Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ڈھلوں نے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، گزشتہ روز عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج عدالت نے سنا دیا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کی جسے عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیدیا،عدالت نے عمر ڈھلوں کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے خارج کردیا۔

    تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے وہاں لاہور ہائیکورٹ دخل اندازی نہیں کر سکتی۔انتخابی نشان کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ایک ہی معاملے پر دو جگہ سماعت سے تضاد کے باعث الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اس موقع پر درخواست یہاں قابل سماعت نہیں ہے۔ جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • ایمان طاہر پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار

    ایمان طاہر پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار

    تحریک انصاف کی رہنما ایمان طاہر کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا

    تحریک انصاف کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی طاہر صادق کی صاحبزادی ایمان طاہر کو پشاور پولیس نےعدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا، ایمان طاہر کو پشاور ہائی کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا، وہ راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئی تھیں،

    پشاور ہائی کورٹ نے آج صبح ایمان طاہر کی راہداری ضمانت منظور کی تھی اور انہیں ایک ایک لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا تحریری حکم نہ ملنے پر جب وہ ہائیکورٹ سے باہر نکلیں تو پولیس نے ایمان طاہر کو گرفتار کرلیا،اس دوران وکلاء نے احتجاج بھی کیا،خالد سپاری رہنما انصاف لائیر ونگ کو بھی پشاور ہائیکورٹ سے گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایمان طاہر کو گرفتار کرنے پر روک رہے تھے تو پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر لیا

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض خان کا کل فون آیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر تحفظ دے تو میں عدالت میں آ کر سب بتائونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا کسی کے لیے ریڈ کارپیٹ بیچھائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آپ تحفظ تو دے سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فوج ہے جو تحفظ دیں،

    شعیب شاہین نے صحافی مطیع اللہ جان کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل تو آپ مطیع اللہ جان کا نام نہیں لے رہے تھے آج ان کے کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،اس وقت جس کی حکومت تھی کیا اس نے ذمہ داری لی ؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس وقت کی حکومت کی مداخلت سے ہی وہ پہلے دن رہا ہوگئے، عمران ریاض 4 ماہ لاپتہ رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں ایسا بالکل نہیں ہوا تھا یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے آپکی،مطیع اللہ جان واقعے کی ویڈیو ریکارڈ ہوگئی تھی جس وجہ سے رہا کرنا پڑا،مطیع اللہ جان کیس ایک ریکارڈڈ دستاویزی کیس تھا، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض والے واقعے کی بھی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رک جائیں مجھے اب بات کرنے دیں،اگر اس وقت آپ لوگ سامنا کرتے تو آج والے واقعات نہ ہوتے، اگر مطیع اللہ جان کی رہائی میں آپکی کوئی مداخلت تھی تو ریکارڈ پر لائیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض کی کل مجھے کال آئی ، عمران ریاض کا پیغام ہے کہ اگر عدالت انہیں سیکورٹی دے تو وہ آکر سب بتانے کو تیار ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر اس فورم کا سیاسی استعمال کرہے ہیں، ایک واقعہ ابصار عالم کا ہوا تھا، ہم نے کہا میڈیا پر بات کرنے کی بجائے عدالت آکر بولیں، وہ آئے اور انہوں نے ادھر بات کی۔ جو آپکو فون کرکے کہہ رہا ہے اسکے لیے کیا ریڈ کارپٹ بچھایا جائے اور پھر وہ ادھر آئینگے، آپ اسکو سیاسی اکھاڑا نہ بنائیں،شیخ رشید نے آپکو کیا کہا؟ الیکشن کیس میں شیخ رشید عدالت آ سکتے ہیں تو اس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جو اپنے لیے بات نہیں کر سکتے تو وہ کسی کیلئے کیا بات کرینگے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایجنسیوں کے کردار پر فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس سے لاپتہ افراد کا کیا تعلق ہے؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں لیکن ایجنسیوں کے آئینی کردار کا ذکر موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے میں قانون کے مطابق احتجاج کے حق کی توثیق کی گئی ہے،کچھ دن پہلے مظاہرین کو روکا گیا تھا اس حوالے سے بتائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالت نے سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حیرت ہے آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، پہلے دن سے ہی فیض آباد دھرنا فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں،

    پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟چیف جسٹس کا آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ
    آمنہ مسعود جنجوعہ عدالت پیش ہوئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں، آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ میں سچ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے خاوند کو کس نے غائب کیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے تھے اور اس وقت حکومت کس کی تھی؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ مشرف کی حکومت میں میرے بزنس مین شوہر کو اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کارباری شوہر کا حکومت یا ریاست سے کیا تعلق تھا؟ ریاست کس وجہ سے آپ کے شوہر کو اٹھائے گی؟پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے میرے شوہر کو 2013 میں مردہ قرار دیدیا تھا،میرے شوہر دوست سے ملنے پشاور کیلئے نکلے لیکن پہنچے نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار آمنہ جنجوعہ سے پوچھا کہ لوگوں کو اب بھی لاپتہ کیا جارہا ہے؟ آمنہ جنجوعہے ہاں میں جواب دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشنز دیں کہ؛ "لوگوں کو 2002 سے لاپتہ کیا جارہا ہے، ماضی میں لاپتہ کئے گئے لوگوں کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر نہیں آتی، ہم پرانا مسئلہ تو حل نہیں کرسکتے، شائد اب رکوا دیں یہ سلسلہ، آج ہی ہم حکم جاری کردیتے ہیں کہ اب سے لوگوں کو نہ اٹھایا جائے، اٹارنی جنرل صاحب آپ وفاقی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آئندہ لوگوں کو لاپتہ نہیں کیا جائے گا؟ اٹارنی جنرل بولے بالکل یہ یقین دہانی کرواتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ اگر آپ کی یقین دہانی کے بعد لوگ لاپتہ ہوئے تو اس کے نتائج ہونگے۔”

    سپریم کورٹ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب مانگ لیا ،عدالت نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے کیس کو سنجیدگی سے لیا جائے،اٹھارہ سال گزر گئے ہیں سچائی جاننا آمنہ جنجوعہ کا حق ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا،بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے،عدالت کا کام نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلے،

    لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،اعتزاز احسن
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں سپیشل بنچ بنا چکی ہے جو کمیشن کارروائی کو سپروائز کرتا تھا،سپیشل بنچ نے وہ کیسز دیکھنے تھے جن میں پروڈکشن آرڈر پر عمل نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کو جب علم ہی نہیں کہ بندا کہاں ہے تو پروڈکشن آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمیشن ابتدائی انکوائری میں تعین کرتا ہے کہ کیس جبری گمشدگی کا ہے بھی یا نہیں،لاپتہ افراد کمیشن کے احکامات پر حکومت عملدرآمد نہیں کرتی، کمیشن نے 700 پروڈکشن آرڈر جاری کیے عملدرآمد صرف 51 پر ہوا،اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ریٹائر جج سربراہ ہوگا تو شاید وہ عملدرآمد نہ کروا سکے، لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی ایشو ہوتا ہے تو ہم اپنے ہی جج کیخلاف کاروائی یا پوچھ کیسے کریں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے، کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ دیں،آج جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کے حوالے سے،آج مزید سماعت کرنا ممکن نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمیشن نے کیا کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اختر مینگل نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں کسی کے ذاتی مسائل نہیں سنیں گے، عدالت نے منگل تک لاپتہ افراد کمیشن سے تمام مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں ،عدالت نے کمیشن کو تمام پروڈکشن آرڈرز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ اٹارنی جنرل آگاہ کریں پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے حکومت کا کیا موقف ہے،

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو پریس کلب کے سامنے بیٹھے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ہراساں کرنے زبردستی اٹھائے جانے اور ان کی کسی بھی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے روک دیا۔اور کہا ہم امید کرتے ہیں ان کو تنگ نہیں کیا جائے گا کیونکہ احتجاجا کرنا ان کا قانونی اورآئینی حق ہے۔لاپتہ افراد کیس میں ذاتی مسئلے نہیں سنیں گے، لاپتہ افراد کیس کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی گئی.

    لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے،چیف جسٹس
    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کیخلاف دائر اپیلیں واپس لے لیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہوچکا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا معاملہ زاتی نہیں بلکہ ایک نیا پیٹرن شروع ہوا ہے، لاپتہ کرنے کا اب نیا طریقہ متعارف کروایا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے، جو گھر واپس آ چکا ہے وہ مجاز قانونی فورم کا استعمال کرے، اعتزاز صاحب اگر متفق نہیں ہیں تو رجسٹرار اعتراضات کالعدم قرار نہیں دینگے، سپریم کورٹ نے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء اور ان پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کرلیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے.

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • آئی ایم ایف نمائندوں سے ملاقات ہوئی نہ بیان دیا،بیرسٹر گوہر

    آئی ایم ایف نمائندوں سے ملاقات ہوئی نہ بیان دیا،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام اور مستقبل میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں اس پر عمل درآمد سے متعلق اپنی حمایت واپس لینے کا عندیہ دیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کرنے والے پی ٹی آئی کے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے تعاون کی یقین دہانی واضح طور پر صاف اور شفاف انتخابات سے مشروط تھی جو کہ اب دکھائی نہیں دیتے لہذا وہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے اپنی حمایت واپس لے رہے ہیں،اس ضمن میں پی ٹی آئی نے جیل میں قید اپنے بانی چیئرمین کا بیان بھی جاری کیا ہے جس میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ہے

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کےنمائندوں سے منگل کو نہ ملاقات ہوئی نہ ہی ایسا بیان دیا ہے،جس انداز میں بیان شائع کیا گیا وہ غلط ہےہم چاہتے ہیں فری اینڈ فیئر الیکش کرائے جائیں،اگر نہ کرائے گئے تو ائی ایم ایف معاہدے سمیت معیشت پر اثر پڑے گا،صحافی نصرت جاوید نے جو کہا وہ درست نہیں ہم اعلامیہ بھی جاری کریں گے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو ماضی میں بھی آئی ایم ایف پروگرام متاثر کرنے کے الزامات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی آڈیو سامنے آئی تھی،سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، محسن لغاری اورتیمور جھگڑا کی مبینہ آڈیو بھی سامنے آ چکی ہے جس کے مطابق مبینہ طور پر آئی ایم ایف کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا

    واضح رہے کہ پاکستان نےعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ڈالر کے لیے مارکیٹ کی بنیاد پر شرح مبادلہ طے کرنے کے لیے یقین دہانی کرا دی ہے، آئی ایم ایف کا اجلاس 11 جنوری 2024 کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا جس میں پاکستان کو قرض کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی آئی ایم ایف اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پاکستان کی درخواست پر پہلے جائزے کی تکمیل کرے گا اور اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط 11 جنوری 2024 کو جاری ہوسکے گی۔

     شوکت ترین پر غداری کے مقدمے میں ایف آئی اے نے مزید پیش رفت شروع کر دی۔

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا تیسرا اور آخری دن ہے، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    فہمیدہ مرز کےمخصوص نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی مسترد،نااہل قرار
    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر و سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں کہا کہ فہمیدہ مرزا الیکشن کے لیے نا اہل قرار دی جاتی ہیں،فہمیدہ مرزا کے 2 ملین روپے کی نادہندہ ہونے کا اعتراض سعدیہ جاوید نے داخل کیا تھا،اسٹیٹ بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ فہمیدہ مرزا کی کمپنی نادہندہ ہے، وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں. فہمیدہ مرزا پر آئین کےآرٹیکل 63 ون این کا اطلاق ہوتا ہے

    پیپلز پارٹی کے حلقہ این اے 56 سے امیدوار میاں خرم رسول کی اپیل سماعت کیلئے منظور
    ریٹرننگ آفیسر نے بنک ڈیفالٹر اور نیب کیس سزا کی بنیاد کاغزات نامزدگی مسترد کئے تھے،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی امیدوار کی سزا معطل ضمانت پر رہائی ہوچکی ۔امیدوار کسی مالیاتی ادارہ کا ڈیفالٹر نہیں ہے۔ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن ٹربیونل نے 6 جنوری کو ریٹرننگ آفیسر سے جواب اور ریکارڈ طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے 2620 امیدوار،1996 کاغذات نامزدگی منظور،624 مسترد ہوئے
    تحریک انصاف کا ایک اورجھوٹ بےنقاب، صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور اورصوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کےکل 2620امیدوارنےکاغذات نامزدگی جمع کروائےان میں سے1996امیدواروں کےکاغذات نامزدگی منظور جبکہ 624 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔جو76اشاریہ18فیصد ہے۔کئی دنوں سےشورتھاکہ80فیصد لوگوں کےکاغذات مستردکر دیےگئےہیں۔

    تحریک انصاف کے بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لئے 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے17کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 22 کے منظور کیے گئے،بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لئے 90 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس میں سے 37 منظور جبکہ 53 مسترد ہوئے ہیں

    تحریک انصاف کے پنجاب اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے لئے 389 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جن میں سے 127کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 262 منظور ہوئے،پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے 769 امیدواروں میں سے 601 کے کاغذات منظور جبکہ 168 کے مسترد کئے گئے،تحریک انصاف کے سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے 181 امیدواروں میں سے 46 کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 135 کے منظور کیے گئے،سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے 423 امیدواروں میں‌سے 346 کے منظور اور77 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے234 میں سے 55 امیدواروں کے کاغذات مسترد اور 179 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،کے پی کی صوبائی اسمبلی کے لئے 495 امیدواروں میں سے 414 کے کاغذات منظور جبکہ 81 کے مسترد ہوئے ہیں.

    عمران خان کے میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائرکر دی گئی،اپیل کو 160/24 نمبر لگا دیا گیا۔ اپیل کی سماعت کل جسٹس چوہدری عبدالعزیز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی 1 نشست سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری انتخابات کی دوڑ سے باہر
    قاسم سوری کی جانب سے آر اوز کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں درخواست جمع نہیں کرائی گئی،ایپلٹ ٹربیونل میں آج اپیل دائر کرانے کا آخری روز تھا،شام چار بجے تک پی ٹی آئی کی جانب سے قاسم سوری سے متعلق کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی،قاسم سوری نے این اے 263پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،جانچ پڑتال کے دوران آر اوز کی جانب سے انکے کاغذات مسترد کئے گئے تھے،قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے 2018 کے انتخابات میں قاسم سوری کامیاب ہوئے تھے،سال 2018 کے انتخاب میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ان کے مدمقابل تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل ٹریبونل میں دائر
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کی ،اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ،اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    اشتہاری ملزم نے سرنڈر نہ کیا ہو تو اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟ ہائیکورٹ
    راولپنڈی ۔کاغذات نامزدگی مسترد خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی،ٹی ایل پی،پی پی سمیت کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم نے آئیں اور قانون کو دیکھنا ہے میرٹ پر چلیں گے۔اشتہاری ملزم ہو اور عدالت میں سرنڈر بھی نا کیا ہو۔اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟کوئی سزا یافتہ ہے یا نہیں؟مگر اشتہاری ہے اور عدالت بھی پیش نہیں ہوا وہ نااہل ہوگا۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 60 سے تحریک لبیک کے اشفاق اور این اے 89 میانوالی سے عامر خان کی اپیلیں خارج کر دیں،،الیکشن ٹربیونل جج چودہری عبدالعزیز نے فیصلہ سنا دیا

    کوئٹہ،آر او کے فیصلے کالعدم، متعدد امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی ملی اجازت
    کوئٹہ؛ اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 سے آزاد امیدوار سردار خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 42 آزاد امیدوار جمعہ خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 49 سے پی ٹی آئی امیدوار سید عبدالحئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ میپ کے امیدوار علی پراچہ کی اپیل پر سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کے کاغذات پی بی 42 سے مسترد ہوئے تھے،

    ریٹرننگ افیسران کے فیصلوں پر ٹربیونل نے اظہار برہمی کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت میں ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے، سیکوٹنی کے لئے اس ہی لئے وقت دیا جاتا کہ آر اوز چیزیں مکمل کرسکے،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ فوری طور پر متعلقہ آر او کو طلب کریں، حلقہ پی بی 41 سے مولانا محمد ایوب ایوبی کے کاغذات نامزدگی فارم منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پی بی 42 سے اسلم رند ، پی بی 40 سے دوست محمد ،پی بی 39 سے عالمگیر خان ، پی بی 40 سے آزاد امیدوار خادم حسین کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی،جمعیت علماءاسلام کے امیدوار میر ظفر زہری کے 2 اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،میر ظفر زہری نے بی پی 18 اور پی بی 35 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی، بی پی 16 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار فائق جمالی کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیئے گئے،بی پی 36 سے بی اے پی کے امیدوار روبینہ عرفان کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیا گیا، این اے 266 سے پی ٹی آئی کے امیدوار عصمت اللہ کی کاغذات نامزدگی منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،این اے 263 سے بی این پی کے امیدوار میر مقبول لہڑی کی کاغذات نامزدگی منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونےکیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
    این اے 130 ، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،ایپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اشتیاق احمد نے اپیل دائر کی ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی.

    عمران خان کے وکیل کے کاغذات مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کو نوٹس جاری کر دئیے،جسٹس راحیل کامران نے بطور ایپلٹ ٹربیونل سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،استدعا

    این اے 89،90،بیرسٹر عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں قائم الیکشن ٹربیونل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے ریٹرننگ افسران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی آر اوز نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کاغذات کیوں مسترد کئے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ درج ہے مگر مجھے معلوم نہیں، عدالت نے پیپلز پارٹی امیدوار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمے کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا؟ وکیل نے کہا کہ یہ چوری کا کوئی گمنام مقدمہ ہے جس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف امیدوار محمد امجد کی اپیل پر سماعت ہوئی ،وکیل نے کہا کہ میرے کاغذاتِ نامزدگی انکم ٹیکس کی وجہ سے مسترد ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کے پاس ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے اختیارات ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس اس طرح کا کوئی اختیار نہیں،ریٹرننگ افسر کا کام صرف کاغذات کی جانچ پڑتال کرنا ہے، وکیل درخواست گزار

    کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف فرزند حسین شاہ کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لینڈ لائن کا 8 ہزار کا بل تھا جو جمع نہیں تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے، عدالت نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس تو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو خود کلئیر کریں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف جمشید محبوب کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دو گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے خلاف دو مقدمات درج تھے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف محمد رفیق کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹیکس ڈیمانڈ اور لینڈ لائن بل کا معاملہ تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے تینوں حلقوں سے یہی اعتراض ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی تینوں حلقوں میں بل اور ٹیکس ڈیمانڈ کا اعتراض ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف چوہدری واجد ایوب کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے پر بجلی بل جمع نہ کرنے کا اعتراض ہے،بجلی بل جمع کرایا، اور ٹیکس بھی جمع ہے، وکیل درخواست گزار

    امیدوار چوہدری آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری پراپرٹی تھی جو میں فروخت کرچکا ہوں، جس پراپرٹی کو بیچ چکا اسی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،

    ملک نوید اعوان کا کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اعتراض یہ ہے کہ میں متعلقہ حلقے کا ووٹر نہیں،حالانکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے خود مجھے این اے 48 کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،اپلیٹ ٹریبیونل نےا الیکشن کمیشن کو آر آوز سے ریکارڈ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے تمام اپیلوں پر سماعت 5 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی

    شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل پر فیصلہ محفوظ
    اسلام آباد:الیکشن ٹریبونل،پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ شعیب شاہین کے نامزدگی فارم مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے آپ کو سنا نہیں ؟ شعیب شاہین نے کہا کہ میں نے میڈیا کی موجودگی میں کہا مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا ریٹرنگ افسر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ امیدوار کو مناسب وقت دے گا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پچھلے 3 سال کی ٹیکس ریٹرن میں اپنے آپ کو پراپرٹی کا آنر ظاہر کیا ، عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے ؟؟ جس میں آر او امیدوار کو وقت دے؟کوئی ایسی ججمنٹ ہے آرٹیکل 63 کے حوالے سے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نثار کھوڑو اور عمران نیازی کی ججمنٹ پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ 29 اور 30 دسمبر سکروٹنی کی آخرج تاریخ تھی؟ سیکورٹی کے اس سارے عمل سے کیا تعلق ؟شعیب شاہین نے کہا کہ 30 کو جب سکروٹنی کے لیے گیا تو تینوں آر اوز نے کہا کہ آپ کے خلاف کچھ نہیں ہے، مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس نہیں آیا ،عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا،وکیل الیکشن کمیشن ثمن مامون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر درخواست گزار کو ٹیکس ریٹرن یا دیگر بقایاجات کا نہیں پتہ تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد نہیں ہوگی، اگر چھ ماہ سے زائد کے بقایاجات اگر جمع نہیں تو پھر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کے فارم میں موجود ہیں؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق تمام چیزیں فارم 17 میں موجود ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا آپکو پتہ ہے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا مجھے علم ہے مگر میں یہاں اس پر دلائل نہیں دونگی، درخواست گزار نے تین سالوں سے اس پراپرٹی کو اپنی ملکیت ظاہر کردی، درخواست گزار خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے خود چیک کیا اور کہا کہ مجھے پتہ تھا،اب اگر کوئی تین سالوں تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کریں گے تو یہ انکا مسئلہ ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ریٹرننگ افسر درخواست گزار کو بقایاجات کلئیر کرنے کے لیے وقت دیں؟ آپ کے پاس آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟ یعنی ہم یہ کہیں کہ درخواست گزار کو پتہ تھا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہے؟ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے والے عدالتی فیصلوں کو جمع کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بقایاجات نہ ہو تو اس پر آپ کے کیا دلائل ہونگے؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کہ مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس آیا اور نہ ہی میں ڈیفالٹر ہوں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ جمعہ کو آپ ججمنٹس کے ساتھ آئیے گا ، شعیب شاہین کے حلقہ این اے 46 47 48 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوں گے یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، جسٹس ارباب محمد طاہر فیصلہ سنائیں گے.

    اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟جسٹس ارباب محمد طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی،سید ظفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ خود الیکشن لڑ رہے ہیں ؟سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ جی میں خود لڑ رہا ہوں، پوچھا گیا کس جماعت سے تعلق ہے، واضح لکھا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک گاڑی کے حوالے سے اعتراض ہے، سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ گاڑی میں نے 3 سال پہلے بیچ دی تھی ، عدالت نے کہا کہ آپ کوئی ایفیڈیوٹ یا ٹرانسفر لیٹر جمع کروائیں ،جمعہ کے لیے نوٹس کردیتے ہیں،جمعہ کو اس کیس کو میرٹ پر سنیں گے ،جن امیدواروں کے بلز یا دیگر ادائیگیاں نہیں ہوئیں ریٹرننگ افسر اُنہیں اعتراض دور کرنے کیلئے وقت دینے کا مجاز تھا. اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

    این اے 122، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کی اپیل دائر
    این اے 122 سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ،اپیل میں‌مؤقف اپنایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ٹریبونل ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے .

    الیکشن ٹریبونل نے این اے 214 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی اورزین قریشی کی اپیل پر الیکشن کمیشن،آر او اور دیگر سےجواب طلب کرلیا ،ٹریبونل نے این اے 238 سے پی ٹی آئی امیدوارحلیم عادل شیخ، این اے 241 پیپلزپارٹی امیدوارمرزا اختیار بیگ اور این اے 234 سے ایم کیو ایم امیدوار صادق افتخارکی اپیل پربھی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ،این اے 241 سے پی ٹی آئی امیدوار ارسلان خالد کی اپیل پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ الیکشن ٹریبونلز نے الیکشن کمیشن اور دیگر سے 5 جنوری تک جواب طلب کرلیا ،

    ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کرنے کا آج آخری دن،بیشتر امیدواروں کی پہلے ہی سے اپیلیں دائر ہیں جن پر آج اور کئی کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ،شیخ رشید کے این اے 56/57 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل پر سماعت آج الیکشن ٹریبونل راولپنڈی میں ہوگی۔اسسٹنٹ ڈاِئریکٹر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عمیر نیازی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی آج تک کیلئے مہلت مانگی تھی ۔اٹک سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی اپیلوں پر سماعت الیکشن ٹربیونل میں کل 4 جنوری کو ہوگی ۔سابق وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ کے این اے 55 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت کل 4 جنوری کو ہوگی ۔پی ٹی آئی سابق ایم پی اے راجہ راشد حفیظ اور پیپلز پارٹی کے بابر جدون کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ۔پی ٹی آئی کے تین امیدواروں کی اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔اپیلیں دائر کرنے والوں میں این اے 55 اور پی پی 15 سے امیدوار زیاد خلیق، ایرج شاہنواز، انعم زاہد شامل ہیں،چوہدری پرویز الٰہی نے بھی الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کے منظور یا نامنظور ہونے بارے آج فیصلہ ہوگا ۔

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا
    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کیخلاف کل سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے،تحریک انصاف سے بلا لینے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا، آپ ہم سے انتخابی نشان بلا لیں گے تو دنیا کبھی الیکشن قبول نہیں کرے گی،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ پارٹی سےانتخابی نشان لینا اسے تحلیل کرنے کے مترادف ہے سپریم کورٹ تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال نہیں کرتی تو ہر امیدوار الگ الگ نشان پر لڑے گا جس سے کنفیوژن پیدا ہوگی،اس سے آپ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے 26 دسمبر آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے حکم امتناع واپس لے لیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل منظور کی اور الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا،

    جسٹس اعجاز خان نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہنمد اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمانخیل عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپکے دلائل ہم نے سنے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لئے آیا ہوں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سینئر وکیل قاضی انور آرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپکا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے

    الیکشن کمیشن کیخلاف آپکی توہین عدالت کی درخواست نہیں آئی،پشاور ہائیکورٹ کے جج کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ
    دوبارہ سماعت ہوئی، تو پی ٹی آئی کے سینئر وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ پیش ہو گئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ قاضی انور ایڈووکیٹ میرے استاد ہیں، میں نے وکالت کی پریکٹس ان کے ساتھ شروع کی تھی،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اور بیرسٹر گوہر اس کیس میں وکیل ہیں،سیاسی جماعتوں نےعدالت میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہیں،جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ سے سیکھا ہے کہ قانون کے لیے یہ باتیں بے معنی ہیں عدالت سے باہر کیا ہوتا ہے اس کا سماعت کے ساتھ کچھ کام نہیں،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، ادھر آتے ہوئے مجھے روکا گیا،میری تلاشی لی گئی، کیا الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت آ سکتا ہے؟ ان کی رٹ ٹھیک نہیں ہے، 26 دسمبر کو فیصلہ آیا، اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن نے اب تک ویب سائٹ پر انٹرا پارٹی انتخابات سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ کیا اس کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی ہے۔ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت درخواست نہیں آئی۔ قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے الیکشن کمیشن بتائے انھیں نے کیا کیا۔9 جنوری کو سماعت کے لئے مقرر ہے, 9 جنوری میں کتنے دن باقی ہیں،الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔یہ کیس 9 تاریخ کو ڈویژن بینچ نے سننا،جب انہوں نے ویب سائٹ پر سرٹیفکیٹ پبلش نہیں کیا تو ان کو مسئلہ کیا ہے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ یہ اب ان سے ہم پوچھیں گے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے مشکلات ہے۔جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ؟

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کو پہلے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا پھر یہاں آگئے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں ہے، معلومات کروں گا، اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل والے بھی پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا ہے ہم اس میں فریق نہیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ اس دن پیش ہوئے لیکن پھر بعد میں ان کو پتہ چلا، اور ان کو کسی نے بتایا کہ آپ کا کام نہیں ہے، اس دن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک گھنٹے سے زائد دلائل دیے، ہم کہتے رہے آپ دلائل پیش نہ کریں آپ کا کام نہیں،

    عدالت نےفریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےپاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینےکااختیار نہیں،پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 انتخابات بلےکے نشان پر لڑے ہیں،

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟جاوید لطیف

    کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر ،مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ مخالفین اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کیلیے کے پی حکومت میں ہزاروں لوگ سوشل میڈیا کیلیے بھرتی کیے گئے , اربوں روپیہ سوشل میڈیا پر بیانیہ بنانے والوں کو دیا جاتا رہا سوال اٹھتا ہے کہ آج انکو کہاں سے تنخواہ دی جارہی ہے؟

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن 2018 میں مقبول تھی اور آج بھی مقبول ہے،ہمیں تو آج بھی پوری "لیول پلئینگ فیلڈ” نہیں مل رہی، مجھے اندیشہ ہے چکوال کا شخص غیر یقینی صورتحال میں اہم کردار ادا کررہا ہے، الیکشن ایک روز کےلئے ملتوی ہونا یا غیر یقینی صورتحال سے سیاسی جماعتوں کو نکالنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو دلدل سے نکالنے کا فارمولہ الیکشن ہے وگرنہ ملک پھنستا ہی جائے گا، کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟ ملک میں مہنگائی اور الیکشن کی بے یقینی اس لئے پیدا کی گئی کہ مجسمہ بنانے والے اعتراف جرم نہیں کررہے، نو مئی کے تانے بانے کچھ ممالک سے ملتے ہیں لیکن کسی نے آج کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہمت نہیں کی،جواز بناکر چیلنج کیاجا رہا ہے کہ سسلین مافیا ڈان مافیا کے الفاظ واپس نہیں لئے لیکن انہیں معصوم کے الفاظ دے دئیے گئے اور فوج کو آج بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔لیکن آج مٹی پاؤ پروگرام نہیں چل سکتا ،کوئی بھی شخص آپ اس کو اس کے جرم کی سزا دیتے ہیں تو دنیا میں کہیں ایسا نہیں پاکستان کے قانون میں ایسا نہیں ہے کہ آپ اسے پانچ سے زیادہ نااہل رکھیں جب کہ وہ سزا پوری کر چکا ہو یا بری ہو چکا ہو،

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ (ن) لیگ کو کسی سرپرستی یا ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے،ہر سیاسی کارکن سے لیڈر کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے،سولہ ماہ میں ہم جتنے بااختیار رہے سب کو اندازہ ہے، اگر اتنے پاور فل ہوتے تو کے پی میں سوشل میڈیا کو تنخواہوں والوں کو پکڑ لیتے، اب ان کو بے نقاب کیاجائے۔ٹکٹوں کی تقسیم کے بغیر نواز شریف الیکشن مہم کےلئے باہر نہیں آئیں گے،پاکستان پر حملہ کرنے والے کو دہشت گرد کہہ کر سزا دی گئی تو نو مئی کرنے والوں کو کیوں سزا نہیں دی جا رہی؟ کے پی میں ہزاروں لوگ سوشل میڈیا کے لئے بھرتی تھے، بیانیہ بنانے والوں‌کو اربوں روپے دیئے جاتے رہے، اب انکو کہاں سے تنخواہ دی جا رہی ہے،سوشل میڈیا پر مہم کرنے سے الیکشن کے نتائج مل رہے ہوں تو پھر جلسوں کی ضرورت نہیں،بہت سی شخصیات، اداروں کا اثررسوخ، جو انکا ماضی بتا رہا،یہ کام ہوتے ہیں، ریاست مخالف ذہن سازی صرف پاکستان کے اندر سے نہیں ہوتی ،فارن فنڈنگ کیس میں‌فیصلہ آ چکا کہ پیسہ کہاں کہاں سے آتا ، ریاست کا کام ہے کہ تحقیقات کرے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

  • ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین سے ملاقات اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہوئی،ٹکٹوں کے معاملہ پر ابتدائی مشاورت ہوئی ہے،دو دن کی مشاورت کے بعد پراسس مکمل ہو جائے گا اور ٹکٹ فائنل کرلیں گے

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن اہم پراسس ہے فری فیئر پراسس میں جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے ،ہمارے زیادہ تر امیدوروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،8فروری کو ہمارے مخالفین کو شکست اور جیت پی ٹی ائی کی ہو گی ،سپریم کورٹ نے ابزرویشن دی کہ الیکشن 8فروری کو ہوں گے ،عدلیہ سے درخواست ہے کہ آپ ہی کا رول ہے ایک پارٹی کو سنگل آوٹ کرکےنکالا جائے گا تو جمہوریت کا نقصان ہو گا اکانومی ڈوب جائے گی،سابق چیئرمین کی مشاورت سے کہا جن لوگوں نے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کی ان کو ٹکٹوں پر غور نہیں کیا جائے گا،کسی صورت الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے،ہم انڈر 18اور انڈر 19ٹیم کے ساتھ بھی لڑیں گے،انکو کھلا گراونڈ نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ میں درخواست دے چکے،درخواست کی کہ لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے،اگر کاغذات چھین لئے جائیں،لوگوں کو روکا گیا

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مولانا کی پارٹی ملک کی پارٹی نہیں انکی جماعت کے پی اور بلوچستان تک ہے،انکی سیٹیں پنجاب اور سندھ میں نہیں ہوتیں،ہمارا کوئی موقف نہیں کہ الیکشن کسی صورت ملتوی ہوں،دعا ہے الیکشن خوش اسلوبی سے ہوں،پرامن ہوں،سسٹم پر اعتماد نہیں بھی ہے تو ہونا ہے،کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے ،ہمارے پاس 70فیصد پاپولیرٹی ہے،جو حکومت ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں بن کر آتی ہے وہ کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے،ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کبھی بھی ملک کو استحکام نہیں دے سکتی ،جہانگیر ترین کا وکیل انگیج کرکے پشاور ہائیکورٹ لے گئے،الیکشن کمیشن کو کہتے ہیں فری اور فیئر الیکشن کرانا آپکی ذمہ داری ہے،ایسی صورت حال میں الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن بعد میں کیا ہو گا،ہماری درخواست ہے کہ ہمیں کامن انتخابی نشان دے دیں،ہمارے سارے امیدوار آزاد نہیں ہونے چاہیئں، بلے کے علاوہ کوئی نشان ملتا ہے تو لیں گے لیکن بائیکاٹ نہیں کریں گے ،نگران سیٹ اپ سے کوئی مطمئن نہیں ہے،

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عمر ڈاربازیابی کیس، کل تک رپورٹ طلب

    عمر ڈاربازیابی کیس، کل تک رپورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ،عمر ڈار کی بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو کل تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی، رپورٹ میں کہا گیا کہ عمر ڈار پولیس کی حراست میں نہیں ہے،عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی کو دی گئی فوٹیج دکھائیں،فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کے بارے بتائیں،وکیل عمر ڈار نے کہا کہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت دے دیں، عدالت نے حکم دیا کہ علاقے کے ہوٹلز وغیرہ سے فوٹیج کے کر آئی جی کو دکھائیں،

    جسٹس علی باقر نجفی نے عثمان ڈار کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی,دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس افراد سمیت 40 سے زائد لوگ عمر ڈار کو اغوا کر کے لے گئے،مغوی کی والدہ سیالکوٹ سے خواجہ آصف کیخلاف الیکشن لڑ رہی ہیں.مغوی کے خاندان کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشان بنایا جا رہا ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا دوسرا دن ہےکاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 132، شہبا ز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132 سے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج کر دی گئی،
    شاہد اورکزئی کی جانب سے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں، شہباز شریف نے ہی ورکرز کے ذریعے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا، قانون کے مطابق انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شاہد اورکزئی نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور ٹریبونل تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے ووٹ منسوخ کرنے کا حکم دے.

    پی ٹی آئی رہنما عاطف خان، محمود جان، شہرام ترکئی، افتخار مشوانی اور عبدالسلام آفریدی سمیت 50 امیدواروں کی کاغذات نامزدگی مسترد یا منظوری کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لی گئیں،الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شکیل 4 جنوری سے سماعت کرینگے

    ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی،ظفر علی شاہ، سہیل احمد ودیگر کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلیے مقرر
    اسلام آباد کے حلقوں این اے 46,47,48 سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی کی اپیل کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ظفر علی شاہ اور سہیل احمد کی اپیلیں بھی کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئیں،پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی ریٹرننگ آفسر کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر کل اپیلوں پر سماعت کریں گے

    کوئٹہ،پی بی 42سے عبدالخالق ہزارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،آر او نے کاغذات نامزدگی کے بینک اسٹیٹمنٹ نہ لگانے کااعتراض کیاتھا

    زرتاج گل وزیر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی کر دی گئی،آر پی او ڈیرہ غازی خان اور اینٹی کرپشن سے رپورٹ طلب کرلی اگلی سماعت 4 جنوری کو ہوگی

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کے وکیل نے کی اپیل دائر
    ‏ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ لاہور ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،

    کاغذات نامزدگی منظوری اور منسوخی کیخلاف الیکشن ایپلٹ ٹربیونل میں اپیلیں دائر ہونے کا سلسلہ جاری ہے،این اے 99 اور پی پی 107 کے امیدوار عمر فاروق نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائرکر دی، اپیل میں مؤقف اپنایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار ہوں،ریٹرننگ آفیسر نے سیاسی بنیادوں پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ریٹرننگ نے امیدوار کے موجود نہ ہونے پر کاغذات مسترد کیے،دستخط شناختی کارڈ کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگایا،کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی تصدیق شدہ نہ ہونے کا الزام لگایا،ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں،تمام الزامات کے تحریری ثبوت درخواست کے سات منسلک کر دئیے ہیں،عدالت ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے الزام کو کالعدم قرار دے،

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف شعیب شاہین کی درخواست پر نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے الیکشن کمیشن کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے آپ نے ایک پراپرٹی کا ٹیکس جمع نہیں کرایا ؟65 ہزار روپے ٹیکس آپ کے ذمہ تھا ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پراپرٹی میرے نام ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے سماعت کل تک ملتوی کردی ،شعیب شاہین کے اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی نشستوں سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں

    این اے 236،پی ٹی آئی امیدوار عالمگیر خان نے ریٹرننگ افسر کے خلاف اپیل دائر کردی،ریٹرننگ افسر نے عالمگیر کے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

    این اے 112، رانا جمیل نے اپیل دائر کر دی
    پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا معاملہ ،پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی کا امیدوار ہوں.کاغذات نامزدگی پر کسی نے اعتراض عائد نہیں کیا ،ریٹرنگ آفیسر نے خود سے کاغذات نامزدگی میں اعتراضات عائد کر کہ کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں،

    این اے 47، نیازاللہ نیازی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل دائر کر دی
    تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،نیاز اللہ نیازی نے این اے 47سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کا فیصلہ ایپلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کردیا ،نیاز اللہ نیازی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کردی ،نیاز اللہ نیازی کے این اے 47 اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی دور حکومت میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد تعینات رہ چکے ہیں

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،