Baaghi TV

Tag: تمباکو نوشی

  • ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    تمباکو نوشی کی عادت کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے، مگر صرف ایک سگریٹ پینے کے بعد جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حالیہ برطانوی تحقیق نے دیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو نوشی سے نہ صرف جسم پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے زندگی کی مدت بھی کم ہو جاتی ہے۔

    لندن کالج یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سگریٹ پینے سے انسان کی عمر میں 20 منٹ کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص روزانہ ایک پورا پیکٹ (20 سگریٹ) پیتا ہے تو اس کی زندگی میں تقریباً 7 گھنٹے کی کمی آجاتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ 10 سگریٹ پینے والا فرد یکم جنوری کو تمباکو نوشی چھوڑ دے اور 5 فروری تک سگریٹ سے گریز کرے تو اس کی زندگی میں ایک ہفتے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر وہ شخص 5 اگست تک تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کر دے تو اس کی زندگی کی مدت میں پورے ایک مہینے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سال کے آخر تک اس کی عمر میں 50 دنوں کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ اس کو تمباکو نوشی کی عادت سے بچانے کے مترادف ہے۔

    محققین نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ علم ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر ان کے خیال میں اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ہر فرد کو اوسطاً اپنی زندگی کے 10 قیمتی سالوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔اس تحقیق کے لیے برسٹل ڈاکٹرز اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1951 میں 10 لاکھ خواتین پر شروع ہوئی تھی اور 1996 تک جاری رہی۔ اس سے پہلے 2000 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک سگریٹ پینے سے عمر میں 11 منٹ کی کمی آتی ہے، تاہم، اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سگریٹ سے مردوں کی عمر میں 17 منٹ اور خواتین کی عمر میں 22 منٹ کی کمی آتی ہے۔

    محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے نتیجے میں درمیانی عمر کے افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں ان کی صحت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ اس عادت کا اثر نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی اور جذباتی حالت پر بھی پڑتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق، محققین نے لوگوں کو اپنی صحت کے لیے تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عمر میں تمباکو نوشی کو چھوڑنا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ تاہم، جتنا جلدی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تمباکو نوشی صرف سنگین بیماریوں کا سبب نہیں بنتی بلکہ ایک سگریٹ پینے سے بھی انسان کی عمر میں فوری طور پر کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر لوگ تمباکو نوشی کی عادت چھوڑنے کا فیصلہ کریں تو یہ ان کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، تمباکو نوشی کو ترک کرنے کی کوشش کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکے۔

    یہ تحقیق جرنل آف ایڈکشن میں شائع ہوئی ہے اور اس نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کو واضح کیا ہے، جو کہ لوگوں کو اس عادت کو ترک کرنے کے لیے مزید قائل کر سکتی ہے۔

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    کپڑوں کی آڑ میں غیر ملکی سگریٹس،کمپیوٹر ایل سی ڈیزاسمگل کی کوشش ناکام

  • بیلجیئم  کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    بیلجیئم کے وزیر صحت فرینک وینڈن بروک نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2025 سے ان کا ملک ڈسپوزایبل الیکٹرانک سگریٹ (ای سگریٹ) کی فروخت پر پابندی عائد کر دے گا۔

    فرینک وینڈن بروک نے میں کہا کہ "ای سگریٹس میں اکثر نکوٹین موجود ہوتی ہے، جو انسان کو نکوٹین کا عادی بنا دیتی ہے۔ نکوٹین کا استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔” وزیر صحت کے مطابق یہ سستی ای سگریٹس خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک آسان ذریعہ بن چکی ہیں، جو سگریٹ نوشی اور نکوٹین کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ چونکہ یہ ای سگریٹس ڈسپوزایبل ہوتی ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ "یہ ای سگریٹس پلاسٹک، بیٹری اور سرکٹس پر مشتمل ہوتی ہیں، جو ماحول کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والے کیمیکلز بھی خطرناک ہیں اور یہ اس وقت تک موجود رہتے ہیں جب تک لوگ انہیں ضائع نہیں کرتے۔”

    فرینک وینڈن بروک نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بیلجیئم یورپ کا پہلا ملک ہے جو اس طرح کا اقدام اٹھا رہا ہے۔ ہم یورپی کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمباکو کے قانون کو جدید بنانے کے لیے نئے اقدامات کے ساتھ آگے آئے۔”

    یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے میڈیکل سٹورز کے علاوہ ای سگریٹس کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے بعد اب بیلجیئم اس پابندی میں یورپ کی قیادت کر رہا ہے۔

    برسلز کی واپوتھیک شاپ کے مالک سٹیون پومیرنک نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ "ای سگریٹ کے خالی ہونے کے بعد بھی اس کی بیٹری کام کرتی رہتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جو خوفناک ہے۔ آپ اسے ری چارج کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ آپ کے پاس اسے دوبارہ چارج کرنے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے، اس لیے اس سے ہونے والی آلودگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔”

    بیلجیئم کا یہ فیصلہ ان ممالک کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو ای سگریٹس کی فروخت اور اس کے ماحولیاتی اثرات پر نظر ڈال رہے ہیں۔ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کی صحت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا بلکہ ماحول کی حفاظت میں بھی مدد ملے گی۔

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    خبردار،ای سگریٹ بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے

    21سال سے کم عمر افراد کو ای سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی

  • ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ویپنگ یا ای سگریٹ کا استعمال نوجوانوں میں بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ماہرین صحت نے اس کے خطرات کے بارے میں نئی تحقیق کی بنیاد پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ ویپنگ نہ صرف روایتی تمباکو نوشی سے زیادہ غیر محفوظ ہے، بلکہ اس کے جسم پر فوری اور خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

    شکاگو میں ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے اجلاس میں پیش کی گئی تازہ ترین تحقیق نے ویپنگ کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یونیورسٹی آف آرکنساس فار میڈیکل سائنسز کی ڈاکٹر ماریان ناباؤٹ نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو طویل عرصے تک تمباکو نوشی کا ایک "محفوظ متبادل” سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ویپنگ نہ صرف شریانوں کے افعال کو متاثر کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ویپنگ جسم میں خون کی نالیوں پر برا اثر ڈالتا ہے اور خون کی روانی میں کمی لاتا ہے۔ جب انسانی جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، تو اس کا برا اثر پورے جسم کے نظام پر پڑتا ہے، خاص طور پر پھیپھڑوں پر جہاں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے۔

    یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی تحقیق میں ویپنگ اور تمباکو نوشی کے اثرات پر تفصیل سے تجربات کیے گئے۔ اس میں 31 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 21 سے 49 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو تین مختلف سیشنز میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ نے تمباکو نوشی کی جبکہ دوسرے گروپ نے ای سگریٹ کا استعمال کیا۔تحقیق کے دوران شرکاء کا خون کی نالیوں میں بہاؤ، آکسیجن کی مقدار اور دماغ میں خون کی روانی کو مختلف طریقوں سے ماپا گیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ دونوں صورتوں میں (یعنی ای سگریٹ کا استعمال یا روایتی سگریٹ نوشی) خون کی روانی میں کمی واقع ہوئی، مگر نیکوٹین والے ای سگریٹ کا اثر زیادہ نمایاں تھا۔ نیکوٹین والی ای سگریٹس کے استعمال کے بعد خون کی روانی میں زیادہ کمی دیکھی گئی۔

    ویپنگ کے اثرات میں سب سے اہم یہ بات سامنے آئی کہ ای سگریٹ کے استعمال کے بعد خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے، چاہے اس میں نیکوٹین ہو یا نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن فراہم نہیں ہو پاتی، جو کہ طویل عرصے تک صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹر ماریان ناباؤٹ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیشہ تمباکو نوشی اور ویپنگ سے پرہیز کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ویپنگ کے فوری اثرات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ای سگریٹ، تمباکو نوشی کے مقابلے میں کم خطرناک نہیں بلکہ کچھ معاملات میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ویپنگ کے مختلف ذائقوں کی وجہ سے نوجوانوں میں اس کا استعمال زیادہ بڑھا ہے، لیکن ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عادت کو اپنانا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ای سگریٹ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے شریانوں اور پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

    ویپنگ ایک بڑھتا ہوا عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور ماہرین نے اس کی صحت پر منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اگرچہ ای سگریٹ کو تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل سمجھا گیا تھا، تاہم اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک، بلکہ بعض صورتوں میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں سمیت ہر فرد کو اس عادت سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔

  • بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے وفد نے سی ای او کرومیٹک شارق خان کی قیادت میں ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ تمباکو نوشی کے خلاف اجلاس میں شرکت کی

    کرومیٹک کی جانب سے شارق خان اور رکن اسمبلی آمنہ شیخ اجلاس میں شریک ہوئیں،اجلاس کے دوران سی ای او کرومیٹک شارق خان نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم بارے بریفنگ دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کرومیٹک پاکستانی بچوں کوتمباکو نوشی سے بچانے کے لئے کردار ادا کرتی رہے گی،شارق خان نے بتایا کہ کرومیٹک تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں پاکستان بھر میں سرگرم عمل ہے، سوشل میڈیا پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے تووہیں پوسٹ کارڈ کے سالانہ مقابلے بھی کروائے جاتے ہیں، بچوں کو تمباکو نوشی سے دور رہنے کے حوالہ سے تعلیمی اداروں میں سیمینار ،ورکشاپس بھی کروائے جاتے ہیں،پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سمیت اراکین پارلیمنٹ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کی مہم کو سراہتے ہیں،پنجاب حکومت کے اشتراک کے ساتھ محکمہ صحت اور تعلیم کے ذمہ داران کے ہمراہ کرومیٹک نے سیمینار کئے ،کرومیٹک پاکستانی نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی سے بچانے کے لئے پرعزم ہے.

    شارق خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ بجٹ میں پاکستان میں تمباکو پر ٹیکس نہیں بڑھا،اگر تمباکو پر ٹیکس لگایا جاتا تو اس سے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوتا، باقی سب چیزوں پر ٹیکس لگے سوائے تمباکو کے، اگر ٹیکس بڑھ جاتا تو سگریٹ کی فروخت میں کمی ہوتی اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتی، ہم اس ضمن میں پاکستان میں کوشش جاری رکھیں گے اور امید کریں گے کہ حکومت تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرے گی،شارق خان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافے سے حکومت کو کئی اہداف مل سکتے ہیں جن میں سگریٹ پینے والی افراد کی کمی، ٹیکس آمدن میں اضافہ، صحت کے اخراجات میں بچت ہو سکتی ہے،حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے پاکستان کی قومی معیشت بہتری کی طرف جائے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جائے،

    اجلاس میں آمنہ شیخ نے کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کے تمباکونوشی کے حوالہ سے کام، محنت کو سراہا اور کہا کہ کرومیٹک کے ساتھ میں ایک عرصے سے کام کر رہی ہوں، کرومیٹک پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے مشن پر بھر پور کام کر رہی ہے، آمنہ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے،اس ضمن میں کرومیٹک تعلیمی اداروں میں بھی تمباکونوشی کے خلاف مہم چلا رہی ہے، بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے،اس چیز پرمزید کام کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں آگاہی دی جائے.

    اجلاس کے شرکاء نے کرومیٹک کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اسی جذبے کے ساتھ کام کرتی رہے گی،

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر نے کہا کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ ہے، تمباکو کے استعمال سے منہ،پھپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماریاں برین سٹروک،شوگر جیسے مرض بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں ہر سال 2لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال18 سال سے کم عمر تقریباً1200سے1500بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہوئے اپنے اندر زہر انڈیلتے ہیں لہٰذااگر یہ رجحان اسی طرح بڑھتا رہا تو ملک میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے گا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور3کروڑ افراد سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے 15سال پہلے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے کیونکہ ایک سگریٹ ا نسان کی عمر8 منٹ تک کم کردیتی ہے جس کی وجہ اس میں 4000 سے زائد نقصان دہ اجزاکی موجودگی ہے اور اس کے ساتھ تمباکو نوشی سے سالانہ لاکھوں افراد دل اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار بیٹھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی انسانی جسم کو کھوکھلا کر دیتی ہے،اثرات بھی انسانی جسم پر تاخیر سے ظاہر ہوتے ہیں،تمباکو کے استعمال سے منہ،پھپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماریاں برین سٹروک،شوگر جیسے مرض بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کے لئے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے بھی آگاہی دینا ہوگی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • والدین نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کریں:مریم نواز

    والدین نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کریں:مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔تمباکو نوشی سے پاکستان میں سالانہ اڑھائی لاکھ اموات تشویشناک امر ہے۔نوجوانوں میں ہارٹ ٹیک کی بڑی وجہ کثرت سے تمباکو نوشی بھی ہے۔ لوگوں کو تمباکو کے استعمال کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعلی نے کہاکہ تمباکو کی تشہیر، پروموشن اور اسپانسرشپ کو مزید محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ والدین، سول سوسائٹی، نوجوانوں کی صحت اور تندرستی کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ آج کے دن عوام تمباکو سے پاک طرز زندگی اپنانے کا عہد کریں۔

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام  "انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد

    وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام "انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد

    انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں”انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد کیا گیا۔

    انسداد تمباکو نوشی سیمینار میں صوبائی وزراء صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر اراکین پنجاب اسمبلی قاسم ندیم اور آمنہ حسن شیخ، سی ای او کرومیٹک شارق خان،انچارج عالمی ادارہ صحت پنجاب ڈاکٹر جمشید، ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل، ایڈیشنل سیکرٹری بابر اعوان، ڈین آئی پی ایچ پروفیسر زرفشاں طاہر، پروفیسر عرفان ملک، سمیت خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہاکہ اس سال World No Tobacco کی تھیم نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے بچانا ہے۔ تمباکو نوشی کی مختلف اقسام شیشہ اور ای سگریٹ وغیرہ نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہیں۔عالمی دن برائے انسداد تمباکو کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں آگاہی مہم چلائیں گے۔347 ارب روپے تمباکو نوشی پر خرچ ہوجانا، اس معاشرے کے ساتھ ظلم ہے۔

    صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ تمباکو نوشی کی تمام اقسام پر بھاری ٹیکس لگانے کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے سفارش کریں گے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔

    سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او کرومیٹک شارق خان نے انسداد تمباکو نوشی کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر پنجاب حکومت اور وزارت صحت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے ناسور سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کرومیٹک ہر فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    لاہور: صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی ہدایت پر صوبائی وزارت تعلیم پنجاب اور تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے زیراہتمام انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب میں لاہور کے تین سو سے زائد سرکاری اور پرائیویٹ سکولز کے پرنسپلز اور ٹیچرز شریک ہوئے۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی، ممبر پنجاب اسمبلی اور ٹوبیکو کنٹرول ایمبیسیڈر فار پاکستان آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

    بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے،آمنہ حسن شیخ
    آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے مستقل بنیادوں پر پنجاب بھر کے سکولز میں آگاہی مہم چلائی جائے گی اور اس سلسلے میں سکولز میں آگاہی پوسٹرز آویزاں کرنے کے ساتھ دیگر آگاہی طریقہ کار بھی اپنائے جائیں گے۔ آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں ایسے پروگرام ترتیب دیں جس سے آگاہی ہو ،آمنہ شیخ
    آمنہ شیخ کا کہنا تھا کہ 2019 میں مجھے کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لیے کہا، کرومیٹک کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں انہوں نے احسن انداز میں تمباکو نوشی کیخلاف مہم چلائی ۔ بین الاقوامی ایونٹ میں ہوئے۔ ن لیگ کی حکومت نے تمباکو پر ٹیکس بڑھایا مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس چیز پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں ایسے پروگرام ترتیب دیں جس سے آگاہی ہو ۔

    اس موقع پر ممبران پنجاب اسمبلی سلطان باجوہ اور ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں لاکھوں بچے تمباکو نوشی کی لعنت میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنا مستقبل تباہ کررہے ہیں بلکہ اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے سب کا مل کر کام کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے اساتذہ اور والدین مل کر تمباکو نوشی سے محفوظ اور صحت مند پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    اس موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے تمباکو نوشی کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کرنے پر آمنہ حسن شیخ سمیت دیگر ممبران پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزارت تعلیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں شریک ممبران اسمبلی اور دیگر شرکاء نے تمباکو نوشی کے خلاف موثر کردار ادا کرنے پر کرومیٹک کو سراہتے ہوئے مستقبل میں تمباکو نوشی کے ناسور کے خاتمے کے لئے کرومیٹک کے ساتھ مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے۔شارق خان
    کرومیٹک کے سی او او شاروق خان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں میں کوشش کی ہے تمباکو پر ٹیکسز بڑھایا جائے ۔ قیمتیں ن لیگ کی حکومت نے بڑھائیں۔ جس طرح سگریٹ کی قیمت بڑھنی چاہئے اس طرح نہیں بڑھی ابھی تک بھی۔ تمباکو کے اوپر ہیلتھ لیوی لگا دیں اور اس اماونٹ کو ہیلتھ میں استعمال کریں تو بہت بہتر ہو گا۔ اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ قانون پاس کروائیں جس میں تمباکو کی مارکیٹنگ پر پابندی لگے۔ سکولز،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے۔

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    tobacco day

  • وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ،سگریٹ مزید مہنگا ہونے کا امکان

    سگریٹ نوش ہو جائیں خبردار،آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے

    وزارت صحت ذرائع کے مطابق سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے پر سفارشات مرتب ہو رہی ہیں،وزارت صحت کو سگریٹ پر ٹیکسز کی سفارشات ملی ہیں، سگرٹ پیکٹ پر ایف ای ڈی میں 15 سے 19 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، ٹوبیکو کنٹرول سیل نے سگریٹ مہنگا کرنے کی سفارشات تیار کی ہیں،وزارت صحت سفارشات کا جائزہ لے کر رواں ہفتے سگریٹ پر مزید ٹیکس کے حوالہ سے سفارشات وزارت خزانہ کو بھجوائے گی

    مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ
    پاکستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی میں کافی زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی لاگت کے یہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، بیماری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے پیداوری کے نقصانات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ معاشی اثرات شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال کو روکنے سے پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو ممکنہ طور پر کم کر سکتا ہے اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ غیر قانونی سگریٹ کے اضافے سے ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ کہنے میں عار نہیں کہ اب سگریٹ والے اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں، نسٹ ریسرچ رپورٹ کے مطابق سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 310ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،جعلی سگریٹ بنانے والے اپنا برانڈ نام بھی تبدیل کرسکتے ہیں،جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والے سارے کے سارے پی ٹی آئی میں ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا جعلی سگریٹوں کا کاروبار کرنے والوں کو پکڑیں،ان سے 300 ارب وصول کریں،وفاق کو بھی دیں اپنا بھی گزارہ وغیرہ کریں

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان