Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • مراد سعید،عمر ایوب،گنڈا پور سمیت تحریک انصاف کے 10 رہنماؤں کے وارنٹ جاری

    مراد سعید،عمر ایوب،گنڈا پور سمیت تحریک انصاف کے 10 رہنماؤں کے وارنٹ جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد, جوڈیشل کمپلیکس حملہ توڑ پھوڑ کیس،تحریک انصاف کے رہنما مرادسعید، عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور سمیت10 پی ٹی آئی رہنماؤں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئےگئے

    دائمی وارنٹ گرفتاری جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جاری کیے۔طلبی کے باوجود عدالت سے مسلسل غیر حاضری پر دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔شبلی فراز، فرخ حبیب، حماد اظہر کے بھی دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے،علی نواز اعوان، حسان خان نیازی ،عمر سلطان اور کرنل محمد عاصم کے بھی دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، عدالت نے کہا کہ ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ ملزمان جہاں نظر آئیں گرفتاری کرکے عدالت پیش کیا جائے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیدیا ،فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں خلاف قواعد ہونے پر خارج کر دی گئیں ،آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 کی ذیلی شق ایک کالعدم قرار دے دی گئی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا.جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہوگا،ملزمان کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقدمات عام عدالتوں میں چلائے جائیں ،سپریم کورٹ نے فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا،جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا

    عدالت نے فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں واپس کردیں،جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ فوجی تحویل میں افراد کی درخواستوں کے ساتھ بیان حلفی نہیں ہیں، فوجی تحویل میں 9 ملزمان کی درخواستیں واپس لے لی گئیں،

    جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں،اٹارنی جنرل بنچ کے سامنے پیش، دلائل کا آغازکردیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے ،ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دہشتگردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،ملزمان کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ٹو کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے،نو مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا،فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی،آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے،ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جا سکیں گی،دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتائوں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیرملکی یا دہشتگرد؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے،سال 2015 میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشتگردوں کے سہولت کار بھی شامل تھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردوں کیلیے ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئے نہیں ؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8 کی زیلی شق تین سے کیسے جوڑیں گے ؟ آئین کے مطابق تو قانون میں آرمڈ فورسز سے تعلق ضروری ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپکی تشریح کو مان لیا توآپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ،سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے برخلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج کے نظم و ضبط کے لیے موجود قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم و ضبط اندرونی جبکہ افواج کے فرائض کے انجام میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہوسکتا جو اسکے زمرے میں آئے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے؟آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بناتا ہے، عام شہریوں پر آرمی کے ڈسپلن اور بنیادی حقوق معطلی کے قوانین کیسے لاگو ہوسکتے؟ عدالت نے یہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہوجائے گا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہے بنیادی حقوق معطل کر دیے جائیں؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون پڑھیں تو واضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لئے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دیکھائیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لیکن قانون مسلح کے اندر موجود افراد کی بھی بات کرتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے،جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کو پاپند آرمڈ فورسز کو کرتا ہے،قانون انہیں کہتا ہے کہ آپ فرائص ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا،آپ اس بات کو دوسری طرف لیکر جارہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جو انہیں ڈسٹرب کرے ان کے لئے قانون ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے،میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا، اٹارنی جنرل نےا ایف بی علی کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بریگیڈئیر ایف بی علی ریٹائرڈ ہوچکے تھے،ایف بی علی ریٹائرڈ تھے اس لیے سیکشن 2 ون ڈی کے تحت چارج ہوئے،دیکھنا یہی ہوتا ہے کہ کیا ملزمان کا تعلق آرمڈ فورسز سے ثابت ہے یا نہیں،
    اس عدالت نے 21ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہوگا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ساری آرمڈ فوسز کے کیسز پڑھ رہے ہیں، ان کیسز کا موجودہ سے کیا تعلق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ گٹھ جوڑ والا معاملہ موجود ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کوٹ مارشل کو آئین تسلیم کرتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مجھے اسی نقطے کی وضاحت کر دیں،

    خیال رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا تھا اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکم نامےکی روشنی میں عدالت کو ٹرائلزکے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے اور فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کوپاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جبکہ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہورپر حملے میں ملوث ہیں اور گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پرحملے میں بھی ملوث ہیں۔

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • صدر کے پاس اختیار تھا تو  انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    صدر کے پاس اختیار تھا تو انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں 90دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری روسٹرم پر آ گئے، درخواست گزار عبادالرحمان لودھی بھی ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری بھی ایک اپیل سماعت کے لئے مقرر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر رجسٹرار افس نے اعتراضات عائد کیے تھے،اعتراضات کے خلاف تو جج چیمبر اپیل سنتا ہے،چلیں ہم اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے دلائل شروع ہو گئے، عابد زبیری نے کہا کہ ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے،اس میں تو لکھا ہےاپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی،آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں،عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے،عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی،اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 19اے سے متعلق فیصلہ سنا چکی ہے، اب آپ ایک چٹھی لکھتے آپ کو مشترکہ مفادات کونسل کا ریکارڈ مل جاتا،آپ کے مطابق مردم شماری کا آغاز 18 ماہ پہلے ہوا تھا، عابد زبیری نے کہا کہ پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مردم شماری کب ہوگی کیا اس کا کوئی طے شدہ ضابطہ ہے؟ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ مردم شماری کا آئینی تقاضہ کیا ہے اور کب ہوتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اس کی پالیسی سازی کے لیے لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آخری مردم شماری کب ہوئی؟ عابد زبیری نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، چکیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟عابد زبیری نے کہا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی،ہمیں صرف اس سوال کا جواب دے دیں نئی مردم شماری کالعدم قراردیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہونگے،عابد زبیری نے کہا کہ میں ایک عدالتی فیصلہ بطور نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے عدالتی فیصلوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو آپکو کیوں سن رہے ہیں،پھر ہم عدالتی فیصلہ دیکھ کر خود ہی حکم جاری کردیتے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں کے پی اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا غیر آئینی تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرائے اعلیٰ شریک نہیں ہوسکتے، آپ جذباتی نہیں آئین کے مطابق دلائل دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دنوں میں انتخابات کے انعقاد کے آئینی شق کی خلاف ورزی تو ہوچکی،کیا آپ اپنی درخواست پر اب بھی چاہتے ہیں کہ کاروائی ہو، عابد زبیری نے کہا کہ نوے دن گزر جانے کے باوجود دو نگران صوبائی حکومتیں ابھی بھی کام کرہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لئے الگ سے کوئی درخواست دائر کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر ہم مردم شماری کے معاملے میں پڑے تو انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال ایک ہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتخابات 2017 کی مردم شماری ہے مطابق ہوں،ہم مختصر وقفے کے بعد آرہے ہیں، آپ اس معاملے پر تیاری کرلیں،عابد زبیری نے کہا کہ بارہ اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا ،اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلی نے کونسل کے فیصلے سے اختلاف کیا، مردم شماری کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب مردم شماری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی،مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا، لیکن تاخیر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے فیصلے پر عمل 2021 میں ہوا، میں اس بارے میں اس لئے جانتا ہوں کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جس نے تاخیر کی اس شخصیت کا نام لیں نا وکیل صاحب، جب مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا اس وقت آپ نے بطور وکیل کیوں نہیں درخواست دائر کی، وکیل صاحب اگر اپ سیاسی دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے یہ عدالت موزوں فورم نہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کی پر فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تھا ،ایک وزیر اعظم اور چار وزرا اعلی بیٹھتے ہیں ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوتا ہے،ملک میں اس وقت صرف ایک صوبے میں بلدیاتی حکومتیں موجود تھیں وہ صرف بلوچستان تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کیخلاف ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے حکم جاری کرسکتے ہیں،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آرٹیکل 6 لگے گا،تاریخ دینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگئی تھی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 48 سے متصادم ہے؟الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں؟انتخابات تو ہونے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کو ایک وکیل نے خط لکھا ، اسکا کیا جواب ملا؟ درخواست گزار منیر احمد نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو تاخیر کا زمہ دار صدر مملکت کو ٹھہرا رہے ہیں،کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟ چاس مقدمے میں درخواست گزار ایسے ہیں جو سنجیدہ نہیں، ایک درخواست گزار ہیں جنہوں نے سماعت کے بعد وکیل تبدیل کیا، اگر ہم مقدمات مقرر نہ کریں تو پھر کہا جاتا ہے کہ مقدمات مقرر نہیں کئے جاتے،میڈیا پر جاکر باتیں کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ رولز پروسیجر کیس میں جلدی فیصلہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیس کو لمبا کیا گیا، ہم پر دل کھول کرتنقید کریں، لیکن یہاں آکر کیس میں دلائل دیں،لوکل گورنمنٹ انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کے کہنے پر مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،ہم تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتے،گزشتہ حکومت نے مردم شماری کرانے کے فیصلے کیلئے چار سال لگا دیئے،عابد زبیری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا حکم بھی اسی عدالت نے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمدرآمد نہیں ہوا لیکن کیا دو صوبوں میں انتخابات کا کیس زیر سماعت ہے؟آپ وکیل ہیں لے آئیں ناں کوئی توہیں عدالت کی درخواست، کس نے روکا ہے؟ جب میں بلوچستان کا چیف جسٹس تھا صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد نے بھی جلد سماعت کی درخواست نہیں دی، میڈیا پر انتخابات کیس پر لمبی لمبی بحث ہوتی ہے، ہم کیس لگائیں تو الزام، کیس نہ لگائیں تو بھی ہم پر الزام ، یہ ایسا مقدمہ ہے جو ہر صورت لگنا چاہیے تھا،آج وکلاء کے پاس مقدمے کی فائل ہی نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اہم مقدمات لگانا شروع کر دیئے ، میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں اور کمرہ عدالت میں وکیل کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اگر ہم نے تاخیر کرنا ہوتی تو فوجی عدالتوں کا نیا بینچ بنا دیتے،میڈیا ہم پر انگلی اٹھائے اگر ہم غلطی پر ہیں، کیس عدالت میں چلانا ہے یا ٹی وی پر چلانا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنا مقدمہ صرف 90 دن میں انتخابات پر رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 90 دنوں والی بات ممکن نہیں ، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو، آپکا سارا مقدمہ ہی صدر مملکت کے اختیارات کا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے تو پھر تاخیر کا زمہ دار کون ہے؟ آئینی کام میں تاخیر کے نتائج ہونگے،وکیل انور منصور نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کے بعد تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی؟آپ ایک وقت میں دو مختلف دلائل نہیں دے سکتے، آرٹیکل 48 پر انحصار کریں یا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 پر؟ صدر کے جس ٹوئیٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت خود رائے مانگ رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ ٹوئیٹ بھی صدر کا ہے یا نہیں ،کیا سپریم کورٹ ایک ٹویٹ پر فیصلے دے؟ ٹویٹس میں صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کی بات نہیں کی، صدر حکم دے دیتے،انور منصور صاحب آپ ایسے صدر کے اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں ،بہت اخلاق والے صدر ہیں آپ فون بھی کرتے توآپکو بتا دیتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وضاحت کریں تاخیر پر نتائج کا سامنا کسے کرنا چاہیے ؟صدر مملکت نے کونسی اور کب تاریخ دی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر بار کے مطابق 3 نومبر کو انتخابات ہونے چاہئےتھے ، صدر مملکت نے 6 ستمبر کی تاریخ دے دی تو خود خلاف ورزی کردی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل آرٹیکل 224 تک محدود رکھیں ،وہ الگ بات ہے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے،انور منصور نے کہا کہ ہم ذمہ داروں کے تعین کی بات نہیں کرہے، ہم تو انتخابات چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 اگست کو صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی صرف خط لکھا اور کہا کہ آئیں بات کرتے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لگتا ہے انور منصور صاحب آپ نے اپنی درخواست خود نہیں لکھی،آپ انتخابات کے معاملے کو کنفیوژ کرہے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی خدمات پروفیشنلی حاصل کی گئی ہیں؟ایک سوال یہ ہے کہ انتخابات کون اعلان کرسکتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کیا اس وقت نوے دنوں میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ؟

    عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ تاریخ دے، کچھ اختیارات آئین سے مشروط ہیں،90 دنوں میں انتخابات کروانا آئینی مینڈیٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دونوں میں انتخابات کی تاخیر کس نے کی، اس پر آپ انگلی نہیں اٹھاتے؟ آپ کہتے ہیں صدر مملکت نے تاریخ دینی تھی،آپ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے،اسکا مطلب ہے آپ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 کو چیلنج نہیں کررہے،
    اگر صرف انتخابات کی بات کریں تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر آپ آئینی تشریح کی بات کریں گے تو ہمیں پانچ رکنی بینچ بنانا پڑے گا، دنیا کے سارے مسائل اس درخواست میں نہ لائیں ،صرف انتخابات کی بات ہے تو ہم ابھی نوٹس کردیتے ہیں

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کو پھر ثابت نہ کیا جاسکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہی ہوتا ہے جب کوئی آئینی ادارہ کام نہ کرے اور دوسرے پر ڈال دے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے،عابد زبیری نے کہا کہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے،آئین کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ دینا ہوتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر بات کو گھما رہے ہیں صدر کے پاس اختیار تھا تو تاریخ کیوں نہیں دی؟کوئی تو ذمہ دار ہے کیا آپ صدر مملکت کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں؟وکیل علی ظفر صاحب آپ کا کیس الیکشن 60 دنوں میں کرانے کا ہے یا 90 دنوں کا ہے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا کیس 90 دنوں میں الیکشن کرانے کا ہے، نوے دنوں میں الیکشن کرانے کے عمل کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،آئین کا ارٹیکل 48 کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت اسمبلی توڑتا ہے تو وہ انتخابات کی تاریخ دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل میں صدر کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، اگر صدر نے تاریخ دینی تھی اور نہیں دی توپھرکیوں ان کا نام نہیں لیتے؟آپ کا کیس یہ ہے کہ صدر تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ بتائیں علی ظفر صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لئے بلایا تھا تاریخ نہیں دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس میں درخواست گزارکون ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہورہا ہوں، میرا موکل پارٹی کا جنرل سیکریٹری عمر ایوب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس کے پوتے ہیں آپ کو علم ہے ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ان کے دادا پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہیں گے کہ درخواست گزارکے دادا نے ملک میں آئین کے استعمال کو روکا،کیا آپ کو اس ملک کی تاریخ کا علم نہیں ؟ علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل یہ ملک کی ایک تاریخ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دادا کے کاموں کا ذمہ دارپوتا ہوتا ہے، اب ان کا پوتا جمہوریت پسند ہے،پہلے انتخابات کی تاریخ اعلان کرنے کا اختیار صدر کے پاس تھا،ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے،پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    درخواست گزار عبادالرحمان نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا،صدر کے پاس اختیار ہے انتخابات کرانے کا، اس آئین کی ذمہ داری صدر نے پوری نہیں کی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ اگر کسی نے آئین پر عمل نہیں کیا تو پھر اس کو نتائج بھگتنا چاہئیں،بظاہر لگ رہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اب نوے دنوں میں الیکشن نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے حل دیا آرٹیکل 224 کا،اب اس کیس میں عدالت کس کو بلائے ، صدر کو پھر الیکشن کمیشن کو؟ علی ظفر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ وقت دوبارہ نہیں آسکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ دلائل مکمل کریں ہم اس پر نوٹس کرتے ہیں.

    نوے دنوں میں عام انتخابات کیس، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ درخواستوں میں مختلف نوعیت کی استدعائیں کی گئیں، درخواستوں میں صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا،آئین میں صدر کے خلاف حکم کی استثنی حاصل ہے،ہم نے درخواست گزاروں کے وکلا کو تفصیل سے سنا،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عام انتخابات ملک میں نہیں ہوسکے جس کی وجہ ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ 15 جنوری کو سی سی آئی نے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا،سی سی آئی کے فیصلے پر ادارہ شماریات نے مردم شماری کی اور پانچ اگست کو اس کے نتائج کو سی سی آئی نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن آرڈر کا حصہ بنادیا گیا،دلائل کے دوران اس بات پر سارے متفق تھے کہ اسمبلی توڑنے سےلے کر آج تک نوے دنوں میں انتخابات ممکن نہیں،علی ظفر نے آرٹیکل 244 کا حوالہ دیا ۔ آرٹیکل 244 کو ارڈر کا حصہ بنا دیا گیا

    90روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی،تاہم عدالت نے کہا کہ تمام وکلا عدالت میں پیش ہوں ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ہوگی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • صنم جاوید کو  جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا

    صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا

    عدالتی حکم پر تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے.

    واضح رہے کہ رہے کہ پی ٹی آئی ورکر صنم جاوید کی انسداد دھشت گردی کی عدالت سے ضمانت کے بعد رہائی کا انتظار کیا جارہا تھا اور اس موقع پر کوٹ لکھپت جیل کے باہر پولیس کی نفری بھی ایک بار پھر تعینات کی گئی تھی اور جیل کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے تھے. کیونکہ پولیس کا پلان تھا کہ رہائی پانے والی صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار کرنا تھا.

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی ہوا تھا اور انہیں جیل سے رہائی کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا، صنم جاوید خان کو توڑ پھوڑ کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا اور پولیس نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی تھی کہ پولیس وین پر حملے سے متعلق کیس میں صنم جاوید خان کی شناخت ہوئی تھی اور پولیس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پولیس وین حملہ کیس میں پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 368 رنز کا ریکارڈہدف دے دیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    تاہم عدالت نے پی ٹی آئی کی خاتون کارکن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا تاہم جہاں عاصمہ اور شاہ بانو کو توڑ پھوڑ کیس میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہ ہونے پر بری کردیا گیا تھا

  • شہری پر تشدد، ملزم شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت

    شہری پر تشدد، ملزم شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کے باہر شیر افضل مروت اور پولیس اہلکار کے درمیان جھگڑے کا کیس، شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزم شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،ایڈیشنل اینڈ سیشن جج محمد سہیل شیخ نے کیس کی سماعت کی ،شیر افضل مروت ایڈووکیٹ اپنے وکیل عادل عزیز قاضی ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ملزم نے قانون کی بالادستی کے لیے خود کو عدالت میں سرنڈر کر دیا اور تفتیش میں شامل ہونے کو تیارہیں،

    ضمانت قبل از گرفتاری 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی گئی،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل مروت کیخلاف پولیس اہلکار کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ میں کہا ہے کہ شیر افضل نےگالیاں دیں، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، کہا زندہ نہیں چھوڑوں گا،بھاگ کر سپریم کورٹ کی طرف گیا تو شیر افضل نے وہاں پہن کر تشدد کیا، اس دوران پولیس اہلکاروں نے جان چھڑائی،شیر افضل مروت کے ساتھ اسکے ساتھی بھی تھے، انہوں نے میرے اوپر گاڑی چڑھانے کی بھی کوشش کی، پولیس نے شیر افضل مروت کے خلاف واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کی ایک شہری کے ساتھ سپریم کورٹ کے باہر ہاتھا پائی ہوئی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے،سپریم کورٹ گیٹ کے باہر شہری اور شیر افضل مروت کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے بارے میں عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ شہری نے انہیں بلا وجہ گالی دی میں تو اس شخص کو جانتا تک نہیں، سوشل میڈیا پر مار کٹائی کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر افضل مروت شہری کو زمین پر گراتے ہیں جبکہ ایک شخص شہری پر تشدد کر رہا ہے اسی دوران پولیس اہلکار بھی آ جاتے ہیں تو دونوں‌کو چھڑاتے ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • اعجاز چودھری کو جیل میں ڈینگی ہو گیا

    اعجاز چودھری کو جیل میں ڈینگی ہو گیا

    انسداد دہشت گردی عدالت ،تھانہ شادمان نزر آتش کیس اور نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے دیگر مقدمات کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد ٫میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کا 13 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا ،عدالت نے تینوں ملزمان کو 30 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،اعجاز چوہدری کو ڈینگی کا شکار ہونے کے باعث پیش نہیں کیا گیا ،جیل حکام نے اعجاز چوہدری کی ڈینگی رپورٹ عدالت میں پیش کی ،انسداد دھشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا ،تھانہ شادمان پولیس نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ،عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور ،جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،پولیس نے خدیجہ شاہ سمیت دیگر ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت پیش کردیا ،عدالت نے خدیجہ شاہ ،عالیہ حمزہ سمیت دیگر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی ،پولیس نے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی ،انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڑ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    اعجاز چودھری کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، اعجاز چودھری پر نو مئی کے روز احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کا الزام ہے ، اعجاز چودھری کی آڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ بیٹے کے ساتھ بات کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ جناح ہاؤس میں ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے

    دوسری جانب اعجاز چوہدری سے جیل میں ملاقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،اعجاز چوہدری کی اہلیہ سلمی اعجاز چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،سلمی اعجاز چوہدری کی درخواست میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ،آئی جی پنجاب پولیس اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہےکہ اعجاز چوہدری کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اہل خانہ کو اعجاز چوہدری سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اعجاز چوہدری مختلف عارضوں کا شکار ہیں اہل خانہ کو اعجاز چوہدری سے ملاقات کی اجازت دی جائے،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

  • پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی،فاضل جج کی رخصت کی بنا پر درخواست پر سماعت نہ ہو سکی،جسٹس راحیل کامران ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب عظیم اللہ خان کی درخواست پر سماعت کرنا تھی،درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہاہے پی ٹی آئی نے الیکشن کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیلئے جلسہ کا انعقاد کرنا ہےیہ جلسہ موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں ہونا ہے،ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کو جلسے کی اجازت کیلئے درخواستیں دیں جلسے کیلئے پی ٹی ائی کو اجازت نہیں دی گئی،اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے الیکشن کیلئے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو پی ٹی آئی کو موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں جلسہ کرنے اجازت دینےکا حکم دے

    دوسری جانب نواز شریف کی پاکستان واپسی پر ڈی سی لاہور نے ن لیگ کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے رکھی ہے

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

  • پرویزالٰہی کے ریمانڈ میں توسیع

    پرویزالٰہی کے ریمانڈ میں توسیع

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد،پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیاگیا

    پرویزالٰہی کو پولیس نے سخت سیکیورٹی کے تحت جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا ،پرویز الٰہی کو ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت پہنچایا گیا،اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رخصت کے باعث پرویزالٰہی کو ڈیوٹی جج کے سامنے پیش کیاگیا،پرویز الٰہی کے ہمراہ وکیل صفائی سردارعبدالرازق بھی عدالت پیش ہوئے،

    ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ کیا پرویزالٰہی کی حد تک چالان عدالت جمع ہوگیا ہے؟ اےٹی سی عدالتی عملہ نے کہا کہ پرویزالٰہی کی صرف جوڈیشل ریمانڈ کی توسیع کرنی ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ پرویزالٰہی کی حد تک چالان آگیاہے، نوٹس بھی ہوگیاہے، ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ شریک ملزمان کے ساتھ ہی پرویزالٰہی کی بھی اگلی تاریخ رکھ لیتےہیں،

    پرویزالٰہی کرسی سے اٹھ کر روسٹرم پر آگئے اور عدالت میں کہا کہ نہیں 24 اکتوبر تاریخ نہیں رکھنی، وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے استدعا کی کہ 24 اکتوبر سے لمبی تاریخ رکھ دیں، پرویز الٰہی کی لاہور کی عدالت بھی پیشی ہے،عدالت نے پرویزالٰہی کے خلاف کیس کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    جو جیل والا کھانا دیا جا رہا ہے، اس سے کل سے میرا پیٹ خراب ہے، پرویز الہی
    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب سے جیل میں تو رابطہ نہیں ہو سکتا، جو جیل والا کھانا دیا جا رہا ہے، اس سے کل سے میرا پیٹ خراب ہے، مشکل سے یہاں پہنچا ہوں کیونکہ فوڈ پوائزنگ ہو جاتی ہے،5 مہینے سے جیل کاٹ رہا ہوں، کوئی گھبراہٹ نہیں، مضبوطی کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، الیکشن کا ماحول بنے گا تو ہاتھ باندھ کے تو الیکشن نہیں ہو گا،عمران خان کے بغیر الیکشن بے معنی ہو گا، سائفر کیس کوئی بڑی بات نہیں ہے عمران خان اور شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں سرخرو ہوں گے، خان صاحب کے سیل کی دیوار گرائی گئی ہے جس سے کچھ بہتری ہوئی ہے،

  • پی ٹی آئی جلسہ کے لئے ڈی سی کو درخواست دے،عدالت

    پی ٹی آئی جلسہ کے لئے ڈی سی کو درخواست دے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کی لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی ،عدالت نے درخواست گزار کو دادرسی کے لیے ڈی سی لاہور کے پاس پیش ہونے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ ڈی سی لاہور درخواست گزار کو سن کر قانون کے مطابق دوسری جگہ جلسہ کرنے کی اجازت کا فیصلہ کریں،عدالت نے لبرٹی چوک میں کسی دوسری سیاسی جماعتوں کے جلسہ کرنے پر پابندی لگا دی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیں گے ، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے پیش ہو کر درخواست کی مخالف کی ،، ڈی سی لاہور نےجواب میں کہا کہ سیکورٹی رسک کی بنا پر لبرٹی میں جلسہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سرکاری وکیل نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کسی اور جگہ پر جلسہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جلسہ ہونے نہیں دینا چاہتے، آپ کسی اور جگہ جلسہ کر لیں، عدالت

    دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے ساتھ دیگر وکلا پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا،جسٹس راحیل کامران شیخ نے پی ٹی آئی جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت کی ،درخواست ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب عظیم اللہ خان نے دائر کی،درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہاہے، پی ٹی آئی نے الیکشن کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیلئے جلسہ کا انعقاد کرنا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کو جلسے کی اجازت کیلئے درخواستیں دیں،لبرٹی چوک لاہور میں 15 اکتوبر کے جلسے کیلئے پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دی گئی، اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، الیکشن کیلئے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے، عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے اجازت دینےکا حکم دے،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

  • پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،حلیم عادل شیخ

    پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،حلیم عادل شیخ

    انسداد دہشت گردی عدالت،9 مئی کو فیروز آباد تھانے کی حدود میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا کیس ،عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر کی ضمانت منظور کرلی

    عدالت نے حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان کی عبوری ضمانت میں توثیق کردی ،پولیس کا کہنا تھا کہ حلیم عادل شیخ و دیگر پر ہنگامہ آرائی ،جلاو گھیراؤ سمیت متعدد الزامات ہیں ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی ،حلیم عادل شیخ مبینہ ٹاؤن تھانے کے کیس میں عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں

    حلیم عادل شیخ نے ملیر کورٹ میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر سستا ہو رہا ہے، مہنگائی اوپر جا رہی ہے، سمجھ سے باہر ہے ،کل نواز شریف نے بوریا بستر باندھا ہے ،مریم کا پاپا چور ہے ، چاچا چور ہے،، چوروں کا نعرہ اب ان کا انتظار کرے گا، ملک میں آئیں یہ اب عوام بتائے گی انھیں ،پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،ان لوگوں نے ملک کو چالیس سال برباد کیا ہے ،کل بول رہے تھے لوگ لندن میں احتجاج کیوں کرتے ہیں ،میاں صاحب پھر آپ کیوں لندن میں سیاست کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمہ میمن گوٹھ تھانے میں شہری محمد امان کی مدعیت میں درج کیا گیا،مدعی مقدمہ کے مطابق حلیم عادل شیخ نے پراپرٹی کے معاملے میں جعلسازی اور دھوکا دہی کی، 400 پلاٹس کی رقم چھ کروڑ ادا کرنے کے بعد پتا چلا کہ ہاؤسنگ اسکیم ہی نہیں تھی،مدعی کا الزام ہے کہ حلیم عادل شیخ سے رابطہ کیا تو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    سندھ میں لڑکیوں سے برہنہ پریڈ ،اجتماعی زیادتی واقعہ پر عدالت نے نوٹس لے لیا

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ کروانے کے دو ملزم عدالت پیش

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ایم ایل او پر بھی لگ گیا گھناؤنا الزام

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس، متاثرہ لڑکیاں عدالت پیش،بیان ریکارڈ کروا دیا

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس،لڑکیوں نے ڈر کے مارے گاؤں چھوڑ دیا