Baaghi TV

Tag: تمباکو نوشی

  • تمباکو نوشی کیخلاف الخدمت نے مہم کا آغاز کر دیا

    تمباکو نوشی کیخلاف الخدمت نے مہم کا آغاز کر دیا

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے”اسموگ فری پریمسیز”کا آغاز کردیا مہم کی افتتاحی تقریب الخدمت کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔

    پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کا نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا،صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن،سیکرٹری جنرل سیدوقاص جعفری،چیئرمین الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن پروفیسرڈاکٹرمحمد زاہد لطیف، نائب صدور سید احسان اللہ وقاص، ڈاکٹر مشتاق مانگت، ذکراللہ مجاہد، سمیت دیگرذمہ داران نے مہم کے آغاز پر اس عزم کااظہارکیا کہ پاکستانی معاشرے بالخصوص الخدمت سے منسلک اداروں میں تمباکونوشی کے مضراثرات کے بارے میں موثرآگاہی دی جائے گی جس کا مکمل پلان تیارکرلیا گیا ہے۔ ہر چھ سیکنڈ میں تمباکو نوشی کے باعث ایک شخص موت کے منہ میں جارہا ہے جبکہ پاکستان میں ہرسال تمباکونوشی کے استعمال کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے باعث سالانہ 2لاکھ افراد مررہے ہیں۔مہم کا مقصد تمباکو کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کی روک تھا م ہے۔

    ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کمیونٹی کی بہترین صحت اورآلودگی سے پاک معاشرہ الخدمت کی ترجیح ہے کمیونٹی کواس مہم کا حصہ بناکر عوام الناس کو تمباکونوشی کے مضراثرات سے آگاہی دیں گے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے سٹاف،رضاکاروں اور سفیروں کے لیے ٹریننگ ورکشاپس کاانعقاد کررہے ہیں تاکہ ہمارے اپنے ہرسطح کے دفاتر،اورفن آغوش ہومز،ہسپتال،تعلیمی اداروں سے منسلک افرادکو آگاہی کے ذریعے تمباکونوشی کے مضراثرات سے بچایاجاسکے۔ہمارے رضاکاراور سفیر یونیورسٹیز، کالجز، سکولز، دفاترسمیت پبلک مقامات پراس حوالے سے عوام الناس کوآگاہی دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تمباکونوشی سے پاک معاشرے کی اس مہم میں میڈیااورسوشل میڈیا کاموثراستعمال بھی کریں گے۔ ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہاکہ ہم نمائندہ ڈبلیو ایچ او نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا مہیپالاکے شکرگزارہیں کہ وہ پاکستانی کمیونٹی کوتمباکونوشی کے مضراثرات سے بچانے کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، ان کی یہاں موجودگی اس مہم کی اہمیت اور ساکھ میں مزید اضافہ کررہی ہے۔

    تقریب کے مہمان خصوصی نمائندہ ڈبلیو ایچ او نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا مہیپالانے اس مو قع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤندیشن کی معاشرے کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن تمباکونوشی کے نقصانات سے معاشرے کوبچانےکےلیے الخدمت فاؤنڈیشن سے مکمل تعاون اورمددکرے گا۔ پروفیسرڈاکٹرمحمد زاہد لطیف نے کہاکہ معاشرے کوتمباکونوشی سے پاک کرنے کی مہم کے موثرنتائج برآمدہوں گے یہ مہم ہیلتھ کے مسائل کوکم کرنے میں مدددے گی اوراس کے دورس اثرات ہوں گے انھوں نے کہاکہ الخدمت کے اداروں میں مہم کی کامیابی دیگرکمیونٹی کے لیے رول ماڈل ہوگی جس کی تقلید کی جائے گی۔

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    smoke

  • حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    بچوں کے عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہاہے کہ ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی اور ویپنگ کی لعنت میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے موقع پر تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی پاکستانی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پاکستان میں بچوں میں تمباکو کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے، تمباکو نوشی سےنہ صرف اموات میں اضافہ بلکہ بیماریاں بھی پھیلتی ہیں،والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی تربیت کریں، تعلیمی اداروں میں اساتذہ اس حوالہ سے کردار ادا کریں، مساجد کے امام خطبات جمعہ میں سگریٹ نوشی سے دو ر رہنے کی تلقین کریں، معاشرے سے سگریٹ نوشی تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب سب ملکر کام کریں گے،حکومت بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور خصوصا تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کے حکمنامے کو یقینی بنائے، سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا جائے، اس سے سگریٹ نہ صرف بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا بلکہ پاکستانی معیشت بھی مستحکم ہو گی.

    شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں۔یورپ میں ہونے والی جدید تحقیق نے ان مصنوعات کے خطرات کے بارے میں تفصیلی انتباہ دیا ہے۔ تمباکو کی جدید مصنوعات چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، یہ منہ کا کینسر، سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتے ہیں۔

    کرومیٹک کے رہنما، طیب رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یومیہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کررہے ہیں،یہ اعدادو شمار لمحہ فکریہ ہیں، تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں اور صحتمند زندگی گزاریں،سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور کرنے کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ان میں سے سب سے اہم تمباکو پر ٹیکس ہے، ٹیکس لگے گا تو سگریٹ مہنگا ہو گا اور بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا.پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • تمباکو  سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پیسےکا ضیاع، بیماریوں کا باعث،آج نہیں تو کل ڈاکٹر کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک کرنی پڑے گی، بہتر یہی ہے کہ کل کا انتظا رکرنے کی بجائے،آج ہی سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیں، ہاں، سگریٹ نوشی ترک کی جا سکتی ہے مگر اس صورت میں جب آپ سوچیں اور فیصلہ کریں، جب سوچ کر فیصلہ کر لیں گے تو یہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا، چلنا شروع ہوں گے تو منزل تک پہنچ جائیں گے

    اگر سگریٹ نوشی ترک کرنے بارے نہیں سوچا تو لازمی سوچیں، اپنی صحت کے بارے سوچیں، اپنے اہلخانہ کے بارے سوچیں اور پھر ارادہ کریں، فیصلہ کریں، یقینا کامیابی ہی ملے گی،سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہے، معاشرے میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو سگریٹ ترک کر چکے اور صحتمندانہ زندگی گزار رہے ہیں،اسکے لیے منصوبہ بندی کرنی ہو گی اور اپنے دل و دماغ میں یہ خیال لانا ہو گا کہ سگریٹ ….مضر صحت ہے، ڈاکٹر کے کہنے پر اگر چاول، تلی ہوئی چیزیں کچھ دن چھوڑ دیتے ہیں، کھانے میں نرم غذا کھاتے ہیں تو سگریٹ نوشی کو بھی کم از کم ڈاکٹر کے کہنے سے قبل ہی چھوڑا جا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ نیکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں جو سگریٹ اور دیگر تمباکو کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے،ماہرین کے مطابق سگریٹ کو ترک کرنے کے لیے نیکوٹین متبادل تھراپی کریں یعنی چیونگ گم، انہیلر سمیت کچھ دوسری چیزوں کا استعمال کریں،نہ چھوڑنے کی عادت،اور دماغ میں بسا لینا کہ نہیں چھوڑ سکتے، ایسا بالکل بھی نہیں اگر عزم مصمم کر لیں تو سگریٹ…ابھی بھی اور اسی وقت ہی چھوڑا جا سکتا ہے،آپ کب سے تمباکو نوشی کر رہے ہیں، کتنے سگریٹ پیتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گابھلے ایک منٹ میں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں، کوئی ہچکچاہٹ ہے تو معالج سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ تمباکو نوشی چھوڑنا صحت کو بہتر بناتا ہے دل کی بیماری، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماری سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔سگریٹ نوشی ترک کرنا خاندان کے افراد، دوستوں اور دوسروں کو سانس لینے کے دوسرے دھوئیں سے منسلک خطرات سے بچانے کا واحد بہترین طریقہ ہے۔سگریٹ کا دھواں ان لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہےجو سگرٹ نہیں پیتے مگر اس دھویں میں سانس لیتے ہیں،

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگر سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے تو اس میں تاخیر کریں، گھنٹے بعد سگریٹ پیتے ہیں تو دو گھنٹے، پھر چار ،پھر چھ گھنٹے بعد پیئیں، آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھاتے جائیں ،بالآخر …آپ آخری سگریٹ پی کر …سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہوں گے.

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے سوچیں کہ سگریٹ سے کتنا مالی نقصان ہو رہا، جو قیمت سگریٹ کی دی جا رہی اسی قیمت میں اور کام کئے جا سکتے ہیں،انہی پیسوں کا دودھ پی کر صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے، فروٹ کھایا جا سکتا ہے،سوچیں…آپکا دماغ آپ کو مجبور کر دے گاکہ واقعی سگریٹ مضر صحت اور پیسے کے ضیاع کا طریقہ ہے،موجودہ مہنگائی کے دور میں اگر اور کچھ نہیں کرتے تو سگریٹ ترک کرکے سگریٹ پر خرچ کی جانے والی رقم مشکل وقت کے لئے محفوظ کر لیں

    ترک سگرٹ نوشی سے آپ اپنےآپ کو نہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے، بیماریوں سے محفوظ رہیں گے، مالی بچت بھی ہو گی،اسلئے بغیر کسی تاخیر..فیصلہ کریں، ترک کریں اور نعرہ لگائیں..تمباکو سے پاک پاکستان.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

  • تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    سگریٹ پر ٹیکس، عالمی بینک نے تمباکو نوش افرادکو بری خبر سنا دی، عالمی بینک نے سگریٹ پرٹیکس میں اضافے کی سفارش کی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، قیمتیں کم ہونے کی وجہ ٹیکس کا کم ہونا ہے، ٹیکس کم ہونے کی وجہ سے سگریٹ کی فروخت زیادہ ہوتی ہے اور سالانہ تین لاکھ سے زائد افراد کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے موت ہو جاتی ہے

    ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پریمیم سگریٹ (16.50 روپے فی سگریٹ) پر موجودہ شرح کو عام کیٹگری کے سگریٹ پر بھی لاگو کرکے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کا نمایاں ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، رپورٹ میں اس اقدام کے ذریعے معاشی اور صحت سے متعلق فوائد کے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے،پاکستان میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی اس وقت اپنی متوقع شرح سے کم ہے، مالی سال 21 کے دوران جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد حصہ اس وصولی سے ملا ہے،سگریٹ پر ٹیکس، جو کہ جی ڈی پی کا 0.19 فیصد ہے، حالیہ برسوں میں نسبتاً جمود کا شکار رہا ہے،

    سگریٹ مضر صحت ہے، سگریٹ کی پیکٹ پر لکھا ہونے کے باوجود کوئی سگریٹ چھوڑنے کو تیار نہیں، گھر میں کچھ کھانے کو ہے یا نہیں؟ سگریٹ ضرور پینا ہے، بجلی کا بل جمع کروانے کے پیسے نہیں،بچوں کو سرکاری سکول میں اسلئے داخل کروایا کہ پرائیویٹ کی فیس نہیں دے سکتے، بیمار ہو جائیں تو سرکاری ہسپتال میں لائن میں لگیں ،پرائیویٹ ہسپتال نہیں جا سکتے کہ فیسوں کے پیسے نہیں، البتہ، دھواں اڑانے کے لیے ، سگریٹ پینے کے لئے روز پیسے ہوتے ہیں اور روز ہی خرچ ہوتے ہیں، ایک پیکٹ سگریٹ کی قیمت کا ماہانہ اگر حساب کیا جائے تو سگریٹ نوش کم از کم ماہانہ چھ سے دس ہزار کے سگریٹ پی جاتا ہے، ان پیسوں‌سے وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، اچھی صحت، اچھی غذا کا بندوبست کر سکتا ہے تا ہم سگریٹ ضروری باقی سب جائیں بھاڑ میں…

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں،رپورٹ عالمی ادارے ٹوبیکو ہارم ریڈ کشن نے تیار کی،رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو نوشی کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلا کر 12 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، تمباکو نوشی سے شرح اموات بڑھ چکی ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے بالغ افراد کی تعداد دو کروڑ 39 لاکھ ہے ،ان میں سے چھ فیصد ای سگریٹ اور ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں،پاکستان میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا کیونکہ پاکستان شاید بنا ہی اسی لئے کہ ہر بندے کا اپنا ہی قانون ہے،جہاں پابندی ہو یا رکاوٹیں ہوں پاکستانی وہیں غلط کام کرنے کو نہ صرف ترجیح دیتے بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں، تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی بڑھ چکی، پولیس کو کاروائی کی ہدایت ہے لیکن اسکے باوجود تعلیمی ادارے نہ صرف سگریٹ بلکہ منشیات کے گڑھ بن چکے ہیں،طالبات میں بھی سگریٹ نوشی دیکھنے میں آئی ہے ،

    پاکستان میں تمباکو نوشی پر کنٹرول ،یہ ایک چیلنج ہے، حکومت کو تمباکو ساز کمپنیوں کی جانب سے رشوتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسز نہیں لگتے، عالمی بینک نے تو سفارش کر دی لیکن اب مزید ٹیکس کون لگائے گا؟ سگریٹ ساز کمپنیاں سفارشیں شروع کروا دیں گی اور اگر کوئی فائل نکلی تو پھر نوٹوں کی گڈی تلے دب جائے گی،پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ، یہ بات ہر پاکستانی کہتا ہے، تاہم تمباکو سے پاک پاکستان، اس نعرے کو بھی پھیلانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں اس نعرے کو شامل کرنا چاہئے، سیاسی لیڈران کو اس نعرےکو اپنانا چاہئے کہ وہ اپنے نسل کو تمباکو کی زیر سے بچائیں گے اور تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

  • یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والا تمباکو نہیں خرید سکے گا

    یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والا تمباکو نہیں خرید سکے گا

    کنگ چارلس نے ‘تمباکو سے پاک نسل’ بنانے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے تمباکو پر پابندی کا اعلان کر دیا
    بادشاہ نے منگل کو پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر کے دوران تمباکو اور ویپس بل کی تصدیق کی، جس کا مطلب ہے کہ 2009 کے بعد پیدا ہونے والے بچے انگلینڈ میں قانونی طور پر تمباکو خریدنے کے قابل نہیں ہوں گے۔

    پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے، چارلس نے کہا: "میری حکومت تمباکو کی فروخت پر پابندی لگا کر سگریٹ نوشی سے پاک نسل پیدا کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی تاکہ اس وقت چودہ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کو کبھی بھی سگریٹ فروخت نہ کیا جا سکے، اور ای سگریٹ کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کیا جا سکے

    برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ "آج کے 14 سال کے بچے کو کبھی بھی قانونی طور پر سگریٹ نہیں بیچا جائے گا اور وہ اور ان کی نسل تمباکو نوشی کے بغیر پروان چڑھ سکتی ہے”۔اس پالیسی کا مطلب یہ ہوگا کہ 1 جنوری 2009 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص تمباکو خریدنے کے قابل نہیں ہوگا۔

    برطانوی وزیراعظم مسٹر سنک نے سب سے پہلے ستمبر میں ایک کانفرنس میں دھواں سے پاک نسل بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا،اور کہا تھا کہ "اگر ہم اپنے ملک کی سمت بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل بنانا چاہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی،جو خراب صحت، معذوری اور موت کی واحد سب سے بڑی وجہ ہے سے نمٹا جائے.”یہ بل ملک کو مستقبل کے لیے صحیح راستے پر گامزن کرنے کے لیے سخت لیکن ضروری فیصلوں کو نافذ کرے گا۔تمباکو سے زیادہ کوئی نشہ آور چیز نہیں ہے جو قانونی طور پر ہماری دکانوں پر فروخت ہوتی ہو۔اور تمباکو نوشی کرنے والوں کا پانچواں حصہ 20 سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے، اسی لیے نشے کی عادت کو روکنا بہت ضروری ہے۔”تاہم، مسٹر سنک کو ان منصوبوں پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، کچھ ٹوری ایم پیز مبینہ طور پر اس بل کے خلاف ووٹ دینے کی تیاری کر رہے ہیں اگر ہاؤس آف کامنز میں آزادانہ ووٹ لیا گیا تو،

    آج کے بل کا مقصد نوجوان نسل میں ویپنگ اور ای سگریٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا بھی ہے۔کینسر ریسرچ یوکے کی چیف ایگزیکٹیو مشیل مچل کا کہنا ہے "جب رہنما فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں تو تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آتی ہےاسی لیے ہم برطانیہ کی حکومت کی جانب سے تمباکو کی فروخت کی عمر کو تبدیل کرنے کے عزم کی حمایت کرتے ہیں جس کا اعلان کنگز کی تقریر میں کیا گیا ہے۔””حکومت کو 2024 کے اوائل میں اس قانون سازی کو پارلیمنٹ کے سامنے لانے کے لئے آگے بڑھنا چاہئے، اور ہم تمام جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سے اس کی حمایت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”میں کبھی کسی سے نہیں ملا جو چاہتا ہے کہ ان کا بچہ تمباکو نوشی اختیار کرے۔

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

  • فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    فرانس میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے قومی منصوبے کے تحت ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی:"دی گارڈین” کے مطابق وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ فرانس میں تمباکو نوشی سے نمٹنے کے قومی منصوبے کے تحت ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کر دی جائے گی فرانس کی وزیراعظم ایلزبتھ بورن نے شریاتی ادارے آر ٹی ایل کو بتایا کہ حکومت جلد ہی تمباکو نوشی کے خلاف ایک نیا قومی منصوبہ پیش کرے گی، خاص طور پر ڈسپوزایبل الیکٹرانک سگریٹ کی ممانعت، مشہور ’پف‘ جو نوجوانوں کو بری عادات دیتے ہیں ۔

    وزیراعظم کے مطابق فرانسیسی حکومت تمباکو نوشی کو کم کرنے کے وسیع تر منصوبے کے ساتھ 2024 کے بجٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے، ملک میں ں سالانہ 75،000 اموات کی وجہ سگریٹ نوشی ہے،’اس منصوبے میں سگریٹ پر ٹیکس میں ایک اور اضافہ شامل نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم تمباکو کے استعمال کے بارے میں محتاط نہیں ہیں‘۔

    سویڈن حکومت کوقرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات کی وجہ سےلاکھوں ڈالرکا نقصان

    حکومت کی سب سے بڑی تشویش ڈسپوزایبل ویپس ہیں، جنہیں فرانس میں ’پف‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو تمباکو نوشی کا ’گیٹ وے‘ کہلاتے ہیں فرانس کی وزیراعظم فکرمند ہیں کہ آئس کینڈی، مارش میلو اور ببل گم جیسے ذائقوں والے یہ سگریٹ کے متبادل ویپس جن کی قیمت 8 یورو (6.85 پاؤنڈ) سے 12 یورو فی 500 ’پف‘ ہے، نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    کئی یورپی ممالک بھی ان ویپس پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ بیلجیئم میں آن لائن فروخت پر پابندی ہے اور آئرلینڈ میں پابندی کے بارے میں قومی مشاورت جاری ہے جرمنی میں حکومت نے ذائقہ دار ای سگریٹ پر پابندی عائد کر دی ہے اور منشیات زار نے متنبہ کیا ہے کہ یہ صرف ایک آغاز ہو سکتا ہے آسٹریلیا نے سخت ترین ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویپس کے نسخے تیار کیے ہیں جن میں نکوٹین کی مقدار کو کم کیا ہے اور ذائقوں کو محدود کیا ہے۔

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

    نیوزی لینڈ میں بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں زیادہ تر ڈسپوز ایبل ویپس پر پابندی اور بچوں کی مارکیٹنگ پر پابندی شامل ہے، جس میں اسکولوں کے قریب ویپ کی دکانوں پر پابندی اور ایسے قوانین شامل ہیں جن میں عام ذائقے کی وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اگست میں نافذ العمل ہونے والے ان قوانین کا مقصد ان لوگوں کے لیے ڈسپوزایبل سگریٹ کی فروخت کو جاری رکھنا تھا جو اسے تمباکو نوشی ترک کرنے کی جانب منتقلی کے طور پر استعمال کرتے ہیں آئرش تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو نوجوان ای سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں تمباکو نوشی شروع کرنے کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں جو سگریٹ نہیں کرتے ہیں۔

    جی 20 اجلاس میں چینی صدرکےشرکت نہ کرنے پرمجھے بہت مایوسی ہوئی،جوبائیڈن

    گزشتہ سال جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق نیوزی لینڈ میں تمباکو نوشی کی شرح کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی ہے جو دنیا میں سب سے کم ہے لیکن روزانہ ویپ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ روزانہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں کمی سے کہیں زیادہ ہے۔

    نیوزی لینڈ میں ویپس کا استعمال کرنے والے 14 سال کی عمر کے طلباء کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا جو 2019 میں 3.1 فیصد سے بڑھ کر 2021 میں 9.6 فیصدہو گئے ہیں اس حوالے سے فرانس کے اُس وقت کے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایمانوئل میکرون کی حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے، لیکن وزرا پابندی پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’قانون سازوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے یہ قانون "اس سال کے اختتام سے پہلے” نافذ کیا جا سکتا ہے۔

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

  • تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن،نوٹس جاری

    تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن،نوٹس جاری

    نگران وفاقی وزیر صحت کی ہدایت پر تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن لیا گیا ہے

    وزرات صحت نے سگریٹ ساز کمپنیوں کو قوانین کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے،ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق مختلف کمپنیاں سگریٹ کی اشتہاری و فروغی مہم میں ملوث ہیں،وزارت صحت نے دس دن کے اندر تحریری وضاحت کا حکم دیا ہے، ترجمان وزارت صحت کے مطابق غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں مزید قانونی کاروائی کی وارننگ دی گئی ہے،

    ترجمان وزارت صحت کے مطابق فلپ مورس خیبر ٹوبیکو کمپنی سیمسن گروپ نیشنل ٹوبیکو کمپنی ،یونیورسل ٹوبیکو کمپنی سول ٹوبیکو کمپنی ،وطن ٹوبیکو کمپنی، رایل ٹوبیکو کمپنی اور سووینیتر ٹوبیکو کمپنی کو نوٹس جاری کیے گیے ہیں،تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین کے مطابق سگریٹ نوشی کی اشتہاری مہم اور پروموشنز کی سکیموں پر پابندی ہے، خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے ،حکومت سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنارہی ہے عوام کی صحت اور فلاح وبہبود کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

  • انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    تمباکو نوشی روکنے کیلئے عالمی ورکشاپ 21 اگست کو آذربائیجان میں ہوگی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی ، جسٹس جواد حسن سمیت 5 ججز شرکت کرینگے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز آج ایک بجے آذربائیجان کے لئے روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن آذربائیجان روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن امتیاز بھی ورکشاپ میں شرکت کرینگی آذربائیجان میں عالمی ورکشاپ 21 اور 22 اگست کو ہوگی.چیف جسٹس ہائیکورٹ کی منظوری کےبعد ججز کے بیرون ملک جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس پوری دنیا میں تمباکو نوشی سے نو ملین اموات ہوئی ہیں، تمباکو اب بھی دنیا میں قابل تدارک بیماریوں سے اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی ستر فیصد آبادی کم از کم تمباکو سے محفوظ ہے،عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پندرہ سال قبل متعارف کرائے جانے کے بعد سے عالمی سطح پر تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آئی لیکن صرف پچھلے سال سگریٹ نوشی سے تقریباً نو ملین افراد ہلاک ہوئے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے،

  • کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے دور کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو
    اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی ایک ناسور ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کم عمری سے ہی اس لت میں مبتلا ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت انتہائی سنجیدہ ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی،

    اس موقع پر شارق خان نے ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو کو تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے کرومیٹک کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ شارق خان نے کہا کہ سگریٹ کے متبادل کے طور پر نوجوانوں میں شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز کا استعمال عام ہو رہا ہے، نوجوانوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء بھی سگریٹ ہی کی طرح نقصان دہ ہیں اس لئے شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز پر بھی حکومت کو فوری پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ نوجوان نسل اس لعنت میں مبتلا ہو کر اپنی صحت اور پیسے کا ضیاع نہ کریں۔

    اس موقع پر ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ پاکستان میں 12 سو سے زائد بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، یہ صورتحال تشویش ناک ہے اور اس کے سد باب کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، سگریٹ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے کرومیٹک کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    تمباکو نوشی کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لئے مضر ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سگریٹ نوشی کی روک تھام کا دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے ، انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر سگریٹ پیمے والے افراد سے درخواست ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا مضبوط ارادہ کریں اورصحت مند طرز حیات اپنائیں

    تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل نے کی جبکہ آگہی واک میں ای پی آئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار اعوان، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر یداللہ سمیت محکمہ صحت کے افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر الیاس گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ تمباکو نوشی واک کا انعقاد ایسویسی ایشن فار بیٹر پاکستان کے تعاون سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہرسال پاکستان میں ہزاروں افراد تمباکونوشی کے باعث کینسر کی مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور منہ کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے. ڈی جی ہیلتھ کا کہنا تھا کہ پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں.پاکستان میں نوجوان نسل بڑی تعداد میں تمباکو نوشی میں مبتلا ہو رہی ہے. ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ تمباکونوشی کی روک تھام کیلئے حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے.

    31 مئی انسداد تمباکو نوشی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ گوجرانوالہ کے زیراہتمام سکولوں اور کالجوں کی سطح پر انسداد تمباکو نوشی پینٹنگ کمپیٹیشن( پوسٹر ) مقابلوں کاا نعقاد کیا جارہا ہے تاکہ تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا جا سکے۔

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    فلاحی ادارے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر میں جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دینے والے افراد کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے سب سے قیمتی تحفہ ہے اس کی قدر کریں۔