Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل تھے،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا،مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،

    تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت، علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، آپ مقدمہ کیلئے کب تیار ہونگے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پیر کو سماعت رکھ لیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیر تک سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا،ہم تو ہفتے اور اتوار کو بھی سماعت کیلئے تیار ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن قانونی طور تشکیل نہیں دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت درست ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ بات درست نہیں الیکشن کمیشن اپیل قابل سماعت نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگر اپیل کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض ہے تو حامد خان پہلے آپ دلائل دیں۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کی تشکیل قانون طور پر درست نہیں تھی،وکیل حامد خان نے کہا کہ اس معاملے پر دلائل دینے کو تیار ہوں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتائیں سیاسی جماعت انتخابات کیلئے فیڈرل الیکشن کمشنر کیسے تعینات کرتی ہے،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پی ٹی آئی کا فیڈرل الیکشن کمشنر بھی درست تشکیل نہیں ہوا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جمال اکبر انصاری فیڈرل الیکشن کمشنر تھے، تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے،پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی،الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لئے مانگا تھا،الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا،مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کر سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا،کیا کوئی جج بھی اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے،آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا،کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی،

    کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی انتخابی نشان کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اسکے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے، وکیل حامد خان نے کہا کہ متاثرہ فریق اپیل کر سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ حامد خان صاحب ایک آئینی ادارے کا قانونی ادارے سے تقابل نہ کریں،آپ نے جو دوفیصلوں کا حوالہ دیا وہ قانونی اداروں کے حوالے سے ہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہرآئینی ادارہ قانون کے تحت چلتا ہے اورالیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کے قانون کے مطابق چلتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم نے آپ کے اعتراض کو نوٹ کرلیا ہے، آپ کے پاس اعتراضات کرنے کا بالکل حق موجود ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے ہم تیار نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ابھی تک یہ بات سمجھ آئی ہےکہ پارٹی نے اپنے ہی آئین کے تحت الیکشن نہیں کرایا، حامد خان صاحب،آپ دستاویزات داخل کرنا چاہتے ضرور کریں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت الیکشن کمیشن کا ریکارڈ منگوالے توہم وہ بھی منگوالیتے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ یہ درخواستیں کس نے دائر کیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے،

    کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،چیف جسٹس
    اکبر ایس بابر کے وکیل روسٹرم پر آ گئے، اور کہا کہ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ، اکبر ایس بابر فاونڈر ممبر پی ٹی آئی ہے، اکبر ایس بابر پارٹی میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہ پی ٹی آئی کے ممبر کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا؟وکیل حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاونڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟ حامد خان نے کہا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاونڈنگ ممبر ہے کون نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاونڈنگ ممبر نہیں ؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جی میں پارٹی کا فاونڈنگ ممبر ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں،پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں،

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہے،اجلاس کے بعد ڈیڑھ بجے تک کیس کی سماعت دوبارہ شروع کریں گے،دو صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کیلئے انتظار کررہے ہیں،ہم جمہوریت پر چلتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں ہے ہم کب دستیاب ہونگے،ڈیڑھ بجے تک آپ لوگ آزاد ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن سے کیس کی اوریجنل فائل منگوا لی.

    پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کر دیا ، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے آئین پر اعتراض نہیں ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے تحت نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے،وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکرٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ چمکنی کے گرائونڈ میں ہوئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفیکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہونگے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھوٹے سے گم نام گائوں میں انتخابات کیوں کرائے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا،پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟پی ٹی آئی وکلاء جواب نہیں دینا چاہتے تو آگے چلتے ہیں،پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چائیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے، چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی،ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کتنے ممبر ہیں آپ کی جماعت کے؟نیازاللہ نیازی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں، ووٹنگ ہوئی تھی،وڈیوز چلاکر دیکھ لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیازاللہ نیازی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج وکیل نہیں پارٹی ہیں،آپ کوکوئی تمیزہے کہ سینئروکلا کی موجودگی میں اجازت لے کربات کرتے ہیں،آپ کی پارٹی کے وکیل موجود ہیں آپ بیٹھ جائیں،آپ کے سینئر وکلا موجود ہیں ،ہم ہر کسی کو نہیں سن سکتے ،آپ کا وکیل کون ہے آپ پارٹی ہیں،یا تو کہہ دیں کے آپ خود وکیل ہیں ،نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میرے حامد خان وکیل ہیں،

    ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے 2 دسمبر سے پہلے کب الیکشن ہوئے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آخری الیکشن جون 2017 میں ہوئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ان کاکہنا ہےکہ آخری الیکشن دسمبرمیں ہوئے دستاویزات سے بتائیں،کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجر بنچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا،الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لئے دوبارہ کرائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرالتواء درخواست کیا واپس لے لی ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست غیر موثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے،ہم نے پی ٹی آئی کے مقدمہ کیلئے جوڈیشل کونسل اجلاس آگے کیا،پی ٹی آئی انتخابات کرانے آئی تو 12 دن میں انتخابات کی تاریخ دے دی، انتخابات کی تاریخ دی تو علی ظفر خوش اور اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرلز سب خوش، آپ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست لائے ہم نے فوری طور پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا، آپ لاہور ہائیکورٹ گئے وہاں لارجر بنچ بنا دیا،آپ لاہور ہائیکورٹ کو چھوڑ کر پشاور چلے گئے ریلیف مل گیا،اب اور کیا کریں؟

    انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل کرنے کیلئے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہوچکا ہے، انٹراپارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے اس لئے پٹیشن بھی وہیں کیے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پشاور ہائی کورٹ میں فورم شاپنگ کرنے نہیں گئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فورم شاپنگ کی بات آپ نے کی،میں نے نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ پشاور کے علاوہ کہیں بھی سکیورٹی نہیں مل رہی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے،ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے، کیا پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سمیت دو ہائی کورٹس والا نکتہ بھی اٹھایا تھا، لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کی ایک درخواست خارج کر چکی ہے، پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہونے کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کی،چیف جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ نہیں بنے گا، کیا لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو انٹراکورٹ اپیل واپس لے لی گئی تھی، وکیل حامد خان نے کہا کہ جن درخواستوں کا ذکر ہو رہا ہے وہ امیدواروں نے اپنے طور پر دائر کی تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار عمر آفتاب صدر پی ٹی آئی شیخوپورہ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا پارٹی کی جانب سے تھی، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں تضاد تو آ گیا ہے،کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت فریق ہی نہیں تھی تو چیلنج کیسے کرتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ہو دوسری ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا تو فوقیت کسے ملے گی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کو فوقیت دی جائے گی، عمر ایوب کو اختیار نہیں تھا کہ نیازاللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتے،

    جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلے موقف تھا کہ جون 2022 والے انتخابات درست تھے،دوبارہ الیکشن پر جو عہدیدار فارغ ہوئے کیا ان کے حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ کیا پہلے والے انتخابات بھی بلامقابلہ تھے؟ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سال 2021 میں انتخابات کا نوٹس جاری کیا تو جواب آیا کہ کرونا کی وجہ سے نہیں کرا سکتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی شوکاز دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں نگران حکومت کے دبائو میں کام نہیں کر رہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ایک سال کی مہلت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو وقت مانگنے پر ایک سال دیا پھر کہا انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے،پہلے پی ٹی آئی سرکاری پارٹی تھی اب شاید نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ضروری ہے، نیاز اللہ نیازی کا تقرر کسی بھی انتخاب کے بغیر ہوا،

    الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور جماعت کا ہے،الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو بھی اتنی باریکی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر جواب دینگے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو نوٹس کیا گیا تھا،کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک کرہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا، ایکٹ تمام سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل آج بھی اسد عمر ہی ہیں، جسٹس مسرت نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی آگاہی کیلئے قانون میں کوئی طریقہ کار ہے؟ ہر شخص کے پاس واٹس ایپ کی سہولت تو نہیں ہوتی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون صرف شفاف انٹراپارٹی انتخابات کی بات کرتا ہے،

    بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارا جھگڑا 22 دسمبر کے انتخابات کا ہے،سب سے پہلے تو ہائیکورٹ کو ڈکلئیر کرنا تھا کہ انتخابات درست ہوئے، انتخابات درست ہوئے تو انتخابی نشان کا مسئلہ آئے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انتخابات درست قرار دینے کا ڈیکلریشن نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی چیز جمہوریت ہے، ملک اور سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پی ٹی آئی وکیل حامد خان کی تعریف کردی، کہا حامد خان صاحب کل پوری تیاری کرکے آئیں اور مخدوم علی خان کو بولڈ کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پٹیشن میں بھی انٹرا پارٹی انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں تھی، استدعا انتخابات سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور انتخابی نشان کیلئے کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر صرف پارٹی انتخابات درست قرار پاتے تو باقی کسی استدعا کی ضرورت نہیں تھی،لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا الیکشن ایکٹ کی دفعات کالعدم قرار دیے بغیر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوسکتا،کیا پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ میں استدعائیں آئین کیخلاف نہیں تھیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری نظر میں استدعا آئین کیخلاف تھیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسد عمر نے پارٹی عہدہ چھوڑا تو ایسے میں پی ٹی آئی کا آئین کیا کہتا ہے؟ کیا ہنگامی طور پر کوئی سیکرٹری جنرل تعینات ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اگر الیکشن کمشنر کی نامزدگی کریں تو بھی ون مین شو نہیں ہوسکتا، کیا پشاور ہائی کورٹ نے پارٹی انتخابات پر کوئی رائے دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مختصر فیصلے میں پارٹی انتخابات کا ذکر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ "بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے”پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دینے کا مطلب ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،

    تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا حیرت کا اظہار
    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے اس کا کیا بنا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حتمی فیصلہ نہیں آیا پی ٹی آئی کو شوکاز جاری کردیا گیا تھا، شوکاز پر کاروائی ابھی جاری ہے، ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنگل بینچ نے تو شواہد ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں بھی بے پناہ بے ضابطگی تھی،

    انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن نے قانون کو کاسمیٹک کہا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا آپشن نہیں ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نو سال سے ممنوعہ فنڈنگ کیس ہی نہیں ہوسکا، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی چلتی رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا حکم دیا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر مبنی قانون غیرموثر کر دیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بنچ میں آج سماعت تھی علی ظفر نے التواء مانگا،

    اکبر ایس بابر سے بانی رکن ہونے،پی ٹی آئی سے اکبر ایس بابر کو نکالنے کا ثبوت طلب
    وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں نوٹس کیا گیا نہ موقف سنا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا تھا تو پہنچ جاتے،حامد خان بھی آج خود پیش ہوئے ہیں،وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، کاغذات نامزدگی لینے مرکزی سیکرٹریٹ گئے لیکن کچھ نہیں دیا گیا، الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی نے پریس ریلیز جاری کی تھی، ہر شہری کا حق ہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن کر سکتا ہے،اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں کبھی مستعفی ہوئے نہ کوئی اور جماعت جوائن کی، عدالت نے اکبر بابر سے بانی رکن ہونے کا ثبوت مانگ لیا ،پی ٹی آئی سے اکبر بابر کو نکالنے کی دستاویزات بھی طلب کر لی گئی، تفصیلی فیصلہ کب آئے گا، چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے معلومات لینے کی ہدایت کر دی

    پی ٹی آئی کے بلے کے نشان کے حوالے سے کیس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلئے،تحریک انصاف کے وکلا کل دلائل کا آغاز کریں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، ہم بھی تھک گئے ہیں،آپ آج دلائل دیں گے یا کل؟ ہم کل صرف آپ کیلئے بیٹھیں گے، بتائیں کس وقت سماعت رکھیں،ہم انتخابات کروانا چاہتے ہیں ، آپ جو چاہیں گے ہم وہ کریں گے، فیصلہ نہیں صرف سماعت کا وقت، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کل ساڑھے نو بجے دلاٸل شروع کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم سماعت کل دس بجے شروع کر لینگے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادراہ ہے جس کا کام صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • تحریک انصاف نے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف نے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف نے پشاور کی قومی اور صوبائی نشستوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے
    پشاور سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر شاندانہ گلزار، ساجد نواز اور ارباب عامر پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے،ارباب شیر علی اور آصف خان بھی پشاور سے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے میدان میں اتریں گے،پشاور کی نشستوں پر محمود جان، تیمور جھگڑا، کامران بنگش اور ارباب جہانداد صوبائی اسمبلی کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔فضل الہٰی، حامدالحق، عاصم خان، میناخان اورعلی زمان بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی نشستوں کیلئے میدان میں اتریں گے۔

    این اے 1 سے عبدالطیف، این اے 2 ڈاکٹر امجد، این اے 6 محبوب شاہ، این اے 7 بشیر خان، این اے 8 گلداد خان، این اے 9 جنید اکبر، این اے 11 نواز خان، این اے 12 غلام سعید، این اے 13 پرنس نواز خان، این اے 18 عمرایوب، این اے 19 سے اسد قیصر اور این اے20 سے سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کوٹکٹ جاری کیے گئے ہیں،این اے 23 سے علی محمد خان، این اے 35 شہریار آفریدی، این اے 30 شاندانہ گلزار، این اے 41 شیر افضل مروت، این اے 44 سے علی امین گنڈا پور کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے

    پی ٹی آئی نے صوابی سے قومی اسمبلی کی 2 اورصوبائی اسمبلی کی 5 نشستوں پر ٹکٹ دیے ہیں،پی کے49سےسابق ایم پی اے رنگیزخان ، پی کے 50 سے سابق ایم پی اےعاقب اللہ خان، پی کے51سےسابق ایم پی اےعبدالکریم خان، پی کے 52 سے فیصل خان ترکئی اور پی کے 53سےمرتضیٰ خان ترکئی کو ٹکٹ دیے گئے ہیں

    پی ٹی آئی نے کراچی پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر پارٹی ٹکٹوں کا اعلان کردیا
    ملیر این اے 229 سےولی محمد مغیری، 230 پر مسرور سیال،231 پر خالد محمود امیدوار ہیں،کورنگی این اے 232 علیم عادل شیخ،233پر ایڈوکیٹ حارث امیدوار ہوں گے،این اے 234 پر فہیم خان اور این اے 235 سے سیف الرحمان انتخابات کا حصہ ہوں گے،پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر این اے 236 پر عالمگیر خان انتخابی دنگل کا حصہ ہوں گے،این اے 237 سے ایڈوکیٹ ظہور محسود اور 238 پر حلیم عادل شیخ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،این اے 239 یاسر بلوچ جبکہ 240 سے رمضان گھانچی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں،این اے 241 پر خرم شیر زمان، 242 پر دوا خان،243 پر ایڈوکیٹ شجاعت علی امیدوارہیں،این اے 244سے آفتاب جھانگیر،245 پر عطا اللہ خان،246 پر ملک عارف اعوان امیدوار ہیں،این اے 247 بیرسٹر فیاض سمور ،248ارسلان خالد پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،این اے 249 پر بیرسٹر عزیر غوری جبکہ این اے 250 پر ریاض حیدر الیکشن میں امیدوار ہیں۔



  • پی ٹی آئی کے ٹکٹ  چار کروڑ میں فروخت ہونے کی تردید

    پی ٹی آئی کے ٹکٹ چار کروڑ میں فروخت ہونے کی تردید

    پی ٹی آئی کے ٹکٹ چار کروڑ میں فروخت ہونے کے الزام کا معاملہ،پی ٹی آئی کے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ فروخت ہونے کی تردید کردی

    سینیٹر ذیشان خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ تو وہ لوگ کہیں گے جو نہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی اسی طرح برقرار رہے، پی ٹی آئی کا ایک ایک ورکر اور ووٹر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہے،خان صاحب جس کو ٹکٹ دیں گے،ساری عوام ان کے پیچھے ہو گی، اس جوڑ کو کوئی توڑ نہیں سکتا،خان صاحب کا یہی فیصلہ ہے کہ جو اس سخت وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، انہی کو ٹکٹیں دینی ہیں، پی ٹی آئی کے ٹکٹ فروخت ہونے کی ہم سب تردید کرتے ہیں،نہ تو پی ٹی آئی پر پہلے کبھی یہ الزام لگاہے اور ابھی تو بالکل بھی کوئی یہ سوچ نہیں سکتا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان نے الزام عائد کیا تھا کہ پارٹی قیادت چار کروڑ روپے میں امیدوار کو ٹکٹ فروخت کررہی ہے،تحریک انصاف کے نوجوان رہنما سعود شاہ روغانی نے ساتھیوں کے ہمراہ مرکزی سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کیا اور پارٹی کی موجودہ قیادت پر سنگین الزاما ت عائد کیے، سعود شاہ کا کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹ چار کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے ،آج سے ہم عمران خان بچائومہم شروع کرنے اور اپنے امیدواروں کا اعلان کرنے جا رہے ہیں، ہم نے لوگوں کے انٹرویو کئے ان کو ٹکٹ جاری کیے جائیں، ہم نے قیادت کو ایک فہرست دی جس میں امیدواروں کے نام ہیں۔

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    تحریک انصاف پر چار کروڑ میں ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام لگانے والے کو تحریک انصاف سے نکال دیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے صارفین نے اسے شیر افضل مروت کا قریبی ساتھی بھی قرار دیا اور کہا کہ شیر افضل مروت کووضاحت دینی پڑے گی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ سعود شاہ روغانی ہے اور ایڈورڈز کالج پشاور میں میرا سینئر تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ یہ ریحام خان کیساتھ بھی کام کرچکا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا کبھی ممبر نہیں رہا ہے۔ ابھی کچھ مہینوں کا نہیں پتہ کوئی عہدہ رہا ہے یا نہیں۔

  • آج رات ٹکٹ کا اعلان کر دیں گے، بیرسٹر گوہر

    آج رات ٹکٹ کا اعلان کر دیں گے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ آج رات گیارہ بجے سے پہلے ٹکٹوں کا اعلان کروں گا

    اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ٹکٹ کے متعلق مشاورت مکمل ہوگئی ہے۔ آج شام 9 بجے اعلان کردیاجائے گا، ہمیں عدلیہ پر اعتماد ہے، ہمارے ساتھ انصاف ہو گا،ہمارے ساتھ امیدوار کل یا پرسوں‌تک ٹکٹ جمع کروا دیں گے، الیکشن کمیشن کو آرڈر ہو چکا ہے کہ بلے کا نشان الاٹ کیا جائے، الیکشن کمیشن سے استدعا ہے کہ بلے کے نشان کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی کا نشان کے ساتھ جانا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کہ ذمہ داری ہے کہ الیکشن شفاف ہو، عدالت کا احترام کریں اور اس کے فیصلے پر عمل کریں، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے سپریم کورٹ میں جانا الیکشن کمیشن کا حق ہے جب تک سپریم کورٹ فیصلہ کالعدم قرار نہ دے تو الیکشن کمیشن کو عمل کرنا ہے

    دوسری جانب چکوال کےحلقہ این اے 58 سے پی ٹی آئی کے امیدوار معروف صحافی چوہدری ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے چوہدری ایاز امیر کو الیکشن لڑنے کے لیے اہل قراد دے دیا، چوہدری ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظور حلقہ این اے 58 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں، ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اعتراض دائر کئے گئے تھے جو مسترد کر دیئے گئے

    جب تک کسی عدالت سے بریت نہ ہو جرم ختم نہیں ہو سکتا ،فیصلہ
    علاوہ ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،ٹریبونل کے جسٹس طارق ندیم نے 19 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل رائے محمد خان کھرل نے فیصلہ وصول کر لیا، فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا ،عدالت نے ان کی سزا معطل کی ہے جرم ختم نہیں ہوا ،جب تک کسی عدالت سے بریت نہ ہو جرم ختم نہیں ہو سکتا ،سزا معطل ہونا اور بریت ہونا دو الگ چیزیں ہیں ، الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی سزا ابھی تک برقرار ہے ،ابھی تک کسی مجاز عدالت نے الیکشن کمیشن کی سزا ختم نہیں کی ، بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کےخلاف ٹھوس وجوہات ہیں ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کی جاتی ہے ،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے متعلق معاملات کا پی ٹی آئی ہی بہتر بتا سکتی ہے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے،نگران حکومت آئینی اور قانونی حکومت ہے،نگران حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی ہے،الیکشن کمیشن کی مالی، انتظامی اور سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے آئینی طور پر پابند ہیں،سیکورٹی کے مسائل حقیقی ہیں، ہمیں ان کا ادراک ہے، انہیں بہتر کریں گے،ملک میں سوال اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں، انشاءاللہ انتخابات 8 فروری 2024ءبروز جمعرات کو ہوں گے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ میری ملاقات بہت اچھی رہی ہے ، ہر دن اچھا دن ہے اور ہر موقع اچھا موقع ہے، صحافی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی انتخابات میں اپنے نشان کے ساتھ شرکت کرے گی, جس کے جواب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ یہ سوال پی ٹی آئی سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گےکیا نہیں، میں پی ٹی آئی کا ترجمان نہیں،

    واضح رہے کہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی الیکشن کمیشن آمد ہوئی تھی، جہاں انکی الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات ہوئی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن جلد ہی پیٹشن تیار کرے گا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی سماعت کل صبح ہو گی

    قبل ازیں الیکشن کمیشن کی بلے کے نشان کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا تھا سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اپیل واپس کر دی تھی،،رجسٹرار آفس نے اپیل کیساتھ منسلک دستاویزات پڑھے جانے کے قابل ہونے کا اعتراض عائد کیا،

    تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے کی بحالی کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی، تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے،توہینِ عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری اور اراکینِ الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں ،بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا تھاالیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا ،اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹر نے شرکت کی

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا، فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے،

    تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    اڈیالہ جیل: بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے 12 مقدمات کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عدالت پیش ہوئے،تفتیشی افسران کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے مزید 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی ،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز آصف نے کی

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائیکورٹ سے نو مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی ، پرویز الہیٰ بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، مراد سعید، حماد اظہر سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما روپوش ہیں،

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے،بیرسٹر گوہر

    نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی آئی عمران خان سے آج ملاقات ہوئی ،ٹکٹوں سے متعلق پراسس کل مکمل ہوجائے گااور پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا،بلا پی ٹی آئی نہیں پاکستانی عوام اور ان کے حقوق کی نشانی ہے،الیکشن کمیشن نے ہر مرحلہ پر روکنے کی کوشش کی ،نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے ،آنے والا الیکشن کوئی بھی ہوتا کرپشن کا بازار لگ جاتا ،دنیا کے تمام قوانین میں کسی سیاسی پارٹی سے نشان لینے کا قانون نہیں، ہم نے ایسے الیکشن کرائے جس طرح کسی پارٹی نے نہ کرائے،

    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ کل ٹکٹ کا اعلان کریں گے ملک کے ہر حلقہ میں امیدوار ہوگا ،تمام ٹکٹ جو دستخط کرکے جاری کریں گے میڈیا سے شیئر کریں گے،ٹکٹوں کیلئے پیسوں کے لین دین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر کمیٹیاں بنی ہیں،کل پکا فائنل ہے پرسوں مجھے ملاقات کی اجازت نہ ملی ،کل پشاور ہائیکورٹ مصروف تھا آج ملاقات ہوئی ،باہرملکوں کے کیسز سے متعلق بات نہیں ہوئی، کل سائفر کیس لگا ہواہے ہورا یقین ہے عدالت سے ریلیف ملے گا اوپن ٹرائل ہوگاسائفرکیس حکومت کے خلاف نہیں ہے،ملکی سلامتی کیلئے ہے،پوسٹل بیلٹ کیلئے ابھی اپلائی نہیں کیا،بانی پی ٹی آئی کو بہت سارے کیسز میں ملوث کیاجارہاہے ،8 فروری کو پی ٹی آئی کی جیت اور دوتہائی اکثریت ہوگی عوام کی آواز سنی جائے گی ،اگر سابق چیئرمین پی ٹی آئی ادھر ہی ہوئے تو پوسٹل بیلٹ کیلئے اپلائی کریں گے،آٹھ فروری کو انشاء اللہ پی ٹی آئی جیت کر دکھائے گی،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    سپریم کورٹ،انتخابی نشان بلے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست ہوئی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چئیرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر روسٹرم پر آگئے اور بیرسٹر گوہر علی خان نےکہا کہ انتخابی نشان بلے کی درخواست واپس لیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں درخواست گزار کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان نے عدالت میں کہا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کھڑےنہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟ حامد خان نے کہا نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی آکریہ دعویٰ کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں لی تھی توپھر؟ علی ظفرکہاں ہیں، انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟ حامد خان نے کہا نہیں، علی ظفر کو اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں.سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی وکیل نے درخواست واپس لینے پراعتراض نہیں کیا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا آج فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی امیدوار پارٹی ٹکٹ لے سکیں گے، تاخیر ہوئی تو چاہے فیصلہ ان کے حق میں ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا فیصلے میں تاخیر سے تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہو جائے گی، آج ہماری سپریم کورٹ میں درخواست لگی ہوئی تھی لیکن ہمارا مرکزی کیس پشاور ہائیکورٹ میں بھی لگا ہوا ہے آج 11 بجے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ سے آرڈر آجائے گا، اس لیے ہم نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے