Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 10ہزار سے زائد اموات کا خدشہ

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 10ہزار سے زائد اموات کا خدشہ

    امریکی زلزلہ پیما مرکز نے ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے سے 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

    باغی ٹی وی: ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی ہے، رات گئے آنے والے زلزلے نے لوگوں کو بچنے کا موقع ہی نہ دیا، بلند و بالا عمارتیں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 50 سے زائد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا، دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 4300 سے تجاوز کرگئی ہے ترکیہ میں اموات کی تعداد 3000 ست تجاوز کر گئی ہے-

    ترکیہ وشام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے تجاوز،ترکیہ میں متاثرین سخت مشکلات کا شکار

    تاہم امریکی زلزلہ پیمامرکز نے ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہونے والی اموات کی تعداد سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید سرد موسم اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں تاخیر اور بڑے پیمانے پر پھیلی تباہی کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 10 ہزار سے بھی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

    پاکستان سے ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کا خصوصی طیارہ ترکیہ روانہ ،یو اے ای کا بھی زلزلہ متاثرین…

    امریکی زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ47 فیصد امکان ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات ایک ہزار سے 10 ہزار تک ہوسکتی ہیں جبکہ 20 فیصد امکان ہے کہ اموات کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 3000 سے زائد ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیے میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔

    دوسری جانب شام میں زلزلے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے زائد ہوچکی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

  • ترکیہ  وشام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد  2600 سے تجاوز،ترکیہ میں متاثرین سخت مشکلات کا شکار

    ترکیہ وشام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے تجاوز،ترکیہ میں متاثرین سخت مشکلات کا شکار

    ترکیہ میں زلزلہ متاثرین سخت مشکلات کا شکار ہیں-

    با غی ٹی وی: ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی، رات گئے آنے والے زلزلے نے لوگوں کو بچنے کا موقع ہی نہ دیا، بلند و بالا عمارتیں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 50 سے زائد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا زلزلے کی گہرائی کم ہونے کے باعث نقصان زیادہ ہوا، کئی بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔

    دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 2600 سے تجاوز کر گئی ہے زلزلے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اسے گرین لینڈ اور ڈنمارک تک محسوس کیا گیا۔

    شام میں زلزلےسےجاں بحق افراد کی تعداد 968 ہوگئی ہے اور سیکڑوں زخمی ہیں جبکہ ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 1651 ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں ترکیہ میں زلزلے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے 10 سال کی بچی کو ملبے سے زندہ نکال لیا –

    ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے اب تک 45 ممالک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کرچکےہیں، زلزلہ 1939 کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تباہی ہے۔

    ترک صدر طیب اردگان نے میں ملک میں ہولناک زلزلے کے بعد ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے ترک صدر طیب اردگان نے زلزلے سے متاثر تمام شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہےکہ امید ہے کہ جلد از جلد اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مل کر اس آفت سے نکل جائیں گے۔

    ترکیہ کے نائب صدر کے مطابق زلزلے کے بعد غازی انتپ اور حاطے ائیرپورٹ پر سول پروازیں معطل کردی گئی ہیں-

    دوسری جانب ترکیہ میں زلزلہ متاثرین سخت مشکلات کا شکار ہیں،زلزلہ متاثرین سخت سردی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ، محکمہ موسمیات کے مطابق مختلف شہروں میں پارہ نقطہ انجماد سے بھی نیچےگر گیا ہے جبکہ ترکیہ کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے-

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجکر 17 منٹ پر آیا جب لوگ گہری نیند میں تھے زلزلے کی شدت 7.9 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز ترکیہ سے جنوب میں غازی انتپ صوبے کے علاقے نرداگی میں تھا، جبکہ زلزلے کی گہرائی 17.9 کلومیٹر تھی۔ اس صوبے کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے اور یہ صوبہ شام کے قریب ہے جس کی وجہ سے شام میں بھی بڑے پیمانے پر تبادہی مچی۔

    ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے شدید ترین جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے، جھٹکوں کے باعث لوگ سڑکوں پر نکل آئے،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے۔

    ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے باعث ترک صوبہ حاطے میں قدرتی گیس پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی، احتیاطی تدابیر کے طور پر حاطے میں قدرتی گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

    ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہےکہ زلزلےکے بعد سے اب تک 78 آفٹرشاکس محسوس کیےگئے ہیں، زلزلے سےکم ازکم ایک ہزار 710 عمارتیں گرگئیں متاثرہ علاقوں میں 2 ہزار 786 امدادی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    ترکیہ میں زلزلے کے بعد ملک بھر میں اسکول بند رکھنےکا اعلان کیا گیا ہےترک وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تمام اسکول 13 فروری تک بند رہیں گے۔

    ترک میڈیا کا کہنا ہےکہ آذربائیجان سے سرچ ریسکیو کے 370 ماہرین ترکیہ پہنچ رہے ہیں جبکہ امریکا، روس، یوکرین، بھارت، یو اے ای و دیگر ممالک نے بھی ترکیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنےکی پیشکش کی ہے پاکستان سے پاک فون کی سرچ اور رسیکیو ٹیم اور امدادی سامان ترکیہ روانہ کر دیا ہے-

    چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور سے بھی سی 130 طیارہ امدادی سامان لے کر روانہ ہوگا،کل لاہور سے ریسکیو 1122کی ٹیم اور ان کےساتھ 16ٹن سامان بھی جائے گا،ریسکیو 1122 کی ٹیم55افراد پر مشتمل ہے،سی 130طیارہ کل 7سے 8ٹن امدادی سامان لیکر ترکیہ روانہ ہوگا،آنے والے دنوں میں شام اور ترکیہ کیلئے میڈیکل ٹیموں کا بندوبست کر رہے ہیں،یومیہ 15سے 20ٹن سامان پاکستان کی جانب سے ترکیہ اور شام بھیجا جائے گا-

    میڈیکل ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مدد فراہم کریں گی،وزیراعظم خود بھی ایک اعلی سطح ٹیم لیکر ترکیہ کا دورہ کریں گے،3ٹن امدادی سامان کی پہلی کھیپ ترکیہ روانہ کر دی ہے،آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی ہمراہ ہےپاکستان نے ترکیہ وقت آگیا ہے کہ ہم بھی مشکل وقت میں ان کی مدد کریں-

    دوسری جانب زلزلے نے شام میں بھی شدید تباہی مچائی ہے جہاں عمارتیں گرنے سے سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں شامی حکام کے مطابق زلزلےکے جھٹکے شام کے صوبوں حما، حلب اور لتاکیہ میں محسوس کیےگئےحکومتی زیر اثر علاقوں میں زلزلے سے اموات کی تعداد 968 ہوگئی ہے اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔

    ادھر شام میں کام کرنے والے امدادی گروپ کے مطابق باغیوں کےزیرکنٹرول علاقوں میں زلزلے سے234 اموات ہوئی ہیں، زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے، سینکڑوں خاندان اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔

  • پاکستان سے ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کا خصوصی طیارہ ترکیہ روانہ ،یو اے ای کا بھی زلزلہ متاثرین کیلئے امداد بھجوانے کا اعلان

    پاکستان سے ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کا خصوصی طیارہ ترکیہ روانہ ،یو اے ای کا بھی زلزلہ متاثرین کیلئے امداد بھجوانے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر امدادی سامان لے کر خصوصی طیارہ ترکیہ روانہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: سی 130 طیارہ آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم لے کر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے گا جبکہ 7 فروری کی صبح پی آئی اے کی ایک پرواز سے 50 افراد اور 15 ٹن سامان ترکیہ روانہ کیا جائے گا،امدادی ٹیم میں ریسکیو 1122 کے اہلکار شامل ہوں گے۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    کل ہی لاہور سے سی 130 طیارہ 7 ٹن امدادی سامان لے کر استنبول روانہ ہوگا۔ امدادی سامان میں خیمے، کمبل اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔

    8 فروری سے روزانہ پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے اسلام آباد اور لاہور سے امدادی سامان ترکیہ اور شام بھیجا جائے گا۔ وزارت صحت اور آرمی میڈیکل کی ٹیمیں ترکیہ اور شام بھجوائی جائیں گی۔

    دوسری جانب یو اے ای کے صدر ع شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک فیلڈ ہسپتال کے قیام اور جمہوریہ ترکی میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے تلاش اور امدادی ٹیم روانہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


    شیخ محمد نے ایک سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم روانہ کرنے اور شامی عرب جمہوریہ میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ہنگامی امداد کی فراہمی کی بھی ہدایت کی تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔

    وزیراعظم شہبازشریف ترکیہ کا دورہ کریں گے

    متحدہ عرب امارات نے جنوبی ترکی میں آنے والے شدید زلزلے اور بہت سے جانی نقصان کے متاثرین کے لیے ترکی اور شام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے-


    متحدہ عرب امارات نے بھی دونوں ممالک اور ان کے عوام کے ساتھ ساتھ اس آفت کے متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی شیخ محمد بن زید النہیان کی ہدایت پر متحدہ عرب امارات ایک فیلڈ ہسپتال قائم کر رہا ہے اور ترکی اور شام میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لیے دو سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اور فوری سامان بھیج رہا ہے۔

    علاوہ ازیں امریکا نے زلزلے سے متاثرہ ترکیہ کو ہر طرح کی مدد کی پیشکش کردی ہے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ ترکیہ حکومت سے رابطے میں ہیں اور تمام ترصورت حال پر نظررکھے ہوئے ہیں۔

    صدر جو بائیڈن نے یو ایس ایڈ اور دیگر وفاقی حکومت کے شراکت داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کے حوالے سے امریکی حکومت کے اختیارات کا جائزہ لیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ شب ترکیہ اور شام شدید زلزلہ آیا ہے اور 7.9 شدت کے زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس کے باعث مجموعی طور پر ہلاکتیں 2500 سے تجاوز کرگئیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہیں ترکیہ میں زلزلے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 1651 ہوگئی اور 9733 افراد زخمی ہی جبکہ 3471 عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

  • وزیراعظم شہبازشریف  ترکیہ کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم شہبازشریف ترکیہ کا دورہ کریں گے

    تباہ کن زلزلے کے باعث مصیبت کی گھڑی میں اظہار ہمدردی کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم شہباز شریف نے مصیبت کی گھڑی میں اظہار ہمدردی کیلئے ترکیہ جانے کا فیصلہ کرلیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم 8 فروری کو ترکی کا دورہ کریں گے اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

    ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    وزیراعظم شہبازشریف بدھ کو ترکیہ کا دورہ کریں گے وزیراعظم مصیبت کی گھڑی میں اظہار ہمدردی کے لیے ترکیہ جارہے ہیں جبکہ دورے کے دوران وزیراعظم انقرہ بھی جائیں گے جہاں ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کریں گے اوروزیراعظم شہبازشریف ترکیہ کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے-

    دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کیا وزیراعظم نے صدر ترکیہ سے زلزلے سے ہونے والی تباہی پر اظہار افسوس کیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد رنجیدہ ہیں غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے بھائی ترکیہ اور اسکے عوام کے ساتھ ہے زلزلے کی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان ترکیہ کی حکومت اورعوام کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا

    ترکی میں زلزلہ، وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں شدید زلزلہ آیا ہے اور 7.9 شدت کے زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس کے باعث مجموعی طور پر ہلاکتیں 2400 سے تجاوز کرگئیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہیں ترکیہ میں زلزلےسے ہلاکتوں کی تعداد1541 ہوگئی اور 9733 افراد زخمی ہی جبکہ 3471 عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

    امریکا کےارضیاتی سروے کے مطابق پیرکی سہ پہر ترکیہ کےجنوب مشرقی علاقے میں 7.5 شدت کے ایک اورزلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں دوسرا شدید زلزلہ ترکیہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہرایک بج کر 24 منٹ پرعکینوزوشہر سے چار کلومیٹرجنوب مشرق میں آیا ہے۔

  • ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے کے بعد ماہرین ارضیات نے پاکستان اور بھارت کو بھی خبردار کر دیا –

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ ترکی اور مشرق وسطیٰ کے ماہرین فلکیات، ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کو بھی اگلے 15 دنوں میں زلزلے کا خطرہ ہے۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا 50 رکنی ریسکیو ٹیم ترکیہ بھجوانے کا اعلان

    https://twitter.com/Pak_Weather/status/1622580042239774723?s=20&t=h7Rz4eQuwWR69wZny4g_xw
    محکمہ موسمیات نے کہا کہ ہم یقیناً ان کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیں لیکن آنے والے کسی بھی قدرتی حادثے سے نمٹنے کیلئے پہلے سے احتیاطی تدابیر کرنا ضروری ہے-
    https://twitter.com/Pak_Weather/status/1622580042239774723?s=20&t=h7Rz4eQuwWR69wZny4g_xw
    محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ ہم ان کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی ہم کسی ایک پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں لہذا بہتر ہے کہ محفوظ رہیں۔ امید ہے اس بار ان کی پیشگوئی غلط ثابت ہو گی اللہ تعالیٰ ہمیں آفات سے محفوظ رکھے۔

    ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    ترکی کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ترکی میں شدید زلزلے ہزاروں عمارتیں گر گئیں، ہزاروں اموات ہوئیں دوسری جانب امریکہ، کینڈا 3.8 ،نیوزیلینڈ 5.1 اور انڈونیشیا میں 3.7 شدت کے زلزلے ریکارڈ کیے گئے.

    واضح رہے کہ ترکیہ کے مشرقی علاقوں میں آج سوموار کی صبح میں آنے والے خوفناک زلزلے سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 2200 سے بڑھ گئی ہے،ترکیہ میں زلزلےسے1100سےزائدافرادجاں بحق ہوچکےہیں جبکہ شام میں زلزلےسےجاں بحق افراد کی تعداد 750ہوگئی-

    ترکیہ کے جنوبی اور شام کے شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے امریکا کےارضیاتی سروے کے مطابق پیرکی سہ پہر ترکیہ کےجنوب مشرقی علاقے میں 7.5 شدت کے ایک اورزلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں دوسرا شدید زلزلہ ترکیہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہرایک بج کر 24 منٹ پرعکینوزوشہر سے چار کلومیٹرجنوب مشرق میں آیا –

    شام اورترکیہ میں تباہ کن زلزلہ،600 سے زائد افراد جاں بحق،پاکستان کا اظہار افسوس

  • ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    ترکیہ کے مشرقی علاقوں میں آج سوموار کی صبح میں آنے والے خوفناک زلزلے سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 1800سے بڑھ گئی ہے،ترکیہ میں زلزلےسے1100سےزائدافرادجاں بحق ہوچکےہیں جبکہ شام میں زلزلےسےجاں بحق افراد کی تعداد 750ہوگئی-

    باغی ٹی وی: اطلاعات کے مطابق ترکیہ کے جنوبی اور شام کے شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے امریکا کےارضیاتی سروے کے مطابق پیرکی سہ پہر ترکیہ کےجنوب مشرقی علاقے میں 7.5 شدت کے ایک اورزلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں دوسرا شدید زلزلہ ترکیہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہرایک بج کر 24 منٹ پرعکینوزوشہر سے چار کلومیٹرجنوب مشرق میں آیا ہے۔

    شام اورترکیہ میں تباہ کن زلزلہ،600 سے زائد افراد جاں بحق،پاکستان کا اظہار افسوس

    شام کے سرکاری میڈیا نے بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت دمشق میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔


    عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دوشمالی صوبوں دھوک اورموصل اورکردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے رہائشیوں نے زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔شام کے سرکاری میڈیا نے بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت دمشق میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دوشمالی صوبوں دھوک اورموصل اورکردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے رہائشیوں نے زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

    اس سے پہلے علی الصباح اسی علاقے میں زلزلے کے نتیجے میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ اس صدی میں ترکیہ میں آنے والا بدترین زلزلہ تھا عراق،اردن، لبنان، مصر، قبرص اور فلسطینی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.9 بیان کی گئی ہے۔

    جنوبی ترکی میں زلزلے سے کئی بڑی عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ زلزلے کے بعد لوگ گھروں سے نکل آئے برف سے ڈھکے علاقے میں لوگوں کو کھلے آسمان تلے برف پر دیکھا گیا ہے۔

    جرمن سینٹر فار جیو سائنسز ریسرچ کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز جنوبی ترکیہ کے شہر کہرمان میں 10کلو میٹرزیرزمین تھا۔

    دوسری طرف یورپی بحیرہ روم سینٹر فار سیسمولوجی نے کہا ہے کہ وہ زلزلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ زلزلے کے بعد سونانی کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ شدید زلزلے کے بعد ملک میں تمام یونٹس اور ادارے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کردیے گئے ہیں۔

    ترک وزیر داخلہ نے کہا کہ 6.4 ڈگری کے آخری آفٹر شاک نے غازی عنتاب شہر کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں کے لیے راستہ بنائیں۔

    ترکی میں زلزلہ، وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ

  • امریکی سینیٹر کی ترک صدر پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

    امریکی سینیٹر کی ترک صدر پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

    امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے منگل کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر تنقید کرتے ہوئے انقرہ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ وہ فن لینڈ اور سویڈن کے لیے نیٹو کی رکنیت کو روک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کی جانب سے فن لینڈ اور سویڈن کے لیے نیٹو کی رکنیت روکنے اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ترکی کے منفی کردار پر تنقید کی-

    امریکا کا یوکرین کوطویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے کا فیصلہ

    وان ہولن نے کہا کہ اردوان نے ترکی کو ایک بہت ہی برے راستے پر گامزن کیا ہے، جیسے جیسے ہم مئی میں ہونے والے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں گذشتہ ہفتے اردوآن نے ترکیہ میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات مئی میں کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    وان ہولن نے استنبول کے میئر اور اردوان کے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ واضح طور پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے اصول نہیں اپنا رہے۔

    واضح رہے کہ استنبول کے میئر اکریم امام اوغلو پر گذشتہ سال ترکی کے سپریم الیکٹورل بورڈ کی جانب سے تنقید کے باعث اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب انہوں نے اردوآن کی پارٹی پر بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد دوسرے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

    امریکی سینیٹر کی ناراضی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ترکی نے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف زمینی حملے کی دھمکی دی ہے جو داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے لیے اہم شراکت دار ثابت ہوئے ہیں،تاہم بائیڈن انتظامیہ اور پینٹاگون کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد ترکی نے آپریشن کو فی الحال روک دیا ہے۔

    امریکہ یوکرین کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فراہم نہیں کرے گا،جوبائیڈن

    گذشتہ سال نومبر میں ترکی نے شام میں ایک اڈے پر بھی بمباری کی تھی جس پر امریکہ کا کہنا تھا کہ اس سے امریکی افواج کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ فروری میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے مغرب نے دونوں نورڈک ممالک کو نیٹو کی رکنیت کے لینے پر آمادہ کیا ہے۔ لیکن ترکی نے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں سے ایک ان افراد کو ترکی کے حوالے کرنا ہے جن کے بارے میں ترکی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں۔

    ترکی کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے کے بارے میں امریکی سینیٹر، جو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ اگر اردوآن فن لینڈ اور سویڈن کے نیٹو میں داخلے کی مخالفت جاری رکھتے ہیں تو "ممکنہ طور پر مختلف قسم کی پابندیوں” پر غور کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

    امریکا پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کیلئے تیار…

    انہوں نے ترکی کی جانب سے امریکی لڑاکا طیارے ایف سولہ کے حصول کی درخواست کے حوالے سے کہا کہ ترکی کو اس سے قبل ایف 35 مشترکہ اسٹرائیک فائٹر پروگرام سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ اس نے روسی فضائی دفاعی نظام خریدا تھا جس کے بارے میں نیٹو کے اتحادیوں کا کہنا تھا کہ ان کی سلامتی کو خطرہ ہو گا اس کے بعد سے ترکی نے ایف سولہ حاصل کرنے کے لیے لابنگ کی ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ نے ایف سولہ طیاروں کی فروخت کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 20 بلین ڈالر ہے۔ تاہم، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالفت کے باعث اس کا امکان کم ہےاس صورت میں کہ بائیڈن انتظامیہ صدارتی حکم کے ذریعے طیاروں کی فروخت کا فیصلہ کرتی ہے-

    وان ہولن نے کہا کہ کانگریس میں نامنظوری کی قرارداد دائر کی جائے گی ظاہر ہے، صدر اسے ویٹو کر سکتے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ صدر اس نوٹیفکیشن کو اپنی منظوری کے تحت جاری کرنا چاہتے ہیں۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

  • امریکہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیارے بیچنے پر تیار

    امریکہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیارے بیچنے پر تیار

    سویڈن ، فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے بدلے امریکہ ترکیہ کو ایف 16 طیارے بیچنے پر تیارہے تاہم بائیڈن کو کانگریس میں ترکی کو جنگی طیارے فروخت کرنے پر اعتراضات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی موقر اخبار وال سٹریٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کانگریس سے ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری کے لیے کہے گی۔

    ابوظبی: مینگرووز کے دس لاکھ بیج بونے کیلئے ڈرونز کا استعمال

    اخبار کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کو ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری کو سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے ساتھ مشروط کر رہا ہے ان دونوں ملکوں کی نیٹو میں شمولیت میں ترکیہ کئی ماہ سے رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

    گزشتہ نومبر میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان ابراہیم کالین نے کہا تھا کہ شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے رکن ترکی کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کے لیے امریکہ کی منظوری کا عمل ٹھیک چل رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ دو ماہ کے اندر مکمل ہو جائے۔

    ایف ۔35 طیارے کی خریداری میں ناکامی کے بعد ترکی نے اکتوبر 2021 میں امریکہ کو لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ 40 عدد ایف 16 لڑاکا طیارے اور اپنے پاس موجود جنگی طیاروں کے لیے 80 جدید جنگی سازو سامان خریدنے کی درخواست جمع کرا دی تھی کالین نے اس وقت کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ اس معاملے پر ایماندارانہ کوشش کر رہی ہے۔

    گزشتہ ستمبر میں اردوان نے اطلاع دی تھی کہ انہیں دو امریکی سینیٹرز کی جانب سے مثبت فیڈ بیک موصول ہوا ہے اور فروخت کی حمایت میں نیو یارک سے حمایت کے حوالے ملے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے بعد چند برسوں کے دوران امریکی کانگریس میں ترکیہ کے حوالے سے سرد مہری دیکھی جا رہی ہے اسی وجہ سے ترکیہ پر امریکی پابندیاں لگائی گئیں اور اسے ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے خارج کردیا گیا تھا۔

    دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ کانگریس سے ترکی کو F-16 لڑاکا طیاروں کی 20 بلین ڈالر کی فروخت اور یونان کو F-35 کی علیحدہ فروخت کی منظوری دینے کے لیے کہنے کی تیاری کر رہی ہے-

    ترکیہ کو ممکنہ فروخت، یونان کی طرح، نیٹو کے رکن ملک، ملک کے پرانے F-16 بحری بیڑے کو اپ گریڈ کرے گا اور انقرہ کے عالمی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرے گا کیونکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان روس-یوکرین جنگ میں ڈیل میکر کے طور پر اپنے کردار کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جہاں بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ سال بحیرہ اسود سے یوکرائنی اناج کی ترسیل کی اجازت دینے کے انتظامات میں ثالثی کے لیے اردگان کے اقدامات کی تعریف کی، وہ ترک رہنما کی جانب سے روس سے S-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر تنقید کرتا رہا اور فن لینڈ کی حمایت سے انکار پر نجی مایوسی کا اظہار کیا۔ کرد شخصیات کے بارے میں ان ممالک کے موقف پر سویڈن کا نیٹو میں شمولیت کو انقرہ خطرہ سمجھتا ہے۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    اتحاد میں نورڈک ممالک کی رکنیت پر تعطل نہ صرف امریکہ-ترک تعلقات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ نیٹو کی ترجیحات کو برقرار رکھنے کی ترکیہ کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ ہنگری نے، ترکیہ کی طرح، ابھی تک فن لینڈ اور سویڈن کے الحاق کی توثیق نہیں کی ہے، ہنگری کے حکام نے کہا ہے کہ وہ یہ قدم اس وقت اٹھائیں گے جب فروری میں ان کی مقننہ کا دوبارہ اجلاس ہوگا۔

    نیٹو کے حاشیے پر کئی دہائیوں کے بعد اتحاد کی رکنیت حاصل کرنے کے فیصلے کے لیے سویڈن اور فنز کے لیے ایک اہم تبدیلی کی ضرورت تھی، جس نے پڑوسی ملک یوکرین پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حملے کے بارے میں یورپیوں کی شدید تشویش کی نشاندہی کی۔

    نیٹو حکام نے مہینوں پہلے توسیع کو حتمی شکل دینے کی امید ظاہر کی تھی۔ نورڈک حکام نے ترکی کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے، لیکن اردگان باز نہیں آئے۔

    کانگریس کے معاونین نے کہا کہ کچھ امریکی قانون سازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ ترکی کسی بھی F-16 کی فروخت کو آگے بڑھانے کی شرط کے طور پر فن لینڈ اور سویڈن کے نیٹو میں داخلے کی توثیق کرنے کا عہد کرے۔

    سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رابرٹ مینینڈیز (D-N.J.) نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس فروخت کی مخالفت کریں گے جب تک کہ اردگان کئی ایسے اقدامات نہ کریں جن کی وہ حمایت کرتے ہیں۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر اردگان بین الاقوامی قانون کو پامال کرنے، انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنے اور ترکی اور ہمسایہ نیٹو اتحادیوں کے خلاف خطرناک اور غیر مستحکم کرنے والے رویے میں ملوث ہیں۔” "جب تک اردگان اپنی دھمکیاں ختم نہیں کرتے، گھر میں اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہتر بناتے ہیں – بشمول صحافیوں اور سیاسی مخالفت کو چھوڑ کر – اور ایک قابل اعتماد اتحادی کی طرح کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، میں اس فروخت کو منظور نہیں کروں گا۔”

    ترکی نے سب سے پہلے 2021 میں 40 نئے F-16s اور موجودہ جنگی طیاروں کے لیے 80 اپ گریڈ کٹس کی درخواست کی تھی، جس کے بعد اسے امریکی F-35 پروگرام سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انقرہ کی جانب سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے جدید ترین روسی فضائی دفاعی آلات خریدنے کے بعد امریکہ نے ترکی کو اس کے جدید ترین اسٹیلتھ طیارے حاصل کرنے سے روک دیا۔

    لیکن اس فروخت سے یوکرین کی جنگ کی وجہ سے جغرافیائی سیاسی منظر نامے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ پوتن کے فروری کے حملے کے بعد سے، اردگان نے روسی رہنما اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی دونوں کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھا ہے۔

    امریکا میں فضائی ٹریفک نظام درہم برہم،ہزاروں پروازیں متاثر،لاکھوں مسافرپریشان

    ایتھنز کو F-35 طیاروں کی علیحدہ فروخت یونانی رہنماؤں اور کانگریس میں ان کے حامیوں کے تحفظات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یونان اور ترکی کے درمیان طویل عرصے سے جاری تناؤ کے پیش نظر، جو قبرص کے جزیرے پر دیگر مسائل کے ساتھ جھگڑے کا شکار ہیں۔ معاونین نے بتایا کہ فروخت کی تفصیلات پہلے ہی غیر رسمی جائزے کے لیے متعلقہ کانگریسی کمیٹیوں کو پیش کر دی گئی ہیں۔

  • آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم یوم وفات ہے

    آغانیاز مگسی
    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے۔ خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں۔ 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی۔ ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی۔ خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا۔ محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترکی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔ 1935ء میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔ علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا. خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    نام:کالدہ ادیب خانم
    سن ولادت:1884ء
    تاریخ وفات:09 جنوری 1964ء
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کا ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ، طیب اردوان کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

    اپنی گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے 9 جنوری کو ہونے والی کانفرنس کے بارے میں آگاہ کیا اورترکیہ سے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کی درخواست کی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں رہنماؤں کا ایک دوسرے کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنی نشاط چونیاں بھی بحران کا شکار:آپریشن معطل کرنےکا…

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنےکی درخواست کی ،اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، اپنی گفتگو میں وزیراعظم نے اپنی عوام اور حکومت کی جانب سے ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    الیکشن کمیشن نے حکومت کو آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کی سفارش کر دی

    اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے،شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان میں موسمیاتی سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات کو سراہا. وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شاہ حمد نے بحرینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا.