Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • اکبر ایس بابر متحرک، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ چیلنج

    اکبر ایس بابر متحرک، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ چیلنج

    اسلام آباد: پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کامعاملہ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیئے گئے،

    دو الگ درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر کی گئیں،محمود خان اور محمد مزمل نے درخواستیں دائرکیں، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشنز کالعدم قرار دئیے جائیں، پی ٹی آئی کا پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روکا جائے،

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    مجھے دانستہ طور پر انٹرا پارٹی الیکشن سے محروم رکھا گیا،اکبر ایس بابر
    تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ آج پھر پی ٹی آئی کے تازہ ترین فراڈ کو ناکام بنانے کے لیئے حاضر ہوئے ہیں،تازہ ترین انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر فراڈ قابل قبول نہیں،مجھے کہا جاتا آپ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں کیوں شرکت نہیں کرتے، مجھے دانستہ طور پر انٹرا پارٹی الیکشن سے محروم رکھا گیا،مجھے دھمیکیاں دی گئیں اور غلیظ الزامات لگائے گئے،آج درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے، میں نے اپنی ذات کے لیئے کوئی مطالبہ نہیں کیا،

    گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    الیکشن کمیشن کا مخصوص سیٹیں نہ دینے کا فیصلہ،عمران خان نے اتوار کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا
    اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بیرسٹر عمیر نیازی نے ملاقات کی، ملاقات کے بعدمیڈیا سے بات کرتے ہوئے عمیر نیازی کاکہنا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف اتوار کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے،اتوار کے روز ہمارے تمام ایم پی اے،ایم این ایز اور پارٹی کارکن ملک بھر میں احتجاج کرینگے،

    عمیر نیازی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس نے خواتین کو سیاست میں نمائندگی دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے کے پی کے خواتین کے حق پر ڈاکہ مارا گیا،دھاندلی کے خلاف پہلے ہی تحریک چل رہی ہے،ہماری مختلف جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،ہم نے صدارتی امیدوار چھوٹے صوبے سے نامزد کیا ہے،پانچ چھ جماعتیں تو دھاندلی کے خلاف تحریک کیلئے متفق ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے ساتھ ہم حکم امتناع کی درخواست بھی دائر کررہے ہیں.ہماری درخواست کہاں تک سنی جائے گی یہ کہنا قبل ازوقت ہے،ہماری درخواست پر اگر کورٹ کا کوئی مناسب آرڈر آیا تو اسکا اثر صدارتی الیکشن پر ضرور پڑے گا،ہماری درخواست اگر عدالت نے سنی تو صدارتی اور سینیٹ الیکشن متنازعہ ہوجائے گا، عمران خان نے کہا ہے عوام نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے،اب مینڈیٹ چوری معاف نہیں کرینگے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا

  • عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی کا لاتعلقی کا اعلان

    عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی کا لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنیوالے عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر اور شیر افضل مروت کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں‌نے حیدر مہدی اور عادل راجہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عادل راجہ اور حیدر مہدی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں،ویڈیو بیان اسد قیصر اور شیر افضل مروت نے جاری کیا،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عوام عادل راجا اور حیدر مہدی پر اعتماد نہ کرے، تحریک انصاف کا اپنا میڈیا اور اپنے ترجمان ہیں صرف پی ٹی آئی میڈیا اور ترجمان سے جاری بیانیہ ہی تسلیم کیا جائے،چند دن سے شیر افضل مروت کے خلاف یوٹیوبر باہر سے بیٹھ کر کمپین چلا رہے ہیں، یہ یوٹیوبرز شاہ محمود قریشی اور پرویز الہٰی کے خلاف بھی کمپین کرتے رہے،ہ آئین اور قانون سے متعلق ہماری جدوجہد جاری رہے گی، ہم نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کا بیان ہے کہ ملک اور فوج میری ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم آئین و قانون کی بالادستی اور سول سپرمیسی چاہتے ہیں، عادل راجہ اور حیدر مہدی کے پروپیگنڈے پر اعتماد نہ کریں، تحریک انصاف کا ان یوٹیوبرز سے کوئی تعلق نہیں ہےتحریک انصاف کا اپنا ترجمان اور اپنا بیانیہ ہے، اسے سامنے لایا جائے۔

    واضح رہے کہ عادل راجہ اور حیدر مہدی بیرون ملک مقیم ہیں اور افواج پاکستان کے خلاف آئے روز پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ورکر بھی ان دونوں کے بیانیے کو پروموٹ کرتے رہتے ہیں،

    عادل فاروق راجہ پر فوجی اہلکاروں میں بغاوت پر اکسانے کا جرم ثابت 

    یوٹیوبر عادل راجہ اور حیدر مہدی غدار وطن ہے، شیر افضل مروت

    جمائما سے ملنے والے 5 ملین ڈالرز کی "بندر بانٹ” پر پی ٹی آئی کے اوورسیز یوٹیوبرز میں عادل راجہ سب سے آگے

    عادل راجہ پکڑا گیا، غداروں کے گرد گھیرا تنگ

    عادل راجہ ستمبر تک ضمانت پر

    عادل راجہ کو بڑی رقم پہنچ گئی، پٹھان فلم سے تعلق

    پاکستان مخالف بیانیہ؛ میجر (ر) عادل راجہ کی پنشن مکمل طور پر روک دی گئی

     پاک فوج کے بھگوڑے عادل راجہ کے بارے میں اصلیت قوم کو بتائی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا. فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں کو دینے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی،سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر الیکشن نہیں لڑا،چئیرمین سنی اتحاد کونسل نے بھی اپنا انتخابی نشان ہونے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا،الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سنایا،چیف الیکشن کمشنر،ممبر سندھ،پنجاب اور بلوچستان نے نشستیں اکثریتی فیصلے کی حمایت کی،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔نوٹ میں کہا کہ "معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں ".

    8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے، بلے کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اور جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص سیٹوں کے لئے فہرست جمع نہیں کروائی جس کی بنیاد پر انہیں سیٹیں نہیں دی جا سکتیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو بھی اس کیس میں سنا تھا، اور فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ،صدارتی ،سینیٹ انتخاب ملتوی کیے جائیں،علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ افسوس ناک ہے، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے گی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں،الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے،صدارتی انتخاب اورسینیٹ الیکشن میں ہمیں نقصان ہوگا،الیکشن کمیشن نےہمیں مخصوص نشستوں کےحق سےمحروم کیاہےہماری جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے تک صدارتی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوسکتے،صدارتی اور سینٹ کے الیکشن ملتوی کیے جائیں ،پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر صدارتی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات ہوئے تو ہم اس کو قبول نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن جانبدار ہے، اپنی ذمہ داریاں آئینی طریقے سے پوری نہیں کی، وہ فوری مستعفی ہو اور ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے، ہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ جائیں گے اور وہاں سے فیصلہ آنے تک وزیراعظم، سینیٹ اور صدارتی انتخاب قابل قبول نہیں۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ وزیر اعظم کے الیکشن سے پہلے جاری نہیں کیا،پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکی، آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لوگ کنفیوژ نہیں ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا ،آئین کہتا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آج ہاوس کے سامنے مطالبہ ہے کہ پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو،

    الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ ،چیلنج کریں گے،شعیب شاہین
    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے،
    امید ہے ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا ، سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کیخلاف ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رابطے شروع کردیئے، پی ٹی آئی نے سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا، تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب نے اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے گفتگو کی جائے گی،پی ٹی آئی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی،اجلاس میں فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی تھی،بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

  • شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    انسداد دہشت گردی عدالت میں تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے غیر رسمی گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو مبارک ہو وہ خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا ,

    ڈاکٹر یاسمین راشدکا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی زبان نہیں پھسلی انکے منہ سے حقیقت بیان ہوئی ہے ,ساڈی گل مک گئی اے ، گل وڑ گئی اے مختاریا تک سفر ہے ،عوام نے 8 فروری کو گھروں سے نکل کر بتایا ہے تہاڈی گل مک گئی ہے,ہماری خواتین کی مخصوص نشستیں مانگنے والو مرد بنو ,آپکی ایسی اوچھی حرکتیں دیکھ کر دل سے نکلتا ہے کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے ,ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے آج بڑی سرکار کے بل بوتے پر حکومت بنا رہے ہیں ,یہ لنگڑی لولی حکومت جس کی بنیاد عوام کی مرضی کے خلاف ہے یہ کیا خاک چلے گی ,پاکستانی قوم جاگ چکی ہے اسکے صبر کو مت آزمائیں ,

    یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے مریم نواز شریف نے جھوٹ بولا ہے ,صحت کارڈ پی ٹی آئی کا ایک کامیاب منصوبہ تھا,انشورنس کمپنیوں کے ذریعے ہسپتالوں کو ادائیگی ہورہی ہیں,میرے دور میں سرکاری ہسپتالوں میں دس ارب روپے آمدن حاصل کیا,

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    انسداد دہشت گردی عدالت،عسکری ٹاور حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس ،سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ ، اعجاز چوہدری ، ڈاکٹر یاسمین راشد ,اور میاں محمود الرشید سمیت 30 ملزمان کو جیل سے پیش کیا گیا ،میاں محمود الرشید کا جیل وارنٹ پیپر پیش کیا گیا ،عدالت نے ٹرائل کی مزید کاروائی 14 مارچ تک ملتوی کر دی ،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو چالان کی کاپیاں تقسیم کی جائیں گی،چالان کی کاپیاں تقسیم ہونے کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی، انسداد دھشتگردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے سماعت کی ،سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمان پر عسکری ٹاور پر حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے،مقدمہ میں بغاوت سمیت دیگر نئی دفعات شامل ہو چکی ہیں،ملزمان کے خلاف تھانہ گلبرگ میں مقدمہ 1271/23 درج ہے،

  • اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ 5 مارچ کو الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کریں گے، شفاف الیکشن کا مطالبہ کرنے والوں کا انٹرا پارٹی الیکشن تاریخ میں ایک نیا سیاہ باب ہے،ساڑھے 8 لاکھ پی ٹی آئی ممبران میں سے 940 نے ووٹ دیے، 0.11 فیصد پی ٹی آئی ممبران نے تازہ ترین انٹرا پارٹی الیکشن میں ووٹ ڈالا اب آپ ہی بتائیں انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر اس فراڈ کو کیسے تسلیم کریں

    گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چار چار جماعتوں کی منکوحہ رہی،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چار چار جماعتوں کی منکوحہ رہی،خواجہ آصف

    سابق وفاقی وزیر دفاع، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے تحریک انصاف کو آئینہ دکھا دیا،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کل ایوان میں لوٹا لوٹا ہورہا تھا حالانکہ لوٹے تو کل خود سارے اکھٹے ہوئے تھے، سنی اتحاد کونسل تازہ ترین لوٹا ازم ہے، اقتدار کی ہوس کیلئے آپ اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسروں کے پاس جائیں، محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کرکے تحریک انصاف نے اپنا برانڈ بھی تبدیل کرلیا ہے، جب برانڈ تبدیل ہوتا ہے تو لیڈر بھی تبدیل کیا جاتا ہے ، پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چار چار جماعتوں کی منکوحہ رہی ہے، دوسروں کو لوٹا لوٹا کہہ رہے تھے اور خود لوٹوں کی بارات اکٹھے بیٹھی ہوئی تھی، شہبازشریف نے بہت آفرز ملنے کے باوجود بھائی کے ساتھ وفا کی، شہبازشریف کل دوسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوں گے

    عمران خان کا پرانہ وطیرہ ، جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،عطا تارڑ
    دوسری جانب ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج محمود خان اچکزئی صاحب کو امیدوار نامزد کیا گی،2014 کے دھرنا میں عمران خان صاحب نے محمود خان اچکزئی کی نقل کی تھی، محمود خان اچکزئی کی پرانی خواہش تھی صدر بننے کی جو پوری ہوگئی، عمران خان کا یہ پرانہ وطیرہ ہے جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر کے کاغذات جمع کروا دیے ہیں، اچکزئی کا مقابلہ آصف زرداری سے ہو گا.

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات جمع

    محمود اچکزئی کو نامزد کر کے عمران خان نے زبردست پیغام دیا ،علی محمد خان

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

  • انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر تحریک انصاف آج انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہے

    لاہور، راولپنڈی،لیہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، میانوالی، چکوال سمیت کئی شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنان نے احتجاج کیا،پولیس کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 نافذ ہے، لاہور میں پولیس نے احتجاج کرنے والے شرکا کو گرفتار کیا ہے، گرفتار ہونے والوں میں میاں شہزاد فاروق اور حافظ ذیشان بھی شامل ہیں، لاہور میں پی ٹی آئی کا احتجاج ہائیکورٹ کے دروازے پر ہوا جس میں انصاف لائرز فورم اور پارٹی کارکنان نے شرکت کی،مظاہرین نےالیکشن مینڈیٹ کی مبینہ چوری کیخلاف نعرے بازی بھی کی، شہزاد فاروق اورحافظ ذیشان ریلی کے ہمراہ جی پی او چوک پہنچے تو ولیس نے شہزاد فاروق اور حافظ ذیشان سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا،پولیس کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 نافذ ہےکسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے،قیدیوں کی وین اور واٹر کینن بھی جی پی او چوک موجود ہے۔میاں شہزاد فاروق کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کے سپاہی ہیں گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے،

    دوسری جانب این اے 56 سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شہریار ریاض لیاقت باغ پہنچ گئےاور کہا کہ شیر افضل مروت کا انتظار ہے انکے آنے کے بعد ریلی اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگی،ہم پورے ملک میں دھاندلی کے خلاف پر امن احتجاج کررہے ہیں،پورے پاکستان میں مینڈیٹ چوری کے خلاف لوگ سراپا احتجاج ہیں، جب فارم 45 کے ساتھ انصاف ہوگا تو ہمارے مظاہرے ختم ہونگے،ہم دھاندلی کے خلاف متعلقہ فورمز گئے ہیں لیکن ہم سڑکوں پر بھی احتجاج کرینگے،جنوبی پنجاب کی سطح پر ہمارے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے ہیں۔دھاندلی کے خلاف کافی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں۔

    پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ لیاقت باغ سے ریلی کی صور ت میں ڈی چوک جائیں گے، احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے‏پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت ریلی میں شریک ہونے لیاقت باغ پہنچ گئے۔شیر افضل مروت کے لیاقت باغ پہنچنے پر کارکنان نے نعرے بازی کی

    ننکانہ صاحب بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز احمد شاہ کی قیادت میں الیکشن کمیشن آفس ننکانہ صاحب میں پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا گیا احتجاج میں رانا جمیل حسن گڈ خان سہیل منظور گل رائے قاسم مشتاق انصاف لائیرز ونگ کے وکلاء انصاف یوتھ ونگ سمیت پاکستان تحریک انصاف کے ورکر نے شرکت کی ۔

    دوسری جانب سندھ میں حلیم عادل شیخ دھاندلی کے خلاف احتجاج میں شرکت کیلئے دھابیجی پہنچ گئے ،اس موقع پر انکا بھر پور استقبال کیا گیا،۔ پی ٹی آئی رہنما رئیس ارسلان خان بروہی کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں نے حلیم عادل شیخ کا استقبال کیا۔

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب

    علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب

    علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب ہو گئے ہیں

    نو منتخب اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے 22 ویں قائد ایوان کے لیے ووٹنگ ہوئی،آزاد حیثیت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن جیتنے والے علی امین گنڈا پور کو سنی اتحاد کونسل کی حمایت حاصل تھی جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان تھے جنہیں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی حمایت حاصل تھی، ووٹنگ کے بعد اسپیکر کے پی اسمبلی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے 90 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عباداللہ نے 16 ووٹ حاصل کیے، اس طرح علی امین گنڈا پور 90 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ارباب عثمان نے پارٹی پالیسی کے خلاف انتخاب میں حصہ لیا،ارباب عثمان نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ ڈالا، باضابطہ آگاہ نہیں کیا گیا کہ ووٹ کا استعمال نہ کروں، ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار ڈاکٹر عباد اللہ خان کو ووٹ ڈالا

    نومنتخب وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
    وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھاکہ حقیقی آزادی ہماری ضرورت تھی، ہے اور رہے گی، آزاد حیثیت سے وزیراعلیٰ بنا ہوں، اس کا دکھ ہے، عمران خان کے اعتماد پر پورا اتروں گا، بانی پی ٹی آئی کا قصور یہ ہے کہ اس نے پاکستان اور عوام کی بات کی ،بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کی خودداری اور کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کی بات کی بانی پی ٹی آئی کو جعلی پرچوں میں جیل میں ڈالا گیا، مینڈیٹ کو چوری کرنا آئین سے غداری ہے۔کوئی یہ سمجتھا ہے کہ ہم حق لینا نہیں جانتے تو اُس کی بھول ہے، ہم حق لینا بھی جانتے ہیں اور چھیننا بھی، ہمیں مجبور نہ کیا جائے،ہم وائی فائی نہیں مفت تعلیم دیں گے وہ بھی اکیلے پشاور کو نہیں پورے خیبر پختونخواہ کو مفت تعلیم حاصل ہو گی،اگر تعلیم ہو گی تو ہی نوجوان وائی فائی اور لیپ ٹاپ چلائیں گے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ آئی جی کو سات دن کا وقت دیتاہوں کہ ہمارے ورکرز پہ جعلی ایف آئی آر ختم کرے ورنہ اسکے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔ اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر پاکستانی محفوظ رہے تو ہمیں نظام بدلنا ہوگا،جو ظلم میری پارٹی کیساتھ ہوا ہے پارٹی ورکر کیساتھ ہوا خواتین کیساتھ ہوا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی اصلاح کریں ہم انتقامی سیاست نہیں چاہتے جو ہمارے ساتھ ہوا کل آپ کیساتھ بھی ہو سکتا ہے۔قوم جان گئی ہے کون بار بار سلیکٹڈ بن کر آتے ہیں ،ایسا نظام چاہتے ہیں کہ کوئی قانون ہاتھ میں نہ لے، نہ کسی سے زیادتی ہو، اپنی اصلاح کریں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کریں ،بانی پی ٹی آئی کو جلد صاف و شفاف اوپن ٹرائل کر کے رہا کیا جائے ،

    یکم رمضان سے صحت کارڈ بحال، غلطی کی ہے تو آئین کے مطابق سزا دی جائے،علی امین گنڈا پور
    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ذہن بدل کر امن کی طرف لائیں گے ،قرضوں پر قومیں نہیں بنتیں صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،خیبرپختونخوا کے لئے بڑے چیلنجز ہیں، سب سے بڑا چیلنچ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کو تحفظ دینا ہے، کرپشن کا ناسور ملک کی تباہی کا باعث ہے، کرپشن نہ کرنے کے لئے اراکین کھڑے ہوکر حلف لیں، کسی کی جرات نہیں کہ ہمیں رشوت دیں، جن مقدمات کا ثبوت نہیں وہ ایک ہفتے میں ختم کیے جائیں، جس نے کوئی غلط کیا اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،غریبوں کی بجائے امیروں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالیں گے ،غیر قانونی مائننگ کرنے والوں کو ٹیکس دینا ہوگا ورنہ مائننگ کو بند کردونگا ،یکم رمضان سے صحت کارڈ کو بحال کریں گے ،مجھ پر 9 مئی کی جھوٹی ایف آئی درج کی گئیں، اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو آئین کے مطابق سزا دی جائے،چیف الیکشن کمیشن کو استعفی دینا چاہیئے، یہ جو مینڈیٹ چھوری ہوا ہے اس کو سامنے لے کر آؤ گا،

    سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ،

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    علی امین گنڈا پور 90 ووٹ لے کر وزیر اعلی، کے ہی کے منتخب ہو ئے یاد رہے علی امین گنڈاپور گزشتہ روز پی ٹی آئی کے جماعتی انتخابات میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے بھی صدر منتخب ہوئے تھے،

    خیبر پختونخوا، تحریک انصاف نے ریکارڈ بنا دیا، تیسری بار حکومت مل گئی
    خیبر پختونخوا میں تیسری بار تحریک انصاف نے حکومت بنائی، 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی نے صوبے میں حکومت بنائی اور پرویز خٹک وزیراعلیٰ بنے،2018 میں پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ حکومت بنائی اورمحمود خان صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی تاریخ میں واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف حکومتیں بنانے کی ہیٹرک مکمل کی بلکہ مسلسل دوسری مرتبہ صوبے میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔علی امین گنڈا پور اس بار وزیراعلیٰ کے امیدوار تھے، عمران خان نے اڈیالہ جیل سے علی امین گنڈا پور کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا،آج علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کے پی منتخب ہو چکے ہیں.

  • آئی ایم ایف کو خط ،بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع

    آئی ایم ایف کو خط ،بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع

    تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے پر بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ہے

    سینیٹ میں بحث کے لیے تحریک التوا مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، تحریک التوا کے متن کے مطابق عمران خان کا آئی ایم ایف کو خط پارٹی ترجمان رؤف حسن نے ارسال کیا، آئی ایم ایف کو کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مالی امداد سے قبل شرائط پر خود کو مطمئن کرے،پی ٹی آئی نے الیکشن کے بعد منتخب حکومت کے جائز ہونے کو بھی چیلنج کرنے کی بات کی ہے۔پی ٹی آئی کے خط پر سینیٹ اجلاس میں بحث کی جائے،

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

    قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو لکھے گئے خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، انتخابی معاملات کا فورم آئی ایم ایف نہیں ہے، پی ٹی آئی کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی، بیرونی قوتوں کے سامنے سرنڈر نہ کرنا ان کا بیانیہ ہے، اس وقت مثبت انداز میں بات ہورہی ہے، امید ہے 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف سے بات ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن