Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے

    ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے

    ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے، ترک فضائی حدود بھی،اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی-

    ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر نہایت سخت اور دوٹوک مؤقف پیش کیا،اپنے خطاب میں ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں، ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ترک فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ 2 برس سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور بنیادی انسانی اقدار کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے پامال کر رہا ہےغزہ میں ہونے والے مظالم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوں گے اسرائیل کو بے لگام حملے جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہےفلسطینی عوام کی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، یہ مظلوموں کے لیے ایک علامت بنے گی اور موجودہ بوسیدہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔

    پولینڈ کا ایف 16 طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    ترک وزیرِ خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا ہو ، ترکی کسی کو شام کی قدیم اور قیمتی کمیونٹیز کو مسخ شدہ عزائم کے لیے استعمال کرنے یا اس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا، انہوں نے اسرائیل کے غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران پر حملوں کو ’دہشت گرد ریاست‘ کی ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ عالمی نظام کے خلاف کھلی بغاوت ہے حکان فیدان کا یہ خطاب خطے کی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے سخت اور واضح مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

    شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

  • اسحاق ڈار کا ترک  ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرخارجہ خاقان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، جس میں دوطرفہ تعلقات،علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی صورتحال اور غزہ میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کی ضرورت اور اسرائیلی مظالم روکنے پر زور دیا،وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین پراسرائیلی قبضے کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منصوبہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانیہ میں سزا یافتہ غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کافیصلہ

    مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

  • سربراہ پاک بحریہ کو ترکیہ کے اعلیٰ عسکری اعزاز سے نوازا گیا

    سربراہ پاک بحریہ کو ترکیہ کے اعلیٰ عسکری اعزاز سے نوازا گیا

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو ترکیہ میں اعلیٰ عسکری اعزاز “لیجن آف میرٹ آف دی ترک آرمڈ فورسز” سے نوازا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ترک نیول فورسز کے ہیڈ کوارٹرز آمد پر سربراہ پاک بحریہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیاایڈمرل نوید اشرف نے ترک نیول فورسز کے کمانڈر سے ملاقات بھی کی جس میں دو طرفہ بحری تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،علاوہ ازیں نیول چیف نے ترک وزیر دفاع، چیف آف جنرل اسٹاف اور کمانڈر ترکش نیوی فلیٹ سے ملاقاتیں کیں جس میں علاقائی میری ٹائم سکیورٹی، دفاعی شراکت داری، مشترکہ مشقوں اور تربیتی صلاحیتوں کے فروغ پر زور دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کے ملجم پراجیکٹ کا جائزہ لینے کے لیے سربراہ پاک بحریہ نے استنبول نیول شپ یارڈ کا بھی دورہ کیا ، گولچک نیول بیس کے دورے کے موقع پر ایڈمرل نوید اشرف نے آبدوزوں کی تعمیراتی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی تیزی کا رجحان

    5 اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع پر یوم سیاہ

    احمد پور شرقیہ: ٹرین کے نیچے آ کر نامعلوم شخص کی خودکشی، لاش مسخ

  • اسحاق ڈار سےترک وزیر خارجہ کارابطہ، غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    اسحاق ڈار سےترک وزیر خارجہ کارابطہ، غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فدان کا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال، بھوک، جبری نقل مکانی اور بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا دونوں رہنماؤں نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کی متحدہ کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

    اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام اور ان کے جائز مؤقف کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیاانہوں نے اقوام متحدہ میں آج ہونے والی دو ریاستی حل پر عملدرآمد کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس سے مثبت اور بامقصد نتائج کی امید ظاہر کی۔

    بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں بنگالی شہری ظلم و جبر کا شکار

    ادھرایران اور افغانستان نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، بمباری اور جنگی جرائم پر فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کی اور اسلامی دنیا کے مربوط اور متحد ردعمل پر زور دیا۔

    پی آئی اے طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا

    ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے نہ صرف فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ دو طرفہ مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں ایران کے آبی حقوق، سرحد پار تعاون، قونصلر روابط، اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے امور شامل تھے، دونوں ممالک نے علاقائی امن کے لیے مذاکرات اور طویل المدتی تعاون کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی حملے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تازہ بمباری میں مزید 71 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ غذائی قلت اور بھوک کے باعث شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 127 ہو گئی ہے، جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں۔

    راولپنڈی : غیرت کے نام پر قتل خاتون کی پولیس سکیورٹی میں قبر کشائی

  • معاوضے پر اختلاف:’کورلوش عثمان‘ کے مرکزی کردار  نے  سیریز کو الوداع کہہ دیا

    معاوضے پر اختلاف:’کورلوش عثمان‘ کے مرکزی کردار نے سیریز کو الوداع کہہ دیا

    دنیا بھر میں مشہور سلطنت عثمانیہ پر بننے والی ترک ڈرامہ سیریز ’ارطغرل غازی‘ کے سیکوئل ’کورلوش عثمان‘ کے مرکزی کردار براق اوزچیویت ( عثمان بے ) نے سیریز کو الوداع کہہ دیا-

    ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے نامور اداکار براق اوزچیویت نے عالمی سطح پر مشہور ترکی کے ڈرامے کورلش عثمان کو معاوضے کے تنازع کے باعث چھوڑ دیا ہے، جس میں وہ مسلسل پانچ سیزن سے مرکزی کردار ’عثمان بے‘ نبھا رہے تھے،براق اوزچیویت اور سیریز کے پروڈیوسر مہمت بوزداغ کے درمیان نئے سیزن کے معاوضے پر اختلافات پیدا ہوئے۔

    براق اوزچیویت نے فی قسط 40 لاکھ ترک لیرا کا مطالبہ کیا، جس کے باعث پروڈکشن ٹیم اور ان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، اس تنازع کے بعد دونوں فریقین نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو اَن فالو بھی کر دیا، جس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی، حال ہی میں براق اوزچیویت نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ الوداع کہنا ایک عظیم خوبی ہے۔

    بھارت کا چینی شہریوں کو 5سال بعد سیاحتی ویزے جاری کرنے کا اعلان

    اداکار نے لکھا کہ چھ سالہ محنت اور جذبے کے سفر کے اختتام پر وہ دل کی گہرائیوں سے اپنے ناظرین کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اُن لوگوں کو بھی الوداع کہنا چاہتے ہیں جنہوں نے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی، بہت جلد نئی کہانی میں ملاقات ہوگی۔

    واضح رہے کہ کورلش عثمان کے نئے سیزن میں بوڑھے عثمان بے کو دکھایا جانا تھا اور اس میں کہانی زیادہ تر ان کے بیٹے اورحان غازی پر مرکوز ہوگی،اگرچہ ابھی تک نئے مرکزی کردار کا باضابطہ علان نہیں کیا گیا، تاہم اطلاعات کے مطابق مرت یازجی اوغلو، مرات یلدرم اور ابراہیم چیلیک کول جیسے مشہور اداکاروں کے نام زیر غور ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    براق اوزچیویت ترکیہ کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں شمار کیے جاتے ہیں، رپورٹ کے مطابق وہ فی قسط 40 ہزار یورو سے زائد معاوضہ حاصل کر رہے تھے، جو باقی کاسٹ کے معاوضے (15 سے 30 ہزار یورو) سے کہیں زیادہ تھا۔

  • ترکیہ کے اپوزیشن رہنما اور میئر استنبول  کو پبلک پراسیکیوٹر کو دھمکانے پر 20 ماہ قید

    ترکیہ کے اپوزیشن رہنما اور میئر استنبول کو پبلک پراسیکیوٹر کو دھمکانے پر 20 ماہ قید

    ترکیہ کے اپوزیشن رہنما اور استنبول کے میئر اکرم امام‌اوغلو کو شہر کے پبلک پراسیکیوٹر کی توہین اور اسے دھمکانے کے الزام میں مجموعی طور پر 20 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ ان کئی کیسز میں سے ایک ہے جو امام‌اوغلو کے خلاف زیرِ سماعت ہیں، وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے مرکزی سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور اس وقت مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں پہلے سے ہی زیرِ حراست ہیں مارچ میں ہونے والی ان کی گرفتاری کے بعد ترکی میں گزشتہ دہائی کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے، بدھ کا عدالتی اجلاس استنبول کے مغربی کنارے میں واقع سیلیوری عدالت و جیل کمپلیکس میں ہوا، جہاں امام‌اوغلو کو مارچ سے رکھا گیا ہے۔

    عدالت نے انہیں ایک سرکاری ملازم کی توہین کے جرم میں ایک سال 5 ماہ اور 15 دن جبکہ دھمکی دینے کے الزام میں مزید 2 ماہ 15 دن قید کی سزا سنا ئی ،امام‌اوغلو نے عدالت میں پیشی کے دوران تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں اردوان کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، استغاثہ نے ابتدا میں ان کے لیے سات سال چار ماہ تک قید اور سیاست سے نااہلی کی سزا تجویز کی تھی۔

    کراچی: لیاری میں عمارت کی چھت گرنے سے 2 خواتین جاں بحق

    تاہم، بدھ کے روز عدالت نے سیاسی نااہلی کا فیصلہ نہیں دیا کیونکہ یہ پابندی صرف ان مجرموں پر لاگو ہوتی ہے جنہیں کم از کم 2 سال قید کی سزا ہوامام‌اوغلو پہلی بار 2019 میں استنبول کے میئر منتخب ہوئے تھے اور 2024 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ انہیں 19 مارچ کو بدعنوانی کی تحقیقات اور مبینہ دہشت گردی کے روا بط کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان پر عائد الزامات کی طویل فہرست ان کے اگلے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے، جو کہ 2013 کے غیزی پارک مظاہروں کے بعد سب سے بڑے عوامی احتجاج تھے، ان مظاہروں کو پولیس نے سختی سے کچل دیا تھا۔

    مسلسل تیسرے روز ملک میں سونے کی قیمت میں کمی

  • کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے ترکیہ کے خلاف اپنے چار دہائیوں پر مشتمل مسلح مزاحمتی دور کا تاریخی اختتام کرتے ہوئے اسلحے سے دستبرداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    عراق کے شمالی کرد خطے کے شہر سلیمانیہ میں جمعے کے روز ہونے والی ایک علامتی تقریب میں ”پی کے کے“ کے 20 سے 30 جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار تلف کیے، مگر انہیں کسی حکومت یا فورس کے حوالے نہیں کیا گیا ،یہ پیش رفت پی کے کے کی جانب سے مئی میں دیئے گئے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے مسلح جدوجہد ترک کرنے کا عندیہ دیا تھا پی کے کے کو ترکی، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اپنے ملک کے پاؤں پر پڑی خون آلود بیڑیاں اتار پھینکی ہیں،اس عمل سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    سلیمانیہ میں ہونے والی تقریب سخت سیکیورٹی میں منعقد کی گئی جس میں پی کے کے جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار خود تلف کیے۔ یہ عمل پورے موسمِ گرما میں مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس کی نگرانی ترکی، عراق اور کرد علاقائی حکومت مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔

    پی کے کے کے قیدی سربراہ عبداللہ اوجلان، جو 1999 سے ترکی کے جزیرہ امرالی میں قید ہیں، نے جون میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں اس عمل کو ”مسلح جدوجہد سے جمہوری سیاست اور قانون کی جانب رضاکارانہ منتقلی“ قرار دیا اور اسے ”تاریخی کامیابی“ قرار دیا۔

    برازیل کا بھارت سے آکاش میزائل سسٹم خریدنے سے انکار

    الجزیرہ کے مطابق یہ صرف آغاز ہے، ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے یہ اقدام ترک صدر اردوان کی منظوری سے ہوا اور اب وہ جماعتیں جو پہلے اس عمل کو غداری کہتی تھیں، اب اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس میں نیشنل موومنٹ پارٹی (MHP) اور مرکزی اپوزیشن جماعت CHP بھی شامل ہیں۔

  • اسحاق ڈار سے ترک ہم منصب کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے ترک ہم منصب کی ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار سے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ملاقات کی-

    دوران ملاقات وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں امن اور سلامتی کے لیے دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں، سیکیورٹی، دفاع اور انٹیلی جنس کی نئی کمیٹی کا اجلاس 24 جولائی کو ہوگا، دفاعی صنعت کی میٹنگ ستمبر میں ہوگی،اس دوران پاکستان نے ترکیہ کے دفاعی تجربات سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کردی۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کےساتھ مضبوط ہورہی ہے، دونوں ممالک کئی علاقائی و عالمی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، ترکیہ کی جانب سے آزادکشمیرمیں اسکول کھولنے پر بات ہوئی ہے، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں، جن کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جارہے ہیں۔

    ترک وزیر خارجہ نے اسحٰاق ڈار کی باتوں کو مشترکہ اعلامیہ قرار دے دیا۔

    واضح رہے کہ آج ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ترکیہ کے وزیر دفاع یشار گُلر سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری سید علی اسد گیلانی نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا تھااس اہم دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے،ترکیہ کے وزراء کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی اعتماد پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

  • پاک فضائیہ کے سربراہ سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    پاک فضائیہ کے سربراہ سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ترکیہ کے وزیر دفاع یشار گُلر نے اہم ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور باہمی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایئر چیف مارشل نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ، برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور جدید تربیت و ایرو اسپیس ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا،فریقین نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات میں پیشرفت کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں ترک وزیر دفاع نے پاکستان آمد پر پاک فضائیہ کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا، ترک وزیر دفاع نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران ایئر چیف کی قیادت میں پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی، بھرپور تیاری اور قومی خودمختاری کے مؤثر دفاع کو سراہا،ترک وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور تاریخی برادرانہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔

    واضح رہے کہ ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان اور وزیر دفاع یشار گُلر بدھ کی صبح سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔

  • ترکیہ : ریپبلکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید 3 میئرز گرفتار

    ترکیہ : ریپبلکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید 3 میئرز گرفتار

    ترکیہ میں ہفتے کی صبح حکومت نے اپوزیشن کے مزید 3 میئرز کو گرفتار کر لیا جن کا تعلق ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سے ہے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گرفتاریوں کا تعلق مبینہ کرپشن کے ایک مقدمے سے ہے، جس کے نتیجے میں مارچ میں استنبول کے طاقتور اپوزیشن میئر اکرام امام اوغلو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، ان کی گرفتاری نے ملک بھر میں بڑے مظاہروں کو جنم دیا تھا جو کہ 2013 کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج قرار دیا جا رہا تھا اکرام امام اوغلو، صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور 2028 کے صدارتی انتخابات میں سی ایچ پی کے امیدوار بھی ہیں۔

    اسی ہفتے پولیس نے ازمیر، جو کہ اپوزیشن کا مضبوط گڑھ ہے اور ترکیہ کا تیسرا بڑا شہر ہے، وہاں مبینہ کرپشن کے الزامات کے تحت 120 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا تازہ گرفتار ہونے والے میئرز کا تعلق ترکیہ کے جنوبی علاقوں سے ہے، آدانا شہر کے میئر زیدان کارالار، سیاحتی شہر انطالیہ کے میئر محیتین بوچیک اور جنوب مشر قی شہر آدی یامان کے میئر عبدالرحمٰن توتدیری گرفتار میئرز میں شامل ہیں۔

    انقرہ کے اپوزیشن میئر منصور یاوش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایسے نظام میں جہاں قانون سیاست کے مطابق جھکتا اور مڑتا ہو، جہاں انصاف کچھ کے لیے ہو اور کچھ کے لیے نہیں، وہاں ہم سے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے یا انصاف پر بھروسہ کرنے کی توقع نہ رکھی جائے، ہم ناانصافی، قانون شکنی اور سیاسی کارروائیوں کے سامنے جھکیں گے نہیں۔

    ترکیہ کی پارلیمان کی تیسری بڑی جماعت، پرو کردش ڈی ای ایم پارٹی، نے بھی ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    ڈی ای ایم پارٹی کی شریک صدر تلائے حاتموغولاری نے لکھا کہ منتخب نمائندوں کا یہ استحصال بند ہونا چاہیے، عوام کے ووٹ کے فیصلے کا احترام نہ کرنا اور ان کی مرضی کو نہ ماننا معاشرے میں گہرے شگاف پیدا کر رہا ہے، یہ کارروائیاں کسی حل کی جانب نہیں بلکہ جمہوری ترکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں ڈی ای ایم پارٹی نے رجب طیب اردوان کی حکومت کے ساتھ مل کر دہائیوں پر محیط کرد تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں، ان کوششوں کے نتیجے میں مئی میں کرد پی کے کے جنگجوؤں نے مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جو کہ ایک ایسا تنازع تھا جس میں 40 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ہفتے کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ سی ایچ پی کے خلاف قانونی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، پیر کے روز انقرہ کی ایک عدالت نے پارٹی کے 2023 کے لیڈرشپ پرائمری الیکشن میں مبینہ ووٹ خریدنے کے الزامات پر کیس کی سماعت شروع کی، جس کے نتیجے میں سی ایچ پی کے مقبول رہنما اوزگور اوزال کی قیادت بھی چیلنج ہو سکتی ہے، اوزال مارچ کے احتجاجی مظاہروں میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد ابھر کر سامنے آئے تھے۔

    نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق آدانا اور آدی یامان کے میئرز کا تعلق استنبول کے پبلک پراسیکیوٹرز کے ایک کیس سے ہے، جس میں مبینہ ٹینڈر دھاندلی اور رشوت کے الزامات شامل ہیں اسی کیس کے تحت استنبول کے ضلع بویوک چیکمیجے کے ڈپٹی میئر احمد شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔