Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • بحر ہند کی گہرائیوں میں  53 لاکھ سال پرانا  قبرستان دریافت

    بحر ہند کی گہرائیوں میں 53 لاکھ سال پرانا قبرستان دریافت

    سائنسدانوں نے بحر ہند کی تقریباً 23 ہزار فٹ گہرائی میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے،جس کی لمبائی تقریباً 745 میل بتائی جا رہی ہے۔

    سی جی ٹی این کے مطابق یہ دریافت جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں کی گئی، جہاں وہیلوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی ایسی جاندار انواع بھی ملیں جو پہلے کبھی کہیں اور نہیں دیکھی گئیں جہاں گہرائی تقریباً 7 ہزار میٹر تک ہے اس مقام پر نہ صرف قدیم فوسلز موجود ہیں بلکہ فعال وہیل فال بھی پائے گئے ہیں، جو کم از کم 53 لاکھ سال سے تشکیل پا رہے ہیں،محققین کو یہاں جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں ملیں، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر سائنس کے لیے بالکل نئی انواع ہیں۔

    یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای)، اٹلی کی یونیورسٹی آف پیزا اور نیوزی لینڈ کے ارتھ سائنسز ادارے کے اشتراک سے کی گئی ہے، اور اسے معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا ہے۔

    وہیل فال اس عمل کو کہا جاتا ہے جب مردہ وہیل سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہے اور وہاں ایک عارضی لیکن انتہائی زرخیز ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہے، جس میں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑے اور مختلف سمندری جاندار شامل ہوتے ہیں اب تک ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں ملے تھے، جبکہ فعال نظام کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ گہرائی 4,204 میٹر تھی۔

    2023 میں کیے گئے ایک تحقیقاتی مشن کے دوران سائنسدانوں نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈوب کر 1,200 کلومیٹر کے علاقے کا جائزہ لیا،اس دوران انہیں 5 فعال وہیل فال اور 476 فوسل سائٹس ملیں، جو 4,616 سے 7,001 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں۔

    محققین کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہے کہ اس زون میں 10 ملین سے زائد وہیل باقیات موجود ہو سکتی ہیں تحقیق کے مطابق ان میں سے ایک مقام پر 6,789 میٹر کی گہرائی میں تین چونچ والی وہیل کی ریڑھ کی ہڈی ملی، جو اب تک کا سب سے گہرا فعال وہیل فال نظام ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ ان فوسلز کی عمر کم از کم 53 ملین سال ہے اور ان میں موجود بعض انواع آج بھی موجود ہیں جبکہ کچھ ناپید ہو چکی ہیں ماہرین کے مطا بق ان باقیات میں موجود کاربن کی مقدار لاکھوں ٹن کے برابر ہے، جو سمندر کے ماحولیاتی نظام اور کاربن سائیکل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے،یہ تحقیق سمند ری حیاتیات، ماحولیاتی ارتقا اور گہرے سمندروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا کہ ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں،ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے، تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

    آزادی پسند عوام نے بی این پی کو کامیاب بنایا،طارق رحمان

    رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلا ت حاصل کیں اس پیشرفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

    سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

    ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔

    اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرا نی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔

    عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی

    یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہےماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمک بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم خاموشی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن رہا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں نمک کی زیادہ مقدار اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو ساحلی علاقوں یا سمندر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ نمک اپنی خوراک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پینے کے پانی میں شامل اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا نتائج سے پتا چلا کہ جو افراد زیادہ نمک یا کھارے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق نمکین پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں پایا گیا، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے بظاہر بلڈ پریشر میں یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی دل، گردوں اور دیگر اعضا پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں کھارے یا نمکین پانی کا استعمال عام ہے ماہرین کے مطابق صاف اور کم نمک والا پانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے پینے کے پانی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • موسم سرما کا دورانیہ انتہائی کم جبکہ گرمیوں کا موسم غیر معمولی حد تک طویل ہو سکتا ہے،تحقیق

    موسم سرما کا دورانیہ انتہائی کم جبکہ گرمیوں کا موسم غیر معمولی حد تک طویل ہو سکتا ہے،تحقیق

    لندن یونیورسٹی سے منسلک ماہرینِ آب و ہوا نے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ آنے والے 40 سے 50 برس کے دوران دنیا کے بیشتر ممالک میں موسم سرما (winter season)کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا جبکہ گرمیوں کا موسم غیر معمولی حد تک طویل ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو سردیاں محض ڈیڑھ سے دو ماہ تک محدود ہو کر رہ جائیں گی،عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں یکساں نہیں، تاہم قطب شمالی اور قطب جنوبی میں درجہ حرارت بڑھنے کی رفتار کرۂ ارض کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں چار گنا تک تیز ہو چکی ہے اس تیز رفتار حدت نے زمین کے قدرتی موسمی نظام کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق خط استوا کے قریب سے چلنے والی وہ قطبی سرد ہوائیں، جو ماضی میں پاکستان سمیت ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا کے کئی ممالک میں سرد یوں کا سبب بنتی تھیں، اب کمزور پڑ رہی ہیں ان ہواؤں کے زور میں کمی کے باعث نہ صرف سردی کا دورانیہ گھٹ رہا ہے بلکہ درجہ حرارت میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    تحقیق کے مطابق مستقبل قریب میں کئی ممالک میں موسم گرما کا دورانیہ سات سے آٹھ ماہ تک پھیل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی ترتیب مکمل طور پر بدلنے کا خدشہ ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسموں میں یہ تبدیلی سب سے زیادہ اثر نظامِ خوراک پر ڈالے گی، فصلوں کے اوقات، پانی کی دستیابی اور زرعی پیداوار سب اس تبدیلی سے براہ راست متاثر ہوں گے، اگرچہ بعض خطوں میں فصلوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر خوراک کی قلت، قیمتوں میں اضافہ اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

    تحقیق میں حکومتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں، بصورت دیگر آنے والی نسلوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • سائنسدان  زمین سے  62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ  سن کر حیران

    سائنسدان زمین سے 62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر حیران

    سائنسدانوں نے خلا میں ایسی کائناتی لہریں دریافت کی ہیں جو پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جریدے ”نیچر“ میں شائع تحقیق کے مطابق ان لہروں کو ”کورس ویوز“ کہا جاتا ہے، جو پلازما کی لہریں ہیں اور انسانی سماعت سے مطابقت رکھنے والی فریکوئنسی پر پھیلتی ہیںجب ان لہروں کو آڈیو سگنلز میں تبدیل کیا گیا تو ان کی آواز بلند پچ والے پرندوں کی چہچہا ہٹ جیسی معلوم ہوئی یہ لہریں زمین سے 62,000 میل (100,000 کلومیٹر) دور ایک ایسی جگہ سے دریافت کی گئیں جہاں پہلے کبھی ان کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا۔

    یونیورسٹی آف آئیووا کی ماہر خلائی فزکس ایلیسن جینز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بہت سے نئے سوالات کو جنم دیتی ہے کہ اس علاقے میں کون سے طبیعیاتی عوامل ممکن ہو سکتے ہیں،ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لہریں زمین کے مقناطیسی میدان کے اثرات سے پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم اس کا میکانزم ابھی تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا،یہ بہت پرکشش اور دلچسپ دریافت ہے ہمیں مزید ایسے واقعات کی تلاش کرنی چاہیے۔

    راکھی ساونت پاکستان پہنچ گئیں؟

    یہ لہریں پہلے بھی خلا میں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جیسے 1960 کی دہائی میں انٹارکٹیکا میں ایک تحقیقی اسٹیشن نے ان کا مشاہدہ کیا تھا ناسا کے وین ایلن پروبز نے زمین کے قریب سے بھی ان لہروں کی آوازیں سنی تھیں، لیکن یہ نئی دریافت پہلے سے کہیں زیادہ دور کی ہے۔

    تازہ آوازیں ناسا کے میگنیٹوسفیریک ملٹی اسکیل (MMS) سیٹلائٹس کے ذریعے ریکارڈ کی گئیں، جو 2015 میں زمین اور سورج کے مقناطیسی میدانوں کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کی گئی تھیں کورس ویوز دیگر سیاروں جیسے مشتری اور زحل کے قریب بھی دیکھی گئی ہیں اور یہ ایسے ہائی انرجی الیکٹرانز پیدا کر سکتی ہیں جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    تحقیق کے مصنف چینگمینگ لیو کا کہنا ہے کہ یہ لہریں خلا کی سب سے مضبوط اور اہم لہروں میں سے ایک ہیں،تازہ دریافت شدہ کورس ویوز زمین کے مقناطیسی میدان کے اس حصے میں ملی ہیں جو غیر متوقع طور پر پھیلا ہوا ہے، جس سے ان لہروں کے بننے کے عمل کے بارے میں نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

  • پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا  روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    نیو جرسی: امریکہ میں سائنسدانوں نے پرندوں کی بیٹ کو اگلی فلو وبا کو روکنے کے لیے تحقیق کا ذریعہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق پرندوں کی بیٹ، جسے گوانو بھی کہا جاتا ہے، وائرسز کا مرکز ہے اور فلو کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ڈیلاویئر بے جہاں ہر سال بہار میں تقریباً 25 اقسام کے پرندے آتے ہیں، اس تحقیق کے لیے ایک اہم مقام ہے۔

    سی این این کے مطابق یہ تحقیق سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے سائنسدانوں کی ٹیم کر رہی ہے، جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی مالی معاونت سے چل رہی ہے ڈاکٹر پامیلہ میکنزی اور ان کے ساتھی پیٹرک سیلر چار دہائیوں سے پرندوں کی بیٹ جمع کر رہے ہیں ڈاکٹر میکنزی نے سی این این کو بتایا، "یہاں ہر طرف قیمتی مواد موجود ہے۔”

    اسٹیٹ بینک کا انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے وائرولوجسٹ ڈاکٹر رابرٹ ویبسٹر نے سب سے پہلے اس بات کو سمجھا کہ فلو وائرس پرندوں کی آنتوں سے آتا ہے یہ تحقیق ان کی تخلیق ہے اور اگرچہ وہ اب 92 سال کے ہو چکے ہیں اور ریٹائر ہو چکے ہیں، وہ اب بھی ٹیم کے ساتھ شامل رہتے ہیں ویبسٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرندوں کے جسم میں یہ وائرس نظامِ تنفس کی بجائے آنتوں میں بڑھتا ہے اور پرندے اسے پانی میں بیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

    سنہ 1985 میں پہلی بار ویبسٹر اور ان کی ٹیم نے ڈیلاویئر بے کا دورہ کیا، جہاں 20 فیصد بیٹ کے نمونوں میں فلو وائرس پایا گیا یہ علاقہ اس وقت سے پرندوں میں فلو وائرسز کی نگرانی کے لیے اہم مقام بنا ہوا ہےتحقیق کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہاں کسی نئے فلو وائرس کی دریافت دنیا کو وبا کے حوالے سے پہلے سے خبردار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    ڈاکٹر رچرڈ ویبی، جو اب اس منصوبے کی نگرانی کرتے ہیں، اسے فلو وائرسز کی طویل المدتی تحقیق کا ایک منفرد منصوبہ قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطرے، چاہے وہ طوفان ہو یا وبا، کی پیش گوئی کے لیے ہمیں موجودہ حالات کو سمجھنا ہوگا” ڈاکٹر ویبی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے جانوروں میں فلو وائرس کی تحقیق کے مرکز کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا ہے کہ پرندوں کی بیٹ کے ذریعے وائرس کی حرکات کو سمجھنا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی کسانوں کو انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو کا مقابلہ کرنا پڑا ہو 2014 میں، یورپ سے ہجرت کرنے والے پرندے شمالی امریکہ میں H5N8 وائرس لائے۔ جارحانہ طور پر 50 ملین سے زیادہ پرندوں کی موت کے نتیجے میں، اس وباء کو روک دیا گیا اور امریکہ برسوں تک انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو وائرس سے پاک رہا۔

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    تاہم، اسی حکمت عملی نے H5N1 کو نہیں روکا ہے۔ H5N1سن 2021 کے آخر میں امریکہ پہنچا، اور متاثرہ مرغیوں میں پھیلنا جاری ہے۔ پچھلے دو سالوں میں، H5N1 وائرس نے ممالیہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی اقسام جیسے بلیوں، لومڑیوں، اوٹروں اور سمندری شیروں کو بھی متاثر کیا ہت ، جس سے وہ انسانوں میں آسانی سے پھیلنے کے ایک قدم کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    H5N1 وائرس انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن یہ انفیکشن اب تک ایک شخص سے دوسرے شخص تک نہیں پہنچتے ہیں کیونکہ ہماری ناک، گلے اور پھیپھڑوں کے خلیات پرندوں کے پھیپھڑوں والے خلیوں سے قدرے مختلف ریسیپٹرز رکھتے ہیں۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    تاہم، اسے تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔سائنس جریدے میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وائرس کے ڈی این اے میں ایک اہم تبدیلی اسے انسانی پھیپھڑوں کے خلیات تک پہنچنے کی اجازت دے گی کیپ مے کی ٹیم کو پہلے کبھی بھی ان پرندوں میں H5N1 نہیں ملا تھا جنہوں نے وہاں نمونے لیے تھے لیکن کئی ریاستوں میں گائے میں وائرس پھیلنے کے ساتھ، وہ حیران تھے کہ یہ اور کہاں ہو سکتا ہے کیا یہ ان پرندوں تک بھی پہنچ گیا تھا؟

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    ایک ہفتے کے دوران ٹیم 800 سے 1000 نمونے جمع کرے گی، نمونوں میں فلو کے کسی بھی وائرس کو ترتیب دیا جائے گا – وائرس کے جینیاتی کوڈ کے صحیح حروف کو پڑھا جائے گا – اور ایک بین الاقوامی ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا جائے گا، ایک قسم کی ریفرنس لائبریری جو سائنسدانوں کو انفلوئنزا کے تناؤ کو ٹریک کرنے میں مدد کرتی ہے جب وہ دنیا کا چکر لگاتے ہیں-

  • پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر  انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات موسموں پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کے باعث بارش برسنے کا نظام بدل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات سمندروں سے لے کر ہمارے جسموں میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور یہ بادلوں کی ‘سیڈنگ’ کا کام بھی کرتے ہوئے آسمان میں برفانی کرسٹلز بننے میں مدد فراہم کر رہے ہیں لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ کس طرح پلاسٹک کے ننھے ذرات بادلوں کے بننے کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے نے پلاسٹک کے ذرات کی 4 عام اقسام کو ان تجربات کے لیے استعمال کیا اور مشاہدہ کیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات گرم درجہ حرارت میں بننے والے برفانی کرسٹلز میں موجود تھے یا یوں کہہ لیں کہ ان ذرات نے برف بننے کے عمل کو زیادہ آسان کردیا، یہاں تک کہ زیادہ درجہ حرارت میں بھی ایسا ممکن ہوا۔

    محققین کے مطابق برفانی کرسٹلز بارش کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور پلاسٹک کے ننھے ذرات کی مدد سے وہ زیادہ آسانی سے بننے لگے اس دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کس طرح ہمارے ماحول پر اثرانداز ہو رہے ہیں یہ ذرا ت ممکنہ طور پر بارش برسنے کے عمل پر 2 متضاد طریقوں سے اثرات مرتب کرتے ہیں، یعنی کہیں یہ بارش برسنے کی مقدار میں کمی لاتے ہیں اور کہیں بہت زیادہ بارش برسنے کا باعث بنتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ان ذرات سے آلودہ فضا میں بادلوں میں موجود پانی متعدد چھوٹے ذرات میں پھیل جاتا ہے جس سے بارش کم برسنے لگتی ہے مگر جب یہ ننھے ذرات مل کر بڑے ہوتے ہیں تو بارش کی شدت معمول سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

  • طیارے جتنی آواز پیدا کرنے والی چھوٹی مچھلی

    طیارے جتنی آواز پیدا کرنے والی چھوٹی مچھلی

    برلن: Danionella cerebrum نامی مچھلی طیارے جتنی زوردار آواز پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے –

    باغی ٹی وی : ڈینیونیلا سیریبرم، جس کا سائز صرف 12 ملی میٹر ہے، 140 ڈی بی سے زیادہ آواز پیدا کر سکتی ہے یہ مقدار اسی آواز کے برابر ہے جو کہ اُڑان بھرتے ہوئے مسافر طیارے سے 100 میٹر کے فاصلے پر کھڑے شخص کو آتی ہے،اس مچھلی کی دریافت ویسے تو 1980 کی دہائی میں کی گئی تھی لیکن 2021 میں سائنسدانوں کی جانب سے اس میں اور اسی کی قریبی نسل کی دوسری مچھلی Danionella translucida کے درمیان انتہائی ذراسا فرق دریافت کیا جس کے بعد ان مچھلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔

    محققین کی ایک ٹیم نے حال ہی میں Danionella cerebrum کی دلچسپ خصوصیت دریافت کی ہے جو نہ صرف اسے قریبی نسل Danionella translucida سے الگ کرتی ہے بلکہ اسے دنیا کی بلند ترین آواز پیدا کرنے والوں جانداروں کی فہرست میں بھی بہت اوپر رکھا گیا ہے۔

    قازقستان کے صدر نے وزیراعظم کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    جرمنی میں سینکنبرگ نیچرل ہسٹری کلیکشنز کے ماہر آبی حیات، ڈاکٹر رالف برٹز کا کہنا تھا یہ چھوٹی مچھلی 10 سے 12 ملی میٹر کے فاصلے پر 140 ڈی بی سے زیادہ طاقت کی آوازیں نکال سکتی ہے، یہ 100 میٹر کے فاصلے پر اُڑان بھر رہے ہوائی جہاز کی آواز کے برابر ہے، اتنے چھوٹے سائز کے جانور کے لیے اس طاقت کی آواز نکالنا حیرت انگیز ہے۔

    مغربی بنگال میں ٹرین حادثہ،15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

  • زمین کی اندرونی تہہ زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے،امریکا

    زمین کی اندرونی تہہ زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے،امریکا

    سدرن کیلیفورنیا: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ ہمارے سیارے کی سطح کے مقابلے میں زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ کی گردش کی رفتار میں 2010 سےکمی آنا شروع ہوئی،ایسا 40 سال میں پہلی بار ہوا جب زمین کی سطح کےمقابلے میں اندرونی تہہ کی رفتار کم ہو گئی۔

    جرنل نیچر میں شائع اس تحقیق کے نتائج کے مطابق زمین کی اوپری تہہ سیال دھات پر مبنی ہے جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں پر مشتمل ہے اور اس کا حجم چاند کے 70 فیصد رقبے کے برابر ہے یہ تہہ ہمارے پیروں سے 4800 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہےاس تحقیق کے لیے ماہرین نے 1991 سے 2023 کے دوران ساؤتھ سینڈوچ آئی لینڈز میں ریکارڈ ہونے والے 121 زلزلوں کی ریڈنگ کا تجزیہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا والد سے محبت کے عالمی دن پر پیغام

    انہوں نے 1971 سے 1974 کے دوران روسی جوہری ٹیسٹوں کے ساتھ ساتھ فرانس اور امریکی جوہری ٹیسٹوں ڈیٹا کی جانچ پڑتال بھی کی محققین نے بتایا کہ جب ہم نے زلزلے کے ریکارڈ میں اس تبدیلی کا اشارہ دیکھا تو ہم دنگ رہ گئے، مگر ہم نے دریافت کیا کہ مزید 2 درجن مشاہدات میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین کی اندرونی تہہ کئی دہائی بعد پہلی بار سست روی سے گردش کر رہی ہے اور دیگر سائنسدانوں نے بھی یہ بات کی ہے مگر ہماری تحقیق میں زیادہ ٹھوس نتائج پیش کیے گئے، اندرونی تہہ کی گردش سست ہونے کی ممکنہ وجہ اوپری تہہ کے گرد موجود سیال کی تیز حرکت ہے۔

    یو اے ای میں چھٹی صدی عیسوی کا قدیم گمشدہ شہر دریافت

    محققین کے مطابق اندرونی تہہ کے گھومنے کی رفتار میں کمی سے دنوں کی لمبائی اور زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آسکتی ہیں، اندرونی تہہ کی رفتار سے دن کی لمبائی میں ایک سیکنڈ کے ایک ہزارویں حصے کے برابر تبدیلی آسکتی ہےجسکا جاننا بہت مشکل ہوتا ہے،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس حوالے سے زیادہ گہرائی میں جاکر جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آخر اس کی رفتار میں کمی کیوں آئی۔

    آن لائن منگوائی گئی آئسکریم میں کنکھجورا نکل آیا