Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    امریکا میں ماہرین نے جین تھراپی کے ذریعے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کے جسم میں قدرتی طریقے سے خون بنانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا۔

    باغی ٹی وی :نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع رپورٹ کے مطابق اس طریقہ علاج میں ماہرین نے خود مریض کے اسٹیم سیل لئے اور انہیں تجربہ گاہ لے جایا گیا اس کے بعد ایک تبدیل شدہ وائرس کے ذریعے تھیلیسیمیا کی وجہ بننے والے خراب جین کی بجائے اس کی درست کاپیاں شامل کی گئیں۔ اس کے بعد تمام مریضوں کو ایک طرح کی کیموتھراپی سے گزارا گیا اور انہیں چار سے پانچ ہفتے اس مرحلے سے گزرنا پڑا اس کے ایک ماہ بعد ہی مریضوں کے جسم میں خون بنانے کی صلاحیت بحال ہو گئی۔

    وزارت صحت کا پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافے کا انکشاف

    کئی برس تک جاری عالمی تحقیق میں ڈاکٹروں نے 13 ماہ سے لے کر چار سال تک کئی مریضوں کا بار بار معائنہ کیا اور خون کے اندر تھیلیسیمیا کے خطرات دیکھتے رہے ان میں سے چار مریضوں پر تھراپی کے سب سے شدید اثرات دیکھے گئے ۔ جبکہ کچھ افراد نے خون کے سرخ اور سفید خلیات میں کمی سمیت، منہ میں چھالوں، بخار اور دیگر کیفیات کی شکایت کی۔

    شکاگو میں واقع این اینڈ رابرٹ ایچ لوری چلڈرن ہسپتال کی ماہر ڈاکٹر جینیفر شنائڈرمان کے مطابق دس برس تک یہ تحقیق کی گئی ہے جس میں انتقالِ خون والے تھیلیسیمیا مریضوں کا جین تھراپی سے علاج کیا گیا ہے۔

    فیزتھری کلینکل ٹرائل کے بعد 90 فیصد مریضوں میں جین تھراپی کے کئی برس بعد اب بھی تازہ خون کی ضرورت نہیں رہی اور وہ مکمل طور پر تندرست ہیں تمام مریضوں کی عمر 4 سے 34 برس تھی اور ان سب کو جین تھراپی سےگزارا گیا تھا ان میں سے 12 برس سے کم عمرکے 90 فیصد مریضوں کو تاحال ماہانہ بنیاد پر انتقالِ خون کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔

    رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے تھیلیسیمیا‮ ‬خون‮ ‬کی‮ ‬بیماریوں‮ ‬کا‮ ‬مجموعہ‮ ‬‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬بے‮ ‬قاعدہ‮ ‬ہیموگلوبن‮ ‬کی‮ ‬پیداوارکی‮ ‬وجہ‮ ‬سے‮ ‬بنتا‮ ‬ہے۔ ‬ہیموگلوبن‮ ‬ایسی‮ ‬پرو‮ ‬ٹین‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬سرخ‮ ‬جرثوموں‮ ‬میں‮ ‬پائِ‮ی ‬جاتی‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬جسم‮ ‬کے‮ ‬لئے‮ ‬آکسیجن‮ ‬لانے‮ ‬کا‮ ‬کام‮ ‬کرتے‮ ‬ہیں تھیلیسیمیا‎‮ ‬مورثی‮ ‬انیمیا‮ ‬بھی‮ ‬‬ہو‮ ‬تا‮ ‬‬ہے‮ ‬یہ‮ ‬بیماری‮ ‬مشرق‮ ‬وسطی،‮ ‬افریقہ‮ ‬یا‮ ‬ایشیا‮ ‬میں‮ ‬پائی‮ ‬جاتی‮ ‬ہے۔‮

    ‬تھیلیسمیا‮ ‬کی‮ ‬بہت‮ ‬سی‮ ‬اقسام‮ ‬‬ہیں ‬یہ‮ ‬علامات‮ ‬کے‮ ‬بغیر‮ ‬سے‮ ‬لیکر‮ ‬مہلک‮ ‬حد‮ ‬تک‮ ‬‬ہو‮ ‬سکتی‮ ‬‬ہے‮ ‬اگر‮ ‬آپ‮ ‬کو‮ ‬بہت‮ ‬معمولی‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اس‮ ‬کا‮ ‬مطلب‮ ‬یہ‮ ‬آپ‮ ‬بیماری‮ ‬کو‮ ‬اٹھائے‮ ‬‬ہوئے‮ ‬‬ہیں‮ ‬اور‮ ‬آپ‮ ‬کے‮ ‬ریڈ‮ ‬خونی‮ ‬ذرات‮ ‬نارمل‮ ‬سے‮ ‬چھوٹے‮ ‬‬ہیں ‬لیکن‮ ‬آپ‮ ‬تندرست‮ ‬‬ہیں تھیلسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬مہلک‮ ‬بھی‮ ‬‬ہو‮ ‬سکتا‮ ‬‬ہے‮ ‬آیسے‮ ‬لوگ‮ ‬جن‮ ‬کو‮ ‬ایلفا‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬‬ہوتا‮ ‬‬ہے‮ ‬وہ‮ ‬بچپن‮ ‬میں‮ ‬‬ہی‮ ‬وفات‮ ‬پا‮ ‬جا‮ ‬تے‮ ‬‬ہیں‮ ‬۔ ‬بیٹا‮ ‬تھیلسیمیا‮ ‬میں‮ ‬خون‮ ‬بدلواتے‮ ‬رہنے‮ ‬کی‮ ‬ضرورت‮ ‬ہوتی‮ ‬ہے۔‮ ‬تھیلسیمیا‮ ‬کی‮ ‬دوسری‮ ‬اقسام‮ ‬بھی‮ ‬ہیں‮ ‬جو‮ ‬کی‮ ‬زیادہ‮ ‬شدید‮ ‬نہیں‮ ‬ہوتیں۔

    تھیلیسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬کی‮ ‬علامات‮ ‬نومولودی‮ ‬سے‮ ‬ہی‮ ‬شروع‮ ‬ہو‮ ‬جاتی‮ ‬ہیں‮ ‬یہ‮ ‬علامات‮ ‬انیمیا‮ ‬کے‮ ‬مریضوں‮ ‬جیسی‮ ‬ہی‮ ‬ہوتی‮ ‬ہیں‮ ‬جیسے‮ ‬کہ:جلد‮ ‬کا‮ ‬زرد‮ ‬ھونا ، تھکاوٹ، کمزوری، سانس‮ ‬لینے‮ ‬میں‮ ‬دشواری-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    اس کے‮علاوہ‮ ‬دوسری‮ ‬علامات‮ ‬بھی‮ ‬ہو‮ ‬سکتی‮ ‬ہیں جیسے کہ چڑچڑا‮ ‬پن، یرقان، بڑھوتری‮ ‬میں‮ ‬کمی، پیٹ‮ ‬کا‮ ‬غیر‮ ‬معمولی‮ ‬بڑھنا، چہرے‮ ‬کی‮ ‬ھڈی‮ ‬کا‮ ‬ٹیرا‮ ‬پن، گہرے‮ ‬رنگ‮ ‬کا‮ ‬پیشاب-

    خون‮ ‬میں‮ ‬بے‮ ‬ترتیبی‮ ‬کی‮ ‬وجہ‮ ‬جین‮ ‬کی‮ ‬خرابی‮ ‬ہوتی‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬ہیموگلوبن‮ ‬کی‮ ‬پیداوار‮ ‬کو‮ ‬کنٹرول‮ ‬کرتی‮ ‬ہے ‬بچے‮ ‬اس‮ ‬جین‮ ‬کو‮ ‬ایک‮ ‬یا‮ ‬دونوں‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬وراثت‮ ‬میں‮ ‬لیتے‮ ‬ہیں ‬اگر‮ ‬بچہ‮ ‬دونوں‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬خراب‮ ‬جین‮ ‬لیتا‮ ‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اسے‮ ‬میجر‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے۔ ‬اگر‮ ‬دو‮ ‬میں‮ ‬سے‮ ‬ایک‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬لیتا‮ ‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اسے‮ ‬تھیلسمیا‮ ‬مائنرہوتا‮ ‬ہے۔تب‮ ‬یہ‮ ‬بچہ‮ ‬خراب‮ ‬جین‮ ‬کا‮ ‬کیرئیر‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے۔

    تھیلیسیمیا کے مریضوں کے خون میں ہیموگلوبن بننے کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض کو ہر ماہ خون کے سرخ خلیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بار بار خون لگانے سے فولاد کی زیادتی، انفیکشن اور دیگر تکلیف دہ کیفیات پیدا ہوسکتی ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…

  • کورونا وائرس سے بچاؤ میں بھنگ بھی بہت مفید ،تحقیق

    کورونا وائرس سے بچاؤ میں بھنگ بھی بہت مفید ،تحقیق

    امریکی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچانے میں بھنگ بھی بہت مفید ہے-

    باغی ٹی وی : ’جرنل آف نیچرل پروڈکٹس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی اور اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کےماہرین نےمشترکہ تحقیق میں بھنگ کے پودے میں دو ایسے قدرتی مرکبات دریافت کئے ہیں جو کووِیڈ 19 کی وجہ بننے والے ’سارس کوو 2‘ وائرس کو پھیلنے سے روکتے ہیں اوراس بیماری کی شدت میں اضافہ ہونےنہیں دیتے دریافت ہونے والے ان دونوں مرکبات کے نام ’’کینابیگیرولک ایسڈ‘‘ (سی بی جی-اے) اور ’’کینابیڈایولک ایسڈ‘‘ (سی بی ڈی-اے) رکھے گئے ہیں۔

    سرخ آنکھوں اور جلد کی خارش بھی اومی کرون کی علامات ہیں ،امریکی طبی ماہرین

    ان مرکبات کی سالماتی ساخت دیکھ کر ماہرین کو اندازہ ہوا کہ شاید یہ کورونا وائرس کے انسانی خلیوں سے جڑنے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں بعد ازاں اس کی تصدیق پیٹری ڈش میں رکھے گئے انسانی پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کے خلیات پر ان مرکبات کی آزمائش سے ہوئی جنہیں کورونا وائرس (سارس کوو 2) سے متاثر کیا گیا تھا۔

    لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    سی بی جی-اے اور سی بی ڈی-اے، دونوں نے ہی کورونا وائرس کی سطح پر ابھار جیسی اس پروٹین کو جکڑ کر ناکارہ بنا دیا جسے استعمال کرتے ہوئے یہ وائرس خلیے کے اندر داخل ہوتا ہے اور اپنے حملے کی شدت میں اضافہ کرتا ہےتاہم ابھی یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لہذا اسے بنیاد بنا کر بھنگ کا استعمال شروع نہ کیا جائے۔

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ…

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مزید تجربات اور تحقیق کے بعد یہ معلوم کریں گے کہ آیا یہ دونوں مرکبات جیتے جاگتے انسانوں کو بھی کورونا وائرس سے اتنے ہی مؤثر اندازمیں بچاسکتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے پیٹری ڈش میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا علاوہ ازیں، مزید تحقیق میں یہ مرکبات استعمال کرنے پر ظاہر ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس کا جائزہ بھی لیا جائے گا اس کے بعد ہی حتمی طور پر ان مرکبات کو کورونا کے علاج میں استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

    کچھ وقت پہلےاس جنگلی پودے کو ہر لحاظ سے برُا سمجھا جاتا تھاکیوں کہ اس پودے کے پتے اور پھول کھانے سے انسان کوایک عجب قسم کا نشہ ہوجایاکرتا تھا، پہلے پہل اس کو جناتی پودا بھی قرار دیا گیا کیوں کہ اس پودے کا نشہ کرنے والوں نے اسے شراب اور افیون سے یک سر مختلف قرار دیا تھا۔

    بغیر ویکسینیشن بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی، وزیر تعلیم پنجاب مُراد راس کا اعلان

    اس پودے سے تیار نشہ آور مشروب کو پاکستان اور بھارتی پنجاب میں عمومی طور پر ’’ سردائی‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ بھارت کے دیگر علاقوں میں بھنگ لسی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ پودا برصغیر کی دریافت ہے۔اس لیے اس پودے کو ہندی بھنگ،ہندی سن،قنب ہندی،شاہدانہ اور گانجا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جب کہ مغرب میں اس کو ’’میری جوآنا‘‘ کہا جاتا ہے۔

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے…

    انگریز دوا ساز کمپنیوں کے ماہرین اس پودے کا نباتاتی نام Cannabis indica اور Cannabis sativa کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان میں سے کینے بس انڈیکا، برصغیر پاک و ہند کی مناسبت سے ہے اور کینے بس سیٹائیوا یورپ اور امریکا کی مناسبت سے ہے۔بھارت اور پاکستان میں تو اب بھی یہ مشروب ایک خاص طرح کا روایتی نشہ سمجھا جاتا ہے اور برصغیر کے بہت بڑے حصے میں تو یہ خیال بھی عام ہے کہ اس مشروب کے طبی فوائد بھی ہیں صدیوں سے بھنگ کے مادہ پودے کے پھولوں اور پتوں سے ایک خاص ترکیب کے ساتھ نشہ آور مشروب تیار کیا جاتا ہے-

    جاپان نےکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دے دیا

  • فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    لندن: پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد فیٹی لیورکی شکارہے تاہم اب تحقیق سے بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت ایک اور خوفناک اورزندگی بھر ساتھ رہنے والے مرض ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف برونل نے ہزاروں افراد کا جائزہ لیا ہے جس کا موضوع فیٹی لیوراورذیابیطس کے درمیان تعلق دریافت کرنا تھا اس کے لیے سائنسدانوں نے 32859 افراد کے ایم آرآئی اسکین دیکھے جس میں جگرکی جسامت کا بغور جائزہ لیا گیا اور فیٹی لیورکی جینیاتی وجوہ جاننے کی بھی کوشش کی چربی بھرے جگر کے مرض کا پورا نام ’نان الکحلک فیٹی لیورڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی) ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اگر جگر پر چربی 5 فیصد بڑھ جائے تو ذیابیطس کا خدشہ 27 فیصد تک بڑھ سکتا ہے یعنی ثابت ہوا کہ اگرجگرچکنائیوں سے بھرا ہوتو اس سے شوگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    تحقیق کے سربراہ ہینی یاغوٹکر نے اپنے بیان میں کہا ہمارے تحقیقی نتائج بتاتے ہیں کہ این اے ایف ایل ڈی کا علاج کرکے نہ صرف لوگوں کو وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے ذیابیطس کا خطرہ بھی دور بھگایا جاسکتا ہے اگرچہ چربی بھرے جگر کی سب سے بڑی وجہ شراب نوشی ہے لیکن شراب نہ پینے والوں میں بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں تین میں سے ایک فرد اس کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    ذیابیطس کی ماہر ایرن پیلنکسی کہتی ہیں کہ این اے ایف ایل ڈی اور انسولین کی حساسیت کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جگر کو چکنائیوں سے پاک رکھیں کیونکہ چکنائی معمول سے تھوڑی بڑھ جائے تب بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ آگھیرتا ہے۔

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    غذائی ماہرین چکنائیوں، روغنی کھانوں اور کریم بھری کافی سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں ورنہ اس سے پہلے جگر متاثر ہوگا اور بعد میں ذٰیابیطس کا عارضہ چمٹ جائے گا اس لیے ضروری ہے کہ پھل، ہرے پتے والی سبزیوں اور دارچینی وغیرہ کے استعمال کو بڑھایا جائے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ماہرین نے کہا ہے کہ جگر کو صاف اور تندرست رکھنے کے لیے پالک، سیب، بیریاں، شاخ گوبھی، مغزیات، دالوں، فائربھری اشیا ضرور استعمال کیجئے اس طرح دوہری بیماریوں کو دور بھگایا جاسکتا ہے۔

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

  • اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

    اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا کی نئی قسم اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی تیزی سے پھیلتی نئی قسم اومی کرون میں یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی اور نہ ہی کورونا کی اس نئی قسم کا متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج رہتا ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    جنوبی افریقہ سائنسدانوں نے گزشتہ دو ہفتوں کی رپورٹ کی بنیاد پر کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے کے شواہد نہیں ملے اور جنوبی افریقہ میں اب تک ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 22 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ "ڈیلٹا” کے پھیلنے کے وقت سب سے زیادہ 26 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

    "اومی کرون” نوجوانوں کو متاثر کررہا ہے ،افریقی ڈاکٹر

    رپورٹ کے مطابق اومی کرون اب تک جنوبی افریقہ کے 9 صوبوں تک پھیل چکا ہے اومی کرون سے متاثرہ شخص میں سنگین علامات دکھائی نہیں دیتیں تاہم اسے کم شدت والی قسم قرار دینا قبل ازوقت ہو گا اس کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون گزشتہ 2 ہفتوں میں 60 سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے تاہم اس سے متاثرہ افراد میں موت کی شرح انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    اس سے قبل کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    کیٹیگری سی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو 31 دسمبر تک وطن واپسی کی اجازت

    ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے کلینک میں سات ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    ڈاکٹرکوئیٹزی نے کہا تھا کہ جب سات مریضوں میں مختلف علامات ظاہر ہوئیں تو انہوں نے 18 نومبر کو محکمہ صحت کے حکام کو ایک ’کلینیکل تصویر جو ڈیلٹا سے مطابقت نہیں رکھتی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں کورونا کی اس نئی قسم سے متاثر افراد کی نبض کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس کی وجہ خون میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی ہوتی ہے اس بار کووڈ کی علامات مختلف ہیں جو ڈیلٹا کی نہیں ہوسکتیں، بلکہ یہ علامات یا تو بیٹا سے ملتی جلتی ہیں یا یہ کوئی نئی قسم ہے، مجھے توقع ہے کہ اس نئی قسم کی بیماری کی شدت معمولی یا معتدل ہوگی، ابھی تک تو ہم اسے سنبھالنے کے لیے پراعتماد ہیں-

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

  • صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں   تحقیق

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ صحت سے لے کر عالمی خبروں تک کسی بھی معاملے پر لوگ معلومات کا انتخاب اپنے احساسات کی بنا پر کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ بات سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ اگر عام افراد کو اس کا احساس ہوجائے کہ یا معلومات ان کے لیے مفید ہوگی تب ہی وہ اسے پڑھتے اور سمجھتے ہی خواہ وہ مالی معلومات ہوں، صحت کی خبریں ہوں یا پھر عالمی معلومات ہی کیوں نہ ہو۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    500 سے زائد افراد کو شامل تحقیق کیا گیا 500 افراد پر تحقیق سے پتا چلا ہے کہ معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو ان کے احساسات اور ضرورت کی بنا پر تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں یا تو علم اس کے لیے حاصل کرتے ہیں کہ حاصل شدہ معلومات ان کے احساسات اور جذبات پر اثر انداز ہوگی-

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اس معلومات سے فیصلہ سازی میں مدد لینا چاہتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ معلومات کو اس بنا پر پڑھتے ہیں کہ وہ اکثر اس بارے میں سوچتے رہتے ہیں یعنی لوگ اس معلومات کا اطلاق اپنی صحت، مالی امور اور باہمی تعلقات پر کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں جہاں تک صحت کا تعلق ہے لوگوں کی اکثریت یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کیا وہ کینسر کے شکار ہوسکتے ہیں یا نہیں اور کچھ لوگ 2100 میں کرہ ارض کا درجہ حرارت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    ماہرین کو توقع ہے کہ اس تحقیق سے نہ صرف لوگوں کے رحجان کا پتا چلتا ہے بلکہ اکتساب اور معلومات کے نئے مؤثر طریقے اختیار کرنے میں بھی مدد ملے گی ماہرین یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ آخرمعلومات کے حصول میں دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟ اور ہمہ وقت مطالعہ کرنے والے افراد آخر کس لالچ کے تحت پڑھے جاتے ہیں؟

    سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے