Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    بانی پی ٹی آئی عمران خان این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب نہیں لڑسکیں گے

    لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ کے ٹریبونل نے بانی پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی پر فیصلہ سنادیا ،بانی پی ٹی آئی این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،بانی پی ٹی آئی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے نکات سامنے آگئے ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی پر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36 لاکھ 88 ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف رقم جولائی 2022 سے اکتوبر 2023 تک واجب الادا تھی ،بانی پی ٹی آئی عدالت سے سزا یافتہ اور الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہیں، بانی پی ٹی آئی نے غلط ڈیکلریشن دی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں،

    این اے 122 عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے آراو کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران این اے 122سے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے آر او کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان نااہل ہوچکے ہیں اور ان کے تجویزہ کنندہ کا تعلق بھی این اے 122 سے نہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی عمران خان کی اپیل کی مخالفت کی،الیکشن ٹربیونل کے جج نے آر او کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا.

    این اے 122، کاغذات مسترد ہونے پرعمران خان کی لیگل ٹیم کا ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
    این اے 122 سے سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے ٹریبونل کا فیصلہ ہائیکورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات بحال کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست میں استدعا کی جائے گی .

    آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ اپیلیٹ ٹریبونل،آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ،اثاثے چھپانے کے الزام میں شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے ،آزاد امیدوار شبیرکھوکھر نے پلاٹ اور گاڑی چھپائے تھے

    نواز شریف کے مقابلےمیں یاسمین راشد کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت
    اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس طارق ندیم نے یاسمین راشدکےکاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آر او کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی،الیکشن ٹربیونل نے یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور این اے 130 سے ان کے اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوگئے،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں ہر سماعت کر رہے ہیں،آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں،ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں،ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جلد سماعت کے لیے ایک اور درخواست دائر کردی

    بیرسٹر گوہر علی اور نیاز اللہ نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،درخواست میں سپریم کورٹ سے سوموار کو کیس کی سماعت کرنے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ دن بہت کم ہیں، انتخابی نشان سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 8 جنوری بروز پیر شام کو ٹکٹ کا اعلان کرے گی،بانی چیئرمین عمران خان سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے،الیکشن کا ہر صورت انعقاد ہونا چاہئے،14 سینیٹرز کی موجودگی میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انتخابات کا 8 فروری کو انعقاد پتھر پر لکیر ہے، بلے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو گا، منظور ہو گا.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • عمر تنویر بٹ نے سیاست اور پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیا

    عمر تنویر بٹ نے سیاست اور پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیا

    سابق ایم پی اے عمر تنویر بٹ نے سیاست اور پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیا

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے عمر تنویر بٹ نے ضمانت منظور ہونے پر ویڈیو پیغام جاری کر دیا، عمر تنویر بٹ کا کہنا تھا کہ میں 2017 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوا تھا، میں نے راولپنڈی میں آئی ایل ایف کی بنیاد رکھی تھی،پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا مقصد ملک کے اندر ایک نیا سسٹم لانا تھا، عمران خان نے رجیم چینج آپریشن کے بعد فوج مخالف بیانیہ بنانا شروع کیا،پاک فوج مخالف بیانیے پر مجھے پہلے سے تشویش تھی، عمران خان فوج اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کر رہے تھے، 9 مئی کا واقعہ ایک سیاہ دن تھا،یہ واقعہ عوام اور اداروں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش تھی، حماد اظہر، شیریں مزاری اور مراد سعید جیسے لوگوں نے اس بیانیے کو پروان چڑھایا،میں ریاست مخالف بیانیے کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتا،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے آج ہی عمر تنویر بٹ کی ضمانت منظور کی ہے ،عمر تنویر بٹ کو 14 دسمبر کو تھانہ سٹی پولیس نے حراست میں لیا تھا،عمر تنویر بٹ نے حلقہ این اے 55 اور پی پی 14 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائیکورٹ سے نو مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی ، پرویز الہیٰ بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، مراد سعید، حماد اظہر سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما روپوش ہیں،

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • نومئی واقعات ،سہولت کاروں کا تعین،روک تھام کیلیے کمیٹی قائم

    نومئی واقعات ،سہولت کاروں کا تعین،روک تھام کیلیے کمیٹی قائم

    نو مئی کے واقعات پر کابینہ کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    کمیٹی نو مئی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈز، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں کا تعین کرے گی ،کمیٹی نو مئی واقعات کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی ،کمیٹی مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز دے گی ،نگران وزیر قانون کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیر انسانی حقوق کمیٹی کے رکن ہوں گے ،ضرورت پڑنے پر کسی بھی ایک رکن کو کمیٹی میں شامل کیا جا سکے گا،کمیٹی دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ کابینہ کو بھجوائے گی.
    may

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائیکورٹ سے نو مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی ، پرویز الہیٰ بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، مراد سعید، حماد اظہر سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما روپوش ہیں،

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے لوگوں سے کبھی اپنے ادارے اسطرح خوفزدہ ہوئے ہیں ،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چارج شیٹ آئی ہے،پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا، امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے،جو آج کوکا ڈھونڈنے گیا ہے پہلا دوائی ڈھونڈنے گیا ہوا تھا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینی چاہیے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے نام تصویر اس کے امیدواران پر پابندی لگا دی گئی ہے،ہماری خواتین کو الیکشن نہیں لڑنے دیا جارہا، پانچ فیصد خواتین کو نمائندگی دینا ہر جماعت کا حق ہے، یہ دھاندلی نہیں میگا دھاندلہ ہورہا ہے،سپریم کورٹ سے ہمیں امید ہے کہ ہمارا انتخابی نشان بلا واپس دلائے گی،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن تو سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف فریق بن چکا ہے، اب یہ تحریک انصاف نہیں بلکہ تحریک پاکستان ہے ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی مجھے کہیں گے تو میں الیکشن لڑوں گا، ٹکٹوں کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کررہے ہیں، ٹکٹوں کے حوالے سے تحریک انصاف کا ہوم ورک تقریبا مکمل ہو چکا ہے،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے

  • عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ عمران کے الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا پاکستان میں کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا صحافی کے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کی قیادت کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے،امریکا پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی کسی ایک امیدوار یا پارٹی کو اہمیت نہیں دیتا، امریکا کی دلچسپی جمہوری عمل میں ہے،عمران خان کے الزامات بے بنیاد ہیں امریکا چاہتا ہے انتخابات پاکستانی قوانین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ ہوں،امریکا پاکستان کو نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات کیسے کروائے، پاکستان میں جمہوری اظہار اور متحرک جمہوریت کی حمایت جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے صحافی نے سوال کیا تھا کہ ایسے ملک میں لوگ حکومت کیسے منتخب کر سکتے ہیں کہ جس کو وہ ووٹ دینا چاہتے ہوں وہ بیلٹ پیپر پر ہی نہ ہو؟

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے‌ حوالہ سے سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے، رپورٹ میں پاکستان کا نام خاص تشویش والے ممالک میں‌شامل کیا گیا ہے،فہرست میں روس، چین، ایران، سعودی عرب، الجزائر، آذربائیجان، وسطی افریقی، کوموروس اور ویتنام بھی شامل ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہےکہ حکومتوں کو مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کو ختم کرنا چاہیے.

  • پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے، بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا تو شیر افضل مروت نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا، بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت اپنی پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب بیرسٹر گوہر خان نے پریس کانفرنس کی تو اسکے بعد شیر افضل مروت پہنچ گئے اور کہا کہ میں نے بھی پریس کانفرنس کرنی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور شیر افضل مروت آمنے سامنے آ گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ میں اپنی پریس کانفرنس کروں گا،بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت کو پریس کانفرنس سے روک دیا،شیر افضل مروت پریس کانفرنس کے لئے پریس روم میں پہنچ گئے اور کہا کہ اپنے خان صاحب سے ملکر آیا ہوں،جو بھی میں کہہ رہا ہوں یہ خان صاحب اور پی ٹی آئی کا بیانیہ سمجھیں

    قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس باجوہ نے بنوایا،فیض حمید کا کردار تھا، شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ،ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ڈرتے نہیں ،چیف جسٹس فائز عیسی پر عدم اعتماد ہے،ان کا رویہ جانبدرانہ ہے،جسٹس فائز عیسی کےخلاف ریفرنس جنرل باجوہ نے بنوایا، فیض حمید کا مرکزی کردار تھا،جب فائز عیسی چیف جسٹس بنے تو ہم نے ریفرنس کے اقدام پر شرمندگی کا اظہار کیا،ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم پر چلیں،پی ٹی آئی میں ایک گروپ ہے اور وہ عمران خان کاہے،نواز شریف کا کیس تو لگ گیا خان صاحب کا کیس نہیں لگا رہے،چیف جسٹس فائز عیسی کی عدالت سے انصاف کےلیے مایوس ہوچکے ہیں،ہمارے وکلاء پارٹی کا تمسخر بند کیا جائے،ہم جیلوں میں ہیں اور مزید رہنے کو تیار ہیں

    عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،بیرسٹر گوہر
    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،ویڈیوز میں جو آپ نے دیکھا یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے،یہ ریاستی ظلم و تشدد ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،تجویز کنندہ یا ووٹر کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،ہمارے سکروٹنی کے عمل میں 873 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،اس طرح سے کاغذات مسترد ہوئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی حیران ہو گئی،ایک ہی طریقے سے تین تین کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،ہماری وفاقی کابینہ کے تمام ممبران کے کاغذات نامزدگی مسترد کروائے گئے، اس سب کے باوجود کوشش جاری ہے کہ ہمارے پاس نشان بھی نہ رہے،تمام سروے دیکھ لیں ہماری پالولرٹی 70 فیصد سے زائد ہے،اس عمل سے پی ٹی آئی کو نکالنے کی کوشش جاری ہے،ہمیں اطمینان ہے کہ عدلیہ بہت جلد ایکشن لے گی،اگر اسی طریقے سے الیکشن ہونگے تو یہ فری اینڈ فئیر انتخابات پر سوال ہوگا،سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ لیول پلئینگ فیلڈ کے لیے کردار ادا کریں

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

  • سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اگرسردار لکھنے میں اعتراض ہوتا ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں، دوسرا نام ہی سردار سے شروع ہوتا ہے، میں اپنی نسل، حَسَب نَسَب کو کیسے مسمار کر سکتا ہوں، آپ سمجھتے ہیں کہ میں نمود ونمائش کیلئے کر رہا ہوں، بھائی میرا نام ہے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، ہمیں بلے کا نشان ملے یا نا ملے پی ٹی آئی ایک ہی نشان پر الیکشن لڑے گی ،پی ٹی آئی قوم کی خدمت کیلئے کوشاں ہے،یہ لوگ پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتے،الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے، القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف شواہد نہیں ،تیزی سے ہونے والی ڈوپلمنٹ کا تماشا قوم دیکھ رہی ہے،اس سے عوام کے غم وغصہ میں اضافہ ہو رہا ہے، بلے کا انتخابی نشان نظر ثانی میں واپس لے لیا گیا، ہمارے 7سو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،آگ کے سمندر سے گزر کر کاغذات نامزدگی داخل کرائے گئے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جو ہم نے بیان کیا وہ بھی قوم نے دیکھا،الیکشن کمیشن کا مکروہ چہرہ سامنے رکھا، نئے پراسیکیوٹر امجد پرویز کو کھڑا کر دیا گیا،وہ نواز شریف کے وکیل بھی ہیں،وہ آج وارد ہو گئے، نئے پراسیکیوٹر امجد پرویز نے سات دن،دس دن کا وقت مانگا، میرے اصرار اور شدید مخالفت کے باوجود سماعت 6جنوری تک ملتوی کی گئی،ہم نے کہا رکھتے نہیں تو خارج توکر دیں،عدالت سے استدعا کی کہ کیوں صرف بانی چیئرمین پر قانون کا اطلاق کرکے پابند سلاسل کیا جا رہا ہے،عوامی مقبولیت دیکھ کر پی ڈی ایم اور اپوزیشن جماعتیں خائف ہیں، لندن والے ظل سبحانی کی سزائیں ایک ایک کرکے ختم کیں جیسے عدالتیں انکی چشم براہ تھیں،پی ایم ایل این کا کوئی امیدوار اپنے حلقے میں جانے کے لائق نہیں،20ماہ ملک کا حشرنشر کر دیا گیا،اب قوم ملک کو تین مرتبہ لوٹنے والوں کو موقع نہیں دے گی،اب عوام انکا جھانسہ مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ کاغذات نامزدگی منظور ہو جائیں گے، الیکشن کمیشن اپنے ایکٹ کی شق 185,186,187کے تحت آئی جی کو سزا دے سکتی ہے،انھیں تبدیل کر سکتے ہیں،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے 14 رکنی کمیٹی ممبران کے نام 

  • ٹکٹوں کی تقسیم ،پی ٹی آئی نے کمیٹی بنا دی

    ٹکٹوں کی تقسیم ،پی ٹی آئی نے کمیٹی بنا دی

    عام انتخابات 2024 تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے 14 رکنی کمیٹی ممبران کے نام سامنے آگئے

    کمیٹی میں اسد قیصر، سینیٹر دوست محمد خان، اشتیاق مہربان شامل ہیں،شہزادہ سکندر الملک، چوہدری محمد عدنان،شفقت ایاز بھی 14 کمیٹی ممبران میں شامل ہیں،ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کمیٹی اپنی سفارشات چیرمین پی ٹی آئی کو پیش کرے گی، 14 رکنی کمیٹی ممبران کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، عدالتی احکامات پر کمیٹی ممبران بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا بھی واپس لیا جا چکا ہے، تحریک انصاف نے آج سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں لکھا تھا یہ اہم ترین معاملہ ہے،ہماری بھی یہی استدعا ہے اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ہے ٹکٹ تقسیم کرنا ہے، کوشش ہے جلد سے جلد یہ کیس لگے، اللہ کرے بلے کا نشان ملے ہمیں امید ہے

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    pti

  • بلے کا انتخابی نشان، آخری کوشش، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    بلے کا انتخابی نشان، آخری کوشش، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے

    تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، تحریک انصاف نے اپیل کو کل سماعت کے لئے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے

    اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ٹکٹ تقسیم کرنا ہے،کوشش ہے بلے کا نشان مل جائے، بیرسٹر گوہر
    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ چند اہم درخواستوں پر دستخط کرنے آیا ہوں،بلے کے انتخابی نشان کے لئے آج درخواست جمع کروا رہے ہیں،سپریم کورٹ سے درخواست کریں گے ہمیں سنا جائے، الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں لکھا تھا یہ اہم ترین معاملہ ہے،ہماری بھی یہی استدعا ہے اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ہے ٹکٹ تقسیم کرنا ہے، کوشش ہے جلد سے جلد یہ کیس لگے، اللہ کرے بلے کا نشان ملے ہمیں امید ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ