،نومئی کے بعد پی ٹی آئی رہنما پارٹی چھوڑنے لگے، کئی گرفتار تو کوئی روپوش ہو گئے،انتخابات ہوئے تو آزاد امیدوار جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت تھی وہ جیتے جس کےبعد پی ٹی آئی کے روپوش رہنما سامنے آنے لگے،تاہم مراد سعید ابھی تک روپوش ہیں، میاں اسلم اقبال سامنے آئے تھے تا ہم پھر روپوش ہو گئے، حماد اظہر بھی سامنے آنے کے بعد پھر روپوش ہو گئے ہیں

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں تین مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سزا معطل ہو چکی ہے تا ہم گزشتہ ہفتے عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی ،

    عمران خان پر نومئی، القادر ٹرسٹ سمیت دیگر کیسز بھی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی دوران عدت کیس میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    عمران خان کی گرفتاری پر پہلے بھی کہہ چکےیہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
    اقوام متحدی ورکنگ گروپ کی عمران خان سے متعلق رپورٹ پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے معاملے پر امریکا پہلے بھی کہہ چکا یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اقوام متحدہ اپنی رائے کی وضاحت خود کر سکتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے امریکی کانگریس میں پاکستان کے انتخابات میں مداخلت کی تحقیقات کی قرار داد کے حوالہ سے بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کانگریس امریکی حکومت کی ایک علیحدہ شاخ ہے، اس کی قانون سازی پر بات نہیں کر سکتے،

  • پارٹی چھوڑنے والوں کی واپسی کیلئے عمران خان کی ہدایت پر کمیٹی قائم

    پارٹی چھوڑنے والوں کی واپسی کیلئے عمران خان کی ہدایت پر کمیٹی قائم

    سابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کی واپسی کے لئے کمیٹی بنا دی ہے

    کمیٹی کی سفارشات کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی پارٹی میں واپسی ہو گی، عمران خان کی ہدایت پر ایک سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی اڈیالہ جیل میں قید شاہ محمود قریشی کریں گے،عمران خان کی ہدایت پر قائم کردہ کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، شبلی فراز، اسد قیصر، شہر یار آفریدی، شاندانہ گلزار شامل ہیں، شاندانہ گلزار خواتین کے کیسز اور پارٹی چھوڑنے کی وجوہات پر رپورٹ دیں گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت کی رہائی تک کسی بھی رہنما کی پارٹی میں واپسی کو روک دیا گیا ہے، عمران خان کی جیل سے رہائی کے بعد ہی کسی بھی رہنما کی تحریک انصاف میں واپسی کا حتمی فیصلہ ہو گا.کمیٹی اپنی سفارشات عمران خان کو بھجوائے گی جس کے بعد وہ اپنا فیصلہ سنائیں گے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف میں ان دنوں شدید اختلافات چل رہے ہیں،عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،پی ٹی آئی میں متحرک ترین رہنما شیر افضل مروت بھی ناراض ہیں اور احتجاجی سیاست سے دور ہیں، پی ٹی آئی میں دھڑے بن چکے ہیں، فواد چودھری بھی دوبارہ واپسی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر مسلسل الزامات عائد کر رہے ہیں، حامد خان کہہ چکے ہیں کہ فواد چودھری کوو اپس نہیں لیا جائے گا،پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما بھی موجودہ سیاسی قیادت سے نالاں ہیں، شیر افضل مروت نے شبلی فراز کے استعفیٰ مطالبہ کیا ہے تو اراکین اسمبلی بھی اختلافات کا شکار ہیں، ایسے میں اب آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی مزید زوال پذیر ہو گی.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی،وکیل الیکشن کمیشن سکندر مہمند نے کہا کہ کوشش کروں گا آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لوں،پی ٹی آئی کے پارٹی ٹکٹ پر بیرسٹر گوہر کے بطور چیئرمین دستخط ہیں،ٹکٹ جاری کرتے وقت تحریک انصاف کی کوئی قانونی تنظیم نہیں تھی،پارٹی تنظیم انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے کی وجہ سے وجود نہیں رکھتی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ 22 دسمبر کو جاری شدہ ہیں، انٹراپارٹی انتخابات کیس کا فیصلہ 13 جنوری کا ہے تب تک بیرسٹر گوہر چیئرمین تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دیدیے تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اصل چیز پارٹی ٹکٹ ہے جو نہ ہونے پر امیدوار آزاد تصور ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیچ پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے جاری کردہ پارٹی ٹکٹس کی قانونی حیثیت نہیں،حامد رضاء نے 13 جنوری پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا،حامد رضاء کے کاغذات نامزدگی اور سرٹیفیکٹ میں تضاد ہے

    حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن
    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تھے اور ہیں،صاحبزادہ حامد رضا خود کو پارٹی ٹکٹ جاری کر سکتے تھے،صاحبزادہ حامد رضا نے خود کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا، حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ ان کا تعلق سنی اتحاد کونسل سے ہے جس کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہے، حامد رضا نے پی ٹی آئی کا پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے حامد رضا کے کاغذات منظور کر لئے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے بیان حلفی میں ڈیکلریشن پی ٹی آئی نظریاتی کا جمع کرایا تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے کیا ان سے وضاحت مانگی گئی تھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے درخواست دے کر شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا، ریکارڈ میں پارٹی ٹکٹ نظریاتی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی میں تضاد پر کوئی نوٹس کیا گیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسر سکروٹنی میں صرف امیدوار کی اہلیت دیکھتا ہے انتخابی نشان کا معاملہ نہیں،حامد رضا خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار قرار نہیں دینا چاہتے تھے، حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،چودہ جنوری سے سات فروری تک تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کروا سکتی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات ہوتے بھی تو کیا فرق پڑنا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان مل جاتا اور وہ انتخابات کیلئے اہل ہوجاتی،

    آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں تو انتخابی شیڈول ہی ڈسٹرب ہوجاتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اتنی خاص رعایت کس قانون کے تحت ملنی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کا معاملہ کئی سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتواء تھا، الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی انتخابات تو ہوچکے تھے معاملہ ان کی قانونی حیثیت کا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے،

    گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس سوال کا جواب دے چکا ہوں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا نہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ باپ پارٹی کو نشستیں دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا،باپ پارٹی کو نشستیں دینے کے معاملے پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک معاملے پر دو مختلف موقف کیسے لے سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باپ پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا؟ کیا ایسی کوئی پابندی ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں نشست ہو تو مخصوص سیٹیں مل سکتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ آئین و قانون کے مطابق آٹھ فروری کو پانچ عام انتخابات ہوئے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر اسمبلی کیلئے الگ عام انتخابات ہوتے ہیں، الٰیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک وکیل نے ایک کیس میں کچھ موقف اپنایا شام کو کچھ اور، مختلف موقف کا سوال ہونے پر وکیل نے کہا میں اب زیادہ سمجھدار ہوگیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اپنے نوٹ میں کچھ معلومات مانگی تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کا نوٹ میں نہیں پڑھ سکا،

    الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،بیرسٹر گوہر
    عدالت نے بیرسٹر گوہر کو روسٹرم پر بلا لیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ سے پوچھا تھا کہ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا یا نہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بطور پارٹی امیدوار اور آزاد امیدوار بھی کاغذات جمع کرائے تھے، الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،عدالتی فیصلہ رات گیارہ بجے آیا ہمیں آزاد امیدوار شام چار بجے ہی قرار دیدیا گیا تھا،ایک امیدوار ایک حلقہ کیلئے چار کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتا ہے، پارٹی ٹکٹ کے کئی خواہشمند ہوتے ہیں جسے ٹکٹ ملے وہی امیدوار تصور ہوتا ہے، الیکشن کمیشن نے عدالت سے کاغذات نامزدگی چھپائے ہیں،

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا لئے
    معاون وکیل نے کہا کہ فاروق نائیک عدالت نہیں پہنچ سکے، پیپلزپارٹی کے وکیل اور شہزاد شوکت نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا لئے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی ف الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا رہی ہے، اقلیتوں کی پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے مس پرنٹ ہوا تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اقلیتوں کے حوالے سے الگ سیکشن موجود ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے درست کام کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تو مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں کچھ اور کہہ رہے تھے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کررہے تھے۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے کے ساتھ ہیں،مسلم لیگ ن کے بیرسٹر حارث عظمت نے تحریری دلائل جمع کرا دیے.جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ امیدواروں کو آزاد قرار دینا غلط تھا تو پارٹی شمولیت کا 3 دن کا وقت دوبارہ شروع ہوگا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا۔

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک دوسرے کو جواب دیا،جسٹس منیب اختر الیکشن کمیشن کو ملبہ کسی اور جگہ گرانے کی بجائے پھر اس نقطہ پر لے آئے جس وجہ سے بلا چھینا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ذمہ داری لینے کا کہہ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بری الذمہ ہوگئے،جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو "نامناسب” کہا تو چیف جسٹس معاملہ عمران خان پر لے گئے

    الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟چیف جسٹس
    وکیل الیکشن کمیشن نے بار بار 13 جنوری بلے سے متعلق کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے، لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا،

    سپریم کورٹ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کتنا وقت لیں گے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے 45 منٹ درکار ہوں گے، سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا ۔

    عدالت نے مولوی اقبال حیدر کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے الیکشن نہیں لڑا تو آپ ہمارے لئے کوئی نہیں ہیں،اپنا کیس چلانا ہو تو کالا کوٹ نہیں پہن سکتے،

    مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، چیف جسٹس
    پنجاب اور بلوچستان حکومت نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نوٹس پر بطور ایڈووکیٹ جنرل دلائل دوں گا، متفرق درخواست میں تحریری دلائل جمع کروا چکا ہوں،الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ سے مطمئن نہیں ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کے پی کے میں انتخابات درست نہیں ہوئے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ فیصل صدیقی کے دلائل سے اتفاق کرتا ہوں، گزشتہ انتخابات میں کے پی کے میں باپ پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا،باپ پارٹی کے پاس کے پی میں کوئی جنرل نشست نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی میں تین افراد نے شمولیت اختیار کی تھی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ آزاد کی شمولیت پر الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کو مخصوص نشست دی تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی کی بلوچستان میں حکومت تھی، قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی بھی تھے، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کیلئے باقاعدہ نیا شیڈیول جاری کیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے اور اب مختلف موقف اپنایا ہے، الیکشن کمیشن آج کہتا ہے گزشتہ انتخابات میں کیا گیا ان کا فیصلہ غلط تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کے پی حکومت نے اس وقت یہ فیصلہ چیلنج کیا تھا؟ اگر چیلنج نہیں کیا تھا تو بات ختم،پی ٹی آئی کے2018 میں بھی پارٹی انتخابات نہیں ہوئے تھے، پی ٹی آئی کو 2018 میں انتخابی نشان کیسے ملا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر جائیں گے تو چیئرمین سینٹ کا انتخاب بھی کھل جائے گا،مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ باپ پارٹی نے کے پی اسمبلی کیلئے کوئی فہرست جمع نہیں کرائی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو فارمولہ الیکشن کمیشن نے پہلے اپنایا تھا اب کیوں نہیں اپنایا جا رہا،ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،اٹارنی جنرل
    ‏سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں،مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے ہی مل سکتی ہیں، خواتین کو پہلی مرتبہ سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائندگی 2002 میں ملی، سال 1990 سے 1997 تک خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کر دی گئی تھیں،17ویں ترمیم میں خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی گئیں،اسمبلیوں کی نشستیں جنرل انتخابات اور پھر مخصوص نشستوں سے مکمل کی جاتی ہیں، اسمبلیوں میں نشستوں کو مکمل کرنا ضروری ہے،آئین کا مقصد خواتین، غیر مسلمانوں کو نمائندگی دینا ہے،اگر اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،

    جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے،جسٹس شاہد وحید کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ بات آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کچھ کہتا ہے اور 94 کچھ لیکن آپ کی کوشش ہے کہ ہم 95 سے ہو کر 94 کو پڑھیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 2002 سے یہی فارمولا استعمال ہو رہا ہے ؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سال 2002 میں الیکشن ایکٹ 2017 نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا،

    آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سارا تنازع شروع ہی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنے پر ہوا،اس نکتے پر بعد میں جواب دوں گا،اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی مخصوص نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے بعد پہلا انتخاب 2018 میں ہوا تھا،آپ 2002 کی مثال دے رہے ہیں جو بہت پرانی بات ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا تعین ہوا لیکن انہیں دی نہیں گئیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے بغیر آزاد امیدوا مخصوص نشستیں نہیں مانگ سکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر سنی اتحاد والے ارکان آزاد ہیں تو ان کی مخصوص نشستوں کا تعین کیوں کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،آزاد امیدوار مقررہ وقت میں کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بن سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے حساب سے انگریزی میں لکھی بات بہت آسان ہے،اتنے دن ہوگئے آرٹیکل 51 کی تشریح کرتے ہوئے ہم مفروضوں پر کیوں چل رہے ہیں، اپنی سوچ اور نظریہ آئین پر مسلط نہیں کیا جا سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مشکلات آپ کے بنائے ہوئے رولز پیدا کر رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کاش میرا دماغ چیف جسٹس جیسا ہوتا تو پڑھتے ہی سمجھ جاتا، اتنی کتابیں اسی لئے پڑھ رہے ہیں کہ سمجھ آ جائے، کمزور ججز کو بھی ساتھ لیکر چلیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ ایسا لکھنا چاہیے کہ میٹرک کا طالبعلم بھی سمجھ جائے،آئین اور قانون ججز اور وکلاء نہیں عوام کیلئے ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں جس کا جو حق ہے اس کو ملنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر حق کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے آپ آدھا فیصلہ کر چکے، حق کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فارمولا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، جس کو الیکشن کمیشن چاہے آزادامیدوار بنا دے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آزاد امیدواروں نے چیلنج کیا؟ کیا ہمارے سامنے کوئی آزاد امیدوار آیا؟

    الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات طلب
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی سوال بڑی سیاسی جماعت کو غلط تشریح کرکے انتخابات سے باہر کرنا ہے، نشستوں کی تقسیم بعد کی چیز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن سے مانگا کیا جا رہا ہے، عدالت نے الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے آزاد امیدواروں کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے پہلے اور بعد نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات بھی طلب کر لیں.

    عدالت نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل 1:30 بجے تک سماعت کرینگے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل دلائل مکمل کر لونگا، مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل 1:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • عمر ایو ب کےساتھ کارکنان کی ہاتھا پائی،شیر افضل مروت کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا

    عمر ایو ب کےساتھ کارکنان کی ہاتھا پائی،شیر افضل مروت کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا

    تحریک انصاف نے اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب سے ہاتھا پائی کی رپورٹ تیار کی ہے جس کا ذمہ دار شیر افضل مروت کو قرار دے دیا گیا ہے

    تحریک انصاف کی جانب سے اس ضمن میں بنائی گئی رپورٹ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو دی جائے گی، تحریک انصاف نے اپنی رپورٹ میں ساری ذمہ داری شیر افضل مروت پر ڈال دی اور کہا کہ عمرایوب کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے والے شیر افضل مروت کےہامی تھی، شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تاہم عمران خان شیر افضل مروت سے جیل میں نہیں ملے جس کی وجہ سے وہ خفا ہیں اور پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں، تحریک انصاف کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ میں شیر افضل مروت کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، رپورٹ 2 جولائی کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو پیش کی جائے گی۔

    گزشتہ دنوں عدت کیس میں سزا معطلی کی اپیل مسترد ہونے پر تحریک انصاف کے کارکنان نے قیادت سے احتجاج کی کال دینے کا مطالبہ کیا تھا،تحریک انصاف کے کارکنان نے عمر ایوب کو گھیر لیا تھااور شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور وہ مشکل سے گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تھےبعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کے ساتھ بھی کارکنان نے ہاتھا پائی کی تھی.

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے،  جسٹس اطہر من اللہ

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس، جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ لکھ دیا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ بڑی جماعت کو سُپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نااہل کیا، بادی النظر میں فیصلہ کسی کو نااہل قرار دینے کیلئے نہیں تھا، عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے نکالا گیا، ووٹر کو بنیادی حق سے محروم کیا گیا، وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل کے بعد ووٹرز کی اہمیت اور حقوق پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھ گئے، انتخابی عمل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات جڑے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت سپریم کورٹ فیصلےکی تشریح کی بنیاد پر نااہل ہوئی، بادی النظر میں سپریم کورٹ فیصلے کی تشریح غلط ہوئی، سپریم کورٹ فیصلے کا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنا نہیں تھا۔

    الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ انتخابات سے قبل، دوران اور بعد میں کیا کیا شکایات تھیں؟ الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے۔یہ مخصوص نشستوں کا کیس صرف نشستوں کا نہیں، یہ اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی ووٹرز کے بنیادی آئینی حقوق کا کیس ہے،الیکشن کمیشن مطمئن کرے کہ عام انتخابات میں سب کو یکساں مواقع دے کر اپنی آئینی ذمے داری پوری کی، ‏مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ اکیلے میں محض تکنیکی نقطے نکال کر نہیں کیا جاسکتا، مخصوص نشستوں کا فیصلہ 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں کیا جاسکتا ہے، الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا سپریم کورٹ فیصلے پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں اور واضح ہیں،بادی النظر میں صورتحال غیر معمولی تھی، نااہل ہونے والی سیاسی جماعت کے امیدوار اپنی حیثیت رکھنا چاہتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دینے کا فیصلہ آر اوز پر ڈالنے کی کوشش کی، وکیل کے دلائل نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں، الیکشن کمیشن کی غلط تشریح کا اثر سیاسی جماعت، ووٹرز اور مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے پر پڑا، گورننس، پالیسیاں، قانون سازی اور عوام کا اعتماد کا انحصار انتخابی عمل پر ہوتا ہے

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

     

  • پنجاب اسمبلی کے باہر اپوزیشن نے اپنی اسمبلی لگا لی

    پنجاب اسمبلی کے باہر اپوزیشن نے اپنی اسمبلی لگا لی

    پنجاب اسمبلی کے باہر سنی اتحاد کونسل کے معطل ارکان نے دھرنا دے دیا،

    سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے اپنی ہی اسمبلی لگا لی،11 ارکان کی پنجاب اسمبلی رکنیت معطلی کے بعد سنی اتحاد کونسل نے ایسا فیصلہ کیا، پنجاب اسمبلی کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہم سب اسمبلی جائیں گے ، اگر معطل اراکین کو روکا گیا تو کوئی بھی سنی اتحاد کونسل کا رکن نہیں جائے گا.

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے پنجاب اسمبلی کے گیٹ پر لگائی گئی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، صنم جاوید، عالیہ حمزہ کے کیس لڑ رہے ہیں، حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں،مریم نواز فارم 47کی جعلی وزیر اعلیٰ ہیں،مارشل لاء اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سےوزیر اعلیٰ بنیں،ہم خان کے سپاہی ہیں،

    اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر نے 9 مئی واقعے پر قرارداد پیش کر دی، اپوزیشن نے 9 مئی واقعے پر قرارداد منظور کر لی،قرار داد کے متن کے مطابق 9 مئی کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، اسمبلی کی آج تک کی تمام کارروائی تعصب پر مبنی ہے، جوڈیشل کمیشن 9 مئی کے واقعے کا تعین کرے۔

    سنی اتحاد کونسل کے اجلاس میں سپیکر ملک احمد خان کے 11 اراکین کو معطل کرنے کے حکم کیخلاف تحریک بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی،سنی اتحاد کونسل کے اجلاس میں نواز شریف کارڈیالوجی ہسپتال کا نام تبدیل کر کے "”وزیراعلی کے پاپا چور کارڈیالوجی ہسپتال”” رکھنے کی تحریک کی بھی منظوری دی گئی،اپوزیشن رکن محمد نعیم نے سپیکرملک محمد احمد خان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ جمہوری تاریخ میں پہلا واقعہ ہوا لیڈر آف اپوزیشن کا چیمبر بند کروا دیا گیا، یہ لوگ جمہوریت نہیں شہنشائیت پر یقین رکھتے ہیں،

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ اسمبلی کے باہر قیدیوں کی وین بھی پہنچا دی گئی ہیں،آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپلیمنٹری بجٹ کی منظوری لی جائے گی اور سپلیمنٹری بجٹ کے 37 مطالبات زر پیش کیے جائیں گے

    جعلی پولیس افسر کا گھناؤنا دھندہ، لڑکیوں کو جسم فروشی پر لگا دیا

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    مساج سینٹر میں کام کرنیوالے کرنے لگے گھناؤنا دھندہ، پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

     مساج سروس تلاش کرنیوالے آدمی کو جسم فروشی کی ویب سائٹ پر بیوی اور بہن کی تصویریں نظر آ گئیں

    ٹک ٹاک سٹار بنانے کا جھانسہ، کمسن لڑکیوں کو جسم فروشی پر لگا دیا گیا

     مساج سنٹر میں جسم فروشی کا مکروہ دھندہ

    جس خاتون کو اسمبلی کے سادہ قوانین ہی معلوم نہ ہوں اس کو ملکہ عالیہ بنا کر مسلط کر دیا گیا،میاں اسلم اقبال
    تحریک انصاف کے رکن میاں اسلم اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 سے جمہوریت کو پیروں تلے روند کر وزیراعلی بننے والی محترمہ کی لفاظی اتنی ہی اصلی ہے جتنا کہ انکا اس وقت وزیراعلٰی ہونا ۔ پنجاب اسمبلی میں درست قوانین کی نشاندہی کرنے پر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی سمیت دیگر 10 ایم پی ایز کی رکنیت معطل کر دی گئی۔ شہزادی صاحبہ کو صرف یہ ناگوار گزرا کہ انکے قانون کے مطابق غلط وقت پر تقریر کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیوں کیا ۔ جس خاتون کو اسمبلی کے سادہ قوانین ہی معلوم نہ ہوں اس کو پنجاب کی عوام کے سر پر ملکہ عالیہ بنا کر مسلط کر دیا گیا ہے

  • پی ٹی آئی دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہی،انتہائی شرمناک ہے، عقیل ملک

    پی ٹی آئی دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہی،انتہائی شرمناک ہے، عقیل ملک

    مسلم لیگ ن کے رہنما ،ترجمان قانونی امور، بیرسٹر عقیل ملک نے شائستہ پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان توڑنے کی باتیں کرتی ہے, دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے, پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کرتی ہے, ڈیجیٹل دہشتگردی کرتی ہے, یہ سب کرنا پی ٹی آئی کیلئے انتہائی شرمناک بات ہے.

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ کل شائستہ نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی، ایک جماعت کا امریکا کے خلاف قرار داد پر شورشرابہ قابل افسوس تھا، امریکا کی قرارداد کے جواب میں ہماری قرارداد کی اس جماعت نے مخالفت کی،تحریک انصاف نے لابنگ اور پی آر فَرمز ہائر کر رکھی ہیں، ایک مخصوص جماعت قوم کی آنکھ میں دھول جھونکتی رہی ہے،سبز ہلالی پرچم کی حفاظت ہر پاکستان کا فرض ہے، کوئی پاکستانی ملکی سالمیت ،آزادی پر آنچ نہیں آنے دے گا،بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو زیادتیاں ہو رہی ہیں اس پر امریکا نے کبھی آواز نہیں اٹھائی، امریکا کی قرارداد کے جواب میں ہماری قرارداد کی اس جماعت نے مخالفت کی،کوئی بھی پاکستانی ملک کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دے گا،ہم محب وطن پاکستانی ہیں، ایک سیاسی جماعت اس بات پر تلی ہوئی ہے کہ وہ ملک توڑنے کی بات کرے،ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کرے، یہ کہاں کی پاکستانیت ہے، آپ کو یہ اقدام اٹھانے سے قبل شرم سے ڈوب مرنا چاہئے تھا، پاکستانی کہیں بھی ہوں پاکستان کا آئین اور پاکستانیت لاگو ہوتی ہے،ہم آزاد ملک میں رہتے ہیں،ہم کیا غلام ہیں کا سبق سکھاتے رہے اور اب کل انکا رویہ دیکھیں، قرارداد پاکستان مخالف امریکا میں پاس کروائی، کل پارلیمان نے قرارداد پاس کی اور واضح مؤقف دیا کہ کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں، یہ جماعت پہلے کیا بھاشن دیتی تھی، قوم کو ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے دو سال سے لگایا گیا تھا کل انکا چہرہ واضح ہو گیا، حقیقت سامنے آ گئی، مخصوص سیاسی جماعت نے امریکہ کے خلاف قرار داد کی مخالفت کی،قرارداد میں پاکستان کا ًمؤقف تھا جس کی انہوں نے مخالفت کی،ہم خود مختار ملک ہیں اور تمام ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات چاہتے ہیں، اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں لابنگ فرم ہائر کر کے وہاں قرارداد پاس کروائی گئی.کشمیر میں ہونے والے ظلم پر امریکا خاموش ہے،کئی دہائیوں سے زیادتی ہو رہی، امریکا نے کبھی کچھ نہیں کہا، فلسطین میں جو بربریت ہو رہی اس پر وہ خاموش ہیں، امریکہ انسانی حقوق کا چیمپیئن نہیں ہے

    ہم چاہتے ہیں ملک آگے بڑھے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے،شائستہ پرویز ملک
    شائستہ پرویز ملک کا کہنا تھا کہ بطور پاکستانی ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر ملک کی آزادی خودمختاری اہم ہوتی ہے، کل جو کچھ ہوا ہمیں اس پر شرم آئی، پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہوا تو یہ کل بھی ہو سکتا ہے، آج اسکو روکنا ضروری تھا ہم کسی بھی ملک سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہئے،کل ایک سیاسی جماعت نے جو کچھ کیا اس پر شرم آئی، امریکا میں فرم ہائر کی ہوئی ہیں جہاں پاکستان مخالف کام ہو رہا ہے، ملک کی ترقی، معیشت بحالی کے لیے ہم نے مشکل اقدامات کیے، کسی سیاسی جماعت کوملک کی ترقی کا راستہ روکنے نہیں دیں گے، ہم امریکا سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، نہیں چاہتے کہ امریکا ہماری خودمختاری میں مداخلت کرے، میں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کر رہی، ہم چاہتے ہیں ملک آگے بڑھے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے،آئین میں ہے کوئی ملک دوسرے ملک کی خودمختاری میں مداخلت نہیں کرے گا،ہم نے معاشی خود مختار ہونا ہے اور اس میں سب کا ساتھ چاہئے.یہاں ادارے کام کر رہے ہیں، عدالتیں کام کر رہی ہیں، آپ جو کر رہے ہیں وہ کسی صورت درست نہیں،ہمیں امریکی قرارداد کی مذمت کرنی ہے اور ہر پاکستانی کو کرنی ہے، پارلیمان میں بیٹھےہر رکن کو کرنی ہے، جان جا سکتی ہے لیکن ملک پر آنچ نہیں آنے دے سکتے، ذاتی مفادات سے نکلیں اور ملک کے بارے سوچیں، ملک دلدل میں پھنسا ہوا، ہر طرف دشمن ہے، ہمیں اندر کے دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے جو ملک کو آگے نہیں پڑھنے دے رہے.

    پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    تحریک انصاف مشکل میں پھنس گئی، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا،

    تحریک انصاف نے عام انتخابات کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے تھے، پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے بلے کا نشان واپس لیے جانے کے بعد پی ٹی آئی امیدواروں نے آزاد الیکشن لڑا تھا، پی ٹی آئی نظریاتی کا نشان لینے کی کوشش کی گئی تھی تا ہم نظریاتی کے چیئرمین اختر ڈار نے پریس کانفرنس کر کے اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، آزاد امیدوار الیکشن جیتے تو پی ٹی آئی نے باہمی مشاورت کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا، عمران خان بھی سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کے خواہاں تھے، تاہم اب حالیہ سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل میں جلد طلاق ہونے والی ہے کیونکہ سنی اتحاد کونسل کےسربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا ہے،

    موجودہ حکومت کے خلاف تحریک انصاف تحریک چلانا چاہ رہی ہے، وہیں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی رہنماؤں میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں اور حکومت پر دباؤ بنائیں تا ہم جے یو آئی کو ابھی بھی پی ٹی آئی پر تحفظات ہیں، جن کو ختم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، ایسے میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں اور میری مولانا فضل الرحمان کیساتھ سیاسی اتحاد کی مخالفت کرتے ہیں”۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں یہ فن صرف انہی کو ہی آتا ہے،مولانا کہتے تھے کہ عورت کی حکمرانی حرام ہے اور محترمہ کی ہی حکومت میں ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے نوازشریف کے ساتھ تھے، پھر دوسری سائیڈ پر ہوگئے،مولانا صاحب اب کتنی خوبصورتی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہیں، شاید مولانا گورنربننا چاہ رہے ہیں

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا بیان ایسے وقت میں آیا جب پی ٹی آئی اور جے یو آئی رہنماؤں کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،صاحبزادہ حامد رضا کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کا اتحاد بن جاتا ہے تو وہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں.

    صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ ہم بندوقیں ہاتھ میں پکڑ کر نکلیں تو یہ ممکن نہیں، تشدد کی طرف جانا ہماری پالیسی ہے ہی نہیں،میں نے تجویز دی کہ حکومت کو وقت دیں، اگر اس وقت تک بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کرتے تو ہمیں مستعفی ہوجانا چاہیے اصولی طورپر مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں، اگر ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دیتے توپھر ہماری طرف سے بی جے پی کو دے دیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،پی ٹی آئی میں متحرک ترین رہنما شیر افضل مروت بھی ناراض ہیں اور احتجاجی سیاست سے دور ہیں، پی ٹی آئی میں دھڑے بن چکے ہیں، فواد چودھری بھی دوبارہ واپسی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر مسلسل الزامات عائد کر رہے ہیں، حامد خان کہہ چکے ہیں کہ فواد چودھری کوو اپس نہیں لیا جائے گا،پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما بھی موجودہ سیاسی قیادت سے نالاں ہیں، شیر افضل مروت نے شبلی فراز کے استعفیٰ مطالبہ کیا ہے تو اراکین اسمبلی بھی اختلافات کا شکار ہیں، ایسے میں اب آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی مزید زوال پذیر ہو گی.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے

    قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی

    یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟

    یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

    افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-

    یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟

    کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • شبلی فراز کے استعفے سے  پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    شبلی فراز کے استعفے سے پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ تحریک انصاف کا نیا سیکرٹری جنرل کون ہو گا، ایسے میں شیر افضل مروت سامنے آئے ہیں، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں عمر ایوب خان کی طرف سے سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑنے کے دانشمندانہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز چند دیگر افراد کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی ایک بھی کام پورا کرنے میں ناکام رہی۔ خان جیل میں ہے اور مینڈیٹ کی بازیابی ابھی دور ہے۔ ہماری خواتین اور رہنما جیلوں میں بند ہیں اور ہم عوام کو ایک عظیم تحریک کے لیے متحرک کرنے میں ناکام رہے۔ ملک بھر میں بلے کے نشان، مخصوص نشستوں، ضمنی انتخابات اور پارٹی کی تنظیم نو کا نقصان ایسی چند مثالیں ہیں جہاں پارٹی قیادت بری طرح ناکام رہی۔ پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹیاں فیورٹ پر مشتمل ہوتی ہیں اور فیصلے میرٹ پر نہیں ہوتے۔ میں شبلی فراز سے پارٹی آفس اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف دونوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہوں تب ہی پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی۔ اگر پارٹی کارکن مجھے میدان میں چاہتے ہیں تو میرے مطالبے کے حق میں آواز بلند کریں۔ اگر شبلی کو ہٹایا گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پارٹی وقت کی ضرورت کے مطابق اٹھے گی۔ اگر ہم ماضی کی طرح ناقص لوگوں پر خاموشی اختیار کرتے رہے تو فتح نظر نہیں آئے گی

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کیا تھا،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام