Baaghi TV

Tag: ترکی

  • ترک صدرکی منتیں‌ کیں‌ اور وہ مان گئے ، امریکی نائب صدر کا دعویٰ‌

    ترک صدرکی منتیں‌ کیں‌ اور وہ مان گئے ، امریکی نائب صدر کا دعویٰ‌

    انقرہ :ترک صدرکی منتیں‌ کیں‌ اور وہ مان گئے ، امریکی نائب صدر کا دعویٰ‌ ، امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کے شمال مشرقی شام سے نکلنے کے لیے ترکی وہاں پانچ روز کے سیز فائر پر راضی ہوگیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق ترک صدر رجب طیب اردوان سے کئی گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مائیک پینس نے کہا کہ ‘پانچ روز کے سیز فائر کے دوران امریکہ، ترکی پر عائد کی گئی اضافی پابندیوں پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔’انہوں نے بتایا کہ ‘ترکی کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد امریکا اس پر عائد کی گئی حالیہ پابندیاں اٹھا لے گا۔’

    امریکی نائب صدر نے شام میں کرد فورسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘وائی پی جی فورسز کے انخلا کے بعد شام میں جب مستقل سیز فائر ہوگا اس صورت میں امریکہ، ترکی کے کئی کابینہ اراکین اور متعدد ایجنسیوں پرعائد پابندیاں ہٹانے کے لیے بھی تیار ہے۔’خطے میں امریکی فورسز نے پہلے ہی وائی پی جی یونٹس سے محفوط خلاصی کے لیے سہولت فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1184884179751731200?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1184884179751731200&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1112765

    انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ترکی اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ وہ ترکی کی سرحد کے قریب شمالی شام میں انقرہ کے ‘محفوظ زون’ کے مطالبے کا پرامن حل نکال لیں گے۔مائیک پینس نے کہا کہ وہ ترک صدر سے مذاکرات کے بعد امریکی صدر سے بات کر چکے ہیں اور انہوں نے سیز فائر معاہدے کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔

    ترکی کے سیز فائر پر راضی ہونے کے فوری بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ترکی سے اچھی خبر آرہی ہے۔’انہوں نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘فیصلے سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔’

  • روک سکتے ہوتو روک لو،طیب اردوان نے بھی پی ٹی آئی والی بات کہہ دی

    روک سکتے ہوتو روک لو،طیب اردوان نے بھی پی ٹی آئی والی بات کہہ دی

    انقرہ : روک سکتے ہو تو روک لو ، ترکی ہر صررت دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے گا ، اطلاعات کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے کرددہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں ہونی والی یورپی یونین کی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ اسلحے کی فروخت روکنے اور معاشی پابندیوں کی دھمکیاں ہمیں شام میں کارروائی سے نہیں روک سکتیں۔

    امریکہ سعودی عرب میں مفت میں فوج نہیں بھیج رہا ، ٹرمپ

    ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین کی طرف سے دھمکیوں کے ردعمل میں طیب اردوان نے کہاکہ جب سے ہم نے شمال مشرقی شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے، ہمیں معاشی پابندیوں اور اسلحے کی فروخت روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی دھمکیوں سے وہ ترکی کو روک سکتے ہیں تو وہ بہت بڑی غلطی کررہے ہیں۔

    پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی

    واضح رہے کہ شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد سے جرمنی اور فرانس نے ترکی کو اسلحے کی فروخت پر پابندی لگادی ہے۔دونوں یورپی ممالک نے خدشات کا ظہار کیا ہے کہ ان کا اسلحہ شام میں جاری آپریشن میں استعمال ہوسکتا ہے اور یہ یورپ کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

  • ترک افواج نے 500 سے زائد کردباغی ماردیئے

    ترک افواج نے 500 سے زائد کردباغی ماردیئے

    انقرہ :ترکی کسی کی کوی پرواہ نہیں کررہا ، نئے عزم کے ساتھ دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کرکے ترکی نے یہ ثابت کردیا ہےکہ وہ ایک خودمختار ملک کا طاقت ور حکمران ہے، دوسری طرف ترکی کی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق چشمہ امن آپریشن کے دوران ہلاک کئے جانے والے PKK/PYD-YPG کے دہشت گردوں کی تعداد 500سے تجاوز کرگئی ہے۔

    امریکہ سعودی عرب میں مفت میں فوج نہیں بھیج رہا ، ٹرمپ

    ترک فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ” چشمہ امن آپریشن کے دائرہ کار میں رات بھر زمینی و فضائی فائرنگ اور ڈرون طیاروں کے تعاون سے آپریشن جاری رہے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے”۔واضح رہے کہ ترک مسلح فورسز نے 9 اکتوبر کو شام میں دریائے فرات کے مشرق میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/PYD-YPG کے خلاف چشمہ امن آپریشن کا آغاز کیا۔آپریشن کے دائرہ کار میں کل رسولین تحصیل کا کنٹرول سنبھال لیا گیا اور آج تحصیل تل عبید کے علاقے سولوک کو YPG/PKK کے قبضے سے چھُڑا لیا گیا ہے

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    ترکی کے اس اپریشن کے خلاف یورپی ممالک نے بھی ترکی کودھمکانے کی کوشش کی اور معاہدے بھی ختم کردیئے مگر ترکی نے سب کو یہ کہہ کر چپ کرادیا ہےکہ جو بھی ترک عوام کا دشمن ہے اس کا انجام یہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت ترکی کے اس اقدام کےسامنے کوئی کھڑا ہوتے نظر نہیں آرہا

    پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی

  • فرانس اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے خطرے میں‌؟

    فرانس اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے خطرے میں‌؟

    پیرس : فرانس نے ترکی سے تمام دفاعی معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہےکہ ترکی اگر یہ چاہتا ہےکہ اس کے فرانس سے اچھے تعلقات قائم رہیں تو ترکی فی الفور شام سے نکل جائیں‌،ترکی جلد از جلد کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی بند کردے

    خواتین کے صرف 25 فیصد بینک اکاؤنٹس،گورنر اسٹیٹ بینک کا انکشاف

    ذرائع کےمطابق اس وقت ترکی کی طرف سے شام کے اندر کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں کرد علیحدگی پسندوں کو مار دیا ہے، ترکی کی طرف سے کرد دہشت گردوں کےخلاف مسلسل کارروائی کررہاہے جو ترکی کے اندر آکر ترکی کے سولین کو مارتے ہیں نقصان پہنچاتے ہیں،

    اللہ میری توبہ! سگی ماں نے اپنا 13 سالہ حافظ قرآن بیٹا قتل کردیا

    دوسری طرف فرانسیسی وزیردفاع اور وزیرخارجہ نے کہا کہ جرمنی نے بھی ترکی کو اس قسم کا پیغام بھیجا ہے،فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اسی تناظر میں تمام دفاعی معاہدے ختم کردیں‌، لہٰذا اب فرانسیسی حکومت نے یہ فیصلہ ترکی پر چھوڑ دیا ہےکہ کیا وہ فرانس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے یا پھر مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

  • شام میں 342 کرد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ

    شام میں 342 کرد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ

    انقرہ : ترکی نے تمام تر مخالفتوں اور سازشوں کے شام کے اندر ترک مخالفت مسلحہ گروہوں کے خلاف آپریشن کرکے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے، اسی سلسلے میں ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار کا کہنا ہے کہ شام میں آپریشن کے آغاز سے اب تک 342 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ تیسرے روز بھی ترکی کی جانب سے شام کی سرحدی علاقوں پر حملے کیے گئے۔

    36 لاکھ شامیوں‌کو کن ملکوں میں بھیجاجائے گا ، طیب اردوان نے بتادیا

    رپورٹ کے مطابق دوسری جانب شامی مبصر کا کہنا تھا کہ 4 روز سے جاری ترک حملے میں اب تک صرف 8 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ترکی کے 2 صوبوں کے حکام کا کہنا تھا کہ کرد جنگجوؤں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں مارٹر گولے برسائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں 15 سال سے کم عمر کی 3 بچیوں اور ایک 9 ماہ کے بچے سمیت 9 شہری اور ترکی کے وزارت دفاع کے مطابق 2 فوجی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    سلامتی کونسل :شام میں فوجی آپریشن روک دو،ترکی کا صاف جواب

  • سلامتی کونسل :شام میں فوجی آپریشن روک دو،ترکی کا صاف جواب

    سلامتی کونسل :شام میں فوجی آپریشن روک دو،ترکی کا صاف جواب

    نیویارک :ترکی اور سلامتی کونسل آمنے سامنے ، ایک طرف سلامتی کونسل قرارداد پر قرارد پیش کررہا ہے تو دوسری طرف ترکی اپنی سلامتی پر کسی قسم کی مصلحت کے شکار ہونے سے انکار کررہاہے، اطلاعات کے مطابق ترکی کی طرف سے شامی کرد باغیوں کیخلاف فوجی آپریشن کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں رکن ممالک نے ترکی سے شام میں جاری آپریشن روکنے کا مطالبہ کر دیا۔

    بہن اورکزن ماں کے کہنے پرقتل،غیرت یا مخاصمت ،قاتل نےخود ہی بتادیا

    سلامتی کونسل کی طرف سے ترکی پر بے جادباو کے جواب ترکی نے  بھی دیدہ دلیری پیش کی، سلامتی کونسل کے جواب  میں ترک صدر نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ممالک جو سلامتی کونسل میں بیٹھ کر ترکی کو درس دے رہے ہیں ان کو نہیں پتہ ؟ کہ ترکی کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں‌

    لاتوں ، گھونسوکی بارش ، لیڈی ڈینگی ورکرپرتشدد کی انتہا،ایسا کیوں ہوا؟

    اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی شام میں ترکی کے آپریشن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔شام میں ترک فوجی کارروائی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ ہنگامی اجلاس ہو۔اجلاس فرانس، جرمنی، برطانیہ، بیلجیئم اور پولینڈ کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔

    کاشف آفریدی کے بیہمانہ قتل کے واقعہ کا نوٹس، قاتل بچ نہیں پائیں‌ گے،اجمل وزیر

    اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کے یورپی رکن ممالک فرانس، جرمنی، برطانیہ، بیلجیئم اور پولینڈ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں شمالی شام میں ترک فورسز کے آپریشن پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ترکی سے یکطرفہ آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ کیلی کرافٹ نے ترکی کے آپریشن کی مذمت کی اور کہا ہے امریکا نے شام میں ترک کارروائی کی کسی بھی طرح حمایت نہیں کی۔واضح رہے کہ ترکی اپنی سرحد سے متصل شام کے شمالی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ شامی مہاجرین کو وہاں ٹہرانا چاہتا ہے۔

  • 36 لاکھ شامیوں‌کو کن ملکوں میں بھیجاجائے گا ، طیب اردوان نے بتادیا

    36 لاکھ شامیوں‌کو کن ملکوں میں بھیجاجائے گا ، طیب اردوان نے بتادیا

    ترک صدر رجب طیب اردوان شام میں فوجی کارروائی کی مخالفت کرنے والے ممالک پر برس پڑے۔اطلاعات کے مطابق ترکی کے صدر نے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ ترکی کی مخالفت کرنے والے ممالک یاد رکھیں کہ اگر مخالفت سے باز نہ آئے تو پھر 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ بھیج دوں گا

    بولڈ ڈانس،کشمیریوں سے بے وفائی ، مگر پھر بھی ایوارڈ ، کیا یہ کھلا تضاد نہیں

    دوسری طرف ترکی کی جانب سے شام کے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کا آج دوسرا دن ہے۔ بہت سے ممالک نے اس کارروائی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے پہلے سے غیر مستحکم مشرق وسطیٰ مزید خطرات سے دوچار ہوجائےگا۔ مخالفت کرنے والوں میں یورپی یونین ، سعودی عرب، ایران اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔طیب اردوان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی بہتر جانتا ہے کہ اس کے خلاف سازشیں کرنے والوں‌کے ساتھ کیسے نبٹا جائے

    خبردار ، موبائل کو بچوں کی پہنچ سے دوررکھیں ورنہ ، بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے

    سلامتی کونسل میں ترکی کے خلاف پیش کرنے والے ممالک اور ناقدین کو ترک صدر نے آڑے ہاتھوں لیا اور دو ٹوک جواب دے دیا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ ’وہ جو ترکی کے اقدام پر اعتراض کررہے ہیں وہ خود مخلص نہیں‘۔ترک صدر نے یورپی یونین کو خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک نے شام میں ترک کارروائی کو حملہ قرار دیا تو وہ اپنے ملک میں موجود 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ بھیج دیں گے۔

    بہن اورکزن ماں کے کہنے پرقتل،غیرت یا مخاصمت ،قاتل نےخود ہی بتادیا

  • ترکی کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیں‌گے ، ٹرمپ کی ترکی کو دھمکی

    ترکی کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیں‌گے ، ٹرمپ کی ترکی کو دھمکی

    واشنگٹن : ترکی اور امریکہ کے درمیان حالات کشیدہ ہونے لگے ، امریکہ نے ترکی کو شام میں مداخلت کرنے پر پھر دھمکی دے دی ، شام میں ترکی نے حد سے بڑھ کر کچھ کیا تو ترکی کی معیشت کو تباہ کردیں گے جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام سے امریکی فوج نکالنے پر روس اور چین ناخوش ہوں گے کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکا اس بوجھ تلے دبا رہے اور ڈالر خرچ کرتا رہے۔

    حسینہ واجد اور نریندر مودی کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا، کیا ہے یہ اہم ترین سمجھوتہ

    ذرائع کے مطابق شام سےامریکی فوج پیچھے ہٹانے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے مجھے ان مضحکہ خیز جنگوں سے نکلنے کیلئے ہی منتخب کیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہماری فوج ان لوگوں کیلئے کام کر رہی ہے جو امریکا کو پسند بھی نہیں کرتے، اب ہم بڑے منظرنامے پر دھیان دیں گے۔

    بہن کی وفات کےبعد زندگی سےاعتباراٹھ گیا ،اب تو اگلے جہاں کی فکرلگی رہتی ہے، عمران…

    خیال رہے کہ شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے ترکی کے فیصلے پر امریکا نے گذشتہ روز اپنی فوجیں شام ترک سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانےکا اعلان کیا تھا جس پر کرد ملیشیا نے امریکا پر ’پیٹ پر چھرا گھونپنے ‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    رانی مکھر جی نے مودی کی اصلیت اورحقیقت کے بارے میں جوکچھ کہا،سچ کیا،فخرعالم

    دوسری طرف ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترک فوج تیارہے،کرد ملیشیا کیخلاف کسی بھی لمحےآپریشن شروع ہوسکتاہے۔ترک صدر نے ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئےکہا کہ وہ باز آجائے ، کب تک امریکہ کمزور ملکوں کو معاشی طو رپنقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہےگا

     

  • ترکی عالم اسلام کا وہ ملک جو اپنے شہریوں کو  بالکل مفت ائیرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے

    ترکی عالم اسلام کا وہ ملک جو اپنے شہریوں کو بالکل مفت ائیرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے

    انقرہ:یہ خبر عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے کتنی اچھی اور خوشی والی ہے کہ برادر ملک ترکی کے وزیر صحت فخرالدین کھوجا نے کہا ہے کہ ترکی دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو شہریوں کو بلامعاوضہ ایئرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ترک وزیر فخر الدین کھوجا نے فضائی ایمبولینس کی صورتحال، طبی ساز و سامان اور عملے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایسن بوعا عمومی ایوی ایشن ٹرمینل کا اچانک دورہ کیا۔وزیر صحت کو متعلقہ حکام نے ایمبولینسوں کے حجم، پرواز کی صلاحیت سمیت تکنیکی خصوصیات اور طبی امکانات کے بارے میں بریفنگ دی۔عمومی ایوی ایشن ٹرمینل پر فضائی ایمبولینس کے ذریعے 3 سے 4 اور ہیلی کاپٹر ایمبولینسوں سے 6 سے 7 مریضوں کو لے جانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    ترک وزیر فخر الدین کھوجا نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری ائیرایمبولینس نہ صرف بہترین حالت میں ہے بلکہ یہ ضروری سامان سے بھی لیس ہے۔ یاد رہے کہ ترک حکام نے شہریوں کو مفت فضائی ایمبولینس سروس فراہم کرنے کا آغاز 2008 میں کیا تھا، اب تک 13 ہزار 398 ہیلی کاپٹر جبکہ 31 ہزار 587 مریضوں ائیر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah