Baaghi TV

Tag: تمباکو نوشی

  • تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سری لنکا کی طرح پاکستان انتہائی چارجڈ سیاسی ماحول اور معاشی بحران کے درمیان دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے جس کا ملک کو کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پاکستان کے لئے مجموعی بیرونی قرضہ 32.74536 امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے قدم اٹھانے پر مالی اعانت میں مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لئے اپنے 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی فنڈنگ کے حجم اور مدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے چین، برادر اسلامی ملک سعودی عرب ا ور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 9.2 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے ۔

    اس سے قبل مملکت سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لئے موخر ادائیگیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کی سہولت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی معاونت بھی دی تھی۔ سرکلر ڈیٹ کا موجودہ اسٹاک 5 ٹریلین روپے (14 ارب ڈالر) کے آس پاس ہے۔ پاکستان کو دسمبر 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی اقتصادی امداد بھی ملی تھی جبکہ مارچ 2019 میں آل ویدر دوست ملک چین نے 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

    تمباکو عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابقق پنے آدھے صارفین کو ہلاک کرتا ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا میں موت کی واحد سب سے بڑی قابل روک تھام وجہ ہے جس میں ہر سال ٨٠ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ 70 لاکھ سے زائد اموات تمباکو کے استعمال کے براہ راست نتائج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو ہر سال تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار 100 افراد کی موت کا سبب ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت نشانہ بنائے جا رہی ہے تاکہ "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کو بھرتی کیا جا سکے۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔
    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق 2014 میں تقریبا 24 ملین (19.1 فیصد) بالغ اس وقت کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 15.6 ملین (12.4 فیصد) بالغ افراد ہیں جو اس وقت تمباکو پیتے ہیں جن میں 3.7 ملین بالغ افراد پانی کے پائپ، ہکا یا شیشا استعمال کرتے ہیں اور مزید 9.6 ملین (7.7 فیصد) بالغ ہیں جو بغیر دھوئیں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں میں غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری پیدا ہونے کا امکان دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تمباکو کی نمائش کی کم سطح، غیر معمولی تمباکو نوشی یا سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے ساتھ، ناکافی دل کی صحت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ مرد تمباکو نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا امکان 23 گنا زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کے امکانات غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر سے 80-90 فیصد اموات کا سبب بنتی ہے۔
    آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207.77 ملین اور آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء تھی۔ جس سے ملک میں نوجوانوں کی کافی زیادہ تعداد ظاہر ہوئی ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 14 لاکھ افراد صرف سگریٹ، شہری ہکہ / شیشہ / الیکٹرک ویپس، گٹکا، پین، میوا، نسوار وغیرہ کی وجہ سے منہ کے کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کینسر کے 100 کیسز میں سے کم از کم 4 کیسز پاکستان میں منہ کے کینسر کے ہیں۔ جب ہم زبانی سرطان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بات ذہن میں آتی ہے وہ تمباکو نوشی ہے۔ پاکستان میں جہاںایگلر فوڈ اور دیگر استعمال کی اشیاء گزشتہ پانچ سالوں میں اوسطا 60 سے 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، بدقسمتی سے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی کم از کم قیمت یکساں رہی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی یو آئی سی کی جانب سے شائع کردہ تمباکو اکنامکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی اور کمی نہیں کی جا سکی ، پاکستان ٹوبیکونومیکس سگریٹ ٹیکس اسکور کارڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ٹیکس نظام کی طاقت کا جائزہ لیتا ہے، مجموعی طور پر ٹیکس نظام کا اسکور پانچ نکاتی پیمانے پر ایک سے بھی کم ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ زیادہ سستے ہوگئے ہیں کیونکہ تمباکو کے ٹیکس کم ہیں اور جولائی ٢٠١٩ کے بعد سے اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس کی اوسط شرح اس وقت خوردہ قیمت کا تقریبا 45 فیصد ہے جو کہ 70 فیصد کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ بینچ مارک کے مقابلے میں ہے۔ عالمی بینک کی سفارش کے مطابق سگریٹ پر وفاقی ایکسائز ٹیکس وں کو 30 فیصد تک ختم کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے کم ہوں گے اور ایکسائز ٹیکس کی آمدنی میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ہوگا۔

    لہذا عالمی بینک کی سفارش کی تعمیل میں پاکستان میں موجودہ ٹیکس کے تناسب کا 30 فیصد بڑھانے کا مطلب ہےکہ ؛ سگریٹ پر تمباکو ایکسائز 43 روپے اور زیادہ قیمت والے سگریٹ پر 135 روپے تک فروخت کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے، تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں 1.2 فیصد کمی، بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی کی شدت میں 1.23 فیصد کمی، 71 ہزار 900 جانیں بچگئیں، پاک کو اضافی کل فیڈ آمدنی میں 27.4 ارب روپے کا اضافہ ہوگا یعنی کم از کم 25.1 فیصد اضافہ

    حال ہی میں پی آئی ڈی ای کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان میں تمباکو سے متاثرہ بیماریوں کی اقتصادی لاگت” چونکا دینے والے اور آنکھیں کھولنے والے اعداد و شمار سے پردہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں 2019 ء کے لئے تمباکو نوشی سے متعلق تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے مجموعی اخراجات 615.07 ارب روپے (3.85 ارب ڈالر) ہیں۔ یہ تعداد تمباکو کی صنعت سے پاکستان میں موصول ہونے والے تمباکو ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ (71 فیصد) کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں سے آتا ہے۔ تمباکو نوشی سے منسوب کل اخراجات جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہیں جبکہ کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں کے تمباکو نوشی سے منسوب اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں”۔

    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ٹیکس تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔ تمباکو کا استعمال بڑے پیمانے پر آبادی پر کافی معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماری سے منسلک صحت کے زیادہ براہ راست اخراجات اور قبل از وقت جانی نقصان، تمباکو سے متعلق بیماری کی وجہ سے معذوری اور پیداواری نقصانات سے متعلق زیادہ بالواسطہ اخراجات تمباکو کے استعمال کی نمایاں منفی خارجیت پیدا کرتے ہیں۔

    لہٰذا یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ "تمباکو کے ٹیکسوں میں اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کمی آتی ہے۔” درحقیقت تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جیسا کہ ایف سی ٹی سی نے تقویت دی ہے کہ "مؤثر تمباکو ٹیکس نہ صرف کم کرتے ہیں ،کھپت اور پھیلاؤ میں کمی کے ذریعے خارجیت لیکن تمباکو کے استعمال سے وابستہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں کمی لانے میں بھی معاون ہے۔ ”

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
    یہ سفارشات تکنیکی گواہی، بہترین طریقوں اور ان ممالک کی تفہیم پر مبنی ہیں جنہوں نے تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کو ان طریقوں سے موثر طریقے سے نافذ کیا ہے جن سے ان کے عوام کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ایف سی ٹی سی کا آرٹیکل ٦ رکن ممالک کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس اور قیمتوں کی پالیسیاں اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ قیمتیں سگریٹ کے استعمال کے اقدامات سمیت عملا تمام اجناس کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے فی کس کھپت، تمباکو نوشی کی شرح اور روزانہ سگریٹ پینے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹیجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org

    مصنف وزارت قومی صحت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کو تجاویز دینے کے باوجود انہوں نے کچھ نہ کیا، اب نئی حکومت تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نہ صرف غریبوں کی صحت کا خیال کر سکتی ہے بلکہ بجٹ خسارہ بھی اس ٹیکس سے پورا کر سکتی ہے، اپنی آمدن میں حکومت اضافہ کر سکتی ہے،

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق محمود خان کا کہنا ہے کہ کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کر کے سگریٹ نوشی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے نئی حکومت سے اپیل کی کہ وہ شعور بیدار کریں اور تمباکو کنٹرول قوانین پر عمل درآمد کرنے اور تمباکو کے ٹیکس میں اضافہ کرنے میں مدد کریں تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے۔

    خلیل احمد کا کہنا تھا کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے اہم منفی خارجی عوامل شامل ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کے استعمال کے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں، چونکہ تمباکو پر ٹیکس پچھلی حکومت کو دلچسپی نہیں تھی، یہ موجودہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھا کر ریونیو حاصل کرکے خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے،

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کا کہنا تھا کہ تمباکو کی صنعت غیر قانونی تجارے کے حوالہ سے حکومت کو گمراہ کرتی ہے۔ جنوری 2021 میں تمباکو انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی معیشت کو 40 ارب کی لاگت آئی، اور فروری 2021 میں انہوں نے بغیر کسی جواز کے 77 ارب کا حوالہ دیا،تمباکو کا استعمال بچوں کی صحت پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب کرتا ہے۔ روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

  • تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے
    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیکٹ شیٹ لانچ ان ٹوبیکو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ٹرسٹ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان بھی موجود تھے، ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل میں ابھی تمباکو نوشی کا رجحان بہت زیادہ ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دیگر وزارتیں تمباکو نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں

    انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک سے موازانہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تمباکو نوشی کو کم کرنے میں کتنے سخت اقدامات کئے ۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ ایسا بل منظور ہو جس میں وہ تمام چیزیں شامل ہوں جن کا استعمال مضر ہے اور بل میں ٹیکس نما چیز ڈالی جائے تاکہ اس کے استعمال میں کمی لائے جاسکے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کی بہت ضرورت ہے کیونکہ جب ہیلتھ پروفیشنلز کی تعلیم اس کی تربیت اور ان کےکوالٹی آف نالج کو جب آپ بڑھاتے ہیں تو خود بخود معاشرے کا ماحول بدلتا ہے ۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کیونکہ جب ڈاکٹرز تمباکو نوشی کے استعمال کے نقصانات بتائیں گے تو عوام پر اس کا اثر زیادہ جلدی ہو گا ۔ عوام کو آگاہی دینےسے ہی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں ۔ تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

  • #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہم اگلے مرحلے میں پہنچ چکی ہے

    دی کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے، اس مہم میں تمباکو نوشی سے بچوں کو دور رکھنے کے لئے آگاہی پروگرام کئے جاتے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا پر بھی بھر پور مہم چلائی جاتی ہے، آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چلایا گیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ تا کہ کمسن بچے سگریٹ نہ خرید سکیں اور منشیات کی لت سے دور رہیں،

    تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے مہم جاری ہے، پہلے مرحلے میں باغی ٹی وی پر تمباکو نوشی کے خلاف چالیس سے زائد بلاگز شائع کئے گئے اب اگلے مرحلے میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری اس مہم میں صارفین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، صارفین نے تمباکو نوشی کے نقصانات پر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا

    پاکستان میں83 ارب سگریٹ بنائے جاتے ہیں اور وہ ہر سال پھونک دیئے جاتے ہیں پاکستان کو سگریٹ بنانے کی اجازت ہے کہ انڈسٹری ہمیں کیا فائدہ دے رہی ہے اکانومی پر کیا اثر ہے کیا اس سے نوکری مل رہی ہے حکومت ٹیکس کیوں نہیں لگاتی سگریٹ نوشی ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہر سال تمباکو سے ہوتی ہیں اور اسکا متبادل نوجوان سگریٹ نوشی کر دیتے ہیں بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ہمیں بچوں کو بچانا ہے-

    ایک صارف سیدہ ام حبیبہ کا کہنا تھا کہ اس ٹرینڈ کی مخالفت میں لکھنا ہو تو یہی ہیش ٹیگ استعمال کیجیے
    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ

    https://twitter.com/HSbuddy18/status/1473618000108568587

    https://twitter.com/HassanSajid01/status/1473606648472113153

    https://twitter.com/Rehna_7/status/1473606139552092166

    https://twitter.com/ali_14572/status/1473604974890336259

  • تمبا کو نوشی کے صحت پر پڑنے والے اثرات و نقصانات.تحریر:ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی چھوڑیں اگر آپ کی صحت پر پڑنے والے اثرات کو آپ جان جائیں گے تو آپکے لیے مدد گار ہوگا کے آپ تمبا کو نوشی چھوڑ سکیں.

    تمباکو نوشی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت زیادہ نقصان دہ اور منفی اثرات فوری طور پر ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کے مختلف حصوں پر سگریٹ نوشی کے صحت کے اثرات کی معلومات ضرور رکھیں.

    سگریٹ سے نکلنے والی نکوٹین ہیروئن کی طرح نشہ آور ہے۔ نکوٹین کی لت کو شکست دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آپ کے دماغ کو بدل دیتا ہے۔ دماغ تمباکو سے نیکوٹین کی بڑی مقدار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اضافی نکوٹین ریسیپٹرز تیار کرتا ہے۔ جب دماغ نیکوٹین حاصل کرنا بند کر دیتا ہے جس کی وہ عادت تھی، نتیجہ نکوٹین کا اخراج ہوتا ہے۔ آپ فکر مند، چڑچڑے، اور نیکوٹین کی شدید خواہش محسوس کر سکتے ہیں۔
    آپکی سماعت کے لیے نقصان دہ ہے تمباکو نوشی.

    تمباکو نوشی کا ایک اثر کوکلیا کو آکسیجن کی فراہمی میں کمی ہے، جو اندرونی کان میں گھونگھے کی شکل کا عضو ہے۔ اس کے نتیجے میں کوکلیا کو مستقل نقصان آپکی سماعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی آنکھوں میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جو آپ کی بینائی کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔ سگریٹ سے نکلنے والے نکوٹین کے اثرات میں سے ایک ایسے کیمیکل کی پیداوار کو محدود کرتا ہے جو آپ کو رات کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو نوشی آپ کے موتیابند اندھے پن کا باعث بن سکتے ہیں.

    تمباکو نوشی آپ کے منہ سے ایک ٹول ٹیکس لیتی ہے. تمباکو نوشی کرنے والوں کو غیر تمباکو نوشی کرنے والوں سے زیادہ منہ کی صحت کے مسائل ہوتے ہیں، جیسے منہ کے زخم، السر اور مسوڑھوں کی بیماری۔ چھوٹی عمر میں آپ کو گہا ہونے اور دانتوں سے محروم ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کو منہ اور گلے کے کینسر ہونے کا بھی زیادہ امکان ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کی جلد کو خشک کرنے اور لچک کھونے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے جھریاں اور اسٹریچ مارکس ہو سکتے ہیں۔ آپ کی جلد کا رنگ پھیکا اور خاکستری ہو سکتا ہے۔ آپ کے 30 کی دہائی کے اوائل تک، آپ کے منہ اور آنکھوں کے گرد جھریاں آنا شروع ہو سکتی ہیں،

    تناؤ کا شکار دل
    تمباکو نوشی آپ کے بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور آپ کے دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، دل پر دباؤ اسے کمزور کر سکتا ہے، جس سے یہ آپ کے جسم کے دوسرے حصوں میں خون پمپ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ سانس لینے والے سگریٹ کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ بھی آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے، جس سے دل کا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دل کے دورے سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے خون کو گاڑھا اور چپچپا بنا دیتی ہے۔ خون جتنا گاڑھا ہوگا، آپ کے دل کو اسے آپ کے جسم کے ارد گرد منتقل کرنے کے لیے اتنا ہی سخت کام کرنا پڑے گا۔ گاڑھے خون کے جمنے کا بھی زیادہ امکان رکھتا ہے جو آپ کے دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑھا خون آپ کی خون کی نالیوں کی نازک استر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نقصان آپ کے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

    چربی کے ذخائر
    تمباکو نوشی خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول اور غیر صحت بخش چربی کو بڑھاتی ہے، جس سے غیر صحت بخش چربی کے ذخائر آپ کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر ملبہ آپ کی شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ بلڈ اپ شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے عام بہاؤ کو روکتا ہے۔ دل یا دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے پھیپھڑوں کے چھوٹے ایئر ویز اور ٹشوز میں سوزش کا پیدا کرتی ہے۔ آپ کی طبعیت میں گھرگھراہٹ کا سبب بن سکتی ہے یا آپ سانس لینے میں تکلیف محسوس کر سکتے ہے۔ مسلسل سوزش سے داغ کے ٹشو بنتے ہیں، جو آپ کے پھیپھڑوں اور ایئر ویز میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں جو سانس لینے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی جلن اور آپ کو بلغم کے ساتھ دائمی کھانسی ہو سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں ہوا کے چھوٹے تھیلے یا الیوولی کو تباہ کر دیتی ہے جو آکسیجن کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں، تو آپ ان میں سے کچھ ہوا کے تھیلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ الیوولی واپس نہیں بڑھتے ہیں، لہذا جب آپ انہیں تباہ کرتے ہیں، تو آپ نے اپنے پھیپھڑوں کا ایک حصہ مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب کافی مقدار میں الیوولی کو تباہ کر دیا جاتا ہے، تو بیماری ایمفیسیما تیار ہوتی ہے۔ ایمفیسیما سانس کی شدید قلت کا باعث بنتا ہے اور موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    سیلیا اور سانس کے انفیکشن
    آپ کے ایئر ویز پر چھوٹے برش جیسے بال ہیں، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا بلغم اور گندگی کو صاف کرتا ہے تاکہ آپ کے پھیپھڑے صاف رہیں۔ تمباکو نوشی عارضی طور پر مفلوج کردیتی ہے اور یہاں تک کہ سیلیا کو مار دیتی ہے۔ اس سے آپ کو انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی غیر تمباکو نوشیوں کے مقابلے میں زیادہ نزلہ زکام اور سانس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔

    آپ کا جسم ایسے خلیوں سے بنا ہے جن میں جینیاتی مواد، یا DNA ہوتا ہے، جو سیل کی نشوونما اور کام کے لیے "ہدایت دستی” کے طور پر کام کرتا ہے۔ سگریٹ کا ہر ایک پف آپ کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے، تو "ہدایت دستی” میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور خلیہ کنٹرول سے باہر ہونا شروع کر سکتا ہے اور کینسر کا ٹیومر بنا سکتا ہے۔ آپ کا جسم اس نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو تمباکو نوشی آپ کے ڈی این اے کو کرتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، تمباکو نوشی اس مرمت کے نظام کو ختم کر سکتی ہے اور کینسر (جیسے پھیپھڑوں کا کینسر) کا باعث بنتی ہے۔ کینسر کی تمام اموات میں سے ایک تہائی تمباکو کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    پیٹ اور ہارمونز
    پیٹ
    تمباکو نوشی آپ کے لیے خراب کیوں ہے ایک اور وجہ کی ضرورت ہے؟ بڑا پیٹ۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں بڑے پیٹ اور کم عضلات ہوتے ہیں۔ ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہر روز سگریٹ نوشی نہ کریں۔ تمباکو نوشی بھی ذیابیطس پر قابو پانا مشکل بنا دیتی ہے جب آپ اسے پہلے سے ہی پکڑ لیتے ہیں۔ ذیابیطس ایک سنگین بیماری ہے جو اندھے پن، دل کی بیماری، گردے کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایسٹروجن کی کم سطح
    تمباکو نوشی خواتین میں ایسٹروجن کی سطح کو کم کرتی ہے۔ ایسٹروجن کی کم سطح خشک جلد، پتلے بالوں اور یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو حاملہ ہونے اور صحت مند بچہ پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تمباکو نوشی بھی جلدی رجونورتی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے آپ کو بعض بیماریوں (جیسے دل کی بیماری) ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    چھوڑنے کے فوائد
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے آپ کے جسم کے بیشتر بڑے حصوں میں مدد مل سکتی ہے آپ کے دماغ سے لے کر آپ کے ڈی این اے تک۔کوشش کریں گے ہمت کریں گے تو ضرور اسکو چھوڑ سکیں گے۔سوچ ضروری ہے اتنے نقصانات جاننے کے بعد کوئی کیسے تمبا کو نوشی کر سکتا ہے کون اپنے آپ کو اتنا نقصان دے سکتا ہے کوئی عقلمند انسان نہں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

    کرمیٹک ویلفیئر ٹرسٹ نے "پاکستان پیکٹ ڈاٹ کام” کے نام سے تمباکو نوشی سے متعلق ویب سائٹ کا اجراء کر دیا دیا ہے

    پاکستن کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کرومیٹک ٹرسٹ نے ایک ایسی ویب سائٹ کا اجراء کیا ہے جس میں تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف چلائی جانیوالی آگاہی مہم سے متعلق تمام معلومات دستیاب ہوں گی ۔ اس ویب سائٹ پہ آگاہی مہم کی کارکردگی ، تحقیقی مقالے، اعداد و شمار اور مستقبل کے لیے اپنائی جانیوالی حکمت عملی سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے مری میں ایک کانفرس میں اس ویب سائٹ کے افتتاح کے موقع پہ کیا ۔ شارق خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیکٹ ڈاکٹ کام ویب سائٹ پہ دستیاب معلومات تک رسائی اور اس سے استفادہ ہونے کے طریقے کار کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے اور یہ ویب سائٹ تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا ایسا حصہ ہے جو بالخصوص صحافیوں کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔ اس ویب سائٹ پہ موجود مصدقہ اطلاعات اور تمباکو نوشی پہ پابندی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔شارق خان نے مزید کہا کہ اس ویب سائٹ سے بین الاقوامی سطح پہ عالمی برادری پاکستان کے بارے میں یہ تاثر قائم کرے گی کہ پاکستان اپنی آنیوالی نسلوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے بچانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے

    کانفرنس میں ملک بھر سے صحافیوں اور سوشل اور انفلوانسرز نے شرکت کی ۔ شارق خان نے کہا کرومیٹک ٹرسٹ کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات میں سے ایسی ویب سائٹ کا اجراء ایک سنجیدہ قدم ہے جس سے کرومیٹک ٹرسٹ کی مستقبل کی سوچ کا احاطہ ہوتا ہے

    ویب سائٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے شارق خان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور اس کے انسانی صحت پہ پڑنے والے منفی اثرات اور معاشرتی نقصان کے تناظر میں ایسی ویب سائٹ کا اجراء وقت کی اہم ضرورت تھی جس پہ تمباکو نوشی سے متعلق حقائق، معلومات اور مستند اعداد و شمار موجود ہوں جس سے قانون سازی کرنے والے اداروں کو پاکستان کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے ۔

    پاکستان میں سی ٹی ایف کے کی نمائندہ صوفیہ منصوری نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان پاکستان میں انہتائی مہلک صورتحال اختیار کرچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر روز 1200 بچے سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں جو ہماری نئی نسل کی تباہی کی نشانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ کی قیمت میں اضافے اور دکانوں پہ کھلے سگریٹ کی فروخت پہ پابندی جیسے اقدامات سے بچوں کا مستقبل محفوظ بنیا جا سکتا ہے ۔

    وزارت صحت میں پاکستان ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق انچارج ڈاکٹر ضیا اسلام نے کہا کہ تمباکو کی کمپنیوں کے مالکان انتہائی بااثر افراد ہیں اور وہ اپنے مقاصد کے لیے نہ صرف براہ راست سرمایہ لگاتے ہیں بلکہ حکومت میں بیٹھے افراد کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جنہیں وہ اپنے ناجائز کاروباری مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عوام میں آگاہی مہم کو تیز کرکے حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ تمباکو نوشی کے خلاف سخت قانون سازی کرے۔

    کانفرنس میں شرکاء نے ملک بھر سے شریک صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے اور انہیں بتایا کہ تمباکو نوشی کی صنعت کا مافیا کس طرح حکومت پہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے حکومت کو گمراہ کرتے ہیں تاکہ ان کے خلاف قانون سازی نہ ہو سکے