Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم یوم وفات ہے

    آغانیاز مگسی
    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے۔ خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں۔ 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی۔ ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی۔ خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا۔ محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترکی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔ 1935ء میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔ علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا. خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    نام:کالدہ ادیب خانم
    سن ولادت:1884ء
    تاریخ وفات:09 جنوری 1964ء
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کا ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ، طیب اردوان کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

    اپنی گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے 9 جنوری کو ہونے والی کانفرنس کے بارے میں آگاہ کیا اورترکیہ سے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کی درخواست کی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں رہنماؤں کا ایک دوسرے کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنی نشاط چونیاں بھی بحران کا شکار:آپریشن معطل کرنےکا…

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنےکی درخواست کی ،اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، اپنی گفتگو میں وزیراعظم نے اپنی عوام اور حکومت کی جانب سے ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    الیکشن کمیشن نے حکومت کو آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کی سفارش کر دی

    اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے،شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان میں موسمیاتی سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات کو سراہا. وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شاہ حمد نے بحرینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا.

  • عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں

    عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں

    گزشتہ دنوں معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے زریعے اپنے مداحوں کے ساتھ خبر شئیر کی کہ وہ بہت جلد ترکیہ کے ڈرامے میں نظر آئیں گی. عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں نظر آئیں گے .انہوں نے اپنے مداحوں کے ساتھ یہ خبر سوشل میڈیا پر شئیر کی. توثیق حیدر نے لکھا کہ کویو بیاز کے پہلے سیزن کی شوٹنگ استنبول میں ہو چکی ہے اور میرا کردار بہت اہم ہے میرے مداح میرے اس نئے تجربے کو یقینا سراہیں گے. یہ وہی ڈرامہ ہے جس میں‌عتیقہ اوڈھو بھی نظر آئیں گے ، توثیق حیدر نے کہا کہ عتقیہ اوڈھو کے ساتھ کام

    کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. توثیق حیدر کی اس پوسٹ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پذیرائی ملی اور ان کے مداحوں نے ان کو مبارکبادیں دیں . یاد رہے کہ ترکیہ کے ڈرامے پاکستان میں بہت زیادہ پسند کئے جاتے ہیں . اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے فنکار جو کہ ترکیہ کے ڈراموں میں کام کررہے ہیں ان کو وہاں‌کتنی پذیرائی ملتی ہے. پاکستانی ترکی فنکاروں کے بہت بڑے مداح بھی ہیں اور ہر دم انہیں دیکھنے کے لئے بےتاب رہتے ہیں. ترکیہ کے کئی ڈرامے پاکستان میں ڈب ہو کر ٹی وی چینلز پر لگ چکے ہیں .

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کی ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کی ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی بھی امیر جماعت کے ہمراہ تھے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی امت کو متحد دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اسلامی دنیا کو قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے مسئلہ کشمیر اور شمالی قبرص پر ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کی ہے، دونوں ممالک محبت اور بھائی چارہ کے دیرینہ اور لازوال رشتے سے بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف مسئلہ فلسطین اور اسلاموفوبیا پر بھی یکساں اور زوردار موقف رکھتی ہیں۔ صدر جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردگان کا مسئلہ فلسطین اور اسلامو فوبیا پر کردار قابل تحسین ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ اسلامی دنیا کو باہمی اختلافات بھلا کر مشترکہ مفادات کو فوقیت دینی چاہیے۔ اسلامی ممالک کا تعلیم، ٹیکنالوجی اور اقتصادی شعبوں میں اشتراک وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان اشتراک مغربی تسلط سے آزادی کے لیے لازم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشترکہ منڈی اور مشترکہ دفاع کے لیے قدم بڑھائیں۔ انھوں نے کہا کہ امت متحد ہو کر اسلامو فوبیا کے چیلنج کا مقابلہ کرے تاکہ مغربی تہذیب کا تسلط قائم کرنے کی سازشیں ناکام ہو سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک مسلمان اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ اور جان دار آواز اٹھائیں۔

  • کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے سپاہی ٹینکوں کے ساتھ کرد جنگجوؤں پر یلغار کریں گے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں دارے کے مطابق ترک صدر نےمنگل کے روز کہا کہ ان کے ملک کی زمینی افواج شام میں کرد جنگجووں کو نشانہ بنائیں گی۔

    اردوان نے شمال مشرقی ترکیہ میں اس بارے میں کہا کہ ہم چند دنوں سے دہشت گردوں کواپنے جہازوں کے ذریعے دیکھ رہے رہے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ہم دہشت گردوں کواب اپنے سپاہیوں اور ٹینکوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    ترک صدر اس سے پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ کرد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گااس آپریشن میں زمینی افواج کو بھی شامل کیا جائے گا۔

    واضح رہے پیرکے روز کردوں کی اس مسلح ملیشیا نے کارروائی کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا، یہ ترک فضائیہ کی بمباری کے بعد کیا گیا، اس سے پہلے ایک ہفتہ قبل استنبول میں بم دھماکے کیے گئے تھے۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

    دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں 15 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ترک وزیر دفاع نے کہا کہ یہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ترکیہ کی کارروائیوں سے داعش کے خلاف جنگی اہداف متاثر ہوں گے۔

    ترجمان نے کہا امریکہ نے اپنی اس تشویش سے ترکیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہےترکیہ کو ان کارروائیوں کے نہ کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ اسی طرح ہم نے شام میں اپنے شراکت داروں سے بھی کہا ہے کہ وہ حملوں کو تیز نہ کریں۔

    واضح رہے سیرین ڈیموکریٹک فورس اور وائی پی جی امریکی اتحادیوں میں شامل ہیں۔ جبکہ ترکی کے ساتھ ان کی گہری دشمنی ہے۔

    چین: فیکٹری میں آتشزدگی،38 افراد ہلاک

  • شام کے کرد جنگجوؤں کا ترکیہ پر جوابی راکٹ حملہ، 3 افراد ہلاک 10 زخمی،1 سکول تباہ

    شام کے کرد جنگجوؤں کا ترکیہ پر جوابی راکٹ حملہ، 3 افراد ہلاک 10 زخمی،1 سکول تباہ

    ترکیہ کے شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کے جواب میں کرد جنگجوؤں نے آج ترکیہ پر 6 راکٹس برسائے جس میں 3 افراد ہلاک،10 زخمی اور ایک اسکول تباہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شام سے جڑے سرحدی ضلعے غازیانتپ کے قصبے خامیس میں 6 راکٹ گرے جن میں سے دو ایک اسکول پر گرے جس سے عمارت تباہ ہوگئی اور 6 بچے زخمی بھی ہوئے۔

    ترکیہ کی سرکاری انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایک میزائل دو گھروں پر گرا جب کہ ایک میزائل سرحدی علاقے میں فوجی ساز و سامان لے جانے والے مال بردار فوجی ٹرک پر لگا۔

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    شام کے کرد علاقے سے داغے گئے ان 6 میزائلوں سے مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک استاد اور ایک بچہ شامل ہے۔ راکٹوں میں سے ایک ہائی اسکول کی زمین پر گرا لیکن وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    فوجی مال بردار ٹرک پر میزائل لگنے سے 4 پولیس اہلکار اور 2 فوجی زخمی ہوگئے جنھیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    سویلو نے کہا کہ ایک فوجی اور سات پولیس اہلکار راتوں رات مشتبہ کرد عسکریت پسندوں کی طرف سے کی جانے والی علیحدہ گولہ باری میں زخمی ہو گئے جنہوں نے قریبی کیلیس میں ایک سرحدی علاقے کو نشانہ بنایا۔

    قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہو گیا

    وزیر نے کہا کہ ترکی حملوں کا جواب "سب سے مضبوط طریقے سے” دے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ترکیہ کے طیاروں نے شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری میں 12 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں کرد جنگجوؤں سمیت شامی فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ یہ بمباری استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں کرد علیحدگی پسند جماعت کے ملوث ہونے پر ردعمل کے طور پر کی گئی تھی تاہم کرد پارٹی نے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    پیر کے روز، ترک صدر رجب طیب اردگان نے اشارہ دیا کہ ترکی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف زمینی حملے پر بھی غور کر رہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ آپریشن "فضائی مہم تک محدود نہیں رہے گا انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی وزارت دفاع اور فوج زمینی دستوں کی تعداد پر بات چیت کریں گے جن کی ضرورت ہوگی۔

    ترک میڈیا نے اردگان کے حوالے سے کہا کہ "ہم اپنی مشاورت کریں گے اور پھر اس کے مطابق اقدامات کریں گے۔”

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

  • ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    انقرہ: ترکیہ نے استنبول بم دھماکے میں کرد پارٹی کے ملوث ہونے پر شام میں ان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی، برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ کے مطابق بمباری میں کم از کم 6 ممبران سمیت 12 حکومتی حامیوں کو ہلاک کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے وزیر دفاع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سب کچھ ملبہ بنانے کی گھڑی آچکی ہے اس کے علاوہ کسی گروہ کا نام لیے بغیر انتہائی سخت انداز میں گالی کی زبان استعمال کرتے ہو ئے کہا کہ ان کو اپنے حملوں کی بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    ترک وزیر دفاع نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک لڑاکا طیارے کو اُڑان بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اس کے بعد اپنی اگلی ٹوئٹس میں انہوں نے بتایا کہ ٹھیک ٹھیک نشانے لے کر دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردیئے اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہدف کو تلاش کی جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھماکے کی آواز آتی ہے۔

    کردش فورسز کا بتانا ہے کہ ترکیہ کے حملے کا ہدف شمال مشرقی شام میں کوبین کا علاقہ تھا۔ واضح رہے اس کوبین شہر کو ہی داعش نے قبضے میں لیا تھا۔

    شمالی نائیجریا کے گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ،12 افراد ہلاک

    امریکی اتحادی فوج ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عابدی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکیہ کی بمبار ی سے ہمارے محفوظ علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے حلب، حسکیہ میں بمباری کی گئی ہے۔

    شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ گنجان آباد علاقے کو ہدف بنایا گیا ہے، نیز ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں شامی رجیم کی فورسز تعینات ہیں۔

    ترکیہ کے فوجی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں کرد پارٹی کے اسلحہ خانے، خندقیں، فیکٹری، تربیت گاہ اور کمین گاہوں کو مٹی کا ڈھیر بنادیا گیا۔ یہ کارروائی استنبول بم دھماکے کے جواب میں کی گئی۔

    ترکیہ کی جانب سے بمباری میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن شام میں جنگ کو مانیٹر کرنے والے برطانوی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ کے حملے میں 12 اہلکار مارے گئے جن میں کرد جنگجو اور شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • ترکیہ میں دھماکہ:صدرمملکت اور وزیراعظم کی طرف سےدہشت گردی کی شدید مذمت

    ترکیہ میں دھماکہ:صدرمملکت اور وزیراعظم کی طرف سےدہشت گردی کی شدید مذمت

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہمیں واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ بچوں سمیت واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں، پاکستان ترکیہ کے عوام اور حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، ہرطرح کی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔

    دوسری جانب صدر عارف علوی نے ترکیہ کی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی تمام دُنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے، ترکیہ کی حکومت اور عوام کےساتھ دہشت گردی کے اِس واقعے کےخلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور ورثا کے لیے صبر کی دعا کی اور کہا ہک دکھ کی اِس گھڑی میں ترکیہ کی عوام کے ساتھ ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، وزیر خارجہ بلاول بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی ترکی میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ترکیہ کے استقلال ایونیو میں زور دار بم دھماکا ہوا جس میں 6 افراد جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شہر استنبول کے علاقے استقلال ایونیو میں زورد دار دھماکا ہوا۔ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں کافی تعداد میں راہگیر موجود تھے اور یہ مصروف ترین علاقہ ہے۔

    ترک صدر طیب اردوان نے دھماکے میں 6 افراد کے جاں بحق اور 53 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک بم دھماکا تھا۔ بم دھماکے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دیں گے۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ترکیہ میں زوردار دھماکا،5 جاں بحق اور 40 زخمی

    ترکیہ میں زوردار دھماکا،5 جاں بحق اور 40 زخمی

    استنبول : ترکیہ کے استقلال ایونیو میں زور دار دھماکا ہوا جس میں 5 افراد کے جاں بحق اور 40 کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شہر استنبول کے علاقے استقلال ایونیو میں زورد دار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہوسکا۔

    ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو جائے حادثہ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے جب کہ پولیس غیر متعلقہ افراد کو وقوعہ پر جانے سے روک رہے ہیں۔ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں کافی تعداد میں راہگیر موجود تھے اور یہ مصروف ترین علاقہ ہے۔

     

    https://twitter.com/ItsTalatAgain/status/1591801540897280002?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1591801540897280002%7Ctwgr%5Ea855690bd4e5c76bc8188d95b398705f22534c8f%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2400369%2F10

    اب تک دھماکے میں 40 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور تاہم استنبول کے گورنر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ دھماکے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے غیر مصدقہ اطلاع دی ہے کہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

     

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اب تک دھماکے کے مواد اور نوعیت سے متعلق معلومات نہیں مل سکیں۔ پہلی ترجیح زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی ہے۔

    ترک صدر طیب اردوان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں داعش نے کئی بار خود کش حملے کیے ہیں اور 2017 میں ایک نائٹ کلب میں مسلح افراد کے حملے میں 39 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

  • غلطی سے چھالیہ لے جانے پرترکیہ میں گرفتار پاکستانی رہا

    غلطی سے چھالیہ لے جانے پرترکیہ میں گرفتار پاکستانی رہا

    انقرہ: ترکیہ میں غلطی سے چھالیہ لے جانے پر گرفتار پاکستانی کو ترکی کی عدالت نے رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق لاہور کے رہائشی محمد اویس کے اہل خانہ نے ان کی رہائی کی تصدیق کردی محمد اویس کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ان کے اہل خانہ نے اس رہائی پر پاکستانی سفارتخانے کی کوششوں کو سراہا اور مدد فراہم کرنے پر پاکستانی سفارتی عملے کا خصوصی شکریہ ادا کیا-

    بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے زرمبادلہ ساتھ لے جانے کی حد کم کردی گئی

    پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے عدالت کو لکھے خط میں بتایا گیا کہ محمد اویس کے پاس سے جس مقدارمیں چھالیہ برآمد ہوئی اس کی قیمت پاکستان میں 280 روپے سے زیادہ نہیں۔ چھالیہ پاکستان میں استعمال ہونے والی روایتی چیز ہے اور پاکستانی قانون میں اس کی درآمد اور برآمد کی اجازت ہے۔

    محمد اویس کے وکیل کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ اس قانون سے آگاہ نہیں تھے کہ ترکی میں چھالیہ کو منشیات کا درجہ حاصل ہے۔عدالت نے مختصر کارروائی کے بعد محمد اویس کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لاہورکے رہائشی محمد اویس کوکمپنی نے اچھی کارکردگی دکھانے پر ترکی گھومنے بھیجا تھا۔ محمد اویس اپنے ٹورآپریٹر کو تحفے میں دینے کے لیے سپاری کے دو پیکٹس بھی لے گئے ترکی پہنچنے پر حکام نے محمد اویس کو دو پیکٹ سپاری لانے پر گرفتار کرلیا تھا اور عدالت میں پیش کرکے جیل بھیج دیا تھا-

    جیت میں ہار میں، خوشی میں غم میں ہم ایک ہیں،شاداب خان

    ترک حکام کا کہنا تھا کہ چھالیہ اورسپاری کا ٹیسٹ کرایا جائے گا جس کی رپورٹ 6 ماہ میں آئے گی۔ اس دوران محمد اویس جیل میں رہیں گے۔

    محمد اویس کے بھائی شعیب کا کہنا تھا کہ کسی نے ان کے بھائی کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستانی کسٹمز حکام نے جاتے وقت مطلع کیا تھا اویس نے ترک حکام کو بتایا کہ یہ ماؤتھ فریشنر ہے اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ ملک میں غیر قانونی ہے-

    محمد اویس کے بھائی کا کہنا تھا کہ استطاعت نہ رکھنے کے باوجود بھائی کی رہائی کے لیے 2 وکیلوں کولاکھوں روپے دے چکے ہیں میرا بھائی دل کا مریض اور اپنے گھر کا واحد کفیل ہے اور وہ چند سو روپے کی چیز کے لیے اپنے پورے خاندان کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنے بھائی کی رہائی کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

    شعیب نے بتایا تھا کہ تقریباً 16 دیگر پاکستانی بھی چھوٹے چھوٹے الزامات میں ترکی میں قید ہیں۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز؛ لیکن سڑکیں بند ہونے سے عوام پریشان