Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • تحریک انصاف کے روپوش،اشتہاری رہنما اعظم سواتی بھی منظر عام پر آ گئے

    تحریک انصاف کے روپوش،اشتہاری رہنما اعظم سواتی بھی منظر عام پر آ گئے

    تحریک انصاف کے ایک اور روپوش، اشہاری منظر عام پر آ گئے

    تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچ گئے، خیبر پختونخواہ اسمبلی میں آج وزیراعلیٰ کا انتخاب ہونا ہے، اعظم سواتی نے اسپیکر کے چیمبر میں نومنتخب اسپیکر بابر سلیم سواتی کو گاؤن پہنایا، گلے لگایا اور ماتھا چوما،اس موقع پر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی جعلی ہے، مانسہرہ میں نواز شریف کو بری طرح شکست ہوئی، مانسہرہ کے لوگوں نے ووٹ کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کا بدلہ لیا، ہم اداروں کے درمیان محبت کو بڑھائیں گے

    اعظم سواتی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل عدالت پیش
    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ،اعظم سواتی کے خلاف درج کیسز کی تفصیلات کی درخواست پر سماعت ہوئی،پولیس نے اپنی رپورٹ جمع کروائی ،پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ لاہور میں اعظم سواتی کے خلاف 6 مقدمات ہیں ۔ فیصل آباد میں اعظم سواتی کے خلاف چار مقدمات درج ہیں۔عدالت نے سیکرٹری ہوم سے ایم پی او کے آڈر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی قیادت اور درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج کئے گئے۔ پنجاب میں درخواست گزار کیخلاف درج کیسز کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہی۔عدالت درج کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کر دی.

    حماد اظہر،قاسم سوری،فواد،علی زیدی،اعظم سواتی پر ایک اور مقدمہ درج

     اعظم سواتی کے دائمی وارنٹ جاری

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، ن لیگ کے سردارایاز صادق سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس، ن لیگ کے سردارایاز صادق سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس میں آج سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب آج ہو رہا ہے
    سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے سپیکر کا حلف اٹھا لیا ،حلف سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف نے لیا،ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے 23 ویں اسپیکر کی حیثیت سے حلف لیا.نو منتخب سپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اس منصب کیلئے تیسری بار منتخب کرنےپر قائد نواز شریف کا شکر گزار ہوں، شہباز شریف سے گزشتہ5سال میں بہت کچھ سیکھا،اسپیکر قومی اسمبلی اپنے تمام ووٹرز اور سپورٹرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں، عامر ڈوگر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جمہوری عمل میں حصہ لیا،عامرڈوگر نے جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردارادا کیا،اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے چلاؤں گا،اختلاف جمہوریت کا حسن ہے،نومنتخب اسپیکر قومی اسمبلی حکومت کا کام کاکردگی دکھانا ملک کو چیلنجز سے نکالنا ہے، میری کوشش ہوگی ایک دوسرے کی ڈھال بنیں، ہمیں ذاتی تنقید کے بجائے پاکستان کے مفاد میں کام کرناہوگا،میری کوشش ہو گی کہ ہم ایک دوسرے کا احساس کریں،دوسرے کی بات کو برداشت کریں،

    فارم 45 کے مطابق اس ایوان میں نتیجہ آتا تو میرے ووٹ 225 ہوتے،عامر ڈوگر
    عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ میرے ووٹ 91 نکلے اور آپ کے 191،جناب سپیکر میں سنگل پارٹی ہوں اور آپ 7 پارٹیاں ہیں، اگر آٹھ فروری کو جو الیکشن ہوا ،اگر فارم 45 کے مطابق اس ایوان میں نتیجہ آتا تو میرے ووٹ 225 ہوتے،ہم نے خصوصی نشستوں کے بغیر احتجاج کے ساتھ الیکشن لڑا،ہم چاہتے ہیں کہ ایوان کا حصہ بنیں، وہ ہماری 180 سٹیں ہوں تو ہماری جماعت قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے اور خصوصی نشستوں کو ملا کر ہماری قومی اسمبلی میں 225 نشستیں ہیں۔میں اس پارٹی کا چیف وہیپ رہا ہوں، میں 225 سیٹوں کے ساتھ اس ایوان میں کھڑا ہوں،کل قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں تعزیتی سیشن تھا،کروڑوں دیکر جتوائے گئے لوگوں کے ضمیر مردہ تھے چہرے اترے ہوئے تھے مرجھائے ہوئے تھے، قومی اسمبلی کی 80 نشستیں چھینی گئیں ,میرے سمیت میرے ان تمام ممبران میں سے کوئی ایسا نہیں جس پر 10 پرچے نہ ہوں، اور آپ جمہوریت کی بات کرتے ہو؟تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں پر چوری شدہ نشستیں واپس کی جائیں،سیٹوں کی بولیاں لگئیں ، کروڑوں روپوں کے عوض وہ سیٹیں بکیں،کانٹا لگانے والے دیکھیں ایوان بانی پی ٹی آئی کے نعروں سے گونج رہاہے،میرے لیڈر نے کہا عوام کی خاطر مفاہمت کیلئے تیار ہوں لیکن پہلے ہمارا مینڈیٹ واپس کریں ،اگر یہی ڈرامہ کرنا تھا تو قوم کا 50 ارب خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی،

    اسمبلی قرارداد پاس کرے کہ عمران اور اس کے ساتھیوں کو رہا کیا جائے،محمود اچکزئی
    محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی حالت یہ ہے کہ نہ کوئی کسی کو بات کرنے دیتا ہے نہ سنتا ہے،پارلیمنٹ ہمارے آئین کا دفاع کیسے کرے گی،کچھ لوگ 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کو بکرا منڈی بنانا چاہتے ہیں،پاکستان انتہائی خطرناک حالات سے گزر رہا ہے، جس کو پاکستان کے عوام نےووٹ دیا اس کو بدلنا غداری ہے، محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا،کہا عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرو،یہ اسمبلی قرارداد پاس کرے کہ عمران اور اس کے ساتھیوں کو رہا کیا جائے،بہت سارے سیاسی کارکنوں نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں ان کو بھی ہیروز ڈیکلیئر کریں ،آج ساری پارٹیاں وعدہ دیں کہ یہ پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہوگی ،پاکستان ہمارا ملک ہے آئیں سب توبہ کریں ،عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تو اس کو بدلنا پاکستان سے غداری ہے،

    قومی اسمبلی اجلاس میں ن لیگ کے رانا تنویر، نثار جٹ اور عمر ایوب الجھ پڑے، رانا تنویر غصے میں عمر ایوب کی جانب بڑے، عطا تارڑ نے رانا تنویر کوروک لیا، سنی اتحاد کونسل کے نثار جٹ کے چور چور کے نعروں پر رانا تنویر سیخ پا ہو گئے دوبارہ نثار جٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی،

    halaf

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ پراس شروع کرنے کی ہدایت کردی ،کہا دونوں امیدوار اپنے پولنگ ایجنٹ مقرر کریں ،ڈپٹی سپیکر کیلئے پیپلز پارٹی کے سید مصطفیٰ شاہ اور سنی اتحاد کونسل کے جنید اکبر میں مقابلہ ہوگا،ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا،اراکین نے ووٹ ڈالا، ووٹنگ کے بعد گنتی ہوئی، غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے 290 اراکین نے ووٹ ڈالا ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مصطفیٰ شاہ کو 197 ووٹ پڑے ،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے امیدوار جنید اکبر خان کو 92ووٹ ملے ۔
    پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مصطفیٰ شاہ ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے

    یہ لوگ مینڈیٹ چور ہیں، اس لیے مزاحمت نہیں کر پارہے،شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایوان میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل ہوا،سردار ایاز صادق نے اسپیکر کا منصب سنبھالا،ہمارا موقف تھا اسمبلی میں اجنبی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، یہ لوگ مینڈیٹ چور ہیں، اس لیے مزاحمت نہیں کر پارہے،ہماری مخصوص نشستوں کے ساتھ 225 نشستیں بنتی ہیں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آئے گا،ہم چیلنج کریں گے کہ اسپیکر نے ہمارے احتجاج کے باوجود کوئی رولنگ نہیں دی، اسپیکر کو چاہیئے تھا کہ تاخیر کرتے لیکن انہیں جلدی تھی،کل ہم لیاقت باغ سے پارلیمنٹ تک احتجاج کریں گے،11 بجے لیاقت باغ میں جمع ہونگے 4 بجے تک پارلیمنٹ پہنچیں گے،

    قبل ازیں سپیکر کے انتخاب اور نتائج تک سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آج اجلاس کی صدارت کی،سپیکر راجہ پرویز اشرف کا بطور بائیسویں اسپیکر آج عہدے کا آخری دن ہے،نئے اسپیکر کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا،اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی گنتی کی گئی،مسلم لیگ ن کے ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے، سپیکر منتخب ہونے پر ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین نے ایاز صادق کو مبارکباد دی،اراکین قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو انکی نشست پر جا کر ملے.راجہ پرویز اشرف نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 291 ووٹ پول ہوئے، ایک ووٹ مسترد ہوا، ایاز صادق نے 199 ووٹ لئے،جبکہ ملک محمد عامر ڈوگر نے 91 ووٹ لئے.

    نو منتخب سپیکر ایاز صادق مدمقابل امیدوار عامر ڈوگر کی نشست پر گئے اور مصافحہ کیا
    مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق 199وووٹ لے کر سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کےعامر ڈوگر نے 91ووٹ لیے۔اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ایاز صادق سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک عامر ڈوگر کی نشست پر گئے اور ان کے ساتھ مصافحہ کیا، ایاز صادق نے حامد رضا اور عمر ایوب خان سے بھی مصافحہ کیا جبکہ یوسف رضا گیلانی نے پرجوش طریقے سے گلے لگاکر ایازصادق کو مبارکباد دی،

    آپ نے 302 لوگوں سے حلف لیتے ہوئے جمہوریت کا قتل کیا،لطیف کھوسہ کا سپیکر سے مکالمہ
    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے شہزادہ گستاسپ اور ن لیگ کی منیبہ اقبال نے حلف اٹھا لیا، اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے دونوں نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے حلف لیا،قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے لطیف کھوسہ اور اسپیکر راجہ پرویز اشرف کے درمیان مکالمہ ہوا،لطیف کھوسہ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ مبارکباد کے مستحق ہیں، آپ نے کل 302 ممبران سے حلف لیا، تعزیرات پاکستان میں 302 قتل کی دفعہ ہے،کل آپ نے 302 لوگوں سے حلف لیتے ہوئے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔

    قیدی نمبر 804 کو قائد ایوان کی سیٹ پر بٹھائیں گے،عمر ایوب
    سنی اتحاد کونسل کے ارکان قومی اسمبلی نے ایجنڈے کی کاپیاں بھاڑ دیں،سپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ احتجاج کریں لیکن ایوان کی کاروائی بھی چلنے دیں،عمر ایوب نے اظہار رائے کے دوران قومی اسمبلی میں عمران خان کی تصویر ایوان میں لہرا دی، اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آپ کا گلا آج خراب لگ رہا ہے عمر ایوب نے کہا کہ جب بے ضابطگیاں ہوں گی تو نعرے لگانے سے ہمارا گلا تو خراب ہو گا،گلا خراب ہو یا کٹ جائے ہم نے آواز اٹھانی ہے ایوان میں اس وقت فارم 47 کی وجہ سے اجنبی موجود ہیں، جنہوں نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا، اسپیکر کے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، جناب اسپیکر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والوں کو ایوان سے باہر نکالیں،ہم نے بانی پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپس لانا ہے، سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جن کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے وہ اس ایوان کا حصہ ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ قیدی نمبر 804 کو قائد ایوان کی سیٹ پر بٹھائیں گے،اس ہاؤس میں گھس بیٹھیے آکر بیٹھ گئے ہیں، ہماری خواتین کی سیٹس مکمل نہیں، ہماری خواتین ہاؤس میں نہیں، کیسے اسپیکر کا الیکشن کنڈکٹ کر سکتے ہیں، فارم 45 کچھ اور کہہ رہا ہے اور فارم 47 کچھ اور کہہ رہا ہے،اصلی مینڈیٹ کے حقدار بانی پی ٹی آئی ہیں، آپ نے ہمارے سر کے تاج ہمارے ورکر کو جیل میں رکھا، ہاؤس نامکمل ہے، آپ کیسے پراسس کو مکمل کرسکتے ہیں، آپ اس ہاؤس کو کیسے چلا سکتے ہیں

    الیکشن کمیشن نے جو ممبرنوٹیفائی کیے ہیں وہ معزز ممبران ہیں،سپیکر قومی اسمبلی
    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن لوگوں کے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن نے جاری کیے وہ معزز ممبران ہیں ، آپ لوگ تشریف رکھیں تاکہ سپیکر کا انتخاب ہوسکے ،ایجنڈے کی کاروائی کرنے دیں سب کو موقع دیں گے،یہ فورم احتجاج کا نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے جو ممبرنوٹیفائی کیے ہیں وہ معزز ممبران ہیں، دونوں اطراف میں آئین اور قانون کے ماہر بیٹھے ہیں، اس ایوان کا ایک ڈیکورم ہے، اس کو ملحوظ خاطر رکھیں،کوئی ممبر ایوان میں نعرے نہیں لگا سکتا اور نہ ہی پلے کارڈز لہرا سکتا ہے۔

    مخصوص نشستوں کے بغیر اجلاس چلنا مشکل ہے،بیرسٹر گوہر
    سنی اتحاد کونسل کے رکن بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے بغیر اجلاس چلنا مشکل ہے، اسپیکر صاحب ، آپ نے خواہ مخواہ رولنگ دی ہے، میری التجا ہے 23 ووٹوں کا سوال ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تھا، الیکشن کو روکا گیا تھا، اس وقت ہاؤس میں 23 ممبران کی کمی ہے، تیرہ خواتین نے مخصوص نشستوں کے ذریعے قومی اسمبلی اجلاس میں آنا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے سوا میرے پاس کیا طریقہ ہے؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ مخصوص نشستوں کا حصول ہے، جب تک مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکشن نہ ہو پراسس کو روکا جائے، رانا تنویر نے کہا کہ ہم نے بڑے حوصلے سے ان کے باتیں سنی، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم آج کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے ، ایوان میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگ گئے، رانا تنویر نے کہا کہ الیکشن کے جو حقائق ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں،عمر ایوب بہت بڑا لوٹا ہے،عمر ایوب کے چہرے پر لکھا یہ بہت بڑا لوٹا ہے، ایوب خان کا پوتا ہے، کونسی پارٹی میں عمر ایوب نہیں گیا؟ اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بھر پور نعرے بازی کی گئی، سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جب آپ بات کرتے ہیں تو وہ سنتے ہیں،رانا تنویر نے کہا کہ یہ حوصلہ پیدا کریں، دو بندوں کو پوائنٹ آف آرڈر کا موقع دیا ہمیں بھی موقع دیں، اسد قیصر کاکہنا تھا کہ ایک منٹ کے لئے بولنے دیں،رانا تنویر کا کہنا تھا کہ جو حقائق ہیں اس الیکشن کے آپ کے سامنے ہیں، ہم نے بڑے حوصلے سے انکی بات سنی،یہ 2018 کا پیدا کردہ ہے، انکو حوصلہ دیں کہ یہ بات سنیں، ان میں حقیقت سننے کی حوصلہ نہیں، 2018 کی پیداورا بارے یہ نہیں سننا چاہتے وہ الیکشن بدترین دھاندلی کا الیکشن تھا، کے پی میں انکو دھاندلی نظر کیوں‌نہیں آتی وہاں‌تو سپیکر کو الیکشن بھی ہوا اور حلف بھی ہوا،عمر ایوب کا سائیکل، شیر نشان تھا، اب کون سا نشان ہے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے اپنے بچے نہیں مانتے کہ یہ جیتے ہوئے ہیں،ہاؤس نامکمل ہے، ہمارے اراکین نے آنا ہے،جناب سپیکر آپ ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں، ہاؤس مکمل نہیں تو کاروائی کیسے ہو سکتی،براہ مہربانی ہاؤس مکمل کریں، یہ آئین و قانون کا معاملہ ہے،مخصوص سیٹوں پر ہم نے رولنگ مانگی ہے،

    gohar

    قومی اسمبلی اجلاس،اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل
    قومی اسمبلی اجلاس،16 ویں قومی اسمبلی کے لیے اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا باقاعدہ آغاز ہو گیا،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی ہدایات پر عمل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا،اراکین کو خالی ڈبے دکھائے گئے ،اراکین کو پولنگ کا طریقہ کار سمجھایا گیا ،اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا،اسپیکر کا چناؤ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو رہا ہے ،ہر رکن کو نامزد اراکین کے ناموں پر مشتمل ایک بیلٹ پیپر دیا جا رہا ہے ،بیلٹ پیپر دیے جانے سے قبل سیکریٹریٹ کے افسر کی جانب سے اس پر دستخط کیے جا رہے ہیں ،پییر کی پشت پر اسمبلی کی مہر بھی ثبت کی گئی ہے ،ووٹ کے لیے سیکریٹری قومی اسمبلی کی جانب سے ارکان کے نام باری باری پکارے جا رہے ہیں.

    علیم خان نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ،سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے لوٹے لوٹے کے نعرے لگائے گئے، احمد رضا مانیکا اور رانا ابرار نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا،آصف علی زرداری نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا .نوازشریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے ووٹ کاسٹ کردیا ,نامزد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا,شہباز شریف کے ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران ایوان میں نعرے بازی کی گئی،ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے اسپیکر کے لیے ووٹ کاسٹ کر دیا،خواجہ آصف نے ووٹ کاسٹ کرتے وقت اپوزیشن کو گھڑی دکھائی،

    شیر افضل مروت نے ایوان میں جوتا لہرا دیا،جوتے لہرانا قوانین کے خلاف ہے،سپیکر
    نامزد وزیراعظم شہباز شریف کو اسمبلی میں آتے دیکھ کر سنی اتحاد کونسل کے رکن شیر افضل مروت نے جوتا لہرا دیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پارلیمان 25 کروڑ لوگوں کی دانشگاہ ہے، ہاؤس میں جوتے لہرانا اور ناشائستہ الفاظ کی ادائیگی اصولوں اور قوانین کے خلاف ہے، پارلیمانی لیڈرز اپنے اپنے اراکین تک یہ بات پہنچائیں،

    joota

    قومی اسمبلی، گیلری سے نعرے لگ گئے،سنی اتحاد کونسل کا احتجاج
    قومی اسمبلی کے ایوان میں بدمزگی، گیلری سے نعرے لگنے پر سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے احتجاج کیا، گیلری میں جا کر نعرے لگانے والے شخص کو پکڑنے کی کوشش کی، سپیکر قومی اسمبلی کے حکم پر مذکورہ شخص کو باہر نکال دیا گیا، عمر ایوب نے ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ کر دیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے کہا کہ اب گیلری سے نعرے لگےتوبرداشت نہیں کریں گے، عمرایوب نے کہا کہ یہاں پر جو شخص بیٹھا تھا اس نے کل بھی بیہودہ گالیاں نکالی ، اسپیکر صاحب آپ نے ایف آئی آر کروانی ہے، ہم اس شخص کیخلاف تحریک لائیں گے۔

    سپیکر کا انتخاب،ن لیگ نے ایم کیو ایم کو منالیا،معاہدے پر دستخط
    ایم کیو ایم قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر گئی،ایم کیو ایم کے تمام ارکان اسحاق ڈار کے چیمبر میں چلے گئے، اس موقع پر مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ معاہدہ دستخط کرنے جارہے، ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی امین الحق فون پر ہدایت دیتے رہے ووٹ نہیں دینا،کمیٹی روم نمبر دو میں ایم کیو ایم اور نامزد سپیکر ایاز صادق کے درمیان مذاکرات جاری ہیں،ایم کیو ایم نے آج کی ووٹنگ میں حصہ نا لینے کا فیصلہ کیا ہے،ایاز صادق ایم کیو ایم اراکین کو منانے میں مصروف تھے اور اس میں کامیاب ہو گئے، ن لیگ نے ایم کیو ایم کو منا لیا،مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم کے درمیان آئینی ترمیم پر معاہدہ ہو گیا،ن لیگ اور ایم کیو ایم میں آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم پر اتفاق ہوا ہے،مسلم لیگ ن کی جانب سے احسن اقبال جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے مصطفیٰ کمال نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں،معاہدے کے مطابق آرٹیکل 140 کے تحت صوبوں کو دیے جانے والے فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیے جائیں گے۔

    قومی اسمبلی میں اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،مسلم لیگ ن کے اسپیکر کے لیے امیدوار سردار ایاز صادق اور سنی اتحاد کونسل کے نامزد امیدوار برائے اسپیکر عامر ڈوگر قومی اسمبلی پہنچ گئے ہیں،سنی اتحاد کونسل کے سردار لطیف کھوسہ، زرتاج گل، بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں، اسد قیصر، علیم خان، عطاء تارڑ، شائستہ پرویز، امیر مقام، حنیف عباسی، سردار یوسف، عاطف خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    نواز شریف کی اسمبلی آمد،شیر آیا،چور آیا، نعروں کا مقابلہ
    سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایوان آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر اور شیر آیا کے نعرے لگا کر استقبال کیا جبکہ سنی اتحاد کونسل اراکین نے مخالف نعرے لگائے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے چور آیا چور آیا کے نعرے لگائے

    پی ٹی آئی کے نامزد سپیکر قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نےپارلیمنٹ پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا آئینی کردار ادا کریں گے اور پھر یہ مطالبہ کریں گے کہ ہمارے چھینے گئے مینڈیٹ کو واپس کیا جائے۔تمام تحفظات اور خدشات کے باوجود الیکشن لڑ رہے ہیں، یہ ہاؤس نامکمل ہے، ہم آئینی کردار ادا کر رہے ہیں، مطالبہ کریں گے جو ڈاکہ ڈالا گیا ہے وہ واپس کریں،

    ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنا یہ جمہوریت کا حُسن ہے،ایاز صادق
    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سپیکر کے امیدوار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ میرے سب دوست اور بھائی ہیں، ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنا یہ جمہوریت کا حُسن ہے، کوئی دشمنی تو ہے نہیں، اسمبلی کا تقدس برقرار رکھنا ہر ممبر کی ذمہ داری ہے، شور شرابا ہوا تو تقاریر نہیں ہوسکیں گی، مسائل پر بات چیت نہیں ہوسکے گی،سیشن چلانا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا چاہے کم لوگ ہوں یا لوگ واک آؤٹ بھی کر جائیں، سیشن چلانا بڑی اور بھاری ذمہ داری ہے، اس کرسی پر بڑے ضبط سے بیٹھنا پڑتا ہے.

    مولانا فضل الرحمان کو آپ منا لیں، خواجہ آصف کا صحافی کو سوال کا جواب
    مسلم لیگ ن کے رہنما ،سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اسمبلی پہنچے تو انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ابھی ووٹ گنے نہیں کہ اسپیکر کو کتنے ووٹ ملیں گے، صحافی نے سوال کیا کہ وزیر دفاع بن رہے ہیں یا وزیر خارجہ؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایم این اے بن گیا ہوں یہی اللّٰہ کا فضل ہے، صحافی نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نہیں مان رہے، کہاں مسئلہ ہے؟ خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ منالیں

    اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق، ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق کے تجویز کنندان میں چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، سید نوید قمر اور اویس احمد لغاری شامل ہیں،ملک عامر ڈوگر کے تجویز کنندان میں صاحبزادہ صبغت اللہ، علی محمد اور ڈاکٹر امجد علی خان شامل، ہیں،قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے سید غلام مصطفی شاہ اور جنید اکبر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ڈپٹی اسپیکر کے لیے نامزد امیدوار غلام مصطفیٰ شاہ کے لیے تجویز کنندان میں محمد رضا حیات ہراج اور اعجاز حسین جاکھرانی شامل ہیں،جنید اکبر کے تجویز کنندان میں محمد ثناء اللہ خان مستی خیل، محمد ریاض خان فتیانہ اور مہر غلام محمد لالی شامل ہیں،اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب بروز جمعہ یکم مارچ 2024 کو ہو گا،قومی اسمبلی کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں 282ممبران قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے،

    مسلم لیگ ن نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کی حکمتِ عملی طے کر لی ہے، مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا ہونے والا اجلاس ختم ہو گیا، اجلاس میں ن لیگ نے حاضر ارکان کے ووٹ جلد سے جلد پول کرانے کا فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن کی جانب سے اپوزیشن کے احتجاج سے متعلق بھی حکمتِ عملی طے کر لی گئی ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا،حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، عمر ایوب، شیر افضل مروت، علی محمد خان، شہر یار آفریدی،حمزہ شہباز،خواجہ آصف، ایاز صادق و دیگر نے شرکت کی.

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • بابر سلیم سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    بابر سلیم سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    سنی اتحاد کونسل کے بابر سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں

    اسپیکر کے عہدے کیلئے سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم سواتی اور پیپلز پارٹی کے احسان اللہ میاں خیل کے درمیان مقابلہ ہوا، جب کہ ڈپٹی اسپیکر کےعہدے کیلئے سنی اتحاد کونسل کی ثریا بی بی اور ارباب وسیم کےدرمیان مقابلہ ہو گا۔ اسیپکر کے عہدے کے لئے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی ہوئی،سنی اتحاد کونسل کے امیدوار بابرسلیم سواتی نئے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی منتخب ہوگئے،مجموعی طور پر 106 ووٹ ڈالے گئے،بابر سلیم سواتی نے 89 اور احسان میان خیل نے 17 ووٹ لیے،مشتاق احمد غنی نے نتائج کا اعلان کیا، بعد ازاں بابر سلیم سواتی نے اسپیکر خیبرپختونخوااسمبلی کےعہدے کاحلف اٹھالیا. جس کے بعد ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے، سنی اتحاد کونسل کی ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی منتخب ہو گئیں، ثریا بی بی 87 ووٹ لے کر خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بن گئیں،ثریا بی بی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چترال کی تحصیل مستوج سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ ثریا بی بی 2024 کے عام انتخابات میں چترال سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 1 پر کامیاب ہونے والی واحد خاتون رکن اسمبلی ہیں۔کل بروز جمعہ صبح دس بجے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کےلیے صوبائی اسمبلی میں انتخابات ہونگے

    خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد نے حکومتی اراکین کو ٹھینگا دکھا دیا,اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے الیکشن کے لیے ثوبیہ شاہد ووٹ ڈالنے کیلئے اٹھیں تو گیلریز سے کارکنان نے جملے کسے جس پر ثوبیہ شاہد نے نامزد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی شکایت کی,خاتون رکن اسمبلی نے نامزد وزیراعلیٰ کو حکومتی کارکنان کے نعروں کی شکایت کی جس پر علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا,

    سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ،

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    خیبر پختونخوا میں تیسری بار تحریک انصاف حکومت بنانے جا رہی ہے، 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی نے صوبے میں حکومت بنائی اور پرویز خٹک وزیراعلیٰ بنے،2018 میں پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ حکومت بنائی اورمحمود خان صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی تاریخ میں واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف حکومتیں بنانے کی ہیٹرک مکمل کی بلکہ مسلسل دوسری مرتبہ صوبے میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔علی امین گنڈا پور اس بار وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں، عمران خان نے اڈیالہ جیل سے علی امین گنڈا پور کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا،

  • تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا

    تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا گیا،

    بانی چئیرمین عمران خان کی جانب سے پیغام دیا گیا تھا جو خط میں لکھا ہے،آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط میں انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لکھا گیا ہے، خط سیکرٹری انفارمیشن پی ٹی آئی رائوف حسن کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ نئے بیل آؤٹ پیکج سے پہلے آئی ایم ایف پاکستان میں سیاسی استحکام کو یقینی بنائے

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق خط ابھی آئی ایم ایف کو موصول نہیں ہوا،کچھ روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستان میں انتخابات پر کوئی رائے دینے سے معذرت کی تھی،ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نئی جمہوری حکومت کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے،رائیٹرز کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے دو ذرائع نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو خط لکھنے کی تصدیق کی ہے،خط میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ، پی ٹی آئی نے خط میں آئی ایم ایف سے صاف شفاف انتخابات سے متعلق اپنی شرائط سے آگاہ کیا ، اور کہا کہ مینڈیٹ کے بغیر حکومت معاشی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی.

    23 فروری کو ایک کیس کی سماعت کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے، آج خط چلا گیا ہو گا، اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو قرضے کو واپس کون کرے گا، اس قرض سے غربت بڑھے گی،جب تک سرمایہ کاری نہ ہو قرض بڑھتا جائے گا،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    عمران نیازی سیاست کرنے کی بجائے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے،حمزہ شہباز
    بانی پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف کو خط پر نائب صدر مسلم لیگ ن حمزہ شہباز شریف کا ردعمل سامنے آیا ہے,حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی سیاست کرنے کے بجائے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو خط کا مقصد معیشت اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ تحریک انصاف اپنے دور حکومت میں ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا گئی تھی۔ عوام دشمن اقدام کے پیچھے طاقت کا کسی بھی قیمت پر حصول کی ہوس ہے۔عمران نیازی کی سیاست فتنہ انگیزی اور انتشار پھیلانے تک محدود ہے۔ تحریک انصاف اس سے قبل بھی آئی ایم ایف پروگرام کی راہ میں روڑے اٹکاتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مطالبہ نظر انداز کر دیا،پی ٹی آئی کا قرض معاہدے سے قبل الیکشن آڈٹ کا مطالبہ،ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے،جولی کوزیک نےپاکستانی سیاست پر تبصرے سے انکار کر دیا اور کہا کہ 11 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی،

  • الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    سنی اتحاد کے چئیرمین حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،

    حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنرل الیکشن کروائے جانے پر الیکشن کمیشن پارٹیوں کو خط لکھتا ہے کہ پانچ فیصد کوٹا خواتین کو دیا جاتا ہے، سنی اتحاد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا،اس کو آرٹیکل 206 کی بنیاد پر پڑھا گیا ہے، چونکہ ہم نے جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، ہم نے یہ کسی جگہ پر نہیں کہا کہ ہمیں مخصوص نشتیں نہیں چاہئیے، ہمارے پاس خط موجود ہے،وہ خط صرف ہمیں نہیں لکھا گیا تمام جماعتوں کو لکھا گیا ہے، میرا بیان حلفی وہاں پر موجود ہے کہ اگر ہم الیکشن لڑیں گے تو مخصوص نشتیں لیں گے، چیف الیکشن کمشنر کی مرضی ہے وہ جو مرضی سمجھ لیں،

    واضح رہے کہ مخصوص سیٹوں کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا،سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے 26 جنوری کو الیکشن کو خط لکھا سربراہ سنی اتحاد کونسل نے خط میں لکھا ہمیں مخصوص نشستیں نہیں چاہیے،بیرسٹر علی ظفر نے خط سے لاعلمی کا اظہار کیا.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    تحریک انصاف ، سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا

    عمر ایوب نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی،عامر ڈوگر ،بیرسٹر گوہر،اسد قیصر، ریاض فتیانہ، علی محمد خان،شیر افضل مروت، ارشد ساہی،شہریار آفریدی سمیت دیگر نومنتخب ارکان اسمبلی نے شرکت کی،تحریک انصاف کےپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمر ایوب کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دی گئی.

    طے پایا ہے کہ ہم اجلاس میں بھر پور شرکت کریں گے،عاطف خان
    سنی اتحاد کونسل کے رہنما عاطف خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پی ہائوس میں ہمارا اجلاس ہوا ہے، خصوصی طور پر ایک قرارداد پاس ہوئی ہے، اس میں یہ طے پایا ہے کہ ہم اجلاس میں بھر پور شرکت کریں گے، جو ہمارے کارکنان اور لیڈران جیل میں ہیں ان کی ضمانت کی جائے، عوام کا ووٹ ان کا حق ہے ان کا حق واپس کیا جائے، آئین کے مطابق ہمیں ہماری ریزروڈ سیٹ ملنی چاہیے،جس کی جتنی سیٹیں ہو گی ان کو اس حساب سے ریذورڈ سیٹ ملیں گی، عامر ڈوگر کا نام اسپیکر اور وزیراعظم کے لئے عمر ایوب کا نام فائنل ہوا ہے،پی ٹی آئی کو جلسے نہیں کرنے دئیے گئے، باقی پارٹیوں نے جلسے کئے اور عوام نے پھر بھی انہیں ووٹ نہیں دیا، عمران خان کا فیصلہ ہے وہ جس مرضی کو منتخب کریں، ہمارا احتجاج چلتا رہے گا ،

    پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو اجلاس کے ساتھ خیبر پختونخوا ہاوس میں ظہرانہ بھی دیا گیا،پارلیمانی پارٹی میں پی ٹی آئی کے سنی اتحاد کونسل میں شامل تمام ارکان قومی اسمبلی کو دعوت دی گئی تھی،پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی حکمت عملی طے کی

    دوسری جانب تحریک انصاف نے عاقب اللہ کو اسپیکر کے پی اسمبلی کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے بھائی اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پارٹی کے سیاسی امور سے متعلق فیصلے کرنے سے روک دیا ہے، نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ پارٹی ذرائع کے مطابق اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کو اسپیکر کیلئے نامزدگی سے ہٹانے کا فیصلہ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر کے شدید ردعمل کے بعد آیا،عمر ایوب نے عاقب اللہ کی جگہ بابر سلیم سواتی کو اسپیکر کیلئے نامزد کرنے کا اعلان کیا ،ہ بابر سلیم کی تعیناتی کا فیصلہ عمر ایوب کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات میں کیا گیا

    اب تحریک انصاف نے اسد قیصر کو سیاسی امور سے متعلق فیصلوں سے بھی روک دیا ، موجودہ سیاسی کمیٹی کو مذاکرات، حکومت سازی سے متعلق روابط سے بھی روک دیا گیا، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب سیاسی جماعتوں کے روابط سے متعلق کمیٹی کے ناموں کا فیصلہ کریں گے، پارٹی کے حتمی فیصلوں کی منظوری عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر دیں گے جس کے بعد سیاسی کمیٹی مذاکرات اور بات چیت کرے گی.

    بہت جلد بانی پی ٹی آئی رہا ہونگے،ہم اپنا مینڈیٹ حاصل کرکے رہینگے،فیصل جاوید
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگوکرتےہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انتخابات میں ہیٹرک کر لی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا،ہیٹرک کا کریڈیٹ خیبرپختونخوا کی عوام کو جاتا ہے،خیبرپختونخوا کی عوام باشعور ہے جو کام کرتے ہے انکو دوبارہ لاتے ہے جو کام نہیں کرتے انکو موقع نہیں دیتے،گڈ گورننس کی وجہ سے پی ٹی آئی نے اس بار کلین سویپ کیا ہے،خیبرپختونخوا کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،پی ٹی آئی کی حکومت سب سے پہلے ہیلتھ کارڈ کو بحال کریگی،اس بار پی ٹی آئی امیدوار عوام کے پاس نہیں گئے بلکہ عوام امیدور کے پاس گئی اور کامیاب کرایا،اس الیکشن میں ہمارے امیدواروں کو کیمپین کا موقع ہی نہیں دیا گیا،بہت جلد بانی پی ٹی آئی رہا ہونگے،ہم اپنا مینڈیٹ حاصل کرکے رہینگے،بانی پی ٹی آئی کی کال پر ہفتہ کو نکلین گے اور اپنا حق لے کر رہینگے،مخصوص نشستوں کے حصول کے حوالے سے قانونی راستہ اختیار کرینگے،کور کمیٹی اس پر کام کر رہی ہے اپنا حق لے کر رہینگے.

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    لاہور:انسداد دہشت گردی عدالت،نو مئی کو مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمہ ،ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو انسداد دھشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا

    انسداد دھشتگردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،عدالت نے مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو چالان کی کاپیاں تقسیم کی جائیں گی ،پراسیکیوشن نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کیخلاف چالان عدالت میں جمع کرا رکھا ہے ،ملزمان نے اعتراض کیا کہ بغیر جسمانی ریمانڈ ہمیں مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا،تفتیشی افسر نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان سے جیل میں تفتیش مکمل کی گئی، ڈاکٹر یاسمین راشد ٫ میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کیخلاف چالان جمع کرا دیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےکہا کہ مریم نواز تقاریر کی بجائے غریب کی بھوک بارے سوچیں، اس وقت غریب لوگوں کے پاس ایک وقت کے کھانے کے پیسے نہیں،رمضان پیکچ سے کام نہیں چلے گا رمضان کے بعد بھی لوگوں نے جینا ہے،عوام کو ریلیف نہ ملا تو عوام انکو نہیں چھوڑے گی، مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،مجھے پتہ ہے غربت کا کیونکہ میں نے 35 سال سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے،لوگوں کے پاس ایک انجیکشن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے،

    عوام نے 8 فروری کو نو مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے،یاسمین راشد
    صحافی نےیاسمین راشد سے سوال کیا کہ اگر ن لیگ عوام کو ریلیف دے تو کیا پی ٹی آئی اس حکومت کو سپورٹ کرے گی ،جس پر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج تک عوام کو کوئی ریلیف دیا ہے جو آج امید لگا رہے ہیں، ایک ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ لینے والی خواتین جیل میں قید ہیں،تین دفعہ کے وزیر اعظم کی بیٹی شدید دھاندلی سے اقتدار میں آئی ہے،فارم 45 میں ہارنے والے فارم 47 میں جیت گئے، عدالتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا ہے،نو مئی کا واقعہ بیچنے والے آج نو فروری والے بن چکے ہیں، عوام نے 8 فروری کو نو مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے،انکے ظلم جبر اور زیادتی کو عوام نے مسترد کر دیا،

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • خیبرپختونخوا اسمبلی،اراکین نے حلف اٹھا لیا،ایوان میں ہنگامہ آرائی

    خیبرپختونخوا اسمبلی،اراکین نے حلف اٹھا لیا،ایوان میں ہنگامہ آرائی

    خیبرپختونخوا اسمبلی کے نو منتخب اراکین کی حلف برداری کے لیے اجلاس تقریباً 2 گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوگیا

    پشاور نامز وزیر اعلی علی امین گنڈا پور اسمبلی ہال کے اندر پہنچ گئے ہیں، علی امین گنڈا پور عمران خان کی تصویر لے کر ایوان میں پہنچے،خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت شروع ہوگیا،خیبرپختونخوا اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب ہوئی،اسپیکر مشتاق احمد غنی نے اراکین سے حلف لیا ، خیبر پختونخوا کے 115 نو منتخب اراکین نے حلف لیا،حلف کے بعد گیلریوں میں موجود افراد نے نعرے بازی کی،اجلاس میں نامزد علی امین گنڈا پور کے والد سمیت دیگر وفات اور شہید ہونے والے پولیس آفیسرز و اہلکاروں کے لئے دعائے مغفرت کی گئی

    خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس آج صبح 11 بجے طلب کیا گیا تھا جو تقریباً پونے ایک بجے شروع ہوا،خیبرپختونخوا اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کل 29 فروری کو ہو گا۔

    ثوبیہ شاہد گھڑی لہراتے اسمبلی پہنچیں،ثوبیہ شاہد پر اسمبلی ہال میں لوٹا اور جوتے پھینکے گئے
    خیبر پختونخواہ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی کارکن ثوبیہ شاہد ہاتھ میں گھڑی لے کر اسمبلی ہال پہنچیں جہاں وہ لوگوں کو ہاتھ میں پہنے جانے والی گھڑی دکھا رہی تھیں کہ اس دوران اسمبلی میں موجود تحریک انصاف کے کارکنان نے ان پر خالی بوتل، جوتا، بال پین اور لوٹا پھینکا لیکن ثوبیہ جاوید مسلسل لوگوں کو گھڑی دکھاتی رہیں، پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پھینکا جانے والا لوٹا ثوبیہ شاہد نے نے وزیر اعلی کی کرسی پر رکھ دیا،اس دوران اسمبلی میں موجود تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید نعرے بازی کی .

    خیبر پختونخواہ انتظامیہ نے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک ہزار سے زائد پاسز ایشو کررکھے تھے جبکہ اسمبلی میں لوگوں کی گنجائش اس سے کم ہے ،اس لئےاجلاس سے قبل ہی اسمبلی میں شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی ،اسمبلی کے اجلاس کو دیکھنے کے خواہشمند افراد دھکم پیل کرتے ہوئے اسمبلی ہال میں گھس گئے، اس دوران لوگوں کے درمیان شدید دھینگا مشتی بھی ہوئی اور جسے جہاں موقع ملا وہ وہاں جاکر بیٹھ گیا،پولیس نے شدید بدنظمی کے بعد اسمبلی کا گیٹ بند کردیا لیکن کارکنان باہر کے راستوں سے پھلانگ کر اسمبلی کی حدود میں داخل ہوگئے، بدنظمی کی وجہ سے کئی میڈیا نمائندوں کوبھی اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا موقع نہ ملا اور بیشتر نو منتخب ارکان کو گاڑیوں کی پارکنگ میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا

    متنازع انتخابات، کمزور اتحادی حکومت،پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، موڈیز

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،
    اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی یا نہیں، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹی گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،علی ظفر
    الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، دونوں طرف سے بحث ختم ہو چکی ہے، آئین پاکستان واضح کہتا ہے جیتنے والی سیٹوں کی تعداد کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائیں،ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن موقع ملے تو دوسرے کا حق غبن کرتی ہیں،آج مخالف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ہم اپنا مخصوص حصہ لے چکے ہیں،قانون میں کہاں قدغن ہے کہ دوبارہ فہرست نہیں دی جا سکتی،اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹیں گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں کوئی حیرات نہیں ہمارا آئینی حق ہے، ہم نے کہا یہ الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑ سکتا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • لانگ مارچ ،توڑ پھوڑ،احتجاج مقدمے میں عمران خان "بری”

    لانگ مارچ ،توڑ پھوڑ،احتجاج مقدمے میں عمران خان "بری”

    سابق وزیراعظم عمران خان کو بڑا ریلیف مل گیا،عدالت نے تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں بری کر دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 9 مئی 2023 کو احتجاج اور توڑ پھوڑ سے متعلق تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں عمران خان ، فیصل جاوید، اسد عمر اور دیگر کو بری کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر نے بریت کی درخواستیں منظور کرنے کافیصلہ جاری کردیا، دوران سماعت وکلاء آمنہ علی،سردار مصروف خان اور محسن غفار عدالت پیش ہوئے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کی جانب سے249اے کے تحت الگ الگ بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں، مقدمہ میں ملزمان کو سزا نہیں سنائی جاسکتی، مقدمہ کا مزید ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہے، عمران خان ،اسدعمر، راجہ خرم شہزاد نواز ، علی نواز اعوان، فیصل جاوید،عابد حسین اور ظہیر خان کی بریت درخواستیں بھی منظور کی جاتی ہیں

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان اسدعمر،علی نواز اعوان اور فیصل جاوید ضمانت پر ہیں، مچلکے واپس لے سکتے ہیں، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وکیل صفائی کے مطابق عمران خان و دیگر ملزمان کو دفعہ 144 نافذ ہونے کا معلوم نہیں تھا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا،عمران خان و دیگر کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوٹر کے مطابق عمران خان و دیگر ملزمان نے جان بوجھ کر جی ٹی روڈ کو بلاک کیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن منظرعام پر نہیں آیا، ایس ایچ او تھانہ ترنول مدعی مقدمہ ہے، پولیس افسر کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں، 11 گواہان چالان میں شامل تھے، ایک بھی بیان ریکارڈ کرانے عدالت نہیں آیا

    واضح رہے کہ ملزمان پر 26مئی2022کو تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کیاگیاتھا،مقدمے میں‌عمران خان و دیگر کو نامزد کیا گیا تھا،

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے