Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • ہم جنس پرستوں سے متعلق ماہرین کا نیا انکشاف

    ہم جنس پرستوں سے متعلق ماہرین کا نیا انکشاف

    ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مخالف جنس کے مقابلے پر ہم جنس پرستوں میں کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق امریکی کینسر سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کئی لحاظ سے سوشل میڈیا صارفین سمیت دنیا بھر میں لوگوں کو حیران کر رہی ہے،اس تحقیق میں ہم جنس پرست اور خواجہ سرا (ایل جی بی ٹی کیو پلس) میں کینسر کے امکانات سے متعلق ہی بتایا گیا ہے۔

    جبکہ ادارے کی جانب سے کہناتھا کہ چونکہ ہم جنس پرست اور خواجہ سرا (ایل جی بی ٹی کیو پلس) کے افراد سگریٹ، شراب، ڈرگس سمیت ان تمام چیزوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو کہ کینسر کا باعث بنتی ہےیہی وجہ ہے کہ ان افراد میں کینسر ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں، ہم جنس پرست اور خواجہ سرا (ایل جی بی ٹی کیو پلس) کے افراد میں ایس ٹی آئی جیسے کہ ایچ آئی وی اور ایچ پی وی ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں جو کہ کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

    ویتنام کے سفیر کی اہلیہ اسلام آباد سے لاپتہ

    امریکی کینسر سوسائٹی کے چیف سائنٹیفک افسر ڈاکٹر ولیم داہوت کا کہنا تھا کہ ہم خاص طور پر صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے آبادی میں ہچکچاہٹ پر آگاہ ہیں، ہمیں خدشہ تھا کہ تعصبات کی بنا پر اور کم واقفیت کی بنا پر نتائج بدتر ہو سکتے ہیں،اس تحقیق میں 3 بڑے قومی سروے کیے گئے تھے، جن میں نیشنل ہیلتھ انٹرویو سروے، برتاؤ رسک فیکٹر سرویلیئنس سسٹم اور نیشنل یوتھ تمباکو سروے شامل ہیں-

    جبکہ اسی سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہم جنس پرست افراد مخالف جنس کے مقابلے میں زیادہ سگریٹ پیتے ہیں،تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ کینسر کی کئی دوسری اقسام سے بھی منسلک ہے تمباکو نوشی کینسر کے علاوہ صحت کے سنگین مسائل کا بھی سبب بنتی ہے، جیسے فالج، پھیپھڑوں کی بیماری اور دل کی بیماری۔

    جنرل ہسپتال:دو بچوں کی ماں کی یوٹرس سے 25کلو وزنی رسولی نکالنے کا کامیاب آپریشن

  • شہد کی مکھیوں  کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیاں پانی کے اندر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت سائنسدانوں نے اس وقت کی جب انہوں نے حادثاتی طورپر شہد کی مکھیوں کو ڈبو دیا ، 2022 میں کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کے ماہرین ایک تحقیق پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیڑے مار ادویات سے زیرزمین خوابیدہ شہد کی مکھیوں کی ملکہ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    یہ تحقیق شہد کے مکھیوں کی ایک قسم بمبل بی پر کی جا رہی تھی اور اس دوران فریج میں خرابی سے زیرزمین جگہ پانی میں ڈوب گئی پانی کے اندر شہد کی مکھیاں موجود تھیں اور سائنسدان یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ یہ غلطی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی بلکہ متعدد مکھیاں زندہ بچ گئیں، اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر اس بارے میں تحقیق کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ زیرآب شہد کی مکھیاں بچ سکتی ہیں یا نہیں۔

    اس کے لیے 147 مکھیوں کو استعمال کیا گیا اور انہیں مٹی سے بھری شیشے کی بوتلوں میں ڈال دیا گیا، بوتلوں پر ہوا کی گزرگاہ کے لیے سوراخ کیے گئے تھے اور بوتلوں کو تاریک اور ٹھندی جگہ پر رکھ کر زیرزمین ماحول کی نقل کی گئی،17 مکھیوں کو خشک بوتلوں میں رکھا گیا جبکہ ایک گروپ مکھیوں کو کو بوتلوں میں 20 ملی لیٹر پانی میں تیرنے دیا گیا جبکہ تیسرے گروپ کی مکھیوں کو پانی میں ڈبو دیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کے اندر موجود 90 فیصد مکھیاں زندہ بچ گئیں، ان میں 17 ایسی مکھیاں بھی تھیں جن کو پانی کے اندر 7 دنوں تک رکھا گیا،ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مکھیاں زیرآب کیسے بچ جاتی ہیں مگر ماہرین کے خیال میں ایسا ممکنہ طور پر مکھیوں کے سانس لینے کے طریقے سے ہوتا ہے۔

  • ڈائنو سارکیوں ناپید ہوئے سائنسدانوں نے وجہ دریافت کر لی

    ڈائنو سارکیوں ناپید ہوئے سائنسدانوں نے وجہ دریافت کر لی

    زمین پر کروڑوں سال پہلے ڈائنو سارز رہا کرتے تھے، جن کی نسل بعد ازاں معدوم ہو گئی،اور یہ کیسے ہوا سائنسدانوں نے وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی: نیچر جیوسائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی بیلجیم کے سائنسدانوں کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لگ بھگ6کروڑ 60لاکھ سال قبل زمین پر ایک بہت بڑا شہاب ثاقب آ ٹکرایا تھا، جس سے ایسی تباہی آئی کہ زمین سے 75فیصد زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔

    رائل آبزرویٹری آف بیلجیم کے ماہرین کی طرف سے اس واقعے کو ’ Chicxulub‘ ایونٹ کا نام دیا گیا ہے اس واقعے میں زمین سے ٹکرانے والے شہاب ثاقب کا قطر ساڑھے 7میل (تقریباً12کلومیٹر)تھا اور یہ 27ہزار میل (تقریباً43ہزار 452کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے ٹکرایا تھا۔

    اگر بی جے پی جیت گئی تو ملک کا وہ حال ہوگا کہ لوگ پہچان …

    اس کے ٹکرانے سے زمین میں 124میل (تقریباً200کلومیٹر) چوڑا گڑھا پڑ گیا تھا اس واقعے میں خشکی پر اور سمندر میں پائی جانے والی 75فیصد مخلوق ختم ہو گئی تھی زمین سے سبزہ بھی ناپید ہو گیا تھا اس دھماکے سے زمین سے گردوغبار کا ایک بادل اٹھا جس نے زمین کے بڑے حصے کو ڈھانپ لیا۔

    یہ بادل 15سال تک زمین پر سایہ کیے رہا، جس سے زمین کے درجہ حرارت میں 15ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی واقع ہو گئی سورج کی روشنی زمین تک نہ پہنچنے اور درجہ حرارت گر جانے سے زمین پر سبزہ اگنا بند ہو گیا اور باقی ماندہ جانوروں میں سے بھی اکثر موت کے گھاٹ اتر گئے۔

    ایکشن اور ڈرامے سے بھرپور ویب سیریز ’ہیرا منڈی‘ کا ٹریلر جاری

  • سورج گرہن بہت سے جانوروں کے رویے کو متاثر کرتا ہے،تحقیق

    سورج گرہن بہت سے جانوروں کے رویے کو متاثر کرتا ہے،تحقیق

    جنوبی کیرولائنا: سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ سورج گرہن بہت سے جانوروں کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکن ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے سورج گرہن کے دوران بعض جانوروں میں کچھ عجیب و غریب رویوں کے حوالے سے ڈیٹا جاری کیا ہے،ڈیٹا میں شہد کی مکھیوں کے بارے میں بتایا کہ سورج گرہن کے دوران مکھیوں نے اپنے روزمرہ کے معمولات سے اچانک خود کو روک لیا، شہد کی مکھیوں کا رویہ ریکارڈ کرنے کیلئے امریکی سائنسدانوں نے تین ریاستوں میں صوتی نگرانی کا نظام قائم کیا جس میں انہوں نے پایا کہ تمام شہد کی مکھیاں کامل گرہن کے وقت آواز پیدا کرنا بن کردیتی ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ شہد کی مکھیاں رات کے وقت اکثر دھیرے دھیرے اڑتی ہیں لہٰذا یہ ممکن ہے کہ گرہن کے دوران ان کی سرگرمی ماحولیاتی تبدیلی جیسے روشنی یا اندھیرے پر منحصر ہو۔

    جو بھی فیصلے آئندہ ہوں گے وہ کور کمیٹی کے ذریعے ہی ہوں گے،شیرافضل مروت

    جنوبی کیرولائنا میں ریور بینکس زو نے مکمل سورج گرہن کے دوران مختلف جانوروں کے طرز عمل کا مشاہدہ کیا جس میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا کہ مجموعی طور پر سورج گرہن کچھ جانوروں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے کیونکہ چڑیا گھر میں موجود گوریلوں اور ہاتھیوں نے گرہن کے وقت اپنی جگہ پر بنے کمروں کی طرف جانا شروع کر دیا۔

    اسٹار شپ راکٹ آئندہ 5 برسوں میں سرخ سیارے تک پہنچ جائے گا،ایلون …

    اگرچہ اس رویے کی جانوروں سے توقع کی گئی تھی لیکن کچھوؤں نے تمام جانوروں سے ہٹ کر کچھ نئے رویے کا مظاہرہ کیا کامل گرہن ہونے سے ذرا پہلے تمام کچھوے جلدی سے ایک دوسرے سے چمٹنے لگے اور ان میں سے دو نے ملن بھی کیا، تاہم مکمل اندھیرا ہو جانے کے بعد وہ منتشر ہوگئے اور پھر اندھیرا چھٹتے وقت انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور واپس اپنے معمول پر آگئےمحققین پوری طرح سے یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر کچھوؤں نے اس خاص رویے کا مظاہرہ کیوں کیا تاہم انہوں نے کہا ہے ہوسکتا ہے یہ ایک اضطرابی ردعمل ہو۔

    مسلمان کتنے روزے رکھیں گے اور عیدالفطر کب ہو گی؟ماہرین کی پیشگوئی

  • شادی شدہ افراد زیادہ خوش باش او ر صحت مند ہوتے ہیں یا تنہا زندگی گزارنے والے؟

    شادی شدہ افراد زیادہ خوش باش او ر صحت مند ہوتے ہیں یا تنہا زندگی گزارنے والے؟

    کیلیفورنیا: شادی کے بعد ایک خوشگوار زندگی صرف پریوں کی کہانیوں میں نہیں ہوسکتی ہے، یہ ڈیٹا میں بھی ہے۔

    باغی ٹی وی: شادی شدہ افراد زیادہ خوش باش او ر صحت مند ہوتے ہیں یا تنہا زندگی گزارنے والے؟اس کا جواب کافی دلچسپ ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق شادی کرنے والے افراد تنہا رہنے والوں سے زیادہ خوش یا صحت مند نہیں ہوتے۔

    امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں شادی شدہ اور کنوارے افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت کا تجزیہ کیا گیا تھا،تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے شواہد بہت کم ہیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ شادی سے طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں کی شخصیت اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق ویسے تو مانا جاتا ہے کہ شادی صحت اور شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے بہترین ہوتی ہے مگر اس حوالے سے شواہد ناکافی ہیں اکثر تحقیقی رپورٹس میں نتائج کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے مگر حقیقت کچھ مختلف ہے ڈپریشن، تنہائی، جسمانی صحت اور خوشی کے لحاظ سے کنوارے اور شادی شدہ افراد میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا، شادی کرنے سے طویل المعیاد بنیادوں پر صحت یا شخصیت میں نمایاں بہتری کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

    اس تحقیق کے نتائج جرنل انسائیکلوپیڈیا آف مینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئے۔

    گیلپ پول کے مطابق، شادی شدہ بالغ افراد کسی بھی دوسرے رشتے کی حیثیت میں رہنے والوں سے کہیں زیادہ خوش ہیں، گیلپ کے پرنسپل اکانومسٹ، پول کے مصنف جوناتھن روتھ ویل نے کہا کہ کسی بھی طرح سے آپ ان ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں، ہمیں شادی شدہ ہونے کا کافی بڑا اور قابل ذکر فائدہ اس لحاظ سے نظر آتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا کیسے جائزہ لیتے ہیں۔

    2009 سے 2023 تک، ریاستہائے متحدہ میں 2.5 ملین سے زیادہ بالغوں سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی موجودہ زندگی کی درجہ بندی کیسے کریں گے، جس میں صفر کو بدترین ممکنہ درجہ بندی ہے اور 10 سب سے زیادہ ہے۔ پھر محققین نے جواب دہندگان سے پوچھا کہ پانچ سالوں میں ان کی خوشی کی سطح کیا ہوگی؟

    ترقی پزیر سمجھے جانے کے لیے، سروے کے مطابق، ایک شخص کو اپنی موجودہ زندگی کو سات یا اس سے اوپر اور اپنے متوقع مستقبل کو آٹھ یا اس سے اوپر کا درجہ دینا پڑتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق، سروے کی مدت کے دوران، شادی شدہ افراد نے مسلسل اپنی خوشی کی سطح اپنے غیر شادی شدہ ہم منصبوں سے زیادہ بتائی، جو کہ سال کے لحاظ سے 12% سے 24% تک زیادہ ہے، سروے میں کہا گیا کہ جب محققین نے عمر، نسل، جنس اور تعلیم جیسے عوامل کو ایڈجسٹ کیا تب بھی فرق موجود تھا۔

    تعلیم خوشی کی ایک مضبوط پیشن گوئی ہے، لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ بالغ افراد جنہوں نے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کی وہ گریجویٹ ڈگری کے حامل غیر شادی شدہ بالغوں کے مقابلے میں اپنی زندگی کا زیادہ بہتر انداز میں جائزہ لیتے ہیں۔

    بریڈ فورڈ ولکوکس، سوشیالوجی کے پروفیسر اور ورجینیا یونیورسٹی میں نیشنل میرج پروجیکٹ کے ڈائریکٹر نے کہ”نسل ،عمر ، جنس اور تعلیم جیسی چیزیں اہم ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ شادی ان چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے جب بات آپ کی بہترین زندگی گزارنے کے اس طرح کے اقدام کی ہو،جیسا کہ ارسطو نے کہا کہ "ہم سماجی جانور ہیں، ہم جڑنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں-

    اس سے قبل فروری 2023 میں نارویجن انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ طلاق یافتہ اور زندگی بھر کنوارے رہنے والے افراد کے مقابلے میں طویل المعیاد عرصے تک شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے،تحقیق میں بتایا گیا کہ طلاق یافتہ اور کنوارے افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص کا امکان بالترتیب 50 اور 73 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

    محققین نے دریافت کیا کہ شادی شدہ ہونے اور معمولی ذہنی مسائل کے خطرے کے درمیان تو ٹھوس تعلق نہیں مگر ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی کے حوالے سے یہ تعلق واضح ہے شریک حیات کا ساتھ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

  • لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے،ماہرین

    لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے،ماہرین

    لاہور: ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ کے نتیجے میں لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف شکاگو کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے لوگوں کی اوسط عمر کم ہونا شروع ہوگئی ہے اسموگ کے نتیجے میں یہاں کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے لاہور میں رہنے والے بچوں کے لیے موجودہ صورتحال میں باہر نکلنا ایک دن میں 30 سگریٹ پینے کے برابر ہے لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 445 ریکارڈ کیا گیا ہے علاوہ ازیں آلودہ ترین شہروں میں کراچی دوسرے اور پشاور تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

    محکمہ ماحولیات کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس 200 کو نارمل سمجھا جاتا ہے۔ انڈیکس کی سطح 200 سے 300 کے درمیان آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہے جبکہ اگر اے کیو آئی 400 سے 500 کی سطح تک پہنچ جائے تو اسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہےاسی کے ساتھ ساتھ اگر اے کیو آئی 500 کی سطح کو عبور کرتا ہے تو اس سے صحت مند افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے اسموگ ایڈوائزری جاری کر دی

    واضح رہے کہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست لاہور اس وقت شدید سموگ کی لپیٹ میں ہے، لاہور نے اس سال بھی سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونے کا ریکارڈ مستقل طور پر برقرار رکھا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے اسموگ ایڈوائزری جاری کر دی، این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتےوسطی،جنوبی پنجاب میں اسموگ خطرناک حد تک پہنچنے کا امکان ہے،اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن میں ائیرکوالٹی انڈیکس معتدل سے خراب ہونے کا اندیشہ ہے،گوجرانوالہ، ملتان،لاہور، بہاولپور،فیصل آباد میں اسموگ خطرناک حد تک جاسکتی ہے، سرگودھا،ڈی جی خان،ساہیوال ڈویژن بھی اسموگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ایڈوائزری میں عوام سے کہا گیا ہے کہ بیرونی سرگرمیوں کو محدود کریں،باہر جاتے وقت ماسک پہنیں، مقامی ہوا کے معیار کی سطح کے بارے میں آگاہ رہیں، نظام تنفس کو اسموگ کے اثرات سے بچانے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

  • موسمیاتی بحران  ہر گھنٹے 1 کروڑ 16 لاکھ ڈالر نقصان کا سبب بن رہا ہے،تحقیق

    موسمیاتی بحران ہر گھنٹے 1 کروڑ 16 لاکھ ڈالر نقصان کا سبب بن رہا ہے،تحقیق

    لندن: ایک نئی تحقیق میں لگائے گئے اندازے کے مطابق شدید موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والا موسمیاتی بحران گزشتہ 20 سالوں سے ہر گھنٹے 1 کروڑ 16 لاکھ ڈالر نقصان کا سبب بن رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین”میں شائع تحقیق کے مطابق حالیہ دہائیوں میں طوفان، سیلاب، ہیٹ ویو اور خشک سالی کے سبب ہزاروں اموات اور بڑے پیمانے پر عمارتیں تباہ ہوئیں اور وقت کے ساتھ عالمی تپش ان وقوعات میں شدت کا سبب بن رہی ہے۔

    اپنی نوعیت کی اس پہلی تحقیق میں سائنس دانوں نے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والی عالمی تپش کے براہ راست مالی نقصان کا تخمینہ لگایا تحقیق میں معلوم ہوا کہ سال 2000 سے 2019 تک اوسطاً 140 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، اگرچہ سال بہ سال یہ ہندسے مختلف ہیں۔ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق 2022 میں موسمیاتی بحران 280 ارب ڈالر کے نقصان کا سبب بنا۔

    کینیڈین حکومت نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ سفارتی صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کر …

    محققین کے مطابق ڈیٹا میں کمی (بالخصوص کم آمدنی والے ممالک کا ڈیٹا) کا مطلب نقصان کے تخمینے میں کمی ہے۔ جبکہ فصل کی پیداوار میں کمی اور سطح سمندر میں اضافہ اس تخمینے میں شامل نہیں کیے گئےمحققین نے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے شدید موسمیاتی وقوعات کے سبب ہونے والے مالی نقصان کا ڈیٹا مرتب کیاتحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ دو دہائیوں سے زیادہ کے عرصے میں موسمیاتی بحران کے سبب 1.2 ارب لوگ متاثر ہوئے۔

    نقصان کے اخراجات کا دو تہائی حصہ جانوں کے ضیاع کی وجہ سے تھا، جبکہ ایک تہائی جائیداد اور دیگر اثاثوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے تھا، طوفان، جیسے کہ سمندری طوفان ہاروی اور سائیکلون نرگس، آب و ہوا کے اخراجات کے دو تہائی کے لیے ذمہ دار تھے، جن میں 1فیصد ہیٹ ویوز اور 10 فیصد سیلاب اور خشک سالی سے آئے۔

    حیدرآباد،دکن:بابر اعظم نے گراؤنڈ سٹاف کو اپنی شرٹ تحفے میں دیدی

    محققین نے کہا کہ ان کے طریقوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں قائم کیے گئے نقصان اور نقصان کے فنڈ کے لیے کتنی فنڈنگ ​​کی ضرورت تھی، جس کا مقصد غریب ممالک میں شدید موسمی آفات سے بحالی کے لیے مدد کرنا ہے یہ انفرادی آفات کی مخصوص آب و ہوا کی قیمت کا بھی تیزی سے تعین کر سکتا ہے، جس سے فنڈز کی تیز تر فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔

    نیوزی لینڈ کی وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن کے پروفیسر ایلان نوئے نے کہا کہ ہیڈ لائن نمبر 140 بلین ڈالر سالانہ ہے اور، سب سے پہلے، یہ پہلے سے ہی ایک بڑی تعداد ہے”دوسرا، جب آپ اس کا موازنہ موسمیاتی تبدیلی کی لاگت کی معیاری مقدار (کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے)سے کرتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ یہ مقداریں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کر رہی ہیں۔

    افغانستان میں ایک بار پھر شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

    نوئے نے کہا کہ بہت سارے شدید موسمی واقعات ہوئے جن کے لیے لوگوں کی ہلاکتوں یا معاشی نقصان کے بارے میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری 140 بلین ڈالر کی سرخی کی تعداد ایک اہم بات ہے، مثال کے طور پر، انہوں نے کہا، گرمی کی لہر سے ہونے والی اموات کا ڈیٹا صرف یورپ میں دستیاب تھا، ہمیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ سب صحارا افریقہ میں ہیٹ ویو سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔

  • چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    ہیمبرگ: اماہرین نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کو 28 فی صد تک کم کر دیتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ اور چین کی ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی کے محققین نے چین سے تعلق رکھنے والےافراد کی روزانہ چائے پینے کی عادت کا مطالعہ کیاتحقیق میں دو اقسام کے افراد شامل ہوئے، ایک وہ جو چائے کے عادی نہیں تھے اور دوسرے وہ جو ایک ہی قسم کی چائے پیا کرتے تھے-

    جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقد یورپین ایسو سی ایشن فار اسٹڈی آف ڈائیبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹ اور انسداد سوزش اثرات ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت کو بہتر کردیتے ہیں یہ اثرات بالخصوص ڈارک ٹی (قدیم چائے جس کو بنانے کے لیے اندرونی طور کیمیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں) میں زیادہ پائے گئے۔

    کوئی ملک آپ کو ڈالر نہیں دے گا اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں …

    تحقیق کے شرکا سے ان کے چائے پینے کے معمول (یعنی کبھی نہیں، کبھی کبھار سے اکثر اور روزانہ) اور چائے کی قسم (سبز، سیاہ، ڈارک یا کوئی دوسری) کے متعلق پوچھا گیا بعد ازاں اکٹھے کیے گئے اس ڈیٹا کا جائزہ ان افراد کے پیشاب میں شوگر کی مقدار، انسولین کی مزاحمت اور گلائکیمک اسٹیٹس یعنی ٹائپ 2 ذیا بیطس کی تاریخ، انسداد ذیا بیطس ادویات کا موجودہ استعمال یا 75 گرام اورل گلوکوز ٹالر ینس ٹیسٹ جاننے کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ کے نتائج کے حساب سے کیا گیا۔

    مفاہمتی پالیسی کے حامی گروپ کی نواز شریف کی وطن واپسی ملتوی کرنے کی تجویز

    تحقیق کے مطابق روزانہ چائے پینے کا تعلق پیشاب میں گلوکوز کے اخراج میں اضافے اور انسولین کی مزاحمت میں کمی سے تھا، جس سے معلوم ہوا کہ پری ڈائبیٹیز (بیماری سے پہلے کا مرحلہ) اور ٹائپ 2 ذیا بیطس کے امکانات کم تھے ذیا بیطس میں مبتلا افراد عموماً رینل گلوکوز ری ایبزاربشن میں مبتلا پائے گئے اس کیفیت میں گردے گلوکوز کو جمع کر کے رکھتے ہیں، پیشاب کے ذریعے خارج نہیں کرتے اور بلڈ شوگر کی بلند سطح کا سبب بنتے ہیں وہ لوگ جو ایک کپ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں کبھی بھی چائے نہ پینے والوں کی نسبت پری ڈائیبیٹیز کے خطرات 15 فی صد جبکہ ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات 28 فی صد تک کم ہوتے ہیں۔

    عدالت نے مونس الٰہی کا اشتہار شائع کرنے کا حکم دے دیا

  • گوشت کا کھانے میں کم استعمال کرکے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے،تحقیق

    گوشت کا کھانے میں کم استعمال کرکے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے،تحقیق

    برلنگٹن: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا کے نصف حصے کو سبزیوں پر منتقل کرنے سے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: پودوں پر مبنی کھانے – جیسے پھل اور سبزیاں، اناج، پھلیاں، مٹر، گری دار میوے، اور دال – عام طور پر کم توانائی، زمین، اور پانی کا استعمال کرنے پر جانوروں پر مبنی کھانے کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیس کی شدت کم ہوتی ہے،خوراک کے آب و ہوا کے اثرات کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شدت کے لحاظ سے ماپا جاتا ہے۔ اخراج کی شدت کا اظہار کلوگرام "کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی” میں کیا جاتا ہے جس میں نہ صرف CO2 بلکہ تمام گرین ہاؤس گیسیں شامل ہیں بلکہ فی کلوگرام خوراک، فی گرام پروٹین یا فی کیلوری بھی شامل ہے-

    جانوروں پر مبنی کھانے، خاص طور پر سرخ گوشت، ڈیری، اور کھیتی کے جھینگا، عام طور پر سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے وابستہ ہوتے ہیں،گوشت کی پیداوار کے لیے اکثر گھاس کے وسیع میدانوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اکثر درختوں کو کاٹ کر، جنگلات میں ذخیرہ شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چھوڑ کر پیدا ہوتا ہے۔

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    گائے اور بھیڑیں گھاس اور پودوں کو ہضم کرتے وقت میتھین خارج کرتی ہیں چراگاہوں پر مویشیوں کا فضلہ اور مویشیوں کے چارے کے لیے فصلوں پر استعمال ہونے والی کیمیائی کھاد ایک اور طاقتور گرین ہاؤس گیس نائٹرس آکسائیڈ خارج کرتی ہے۔

    کیکڑے کے فارم اکثر ساحلی زمینوں پر قابض ہوتے ہیں جو پہلے مینگروو کے جنگلات میں ڈھکے ہوئے تھے جو بڑی مقدار میں کاربن جذب کرتے ہیں۔ جھینگے یا جھینگوں کے بڑے کاربن فوٹ پرنٹ بنیادی طور پر ذخیرہ شدہ کاربن کی وجہ سے ہوتے ہیں جو فضا میں چھوڑے جاتے ہیں جب مینگرووز کو جھینگوں کے فارم بنانے کے لیے کاٹا جاتا ہے۔

    جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گوشت اور ڈیری پر مشتمل غذا کا نصف حصہ پودوں پر مشتمل غذا سے بدل دیا جائے تو آئندہ 27 سالوں میں 31 فیصد تک کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے،گوشت پرمبنی بھاری غذائیں ہماری صحت کے ساتھ ہمارے سیارے کے لیے بھی خطرات رکھتی ہیں بڑے پیمانے پر مویشیوں کا پالا جانا ہمارے ماحول کو خراب کرتا ہے اور وسیع مقدار میں گرین ہاؤس گیس کو پیدا کرتا ہے۔

    لیبیا:سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی ٹیموں کا ہولناک سانحہ کا انکشاف

    2021 میں کی جانے والی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ غذا کے سبب گرین ہاؤس گیس اخراج کا 57 فی صد حصہ گوشت اور ڈیری پر مشتمل ہوتا ہے یہ نئی تحقیق گزشتہ مطالعےسےاتفاق کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ غذا کا 50 فیصد حصہ سبزیوں پر مشتمل کرنے سے زراعت اور زمین کے استعمال میں کمی واقع ہوگی۔

    یونیورسٹی آف ورمونٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی شریک مصنفہ ایوا وولین برگ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کے لیےہمیں گوشت کےاستعمال میں کمی کرنےکی ضرورت ہوگی، اوریہ تحقیق ہمیں ایسا کرنےکا راستہ دِکھاتی ہے، پودوں سے بنے گوشت صرف ایک نئی غذا نہیں ہے بلکہ غذائی تحفظ اور موسمیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر صحت اور حیاتیاتی تنوع پر مشتمل مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

    شریک بانی گوگل نے اپنی بیوی نیکول شناہن کو طلاق دے دی، انکشاف

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا